file photo

اسٹاک ایکسچینج حملہ: دو ممالک کی سرزمین استعمال ہونے کا انکشاف
21 جولائی 2020 (11:33) 2020-07-21

کراچی: اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں مبینہ طور پر دو ممالک کی سرزمین استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ملک میں حملے کی منصوبہ بندی ہوئی اور دوسرے ملک میں دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی گئی۔ انیس جون کو کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر حملے کی منصوبہ بندی کب کہاں کیسے ہوئی؟ اس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حملہ آوروں سے برآمد ہونے والی دو موبائل سمز نومبر دو ہزار انیس میں لاہور اور سرگودھا سے جاری ہوئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پہلے سے فعال موبائل سمز کو مقامی دکان داروں سے زائد قیمت پر خریدا گیا۔ خریدنے کے بعد موبائل سمز پہلے چمن میں آن کی گئیں۔ اور آخری بار موبائل سمز کو حملے سے قبل بلوچستان کے علاقے حب میں کھولا گیا۔ انتیس جون کی صبح گاڑی میں سوار چار دہشتگرد کراچی میں وال اسٹریٹ کہلانے والی آئی آئی چندریگرروڈ سے متصل گلی میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج پہنچے اور انہوں نے گاڑی داخلہ راستے پر چھوڑ کر پی ایس ایکس میں داخلے کی کوشش کی تھی۔

حملے کے دوران چاروں دہشت گرد سندھ پولیس کی ریپڈ رسپانس فورس کے جوانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ حملے میں تین سیکیورٹی گارڈز اور ایک پولیس سب انسپکٹر نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے خلاف مقدمہ ایس ایچ او میٹھا در کی مدعیت میں درج ہے۔ مقدمے میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور پولیس مقابلے سمیت ایکسپلوزیو ایکٹ اور سندھ آرمز ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کی اور اس کو بھارت کی سازش قرار دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ہماری ایجنسیز نے چار تخریب کاری کے منصوبے ناکام بنا دیے تھے۔ ان سب کی منصوبہ بندی بھارت میں کی گئی۔


ای پیپر