غریب ملک کے امیر شہزادے
21 جولائی 2020 (22:54) 2020-07-21

ریاست مدینہ کے نام پر قوم جھوم اٹھی اور کپتان کو حقیقی نجات دہندہ سمجھ کر اس کی جھولی میں جا گری ۔عوام پر امید تھی کہ ریاست مدینہ میں اب اسلام کے مطابق سب کچھ ہوگا ۔ نیک لوگ سیاسی میدان میں آ کر ملک کی خدمت کریں گے ۔ کرپٹ لوگ لازما جیل جا کر سز بھگتیں گے یا پھر ملک سے فرار ہو جائیں گے ۔ کرپٹ لوگوں کو نہ چھوڑنے کا عہد پورا ہو گا ۔ امیر غریب میں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہوگی۔ نئے پاکستان کے کپتان نے چینی چور، پیٹرول چور اورآٹا چور وں کا جو حشر کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔

آج میڈیا پر خانصاحب کی کابینہ میں شامل مشیروں اور معاونین خصوصی کے اثاثوں کی رپورٹ دیکھی تو مجھے یقین نہیں آیا کہ میرے کپتان کے مشیر ایسے بھی ہوسکتے ہیں۔ ضرور یہ ن لیگ کی چال یا پھر کسی ن لیگی نے یہ اثاثے ظاہر کرائے ہونگے۔ نئے پاکستان کے وزیراعظم کی کابینہ میں شامل غیر منتخب مشیروں اور معاونین خصوصی کے ملک کے اندر اور بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات پبلک کر دی گئی ہیں۔کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیران اور معاونین خصوصی اربوں روپے کے اثاثوں مالک ہیں اور 15 معاونین خصوصی میں سے پانچ دہری شہریت کے حامل ہیں، جبکہ ایک معاون خصوصی امریکی گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری، معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس، معاون خصوصی قومی سلامتی ڈویژن معید یوسف اور معاون خصوصی پیٹرولیم ندیم بابر دہری شہریت کے حامل ہیں۔ندیم افضل چن کینیڈا کی مستقل رہائش رکھتے ہیں۔ دوسری جانب معاون خصوصی سیاسی روابط شہباز گل امریکی گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔ معاون خصوصی تانیہ ایدروس کے پاس کینیڈا اور سنگاپور کی شہریت، معید یوسف کے پاس امریکہ کی رہائش اور ندیم بابر امریکی شہریت کے حامل ہیں۔ معاون خصوصی اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوور سیز پاکستانیز زلفی بخاری اثاثوں کی مالیت کے لحاظ سے امیر ترین ہیں۔معاون خصوصی زلفی بخاری پاکستان میں 13 سو کنال سے زائد اراضی کے مالک ہیں جبکہ ان کے پاس اسلام آباد میں 34 کنال اراضی پر مشتمل پلاٹس ہیں۔ وہ لندن میں 48 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ کی جائیداد کے بھی

مالک ہیں۔ ان کے پاس بیرون ملک پانچ کمپنیوں کے شیئرز ہیں۔زلفی بخاری پانچ لاکھ پاؤنڈ جبکہ ان کی اہلیہ کے پاس ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ مالیت کا سونا ہے۔ زلفی بخاری اور ان کی اہلیہ کے پاکستان میں 24 لاکھ روپے بینکوں میں موجود ہیں اور بیرون ملک بینکوں میں 17 لاکھ پاونڈ رقم ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ نے اپنی شہریت پاکستانی بتائی ہے، جبکہ ان کے اثاثوں کی مالیت 29 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔ مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے اپنے اثاثوں کی مالیت ایک ارب 75 کروڑ 68 لاکھ روپے سے زائد بتائی ہے۔عبدالرزاق داؤد ایک ارب 35 کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں اور ان کی اہلیہ 40 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کی مالک ہیں۔ عبدالرزاق داؤد کی ساڑھے 3 کروڑ کی زرعی اراضی ہے اور انہوں نے 4 کروڑ 15 لاکھ اہلیہ کے نام پر جائیداد ظاہر کی ہے۔ مشیر تجارت نے شیئرز کی مد میں 52 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور ان کی اہلیہ نے شیئرز کی مد میں 5 کروڑ کی سرمایہ کاری بھی ظاہر کی ہے۔تفصیلات کچھ یوں ہیں۔عبدالرزاق داؤد نے 2 کروڑ 93 لاکھ کے سیونگ سرٹیفکیٹ خرید رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 27 کروڑ جب کہ ان کی اہلیہ نے 13 کروڑ کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے اور مشیر تجارت کی اہلیہ کے پاس 100 تولے سونا بھی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر عشرت حسین بھی کم نہیں وہ بھی ارب پتی نکلے۔ عشرت حسین امریکا میں 3 جائیدادوں کے مالک ہیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین کل ایک ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بھی اپنے اثاثے ظاہر کیے ہیں، وہ 30 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ حفیظ شیخ کے پاس 2 کروڑ کی زرعی اراضی ہے، دبئی میں ان کی اہلیہ کے نام پر 13 کروڑ کا گھر ظاہر کیا گیا ہے۔ 13 کروڑ 50 لاکھ کا بینک بیلنس ظاہر کیا ہے۔ ان کے پاس 50 لاکھ مالیت کی گاڑی اور 20 لاکھ کے زیورات بھی ہیں۔معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے 10 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے جب کہ معاون خصوصی ندیم افضل چن ایک کروڑ 21 لاکھ کے مالک ہیں۔

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان وراثتی طور پر حاصل کی گئی ساڑھے 16 کروڑ روپے کی جائیداد کے مالک ہیں۔بابراعوان کی اسپین میں ایک کروڑ روپے کی جائیداد ہے جب کہ کاروبار میں 47 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ہے۔ بابراعوان ایک کروڑ 68 لاکھ روپے مالیت کی 6 گاڑیاں، 20 لاکھ روپے کے زیورات بھی رکھتے ہیں۔ ان کے پاس 18 لاکھ روپے کے زرعی آلات، 3 لاکھ روپے کی کلب ممبر شپ اور 5 کروڑ سے زائد نقد رقم ہے۔

معاون خصوصی صحت ظفر مرزا 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کے مالک ہیں۔ ان کے پاس 2 کروڑ روپے مالیت کا گھر اور 3 کروڑ روپے کے پلاٹس بھی ہیں۔ ظفر مرزا کی اہلیہ کے پاس 20 لاکھ روپے مالیت کے زیورات بھی ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل 11 کروڑ 85 لاکھ روپے کے مالک ہیں۔ ان کے ذمے 2 کروڑ 42 لاکھ روپے کے واجبات ہیں۔ شہباز گل کے موجودہ اثاثوں کی مالیت 9 کروڑ 44 لاکھ روپے ہے۔ پاکستان میں ایک پلاٹ اور فارم ہاؤس اور بیرون ملک ایک گھر کے مالک ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کے اثاثوں کی مالیت 6 کروڑ روپے ہے۔ انھوں نے سیالکوٹ میں زرعی اراضی اور کاروبار کی مالیت ظاہر نہیں کی۔معاون خصوصی برائے تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر 2 کروڑ روپے سے زائد کی مالک ہیں اور کابینہ میں سب سے کم اثاثے رکھنے والی معاون خصوصی ہیں۔

اب سوال کرنے والے تو کررہے ہیں کہ ایک طرف خانصاحب ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن کی جماعتوں کے لوگوں کو کہتے ہیں کہ ان کی دولت ملک سے باہر ہے مگر اپنے ہاتھ کے نیچے بیٹھے لوگ نظر نہیںآرہے ؟کپتان کی ٹیم کے اتنے لوگوں کا سرمایہ بیرون میں ہے تو پھر پہلے ان سے یہ سارا سرمایہ پاکستان میں شفٹ کرائیں پھر دوسروں کو کہیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں بن رہی ہیں مگر خانصاحب اس حقیقت سے انکار نہیں کہ پہلے اپنے گھر کو دیکھو پھر دوسرے کی طرف انگلی اٹھاؤ۔

آج آپ کے ایک صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا ٹویٹ دیکھا جس نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے میڈیا پر وار کیا۔ مراد راس صاحب پر میڈیا نے کتابوں کی اشاعت میں خرد برد کا کچا چٹھا کھولا جس پر انہوں نے میڈیا کو جعلی قرار دے دیا۔اگر آپ اتنے اہل وزیرتعلیم ہوتے تو کل خانصاحب کے لاہور آنے پر پیف پارٹنرز احتجاج نہ کرتے۔ آپ اپنی ذاتی انا کی تسلی کے لیے چھ دن سے بیٹھے پیف پارٹنرز کو ذلیل نہ کرواتے۔

خان صاحب آپ کی پہلی بار حکومت آئی ہے اوراگر آئندہ بھی حکومت کرنی ہے تو ایسے لوگوں سے جان چھڑائیں جو آپ کی بدنامی کا باعث بنتے ہوں۔جن کی وجہ سے آپ کا وقار خراب ہوتا ہو۔


ای پیپر