واہ ری سیاست
21 جون 2018 2018-06-21



شکرہے عید الفطر میں امن و امان کی فضاء قائم رہی اور عوام نے عید کی خوشیاں بھرپور طریقے سے منائی۔ جس کے لیے سکیورٹی فورسز کے تمام ادارے اور ہر اہلکار شاباش کے مستحق ہیں۔ سلام ہے ہمارے جوانوں کی بہادری اور جوانی کو۔۔۔
اگر میں اپنی عید کی بات کروں تو یہ عید میرے لیے بہت یادگار رہے گی۔ میری عید تو رمضان المبارک کے 25 ویں روز ہی شروع ہو گئی تھی کہ جب بہت پیارے انکل ڈاکٹر اجمل خان نیازی کے گھر سندھی ٹوپی کا تحفہ لیے پہنچا جسے آپ نے پہن کر اس کی شان بڑھا دی۔ آپ عموماً گھر میں سندھی ٹوپی پہنتے ہیں۔ تو یہ پچھلے ماہ سندھ کے دورے پر سکھر سے خاص آپ کے لیے خریدی تھی۔ ڈاکٹر صاحب ہی وہ پہلی شخصیت ہیں کہ جنہوں نے میرا پہلا کالم پڑھا تو مجھے کال پر پسندگی کا اظہار کیا اور حوصلہ بڑھایا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے قدم قدم پر آپ جیسے قد آور شخصیت کی رہنمائی حاصل ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ کالم لکھنے کے لیے پڑھنے سے زیادہ ’’لکھنا‘‘ ضروری ہے۔ بار بار لکھنے سے ہی لکھنا آئے گا۔ روز کا ایک صفحہ ہی لکھیں لیکن لکھیں ضرور اور مہینے کے آخر میں پہلے صفحے کا آخری صفحے سے موازنہ کر لیں ، خود فرق واضح ہو جائے گا۔ لکھائی میں پختگی نظر آنے لگے گی۔
عید کے دوسرے روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں ’’فادرز ڈے‘‘ منایا گیا۔ اصل زندگی میں تو پتا نہیں لیکن سوشل میڈیا کی حد تک دن بھر کافی گونج سنائی دیتی رہی۔ وہی پرانی روّش کوئی حق میں تو کوئی مخالفت میں دکھائی دیا۔ خیر ہم نے بھی دیکھا دیکھی دوپہر کے کھانے کی میز پر اپنے پیارے ابو جان کو ’’فادرز ڈے‘‘ بھر پور انداز سے ’’وش‘‘ کیا۔ ان کا جواباً حیرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مزاحاً یہ فرمانا کہ ’’اس کا کیا کرتے ہیں‘‘ بھی دیدنی تھا۔ یہ سننا تھا کہ امی جان کا برجستہ جواب آیا۔ ’’ اس روز ابو اپنے بچوں کو پیسے دیتے ہیں‘‘۔۔۔ اچھا تو ’’ مدرز ڈے‘‘ پر کیا کرتے ہیں؟ تو کہنے لگیں ’’ اس روز امی کو سوٹ لے کر دیتے ہیں‘‘ یہ سننا تھا کہ سب کے بلند قہقہوں نے خوشیوں کا صدقہ اتار لیا۔ یہ خوشگواز لمحات برسوں یاد رکھے جائیں گے۔
جیسے عید گزر گئی فرض کریں الیکشن 2018 ء بھی گزر گئے ہیں۔ دھاندلی کے فلک شگاف نعروں میں مخلوط حکومت بن چکی ہے اندر ہی اندر تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں خوش ہیں کہ آخر کار ایڈجسٹمنٹ ہو ہی گئی ہے۔ تھوڑا اور آگے چلیں عام انتخابات 2018 ء کے نتیجے میں بننے والی محفوظ حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کر لی ہے اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2023 ء کی تاریخ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
انتخابات 2023 ء سر پر ہیں۔ فرض کریں۔۔۔ اپنے دائیں بائیں نگاہیں دوڑائیں۔۔۔ کچھ بدلا ؟ مہنگائی کم ہوئی ؟ لوڈشیڈنگ ختم ہوئی ؟ کرپشن کا طوفان تھما ؟ غربت مٹی ؟ نوکریاں ملیں ؟ تعلیم عام ہوئی ؟ ایسا کچھ بھی نہیں نہ ؟ اب تھوڑا رکیں واپس پیچھے چلتے ہیں۔عام انتخابات 2018ء سر پر ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ تمام تر صورت حال آپ کے سامنے ہے۔ تمام تر معاملات کا جائزہ آپ لے رہے ہیں۔ تمام تر امور آپ سمجھتے ہیں۔ لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔ ٹکٹیں فروخت ہو رہی ہیں۔ بولیاں لگ رہی۔ آپ خود سمجھدار ہیں۔ جو لوگ ان غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہیں کیا وہ لوگ اقتدار سنبھالتے ہی عوام کی ضروریات کا خیال کریں گے؟ الیکشن سرمایہ کا دوسرا نام ہے۔ جب سرمایہ دار ، جاگیردار ، وڈیرہ، رسہ گیر، اسی دوڑ میں کود پڑیں گے تو طاقت میں آ کر تو وہ خرچ کیے گئے سرمایہ کو کئی گنا بڑھائیں گے نہ کہ عوام کی خدمت کریں گے۔ یہاں سب بزنس ہے۔ امیر طاقت ور اور امیر ترین بنتا چلا جا رہا ہے جبکہ غریب کمزور تر اور غربت میں پستا چلا جا رہا ہے۔
اب کی بار بریانی کی پلیٹ کو لات مار دیں۔ قیمے والا نان، بوتل ، چائے پانی کو ٹھکرا دیں۔ ان لوگوں کے گھر بجلی نہیں جاتی لوڈشیڈنگ کا عذاب صرف آپ کے لیے ہے۔ ان کا علاج بیرون ملک ہوتا ہے، جعلی ادویات آپ کے لیے ہیں۔ ان کے کتے بھی بوٹی کھاتے ہیں، سوکھی روٹی آپ کے لیے ہے۔ ان کے بچے بچپن سے اربوں پتی ہیں، ٹیکسوں کا اژدھا آپ کے لیے ہے۔ یہ تعداد میں سو دو سو خاندان ہیں۔ اس بار ان کو ووٹ نہ دیں۔ ان کو اقتدار میں نہ لائیں۔ اپنی نسلیں سنوار لیں۔ یہ پاک وطن ان درندوں سے بچا لیں۔
2002 ء کے انتخابات میں تقریباً 140 اراکین اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کی۔ 2008 ء کے عام انتخابات میں کم و بیش89 اراکین اسمبلی نے مسلم لیگ (ق) کو خیر باد کہہ کر پاکستان پیپلزپارٹی جوائن کی، عام انتخابات 2013ء میں 121 کے قریب اراکین اسمبلی نے پیپلزپارٹی کو خدا حافظ کہہ کر مسلم لیگ (ن) کے جھنڈے تلے سکونت اختیار کی اور اب عام انتخابات 2018ء یہ تمام بدمست ہاتھی پاکستان تحریک انصاف کے سٹیڈیم میں جمع ہو رہے ہیں۔
اب بھی سمجھنا مشکل تو نہیں کہ یہ کیا کھیل تماشا لگا ہوا ہے۔ اب کی باران کو مسترد کر دیں۔ ان کے منہ کو پیسہ، طاقت اور یہاں تک کہ خون لگ چکا ہے۔ ان کو یہ موقع فراہم کرنے والے ہم عوام خود ہیں۔ غریب کا غریب کے ساتھ کاندھا ملا کر چلنا ہی اصل سینہ چوڑا ہوناہے نہ کہ ان لٹیروں کے فریب میں آیا جائے اور اپنی نسلیں ان کی غلامی میں جھونک دی جائیں۔آپ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔


ای پیپر