پٹوار خانوں میں خوار ہوتے شہری
21 جون 2018 2018-06-21

قارئین ایک مدت سے یعنی دس برس تک شہباز حکومت کی جانب سے بار بار بتایا جاتا رہا کہ ’ آئندہ فرد کا حصول بینک آف پنجاب کی برانچوں سے بھی ممکن ہوسکے گا، اراضی سینٹر کے کاؤنٹر پنجاب بینک میں کھلیں گے، اس سلسلے میں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور بینک آف پنجاب کے درمیان اگلے ماہ کے آغاز میں معاہدہ ہوگا، اس اقدام سے خدمات کے دائرہ کار میں وسعت آئے گی اور اراضی کی دستاویزات کے حصول میں آسانی پیدا ہوگی‘۔ مختلف اجلاسوں میں اراضی ریکارڈ کو آن لائن کرنے اور ویب سائٹ پر دستیابی کی منظوری دیتے ہوئے ریونیو کے حوالے سے پٹواری کا ہر قسم کا کردار ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا جاتا رہا۔ ایک مرتبہ تو فرد ملکیت اور اراضی کی دیگر دستاویزات کے حصول کیلئے موبائل سروس کے اجراء کی خوش خبری سنائی گئی۔ ساتھ ہی یہ بھی بلند باگ دعویٰ کیا گیا کہ’ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق اراضی سنٹرز کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات کے ازالے کے لیے ضلع کی سطح پر ریٹائرڈ جج صاحبان پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، ان اقدامات سے شہریوں کو اراضی کی دستاویزات دہلیز پر ملیں گی، ’ریونیو معاملات کے حوالے سے پٹواری کاکردار ختم کیا جائے گا اور پٹواری سے گرداوری کے امور بھی واپس لیے جائیں گے اور اِس ضمن میں قانون میں ضروری ردو بدل کیا جائے گا
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ فرد ، ملکیت اور دیگر اراضی کی دستاویزات کے حصول کے لیے عام آدمی کو آج بھی پٹوار خانے کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ امید تھی کہ لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم کے منصوبے سے صوبے میں معاشی و اقتصادی ترقی میں مزید اضافے کے لئے نئی راہیں ہمورا ہوں گی ،جائیداد کی ملکیت کو محفوظ اور موثر بنایا جا سکے گا،عوام کی مشکلات کا ازالہ ممکن ہو گا۔
لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا منصوبہ حکومت کا مستحسن اقدام ثابت ہوگا۔
سچ بھی یہی ہے کہ اس پراجیکٹ کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں زمینوں کا تمام ریکارڈ کمپیوٹر ائز کر دیا جاتا تو اس سے ملک کی اقتصادی و معاشی ترقی کے لیے ایک اور ٹھوس بنیاد میسر آنے کے امکانات روشن ہو جاتے۔ افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا۔ لوگ آج بھی پٹوار خانوں خوار و رسواء ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تو امید باندھی تھی کہ لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم کے متعارف اور رائج ہونے کے بعد شہریوں کو اپنے جائز حق کے حصول کے لیے پٹواریوں، قانونگوؤں، نائب تحصیلداروں اور تحصیلداروں کی ظالمانہ رعونت اورسنگدلانہ نخوت سے رہائی مل جائے گی۔ شہری حلقوں کی جانب سے اس سسٹم کے تعارف کے بعد یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ اب مستقبل میں انہیں فرد کے حصول کے لیے رشوت ستانی اور بد عنوانی ایسے عفریتوں کے مظالم کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ آج بھی پرنالہ وہیں ہے۔ یا درہے کہ اس سلسلے میں شہباز شریف سے قبل جون 2007ء میں صوبائی اسمبلی نے پنجاب لینڈر یونیو ایکٹ 1976ء ترمیمی بل کی بھی منظوری دی تھی ۔ گویا لینڈریکارڈ کمپیوٹر ائزیشن پروجیکٹ در اصل سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا پیش کردہ منصوبہ تھا، تھوڑا سا لفظی میک اپ کرکے کمال مہارت سے شہباز شریف نے اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی ۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ملکوں میں لینڈریکارڈ کی کمپیوٹر ائزیشن ارباب حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے۔لینڈریکارڈ کمپیوٹر ائزیشن پروجیکٹ جس بھی ترقی یافتہ جمہوری ملک اور معاشرے میں متعارف کروایا گیا، وہاں عوام کو بہت سی پیچیدگیوں اور الجھنوں سے نجات ملی۔ سیٹلائٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں شہری اور زرعی اراضی کے ریکارڈ کی تسوید و تحریرکو اب ایک فرسودہ اور دقیا نوسی عمل تصورکیا جاتا ہے۔ تسوید و تحریر پر مشتمل ریکارڈ کا تحفظ اپنی جگہ ایک مشکل کام ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اس میں متعلقہ محکمہ کے اہلکاران کسی بھی بد نیتی کے تحت تغیر و تبدل کر سکتے ہیں۔ یہ تغیر اور تبدل اس محکمہ کے ذمہ داران کے قلم کی معمولی اور ادنیٰ سی جنبش اور لرزش کا مرہون منت ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں محکمہ ریونیو نے شہری جائیداد اور شہری و زرعی اراضی کے ریکارڈ کی ذمہ داری نچلے درجہ پر پٹواریوں کے سپرد کر رکھی ہے۔ پٹواری اگرچہ گریڈ وائز اعلیٰ درجہ کا سرکاری اہلکار نہیں ہو تے لیکن انہیں اتنے اختیارات حاصل ہوتے ہیں کہ وہ معمولی معمولی سے عوامی امور کی انجام دہی کے لیے جہاں شہریوں اور سائلین سے منہ مانگی رشوت طلب کرتے ہوئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔ وہ جب چاہیں اصل مالک کو اس کی جائیدااد اور زرعی اراضی سے محروم کرنے کے صوابدیدی اختیارات بھی رکھتے ہیں ۔ یہ صوابدیدی
اختیارات انہیں حکومت نے عطا نہیں کئے بلکہ انہوں نے سول بیوروکریسی میں موجود کرپٹ مافیا کے ساتھ ملی بھگت اور ساز باز کر کے از خود حاصل کر لیے ہیں۔ ایک شہری کی جائیداد اور زرعی اراضی کے معاملے میں کوئی پٹواری بھاری بھر کم’ غیر سرکاری فیس‘ اپنی جیب میں ڈالنے کے بعد جب ’حامد کی ٹوپی محمود کے سر پر ‘رکھ دیتا ہے تو اس گتھی کو سلجھانے کے لیے متاثرہ شہری کو دیوانی مقدمہ دائر کرنے کے لیے مجاز عدالتوں کی غلام گردشوں میں برس ہا برس اور نسل در نسل دھکے کھانا پڑتے ہیں۔ وہ بدعنوانی اور بے ضابطگی جس کا ارتکاب ایک پٹواری رشوت وصولنے کے بعدچند لمحوں میں کر گزرتا ہے ، اس کا خمیازہ متاثرہ سائل اور شہری کو دیوانی مقدمات کے روپ میں اتنی طویل اور اذیت ناک مدت تک بھگتنا پڑتا ہے کہ بے چارہ دیوانی مقدمہ لڑتے لڑتے دیوانہ ہو جاتا ہے۔ جہاں تک شہری جائیداد اور زرعی اراضی کے حوالے سے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا تعلق ہے تو یہ ایک تلخ اور نا خوشگوار سچ ہے کہ قانونی اسقام کی وجہ سے ان میں اس نا قابل برداشت حد تک تاخیر ہو جاتی ہے کہ مستغیث زندگی سے ہا تھ دھو بیٹھتا ہے۔
اس کے برعکس ہر با خبر شہری جانتا ہے کہ وہ ممالک جہاں لینڈر ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن بام تکمیل تک پہنچ چکی ہے، وہاں شہریوں کو بہت سی آسائشیں اور آسودگیاں حاصل ہیں۔اپنے حق کے حصول کے لیے ان کی راہ میں بیورو کریسی کا تخلیق کردہ ’’روایتی سرخ فیتہ‘‘ دیوار چین بن کر حائل نہیں ہوتا۔ پاکستان میں بھی اگر صوبہ پنجاب کے اس اعلان کردہ سسٹم کو عملی شکل دینے کے عمل کو یقینی بنالیاجاتا تو دوسرے صوبے بھی فائدہ اٹھاتے اوراسے اپنے ہاں رائج کرتے ۔ توزمین مالکان کو جہاں اور فوائد حاصل ہو تے وہاں ان کے لیے اپنی زمینوں کی بنیاد پر بینکوں سے زرعی اور دیگر قرضوں کے حصول میں آسانیاں پیدا ہوتیں۔


ای پیپر