قومی سیاسی حالات اور بحران
21 جولائی 2020 (22:59) 2020-07-21

ملکی حالات سنبھالنے کی بجائے مزید خرابیوں کی جانب دھکیلے جارہے ہیں ۔ آئین ، جمہوریت ، پارلیمانی نظام کے لیے سنجیدہ خطرات بڑھتے جارہے ہیں ۔ نظام حکومت اور ریاستی نظام میں بڑا بگاڑ آگیا ہے ۔ اقتصادی حالات بے قابو ہیں جس سے فوڈ سیکورٹی اور نیشنل سیکورٹی کے لیے بڑا خطرہ منہ کھولے کھڑا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے بعد بھارتی نریندر مودی کا فاشزم بڑھتا جارہاہے لیکن اس کے سدباب کے لیے پاکستان متفقہ قومی کشمیر پالیسی نہیں بنا پایا ۔ کرونا وبا سے ہولناکی اور تباہ کاریاں تو طشت از بام ہیں لیکن مشترکہ قومی ایکشن پلان نہیں بن پایا بلکہ مرکز اور صوبوں میں اختلافات فساد اور تعصبات کی شکل اختیار کر گئے ہیں ۔ نظام تعلیم ٹھپ ہے ۔ دینی مدارس پر تعلیمی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہیں۔ نئی نسل کے قیمتی چھ ماہ ضائع ہوگئے لیکن قومی قیادت نے اس پر توجہ نہیں دی ، ززاعت ہی ملک کی معاشی صورت حال کی مضبوط بنیاد ہے۔ زرعی پالیسی ناکارہ ، ٹڈی دل حملوں نے اور تباہی مچاد ی ہے ۔ بلدیاتی نظام ہے نہیں جو لایا جارہاہے وہ چوں چوں کا مربہ ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو بااختیار بلدیاتی نظام دینے کو تیار نہیں ۔ آزادانہ، غیر جانبدارانہ عام انتخابات کے لیے کوئی قومی لائحہ عمل اختیار نہیں کیا جارہا۔ بڑا بحران تو یہ ہے کہ دو قومی نظریہ ، قومی زبان اردو ، شعائر اسلام سے دوریاں پیدا کردی گئی ہیں ۔ عقیدہ ختم نبوت پر بار بار حملہ کیا جاتاہے اور منکرین عقیدہ ختم نبوت کی ریاستی سرپرستی دینی حلقوں میں بڑے اضطراب کا باعث ہے۔ غرض قومی سیاسی اور ریاستی حالات تہ در تہ بحرانوں سے دوچار ہیں جبکہ ان سے نکلنے کے لیے حکومت سنجیدہ نہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں کا کردار اور رویہ بھی قومی حالات کے تناظر میں معیاری نہیں ۔

1970 ء کے بعد سے ملک میں ہر موڑ پر نیا سیاسی بحران جنم لیتا چلا جارہاہے ۔ فوجی آمریتوں ، بھٹو زرداری خاندان ، نوازشریف خاندان اور اسٹیٹس کو نظام سے تنگ عوام میں 2018 ء کے عام انتخابات پر تمام تر تحفظات کے باوجود عمران خان صاحب کے برسراقتدار آنے پر عوام میںبڑی توقعات پیدا ہوئیں ۔ خصوصاً یہ اطمینان اور زیادہ بڑھ گیا کہ حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہے لیکن یہ امر پوری قوم کے لیے بڑا تکلیف دہ بن گیا کہ عمران خان اپنے دعوئوں ، اعلانات اور تبدیلی کے نعرے کے مطابق نہ اہلیت ثابت کر سکے نہ ہی اہل ٹیم سامنے لاسکے اور نہ ہی اس تاثر کو سچ ثابت کر سکے کہ ان کے پاس تبدیلی کے منشور پر عملدرآمد کا کوئی ایکشن پلان ہے اسی وجہ سے ملک میں حالات سنبھلنے کی بجائے سیاسی ، پارلیمانی ، معاشی ، مسئلہ کشمیر ، کرونا وبا کنٹرول کرنے ، احتساب سب کا ، اسلامی نظریاتی حوالہ سے ریاست مدینہ نظام دینے ، شعائر اسلام بالخصوص تحفظ ختم نبوت اور مساجد و مدارس کے تحفظ کے محاذ پر شدید تربحران سب کے لیے بڑے خطرات کا موجب بن گیا ہے ۔ غالب اکثریت مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو نظر انداز کر کے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے لیے سافٹ امیج اور سستی شہریت کے لیے بھونڈا طریقہ اختیار کر کے اسلامیان پاکستان کے لیے انتہائی تکلیف دہ امر بناد گیا ہے ۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری ہیں لیکن یہ المیہ ہے کہ فوجی آمریتیں بلدیاتی اداروں کو اپنے آمرانہ اقتدار کے تحفظ کا ذریعہ بناتی رہیں ۔ دوسری طرف ملک میں نیم محدود جمہوری حکومتیں بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں حتیٰ کہ اسٹیٹس کو توڑنے کی بجائے پہلے سے بد تر اور حکمرانی کا نظام عوام سے چھین کر اسٹیبلشمنٹ کی دہلیز پر ڈھیر کردیا گیا ہے ۔ دو سال کے پی ٹی آئی دور اقتدار میں لاقانونیت ، بے روزگاری ، کساد بازاری ، رشوت خوری بڑھ گئی ۔ عوام کو لوٹنے والا مافیا کئی گنا منظم اور طاقتور ہوگیا ۔ خطرہ کا یہ پہلو نمایاں ہے کہ حکومت خود اپنی اصلاح اور اصلاح احوال کے لیے تیار نہیں ۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بے وقت کی راگنی چلادی ہے ۔ سیاست میں ڈائیلاگ کے دروازے بند ہو جائیں تو آئین ، سیاسی جمہوری پارلیمانی نظام کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔ معاملات دھڑن تختہ کی طرف جارہے ہیں ۔ حالات کا تقاضا ہے کہ قومی ترجیحات پر قومی قیادت متحد ہو اور بحرانوں کا علاج تلاش کیا جائے وگرنہ ضد ، انا ، ہٹ دھرمی ، تکبر و غرور سب کچھ بہا کر لے جائے گا اس کا ذمہ دار وزیراعظم عمران خان کے علاوہ اور کوئی نہ ہوگا اس صورتحال میں ریاستی اداروں اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ بھی دائو پر لگی ہے ۔ عوام میں کھلے عام خوفناک تبصرے اچھے مستقبل کی علامت نہیں ۔

مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے لاک ڈائون کو

350 سے زائد دن بیت گئے اس دوران بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا گیا ہے ۔ مسلسل کشمیری قیادت گرفتار ، منظر سے غائب کر دی گئی ہے ۔ بے گناہ اور پرامن کشمیریوں پر موت مسلط کر دی گئی ہے ۔ 80لاکھ کشمیری بھارتی فاشزم اور لاک ڈائون کی تباہ کاریوں کاشکار ہیں ۔ نریندر مودی کا فاشزم تاریخ کے ظالمانہ ریکارڈ توڑتا ہوا انسانیت کی توہین بن گیاہے ۔ روزانہ انسانی المیے رونما ہورہے ہیں ۔ معصوم بچوں اور بچیوں کے سامنے والدین ، خاندان کے بزرگوں کو شہید اور توہین و تذلیل کی وارداتیں بھیانک شکل اختیار کر گئی ہیں ۔ عالمی ادارے ، انسانی حقوق کی تنظیمیں ، عالم اسلام اور عالمی برادری کے لیے ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال ڈوب مرنے کا مقام اور درجہ اختیار کر گئی ہے ۔ ایسی صورتحال میں پاکستانی حکومت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ، مظفر آباد میں جلسہ اور قانون ساز اسمبلی سے خطاب ، بے دلی سے چند ساتھیوں کے احتجاج تک اپنے آپ کو محدود کر لیا ۔ حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل ، بھارتی وزیراعظم مودی کے فاشزم ، انسانی حقوق کی تذلیل و پامالی کو دنیا بھر میں بے نقاب کرنے کے لیے کوئی واضح لائحہ ، متفقہ قومی ایکشن پلان نہیں دیا جاسکا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن پر پی ٹی آئی نے بڑی سیاست اور الزام تراشیوں کا کھیل کھیلا لیکن اب ناز نخرے سہولت کاری کی جارہی ہے یہ تماشا جموں و کشمیر کی قیادت اور عوام کو مایوسی کا پیغام دے رہاہے ۔ تحریک آزادی کشمیر کے عظیم قائد سیدعلی گیلانی کے اقدام اور موقف نے پاکستانی ملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے ۔ بڑے سلیقہ اور پاکستان سے محبت کے مضبوط رشتہ کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کو آئینہ دکھا دیاہے اب یہ وقت ہے اور پاکستان کی بقا کا تقاضہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پر حکومتی مجرمانہ غفلت ترک ہو اور مسلمہ متفقہ کشمیر پالیسی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں ۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی پر حکومت نے اپنے اندر کی غیر سنجیدگی کا پورا ثبوت دیاہے ۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے پاکستانی خارجہ محاذ پر عالمی اداروں ، اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل ، مستقل ممبران اور عالم اسلام کے اہم ترین ممالک کو قائل کرنے کی سبیل پیدا کر ے ۔

ملک کا اقتصادی نظام پہلے بھی دگرگوں تھا لیکن پی ٹی آئی اقتدار کے دو سالوں میں یہ بحران اور ذلت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ قرضوں کا بوجھ ، سود اور کرپشن کی لعنت نے بائیس کروڑ عوام کو بے بس بنادیاہے ۔ تبدیلی نظام اور معاشی خوشحالی کی دعویدار حکومت نے 73 سالہ تاریخ میں ان دو سالوں میں ریکارڈ قرضوں کے ذریعے قوم کے ہر فرد پر کئی گنا بوجھ ڈال بڑھا دیاہے ۔ ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات بے روزگاروں کے لشکر میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ زراعت ، صنعت ، تجارت اور سماجی ڈھانچہ کو ناقابل تلافی نقصان درپیش ہے ۔ نوجوان اور خواتین تو عمران سرکار کے فرنٹ لائن رضا کار ہیں لیکن جس قدر انہیں مایوس کیا گیا اس کی ماضی میں کوئی مثال موجود نہیں ۔ آئی ایم ایف سے چھٹکارا کا دعویٰ تو دھرا رہ گیابلکہ اب تو سارا بجٹ آئی ایم ایف کی ہدایات اور ٹیم بنا رہی ہے جس سے عوام کا خون نچوڑا جارہاہے ۔ پاکستان اسٹیل ملز ، ریلوے ، پی آئی اے ،واپڈا اور قومی اداروں کی نج کاری کی پکار ہے ۔ روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے ۔ اسٹاک ایکسچینج اربوں کھروں روپے ڈبونے کی مشین بن گیا ہے ۔ افراط زر ، کساد بازاری کی وجہ سے پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے اور عوام کی قوت خرید ختم ہوگئی ہے ۔ برآمدات گراوٹ اور جی ڈی پی ملکی تاریخ میں پہلی بارمنفی ہوگیاہے ۔ اقتصادی بحران حکومت کے ہاتھوں نہ سنبھل رہاہے اور نہ ہی کوئی درست لائحہ عمل ہے ۔ آٹا چینی تیل سیمنٹ بجلی گیس کی قیمتوں کے ذریعے اقتصادی مافیاز عوام کو لوٹ رہا ہے حکومت سہولت کار بنی ہوئی ہے ۔ اسلام کا معاشی نظام ، سو د کا خاتمہ ، خود انحصاری ، ملکی سرمایہ کاروں ، صنعت کاروں اور اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کی بحالی ہی بحران کے خاتمہ کی کلید ہے ۔

کرونا وبا نے پوری دنیا کے انسانوں کو متاثر کیاہے صحت تعلیم سماجی تحفظ فوڈ سیکورٹی کا نظام عملاً ناکام اور بے نقاب ہواہے ۔ حکومت نے اپنے تذبذب اور بروقت فیصلوں کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے سماج کے نقصانات کو کئی گنا بڑھا دیاہے ۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان چپقلش، کرونا کی آڑ میں سیکولرازم کے فروغ کے لیے فرقہ واریت کی شدت میں بڑھاوا افسوسناک اور انسانیت دشمن واردات کی گئی ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کرونا وبا بحران میں عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتریں لیکن یہ امر مقام شکر ہے کہ ملک بھر میں مخیر حضرات ، سماجی فلاحی اداروں ، ڈاکٹرز ، نرسز ، پیرامیڈیکل سٹاف اور بالخصوص جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن کے کارکنان اور رضا کاروں نے بے مثال خدمات انجام دی ہیں ۔ بحرانوں کے اس سمندر میں عوام کے بڑے ذمہ دار طبقہ نے انسانیت دوستی کا بھر پور ثبوت دیاہے ۔ کرونا کی نئی لہر کے خطرات کی گھنٹیاں بج رہی ہیں اس لیے قومی متفقہ حکمت عملی بنائی جائے ۔ انتشار ، چپقلش ، فرقہ واریت کے اسباب ختم کیے جائیں اسلام پر پختہ یقین رکھنے والی قوم اور امت رسول ؐ میں توبہ ، استغفار ، رجوع الی اللہ کا ماحول پیدا کیا جائے ۔ لڑائی جھگڑوں کی بجائے سنجیدہ ، ذمہ دارانہ اور منظم قوم بننے کے جذبے ابھارے جائیں ۔

کرونا وبا لاک ڈائون اور حکومتی تذبذب نے تعلیم ، صحت اور سماجی فلاحی نظام کو بری طرح متاثر کیا ۔ گزشتہ پانچ ماہ سے تعلیمی ادارے ، مدارس ، دارالتحفیظ بند ہیں اور یہ بندش بڑے حقیقی نقصانات کا باعث ہے ۔ نجی تعلیمی اداروں کا انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہواہے ۔ پنجاب حکومت نے اپنے نظام کے تحت پیف(PEF) کے اداروں کو ہولناک نقصانات سے دوچار کردیاہے ۔ کرونا ریلیف قومی پروگرام میں اساتذہ ، مساجد امام ، مساجد خادمین ، مدرسین ، حفاظ کرام کی ریلیف پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اس سفید پوش طبقہ کا حشر نشر ہوگیاہے ۔ انٹر نیٹ آن لائن تعلیم کا نظام بھی مکمل اور موثر ثابت نہیں ہوا ۔ تعلیم کو درپیش بحرانوں اور تعلیمی اداروں ، مدارس کی بندش کے خاتمہ کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں متفقہ لائحہ عمل بنائیں ۔

قومی سیاسی حالات اور اقتصادی بحران در بحران کسی ایک حکومت ، پارٹی اور تنہا ریاستی اداروں کے بس کا روگ نہیں ۔ قومی قیادت بحرانوں کی گہرائی اور خطرات کا ادراک پیدا کریں ۔ زندہ ، ذمہ دار اور فرض شناس قوم کی حیثیت سے اپنا کردار متعین کیا جائے ۔ کشکول پھیلانے ، اغیار کی ڈکٹیشن لینے اور قومی اعتماد کی بحالی کے لیے قومی لائحہ عمل ہی ناگزیرہے ۔ انتخابات میں بار بار عوامی اعتماد کچلا گیاہے جس سے قومی شیرازہ بکھر ا ہواہے ۔ قومی اعتماد کی بحالی کے لیے ہمہ پہلو قومی ترجیحات اور ہمہ پہلو متفقہ اقدامات وقت کی ضرورت ہے ۔ کوتاہی اور مجرمانہ غفلت جاری رکھی گئی تو تباہی اور بربادی نوشتہ دیوار ہے ۔


ای پیپر