جہاز کے اندر سے!
21 جون 2018 2018-06-21

میں نے گزشتہ کالم میں پی آئی اے اور بعض دوسری ایئرلائنز کے جہازوں کے ان ٹائیلٹس کا ذکر کیا تھا جو سائز میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور اس وجہ سے بے شمار مسافروں کو بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خصوصاً ”موٹے مسافروں“ کے لیے تو یہ ٹائیلٹس باقاعدہ ایک ”اذیت گاہ“ ہوتے ہیں، اُن کا آدھا جسم ٹائیلٹ سے باہر ہوتا ہے، اور جواندر ہوتا ہے وہ باہر سے نظر آرہا ہوتا ہے۔ حدتو یہ ہے کہ ”بزنس کلاس“ جس میں مسافر ”ڈبل خرچا“ کرکے سفر کرتے ہیں ان کے ٹائیلٹس کا سائز بھی عام مسافروں کے ٹائیلٹس جتنا ہی ہوتا ہے۔ اس کا ”انکشاف “ مجھ پر یوں ہوا ایئرہوسٹس سے میں نے کہا ”ٹائیلٹ کے باہر بہت رش ہے، آپ اگر مجھے بزنس کلاس کا ٹائیلٹ استعمال کرنے کی اجازت دے دیں، میں آپ کا بہت ممنون ہوں گا“ .... وہ بولی ” میری بزنس کلاس میں ڈیوٹی نہیں ہے“ .... میں نے عرض کیا ”مجھے صرف ٹائیلٹ استعمال کرنا ہے“ ۔ اس نے میری طرف ناگوار نظروں سے دیکھا، مجھے لگا میری بات کا وہ برامان گئی ہے۔ پر کچھ ہی لمحوں بعد وہ واپس آئی اور مجھے بزنس کلاس کے ٹائیلٹ میں لے گئی۔ بزنس کلاس اور عام کلاس کے ٹائیلٹس میں فرق صرف اتنا تھا بزنس کلاس کے ٹائیلٹ کے باہر قطار نہیں تھی ، ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو بزنس کلاس میں مسافروں کو کھانا وغیرہ ذرا اچھا ملتا ہے، جس کے بعد رفع حاجت کی اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ پی آئی اے کے جہازوں میں عام مسافروں کو دیئے جانے والا کھانا عموماً اتنا بدذائقہ ہوتا ہے زیادہ دیر مسافروں کے اندر نہیں ٹکتا۔ اس بار کھانے کے لیے ”اروی“ دی گئی۔ اروی بڑی ملائم سبزی ہوتی ہے۔ میرے ساتھ والی نشست پر ایک سردار جی (سکھ) بیٹھے تھے، وہ بار بار اروی پکڑنے کی کوشش کرتے اور وہ ان کے ہاتھوں سے پھسل کر نکل جاتی۔ بڑی مشکل سے اروی کو انہوں نے قابو کرکے منہ میں ڈالا اور پیچھے ہاتھ رکھ لیے کہ کہیں فوراً ہی باہر نہ نکل جائے ....سکھ کینیڈا کو اپنا دوسرا ملک سمجھتے ہیں۔ میرے دائیں جانب نشست پر جو سردار جی تشریف فرماتھے جسامت کے لحاظ سے وہ مجھے سکھوں کے ”بٹ صاحب“ لگ رہے تھے۔ سیٹ پر وہ بمشکل ہی پورے آئے ہوئے تھے، ان کا آدھے سے زیادہ جسم میری نشست پر تھا جس کی وجہ سے میرا آدھے سے زیادہ جسم میرے بائیں والی نشست پر تھا جس پر میری بیگم بیٹھی تھی اور میں سوچ رہا تھا کاش یہاں کوئی اور خاتون بیٹھی ہوتی تو میرا سفر ذرا خوشگوار گزر جاتا، سردار جی کا موٹاپا دیکھ کر مجھے اپنے اردوادب کے ڈاکٹر وحید قریشی مرحوم کا موٹاپایاد آگیا۔ وہ اورنٹیل کالج پنجاب یونیورسٹی کے شاید پرنسپل بھی رہے۔ ایک بار میں اور دلدار بھٹی مرحوم مال روڈ سے گزررہے تھے، ہماری گاڑی ایک اشارے پر رُکی، ہم نے دیکھا گاڑی کے بالکل ساتھ ڈاکٹر وحید قریشی اپنے سکوٹر پر اس طرح بیٹھے تھے کہ سکوٹر نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ دلدار بھٹی نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرکے ان سے کہا ” ڈاکٹر صاحب اب آپ بھی گاڑی لے لیں“ ۔ وہ بولے ”بھٹی صاحب آپ بس دعا کریں “....دلدار بولا ” ڈاکٹر صاحب دعا تو آپ کے سکوٹر کو کرنی چاہیے“ جہاز میں میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھے سردار جی کی ایک ”خصوصیت“ یہ بھی تھی وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد سو جاتے تھے، بلکہ کئی بار ایسے ہوا وہ مجھ سے باتیں کرتے کرتے خراٹے لینے لگے ۔ ایک بار اپنے ہی زوردار خراٹوں سے ان کی آنکھ کھل گئی۔ وہ ہڑبڑاکر مجھ سے پوچھنے لگے ”کی ہویا، کی ہویا؟“۔ میں نے عرض کیا ”سردار جی کجھ نئیں ہویا، تسی آپ اپنے خراٹیاں توں ڈر گئے او“ ....میری بات سن کر بڑے اطمینان سے انہوں نے کہا ”اچھا“، اور پھر خراٹے لینے لگے۔ ان کے مسلسل خراٹے سن کر مجھے ان سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی کہ آپ کیا کرتے ہیں ؟“ ....جیسے ایک بار میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا ”آپ خیر سے کتنے بہن بھائی ہیں؟“.... اُس نے جواب دیا ”ہم اکیس بہن بھائی ہیں“ .... میں نے پوچھا ”آپ کے والد کیا کرتے ہیں ؟“ ۔ وہ بولا ”بتایا تو
ہے کہ ہم اکیس بہن بھائی ہیں “.... اس کے کہنے کا مطلب تھا ابا جی کو یہی کچھ کرنے کے بعد اور کچھ کرنے کو بھلا فرصت ہی کہاں ہے ....ویسے سردار جی بڑے دلچسپ انسان تھے، ان کی وجہ سے یا یوں کہہ لیں ان کی حرکتوں سے میرا سفر ذرا خوشگوار گزرا، کیونکہ وہ جہاز میں زیادہ وقت سوتے رہے، البتہ اُن کے خراٹوں سے اُن کے اردگرد بیٹھے ہوئے بے شمار مسافر نہ صرف جاگتے رہے بلکہ خراٹوں کی آڑ میں سردار جی جوکچھ کررہے تھے مسافر بار بار ایئرہوسٹس سے پوچھتے ”ذرا چیک کرو ٹائیلٹ کے دروازے تو کھلے نہیں رہ گئے“ ....میں نے پوچھا ”سردار جی آپ کی شادی ہوئی ہے ؟“ وہ بولے ” نہیں، ابھی تک نہیں ہوئی“....میں اُن کی بات سن کر خاموش ہوگیا، وہ کہنے لگے ”آپ نے مجھ سے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ آپ کے بچے کتنے ہیں؟“ ....میں نے عرض کیا ”سردار جی جب آپ نے یہ فرما دیا ہے کہ آپ کی شادی نہیں ہوئی تو میں بچوں کا کیسے پوچھ سکتا ہوں؟“ ....وہ بولے ”پوچھنے میں کیا حرج ہے؟“.... اس دوران ایئرہوسٹس چائے لے آئی، سردار جی چائے میں چینی ڈالنا بھول گئے، مگر پلاسٹک کی چمچ سے چائے مسلسل ہلاتے جارہے تھے، پھر باآواز بلند ایک گھونٹ اُنہوں نے بھرا اور زبردست قہقہہ لگاکر بولے ” اج اک بوہت وڈا فلسفہ سمجھ آیا اے۔ چاءوچ کھنڈ(چینی) نہ پاﺅتے جینا مرضی ہلاندے جاﺅ چاءذرا میٹھی نئیں ہوندی“ .... جہاز میں میری ملاقات ایک سینئر بیوروکریٹ سے بھی ہوئی۔ انہوں نے مجھے نہیں بتایا میں خود سمجھ گیا تھا ، وہ اب ریٹائرڈ ہوگئے ہیں کیونکہ وہ بزنس کلاس میں سفر کرنے کے بجائے عام کلاس میں سفر کررہے تھے۔ اور مسلسل جاگ بھی رہے تھے۔ ہمارے اکثر افسران اپنی ساری نیند دوران سروس ہی پوری کرلیتے ہیں۔ کچھ افسران نے اپنے اپنے دفاترمیں چھوٹا سا اک بورڈ لگایا ہوتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے ”یہاں شور مت کریں“ .... حالانکہ لکھا یہ ہونا چاہیے ”یہاں شور مت کریں ورنہ افسر جاگ جائیں گے“۔.... مذکورہ بالا سینئر افسر کی ریٹائرمنٹ کا اندازہ اس لیے بھی مجھے ہوگیا تھا وہ بار بار شکایت کررہے تھے کہ جہاز کی ٹکٹیں مہنگی ہوگئی ہیں ، میں نے عرض کیا یہ ٹکٹیں اس وقت تک آپ کو مہنگی ہی محسوس ہوں گی جب تک حکومت ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی نیا عہدہ آپ کو نہیں سونپ دیتی ، جیسے مشتاق سکھیرے اور ذوالفقار چیمے وغیرہ کو سونپا ہوا ہے ! (جاری ہے)


ای پیپر