ارسطو،مکیاویلی اور ارتھ شاستر
21 جولائی 2020 (22:59) 2020-07-21

جس زمانے میں ارسطو، مستقبل کے عظیم فاتح اسکندرکی تربیت کررہاتھاقریباًوہی زمانہ ہے جب ہندوستان میں چانکیہ کوتلیہ، چندرگپت موریہ کی تربیت کررہاتھا۔فرق یہ ہے کہ ارسطونے یہ فریضہ محض چھ برس تک انجام دیا جبکہ چانکیہ کوتلیہ کم و بیش اٹھائیس برس تک چندرگپت موریہ سے وابستہ رہا۔اس نے چندرگپت موریہ ہی کی راہنمائی کے لیے’’ ارتھ شاستر‘‘ لکھی۔ جواہرلال نہروچانکیہ کوتلیہ کو’’ ہندوستانی مکیاویلی‘‘ کہتے ہیں۔ چانکیہ سے ان کی اثرپذیری کا نتیجہ ہے کہ نئی دہلی کے ڈپلومیٹک انکلیو کانام ’’چانکیہ پوری‘‘ رکھا گیا۔ سولھویں صدی کے اطالوی حکیم نکولومکیاویلی اورارسطوکا بنیادی فرق یہ ہے کہ مکیاویلی اپنی کتاب ’’پرنس‘‘ میں شاہنشہی کا جو نسخہ تجویزکرتاہے وہ انسانیت اوراخلاقیات کی آنکھیں پھوڑدینے والاہے جب کہ ارسطو اخلاقیات کاقائل ہے ۔وہ ایک ایسی ریاست کا تصورپیش کرتاہے جو قابل عمل بھی ہو۔ گویاافلاطون بہترین کی بات کرتاہے تو اس کا شاگرد ارسطو بہترین قابل عمل کی بات کرتاہے ۔سیاسیات پراپنی کتاب میں اس نے بڑے بنیادی مباحث چھیڑے ہیں۔ اس کے نزدیک سیاست کا رشتہ ،اخلاق سے ہے ۔وہ سمجھتاہے کہ فردکی شخصیت کی تکمیل کسی اجتماعیت ہی میں ممکن ہوسکتی ہے اور ریاست ہی وہ اجتماعیت ہے جو فردکی شخصیت کی تکمیل کرتی ہے ۔علاوہ ازیں شہری شہریت،بادشاہت ،جمہوریت،موسیقی وغیرہ پر اس نے جو بحثیں کی ہیں ڈھائی ہزارسال گزرجانے کے باوجود آج بھی ہماری زندگی سے مربوط دکھائی دیتی ہیں ۔علم سیاست کا کوئی مطالعہ ان استاد وشاگرد یعنی افلاطون اور ارسطوکی دو کتابوں کو پڑھے بغیرمکمل نہیں ہوسکتا یعنی افلاطون کی Republic اور ارسطوکی Politics۔ خوش قسمتی سے ان دونوکتابوں کا اردو ترجمہ دو نہایت قابل مترجموں نے کیاہے ۔افلاطون کی Republicکا اردوترجمہ ’’ریاست ‘‘کے نام سے ڈاکٹر ذاکرحسین نے اور ارسطوکی Politics کا اردوترجمہ ’’سیاسیات ارسطو‘‘کے نام سے سیدنذیرنیازی نے کیاہے۔

یہ سب کچھ جاننے کے بعد میں ایک بارپھرایتھنزکے اس ویرانے میں پہنچ جاتاہوں۔ دیواروں کی موٹی موٹی بنیادیں غورسے دیکھتا ہوں، کہیں یہ بنیادیں کوئی لمبا کمرہ بناتی دکھائی دیتی ہیں، کہیں کسی لیکچرہال کی صورت پذیری کرتی ہیں ۔کوئی وضع جمنیزیم کی ہے توکوئی چینجنگ روم کی، کہیں پامسٹری کی کلاس ہوتی ہوگی تو کہیں فوجی تربیت دی جاتی ہوگی کہ یہ ادارہ فوجی تربیت،مذہبی سرگرمیوں اور فلسفیانہ مباحث کے لیے مواقع فراہم کرتاتھا ۔ میرادل چاہتاہے کہ کوئی شخص ملے جو اس جگہ کی تاریخ سے آگاہ ہو،جو اس ادارے اور اس جگہ کے بارے میں مجھ سے بات کرے، مجھے کچھ بتائے لیکن کوئی

انسان نظرنہیں آتا، ارددگردکی حدبندی پر غور کرتا ہوں، پتھرکا وہ ٹکرادیکھتاہوں جس پر بیٹھ کر میںنے تصویربنوائی تھی۔ وہ لمبایونانی یادآتاہے ، جسے اداکاری کا شوق تھا اور جوسقراط افلاطون اور ارسطو سے کوئی واقفیت رکھتاتھانہ ان کے شیوے یعنی تدریس سے خوش تھابلکہ وہ اسے چھوڑ کر پردئہ سیمیں کی افسانوی دنیا میں جانا چاہتا تھا۔ نیلی شرٹ، نیلی جینز اور سفید بالوں والایتھنز کا وہ شہری جس کی عمر اب کسی افسانوی دنیامیں جانے کی نہیں بلکہ حقیقت سے آشناہونے کی تھی، اداکار بننے کی تیاریوں میں مصروف تھا۔شایداس نے کہیں سے سن لیاتھا کہ ؎

افسانہ بے کراں ہے حقیقت کنارہ گیر

افسانہ بن سکے تو حقیقت نہ بن کبھی

ا ب مجھے وہاں زمین میں دھنسی ہوئی بنیادوں میں سے ابھرکر بلندہوتی دیواریں دکھائی دیتی ہیں، جن میں ارسطواوراس کے رفقادرس دیتے دکھائی دیتے ہیں ۔ان کے ساتھ ان کے شاگرد قدم زن ہیں، زمین میں لکیریں بناتی پتھریلی اینٹیں ان راہوں کی نشان دہی کرتی ہیں جن پر چل کرسیاسیات ،اخلاقیات،خطابت اور اخلاقیات کے عقدے حل کیے جاتے تھے ۔وہی رفتارجو کلک ِقدم سے/ پیام آسمانی کو زمینی زائچوں میں نقش کرتی ہے/ صبا جس سے بہت بچ بچ کے چلتی ہے …ارسطو ، استاذالاساتذہ سقراط کی طرح اپنے شاگردوں کے ذہنوں میں سوالات جگارہاہے۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ٹہلتے ٹہلتے درس ہورہاہے ،استاد سوالات کو لاینحل چھوڑدیتاہے ،اس لیے نہیں کہ اسے ان کا جواب معلوم نہیں بلکہ اس لیے کہ شاگردخود جستجو کریں اور سوالات کے جوابات تک پہنچیں ۔اس کے چل پھرکرپڑھانے کی روش کو مشائیت کہا جاتا ہے۔ ’’ مشی یمشی‘‘ کا مطلب چلنایاادھرادھرچلنے والا ہے۔ ارسطوکی ادائے خاص نے اس لفظ میں یہ معنی پیدا کر دیے کہ وہ حکیم جو دوسروں کے پاس جاکر علم حاصل کرے، دریافت حقائق کے لیے ملک در ملک پھرے یادلیل کے بغیر کسی دعوے کو قبول نہ کرے’’ مشائی ‘‘کہلاتاہے۔ ارسطو یا اس کے پیروکار چونکہ ان صفات کے حامل تھے اس لیے اس کے لائسیم میں تربیت پانے فلاسفہ مشائی یا ارسطوئی (Peripatetic School)کہلائے۔ مستقبل نے ارسطوکے فلسفے پربہت تنقیدکی بلکہ ول ڈیوراںنے تو خودارسطو کوبھی نہیں بخشااوراس کے بارے میں کہاکہ ارسطو اس جوش اورخلوص سے معراتھا جو اس کے استاد افلاطون کا خاصہ تھا۔ فرانسس بیکن نے ارسطو کے فلسفے کوچاربنیادی خرابیوں کا باعث قراردیا۔اس کا کہناہے کہ یہ چار خرابیاں دراصل چاربت ہیںجن کی پرستش نے انسان کو صحت مندرجحانات سے محروم کیا ۔ ان چاربتوںنے انسان کی آزادی کوسلب کردیا۔اس کے نزدیک یہ بت نسل قوم علاقے،مخصوص طرز تعلیم، پادر ہوا تجریدات وقیاسات اور رسوم و روایات کے تعصبات ہیں ۔اقبال تو ارسطوہی سے نہیں بیکن سے بھی آگے نکل گئے اور انھوںنے اعلان کیاکہ ارسطو کے ساتھ کچھ دیرہی رہو۔ فرانسس بیکن بھی انھیں اس قابل نہیں دکھائی دیاکہ وہ اس کے ساتھ زندگی کی تلقین کرتے بلکہ وہ اس کی تھوڑی سی ہم نوائی کرنے کو کہتے ہیں ۔انھوں نے گلشن رازجدید میں’ وصال ِممکن وو اجب اور حدیثِ قرب وبعدو بیش و کم ‘کے بارے میں کیے گئے سوال کاجواب دیتے ہوئے ارسطو کے ساتھ زیادہ رفاقت سے گریز کرنے کو کہا ۔ان کے نزدیک اچھا رویہ ارسطوکی پیروی ہے نہ اس کے نقادوں کی بلکہ اچھارویہ وہ ہے جس میں مسافر کسی ایک منزل پر قیام کرنے کی بجائے اپنے سفرمیں آگے ہی آگے بڑھتاجائے ؎

زمانی باارسطو آشناباش

دمی باسازبیکن ہم نواباش

ولیکن از مقام شان گزرکن

مشوگم اندرین منزل سفرکن

اگرچہ ہم بڑی جستجو کے بعد ارسطوکے لائسیم کو شناخت کرپائے تھے لیکن اقبال کی اس نصیحت کے پیش نظر اسی منزل میںمیں گم رہنے کی بجائے بہت جلداس سے آگے بڑھ گئے ۔


ای پیپر