ہلالِ عید اور وحدتِ ملت
21 جولائی 2020 (22:57) 2020-07-21

سیّد جمال الدین افغانیؒ سے لے کر حضرت اقبالؒ تک، اور صوفی ابوانیس برکتؒ سے لے کر حضرتِ واصف علی واصفؒ تک مشاہیرِ اْمت وحدتِ اُمت کا خواب دیکھتے چلے آئے ہیں۔ کس خواب نے کس قرن کے کس سمے تعبیر کی صورت دھارنی ہے‘ یہ مالک ِ تقدیر بہتر جانتا ہے۔ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں، اور جاگتے میں خواب دیکھنے پر تو قطعی آزادی ہے۔ خواب کو عمل کی صورت دیکھنے کی تمنا ہی بنی نوعِ آدم کے سرمایۂ عمل کا بنیادی محرک ہے۔

ہر تعمیری اور تخلیقی ذہن وحدتِ فکر، وحدتِ عمل اور وحدتِ قوم و ملت کے متعلق غور وفکر کرتا ہے، اپنے فکر کو ماضی کے سرمایہ ہدایت سے مدد لے کر پروان چڑھتا ہوا دیکھنے کا متمنی ہوتا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں اپنے فکر و عمل کو وحدت کی شاہراہ پر گامزن نہ دیکھ سکے تو اپنی تحریر وتقریر کی صورت آنے والی نسلوں میں سے کسی کے ہاتھ یہ مشعل دے کر رخصت ہو جاتا ہے کہ اگروہ صبح امید کو طلوع ہوتے نہ دیکھ پایا تو کیا ہے، بعد میں آنے والے اُمید اور یقین کی روح پرور فضا میںسانس ضرور لیں گے۔ قافلۂ حیات میں شمعِ ہدایت اس طرح دست بدست کسی ریلے ریس کی طرح ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منقل ہوتی رہتی ہے، آخری شمع بردار بھی کامیاب ہو گیا تو سارا قافلہ ہی منزلِ مراد تک پہنچ جائے گا۔ ہمارے خمیر میں وحدت کا شعور موجود ہے۔ جب کوئی وحدت کی بات کرتا ہے ‘یا سوچتا ہے‘ تو وہ درحقیقت اپنے فطری ازلی خمیر کی کھنکھنانی ہوئی آواز ہی پر لبیک کہہ رہا ہوتا ہے۔ قرآن میں جمیع بنی نوعِ آدم کو مخاطب کرتے ہوئے خطاب کیا گیا کہ ہم نے تمہیں نفسِ واحدہ سے پیدا کیا۔

محققین اس پر موضوع پرمقالے لکھ چکے ہیں، اور ان مقالاتِ حکمت و وحدت پر معترضین اپنے اعتراض بھی وارد کر چکے ہیں۔ اگرچہ یہ موضوع دقیق ہے لیکن تکنیکی اور تحقیقی حقائق کی روشنی میں ہم اجمالی طور پر اس بات کا جائزہ لیں گے کہ عید کے موقع آخر ہم ایک ہی دن عید کیونکر نہیں منا سکتے۔ ہمارے غم تو سانجھے ہیں، کیا ہماری خوشیاں سانجھی نہیں ہو سکتیں۔ اپنے اختلاف کو رحمت سے تعبیر کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اُمت کا وہ اختلاف باعث ِ رحمت ہے جو کسی متفق نتیجے پر پہنچنے کی غرض سے ہوتا ہے۔ وہ اختلافِ فکر جو اختلافِ عمل کی صورت اختیار کر جائے ‘اُس کے جواز میں رحمت کا حوالہ کیونکر دیا جا سکتا ہے۔ اختلاف تو اتفاق تک پہنچنے کیلئے ہوتا ہے۔بہتر راستہ اختیار کرنے کیلئے مختلف آرا کا پیدا ہونا غور و فکر کی دلیل ہے۔ وہ اختلاف کیسے رحمت قرار دیا جا سکتا ہے جس کا عملی نتیجہ انتشار اور افتراق کی صورت میں سامنے آئے ۔

وحدتِ ملت کے داعی اس بات پر متفق ہیں کہ ملتِ اسلامیہ میں سب دینی تہوار ایک ہی دن منانے چاہیئں، اس کی دلیل میں ذخیرہ ٔاحادیث سے وہ اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ چاند دیکھ کر عید کرنے کا حکم ہے اور ساتھ ہی یہ بھی حکم کہ جہاں جہاں تک اس کی خبر پہنچ جائے وہاںتک عید کا اعلان کیا جائے، اس سلسلے میں بتایا گیا کہ ایک تیز رفتار گھوڑاایک دن کی مسافت جہاں تک طے کرتا

ہے وہاں تک رویت ِ ہلا ل کا اطلاق ہو جائے گا۔ اس زمانے میں خبر ارسال کرنے کا واحد ذریعہ تیز رفتار گھڑ سوار ہوتے تھے۔ یعنی بلادِ اسلامیہ میں کسی ایک جگہ کی رویت کا اطلاق ہر اس جگہ پر ہو جائے گا جہاں تک اطلاع پہنچ جائے۔ جن روایات میں اہلِ شام کے متعلق یہ بتایا گیا کہ وہ جب چاند دیکھیں ‘ عید کریں، اس کا سبب بھی یہی تھا کہ وہاں تک مدینے میں چاند دیکھنے کی اطلاع نہیں پہنچ سکی اور لوگوں نے بعد میں آکر کر بتایا کہ ہم نے وہاں فلاں روز عید کی تھی۔ جنگل میں آگ کی طرح پھیل جانے والا محاورہ بھی آج کل استعمال کے قابل نہیں رہا کیونکہ آج کے دور میں خبر جنگل میں آگ پھیلنے سے کہیں کم عرصے میں پھیل جاتی ہے۔ موبائل ، واٹس ایپ اورٹویٹر اور فیس بک وغیرہ سے آج کل ہر اچھی یا بری خبر چشمِ زدن میں پھیل جاتی ہے۔

اگر مرکز مکہ و مدینہ تسلیم کر لیا جائے تو وہاں کی رویت کا اطلاق تمام عالمِ اسلام پر کیا جا سکتا ہے۔ مقامِ افسوس کہ مرکز سے مرکزیت کی آواز نہیں آئی، جس جگہ سے پیغامِ وحدت کی توقع تھی وہیں سے دامے درمے سخنے فرقہ واریت کی ترویج اور تبلیغ کا اہتمام ہوتا رہا۔ رویت ہلال کمیٹی صرف ایک ملک کی نہیں بلکہ تمام عالمِ اسلام کی مشترک ہونی چاہیے، یہ رویت ِ ہلال کمیٹی مکہ ٹاور پر اپنا اجلاس کرے اور اعلان کہ اہلِ اسلام فلاں دن عید کریں گے۔ ایک رویت ِ ہلال کمیٹی پر کیا موقوف، چھپن اسلامی ملکوں کی نظریاتی کونسل بھی مشترک ہونی چاہیے۔ اجماع و اجتہاد کا عمل جاری و ساری رہنا چاہیے۔ علامہ اقبالؒ تو پارلیمنٹ کو اجتہاد کا اختیار دینا چاہتے تھے ( غالباً ان کی نظر موجودہ نظامِ سیاست اور پارلیمنٹ پر نہ ہو گی)۔ اسلام میں جمود نہیں، دین ِ فطرت جامد و ساکت کیسے ہو سکتا ہے… یہ کسی میوزیم میں رکھی ہوئی حنوط شدہ دستاویز نہیں کہ گاہے گاہے تبرکا ً زیارت کر لی جائے۔ اسلام ایک زندہ و متحرک دین ہے… ایک عملی راستہ ہے، کوئی اپنے لیے عمل کی راہ تراشے تو سہی۔ بقول مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ اسلامی عمل مسلمانوں کا اجتماعی عمل ہے۔ اجتماعی عمل میں حائل رکاوٹوں کو اجتہاد اور اجماع سے دور کیا جائے۔

جب بھی وحدت کی بات ہوتی ہے جمود زدہ ذہنوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے، بہت سے فرقے اور کرسیاں بلڈوز ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم اپنے مسلک اور مکتبہ فکر سے زیادہ وابستہ ہیں، بہ نسبت کلمے ، قرآن اور صاحبِ قرآنؐ سے،اس لیے ہم نے سب سے پہلے اپنے مسلک کی "روشنی" میں کسی مسئلے کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ہمارا فارمولہ بہت سیدھا ہے، اگر کمیٹیوں کی سربراہی ہمارے پسندیدہ مسلک کے مولانا کے ہاتھ میں ہے تو اسے برقرار رہنا چاہیے، نہیں تو نہیں۔ حضرت واصف علی واصفؒ سے کسی نے پوچھا تھا کہ فرقہ واریت کیسے ختم کی جا سکتی ہے۔ آپؒ نے فرمایا کہ اپنا فرقہ ختم کر دو۔ طرفہ تماشا یہ کہ ہم فرقہ واریت ختم کرنے کیلئے اپنا فرقہ ختم کرنے کی بجائے دوسروں کا فرقہ ختم کرنا چاہتے ہیں… بحث مباحثے سے، دھونس اور زبردستی سے۔ ہماری توپوں کا رخ غیروں کی بجائے اپنوں کی طرف ہی ہوتا ہے۔

قومیں اپنے تہواروں کی یگانگت سے پہچانی جاتی ہیں، قومیں اپنے ہیروز اور ولنز کی پہچان سے ممتاز ہوتی ہیں۔ مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا… دین کیلیے قربانی دینے والا ہر خطے میں رہنے والے مسلمان کا ہیرو ہے۔ غدارِ ملت ہر جگہ سے لعن طعن وصول کرے گا، خواہ اس نے اپنے مقامی اور علاقائی مفادات کیلئے "کام" کیا ہو… کام دکھایا ہو!! قائدِ اعظمؒ نے برصغیر میں دو قومی نظریے کے حق میں یہ بھی دلیل دی تھی کہ ہمارے ہیروز جدا جدا ہیں، جو ہمارا ہیرو ہے وہ تمہارا ولن ہے۔ ایک قوم ، ایک دن ، ایک تہوار… وحدت کی علامت ہے۔ عید کا تہوار بھی وحدتِ ملت کے استعاروں میں سے ہے۔ وحدتِ ملت کے استعاروں اور شعروں "نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر" کا مضحکہ اڑانے والے "خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ" کے تصور سے آشنا نہیں۔ کلمے کی نسبت سے قوم کی تشکیل کا نظریہ دائیں اور بائیں دونوں بازوؤں کو چبھتا ہے۔ ملحد و ملا اس معاملے میں ایک پیج پر آ جاتے ہیں۔ کسی کی مسند ڈولتی ہے تو کسی کا نظریہ ڈوبتا ہے۔ مزاجِ رسولِ ہاشمی ؐ سے ناشناس ملّا یہاں تک بحث کرتا ہے کہ یہ کہاںلکھا ہے کہ سارے مسلمان ایک ہی دن عید کریں۔ وحدت کی بات کرنے والوں کے پاس کتاب کا حوالہ نہیں ‘ صاحب ِ کتابؐ کا حوالہ ہے… اور بہت مستند حوالہ ہے!!

بلادِ اِسلامیہ میں ایک دن عید منانے کی تجویز کے جواب میں ایک گھسی پٹی دلیل یہ سننے کو ملتی ہے کہ پھر نمازیں بھی مکہ ٹائم کے مطابق پڑھ لیا کریں۔ واللہ! نماز عبادت ہے، عید تہوار ہے۔ نماز کا تعلق آفتاب کے طلوع اور غروب ہونے کیساتھ ہے، عید کا تعلق صرف چاند کے طلوع ہونے کے ساتھ ہے۔ ہاں! نمازِ عید اپنے اپنے وقت پر پڑھی جائے گی کیونکہ اس کا تعلق فجر کی نماز کے ساتھ طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہے…لیکن بخدا ملت کو ایک دن عید منانے کی راہ میں فکری مغالطے تو پیدا نہ کریں۔ مختلف ایام میں عید منانے کا خمیازہ وحدتِ ملت کے تصور سے دوری ہی نہیں بلکہ شب قدر ، عاشورہ، یومِ عرفہ کے تعین میں بھی اشتباہ کی صورت میں دیکھنا پڑتا ہے۔ ملت اجتماعی دعا اور عبادت سے محروم ہو جاتی ہے۔ ہم حقائق کی بجائے کلیشے پر چلنے والی قوم بن چکے ہیں۔ نعروں کی گونج میں حق اور حقیقت دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے جذبات ہمارے کلیات پر حاوی ہو چکے ہیں۔

چاند سرحدیں دیکھ کر طلوع نہیں ہوتا۔ پچاس کی دہائی میں گوادر مسقط اومان کا حصہ تھا، یہ مسقط کے اتنا قریب ہے کہ جب مسقط میں چاند نظر آتا ہے تو یہاں بھی نظر آ جاتا ہے۔ اب اگر انتظامی طور پر اس کا الحاق پاکستان سے ہو چکا ہے تو یہاں نظر آنے والے چاند کا اطلاق پورے پاکستان میں ہوگا۔ اگر مشرقی اور مغربی پاکستان آج بھی ایک ہوتے تو کیا اس کا اطلاق آج کے بنگلہ دیش تک نہ ہوتا؟ کیا عید کا تعلق رویت اور اس کی خبر کے ساتھ ہے یا سیاسی اور انتظامی طور پر ملحق علاقوں تک محدود ہے… ؟ یہ سوال ہے اہلِ تحقیق کی خدمت میں!! ہمارے ملکوں اور دلوں کی سرحدیں ایک دوسرے کیلئے نرم کب ہوں گی؟؟ عید کے موقع پر شعر کی فرمائش پر اقبالؒ کب تک باحسرت و دل گرفتہ لکھتا رہے گا

ہلالِ عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے


ای پیپر