پیچھے کنواں،آگے کھائی....بہت ہو گیا بھائی!
21 جون 2018 2018-06-21

آخر کسی کے بارے میں کتنے ”حسن ظن“ سے کام لیا جا سکتا ہے؟ یہ درست ہے کہ کسی کی نیت پر شک نہیں کیا جانا چاہیے لیکن نیک نیتی کو ثابت کرنے کے لیے کچھ افعال سے ظاہر ہونا چاہیے اگر ایک شخص پلیٹ فارم پر کھڑا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اس نے کراچی جا کر کراچی کا کچرا صاف کرنا ہے اور کراچی میں درخت لگا کر موسم اور ماحول ٹھیک کرنے ہیں، ممکن ہے کہ وہ واقعی ایسا کرنا چاہتا ہو گا مگر وہ کراچی جانے والی ٹرین کا ٹکٹ تو خریدے، ریلوے اسٹیشن تو پہنچے، ریلوے انکوائری سے کراچی جانے والی ٹرینوں کے نظام الاوقات کا پتہ تو کرے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ وہ آدمی شاہراہ دستور کے ڈی چوک پر اعلان کرے کہ وہ کراچی کے مسائل حل کر دے گا اور تقریر کرنے کے بعد F-6 کی رہائش گاہ پر جا کر سو جائے، اگر کوئی سوال پوچھے کہ حضور وہ کراچی کے مسائل تو وہ کہے کہ میری نیک نیتی پر شک نہ کرو میں یہی کرنا چاہتا ہوں۔ ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کر رہے اور نہ کرنا چاہتے ہیں مگر ہمیں عمران خان سے یہ پوچھنے کا حق تو ہونا چاہیے کہ وہ اگر تبدیلی کے لیے انہی لوگوں پر انحصار کر رہے ہیں جو پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ذریعے حکومتوں کا حصہ رہے ہیں تو اس تبدیلی کا طریقہ کار کیا ہو گا؟
اگر وہ خود چارٹر طیارے پر عمرہ کرنے کے لیے جاتے ہیں تو ہمیں ہالینڈ، برطانیہ یا باقی یورپ کی مثالیں سنا کر بور کیوں کرتے ہیں؟
اگر زلفی بخاری کا نام کسی بھی لسٹ میں خواہ وہ بلیک ہو ، گرے ہو یا وائٹ ہو ، شامل تھا تو وہ اس کے ساتھ سفر کرنے اور اس کے ساتھ ہی عمرہ کرنے پر کیوں مُصر ہیں؟
سیالکوٹ، ملتان، لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں اگر پارٹی اپنی ٹکٹس میں انصاف مہیا نہیں کر سکتی تو بائیس کروڑ لوگوں کے درمیان انصاف پر مبنی وسائل کی تقسیم کیسے ممکن ہو گی؟
میرا یا میرے جیسے دیگر تمام لوگ جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خلاف تحریک انصاف کے حق میں بات کر رہے تھے، ان کا میاں نواز شریف یا آصف علی زرداری سے کوئی ذاتی جھگڑا تو نہیں ہے، ہم سب تو ایک اصول ، ایک امید کے تحت پرانے لوگوں کی مخالفت اور نئے لوگوں کی حمایت کر رہے تھے، عمران خان سے دوستی یا رشتہ داری نہیں اور نواز شریف اور زرداری سے لڑائی یا عداوت ذاتی نہیں۔ ایسے میں اگر عمران خان بھی اپنے آپ کو جوابدہی کے تصور سے ماورا سمجھتے ہیں تو میاں نواز شریف پارک لین کا جواب کیوں دیں؟
ہم اگر اصول کی بات کرتے ہیں تو وہ سب کے لیے ایک ہونا چاہیے اگر جو کچھ ماضی میں لیڈران اور سیاسی جماعتیں کرتی رہی ہیں، وہی لوگ اگر تحریک انصاف میں آ کر ویسا ہی کلچر قائم کرنے کی کوشش کریں گے تو ہمارے پاس کیا راستہ ہے؟
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد نے کہا ہے کہ2008ءکے بعد کمیشن نے بیلٹ پیپر پر ایک نیا خانہ متعارف کرانے کی تجویز دی تھی جس کے تحت ووٹر تمام امیدواروں کو مسترد کرنے کی رائے کا اظہار کر سکتا تھا مگر ہوا کیا؟ جمہوریت کے نام پر اقتدار کی میوزیکل چیئر کھیلنے والی سیاسی جماعتوں نے ووٹر کو یہ حق دینے سے محروم اور منظور شدہ بیلٹ پیپر کے ڈیزائن سے وہ خانہ غائب کر دیا ۔ آخر کیوں؟ آخر کیوںسیاسی جماعتیں پاکستانی عوام کو بڑے اور چھوٹے شیطان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کے لیے مجبور کرتی ہیں، یعنی ہمیں صرف آگے کھائی ، پیچھے کنواں کی سیچوئشن میں کیوں لا کھڑا کرتے ہیں۔ جناب ہم یہ بھی تو بتاانا چاہتے ہیں کہ ہم ایسے کسی راستے پر نہیں جانا چاہتے جہاں ہمیں کھائی اور کنوئیں میں کسی ایک میں گرنے کا ہی آپشن دستیاب ہو ، ہم کسی ایسے راستے پر نہیں جانا چاہتے جہاں بڑے اور چھوٹے شیطان کے ساتھ کھڑے ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو ۔ ویسے آپس کی بات ہے یہ چھوٹے اور بڑے شیطان کا جھانسہ بھی ہم صحافیوں اور میڈیا کے لوگوں نے دیا ہوا ہے وگرنہ شیطان تو شیطان ہی ہوتا ہے اسے ووٹ دینے کا نہیں”دو“ دینے یا کنکریاں مارنے کا حکم ہے۔
کوئی خدا کاخوف نہیں ہے کہ اگر ہمیں یہ لگتا ہے کہ یہ نام نہاد ”الیکٹ ایبلز“ جو پارٹی اور شکلیں بدل کر پھر سے ہمارے کندھے پر سواری کرنے آ رہے ہیں تو ہم اسے مسترد نہیں کر سکتے کیوں، کیونکہ یہ ”الیکٹ ایبلز“ نامی آسیب نے پورے نظام پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ ”جن جپھا“ یا ”پیر تسمہ پا“ بلکہ ”پیران تسمہ پا“ نہیں چاہتے کہ یہاں کچھ بدلے، یہ سکندر بوسن ، علیم خان، فردوس عاشق اعوان، نذر گوندل، راجہ ریاض، خسرو بختیار اور لغاری وغیرہ سے عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماریں؟
میں عمران خان کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہتا لیکن طریقہ کار پوچھنا چاہتا ہوں کہ اپنے دیرینہ کارکنان کو نظر انداز کر کے وہ کونسا سیاسی کلچر متعارف کرانا چاہتے ہیں؟ کیسے تبدیلی لانا چاہتے ہیں؟ کیوں کہ یہ سب لوگ تو ستر سال سے صورتحال کو ”جوں کا توں“(سٹیٹس کو) رکھنے پر زور لگاتے رہتے ہیں، اب وہ کیوں کسی ”کمی کمین“ کے لیے آگے آنے کے راستے کھولیں گے؟
یہ پرانی مضر صحت اور ٹنکچر کی آمیزیش والی شراب تو عرصے سے ہم پی رہے ہیں بوتل اور لیبل تبدیل کرنے سے اس کی تاثیر کیسے بدلے گی؟ جبکہ بوتل بھی پرانی بوتل سے ملتی جلتی بلکہ وہی ہے، غرور، رعونت اور جوابدہی کے تصور سے عاری میٹریل سے بنی ہوئی!
لیکن کیسے کہیں کہ اسے اٹھاﺅ ہمارے سامنے سے ، ہمارے ”ڈاکٹر“ نے بھی تو یہی تجویز کیا ہے، تو کیا ”ڈاکٹر“ تبدیل کریں؟ مگر کیسے بڑی مشکل سے ”ڈسپنسر“ کو ”ڈاکٹر“ بنایا تھا کہ ایم بی بی ایس دستیاب نہیں اب کیا کریں؟


ای پیپر