لاہور، وزرائے اعظم اور بیوروکریسی!
21 جولائی 2020 2020-07-21

وزیراعظم عمران خان گزشتہ ہفتے ایک روزہ دورے پر لاہورتشریف لائے، وہ جب سے وزیراعظم بنے ہیں میرے خیال میں، سب سے زیادہ دورے اُنہیں لاہورکے پڑے ،اِس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو جاتا ہے، پنجاب میں کوئی اہل وزیراعلیٰ ہونا وزیراعظم کو لاہورکے اتنے دورے شاید نہ پڑتے، ہماری خواہش یہ ہے وہ پورے پاکستان کے دورے کریں، خصوصاً اُنہیں اگر اجازت مل جائے تو بلوچستان کے زیادہ دورے کریں جو بے شمار محرومیوں کا شکار ہے، .... لاہور کے سب سے زیادہ دورے سابق وزیراعظم نواز شریف کو پڑتے تھے، اُن کا بس چلتا تو پاکستان کا دارالحکومت لاہور ہی کو بنادیتے، سنا ہے کبھی کبھی وہ صرف ”آلوگوشت “ یا”ہریسہ “ وغیرہ کھانے لاہور آجاتے تھے، اِس حوالے سے وہ بے چارے اتنے بدنام تھے بعض اوقات یار لوگوں کی اِس ”چھوڑی“ پر بھی آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے تھے کہ جس روز ”آلو گوشت “ کھانے کے لیے وہ خود لاہور نہ آسکتے اپنا ”خصوصی طیارہ“ لاہور بھجوا کر آلو گوشت اسلام آباد منگوا لیا کرتے تھے، مشرف دور میں اُن پر ”طیارہ سازش کیس“ بنا۔ اُن پر الزام تھا مشرف کا طیارے کا رُخ موڑنے کی اُنہوں نے کوشش کی تھی، ”طیارہ سازش کیس“ اِس الزام پر بھی بن سکتا تھا کہ لاہور سے آلو گوشت لانے کے لیے طیارے کا استعمال حد سے زیادہ کیا گیا، .... کچھ وجوہات کی بناءپر لاہور نواز شریف کو بڑا پسند تھا، دوسری اور تیسری وزارت عظمیٰ میں اُن کی مصروفیات پاکستان کے مسائل کی طرح بڑھ گئی تھیں، پہلی بار وہ جب وزیراعظم بنے بعض اوقات ہفتے میں دوتین بار لاہور آجایا کرتے تھے، لاہور آنے کا ایک مقصد باغ جناح میں کرکٹ کھیلنا ہوتا تھا، کرکٹ اُنہیں شروع سے ہی بڑی پسند تھی، بچپن میں جتنی کرکٹ سے اُنہیں محبت تھی، مجھے یقین ہے اب اُتنی نفرت ہوگئی ہوگی، اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کی اِس ”ملک دشمنی“ کا اللہ جانے کبھی کوئی ذکر کیوں نہیں کیا، خصوصاً نون لیگ اللہ جانے اِس معاملے میں خاموش کیوں ہے کہ ”خان صاحب کی وجہ سے پاکستان میں کرکٹ کا ایک شیدائی (نواز شریف) کم ہوگیا، ”بے وثوق ذرائع“ کے مطابق اپنی آخری وزارت عظمیٰ کے آخری دنوں میں وزیراعظم ہاﺅس کی بالکونی سے اُنہوں نے نیچے دیکھا لان میں وزیراعظم ہاﺅس کے کچھ ملازمین کرکٹ کھیل رہے تھے، وہ اِس پر سخت سیخ پا ہوئے اُن سے کہنے لگے ”تم میرے مقابلے میں وزیراعظم بننے کی پریکٹس کررہے ہو؟“....کچھ ملازموں کو اُنہوں نے فارغ کردیا، اورجو بیٹنگ کررہا تھااُسے صرف اِس لیے فارغ نہ کیاکہ وہ وزیراعظم ہاﺅس کا ”کک“ تھا اور کھانا بہت اچھا بناتا تھا، .... باغ جناح میں وزیراعظم نواز شریف کے بہت سے دوست اور کزنزاکٹھے ہو جاتے، وہ وزیراعظم کے ساتھ اُن کی مرضی کی کرکٹ کھیلتے جس پر وزیراعظم یہ سمجھتے ”ایک کرکٹر بڑی کامیابی سے حکومت چلا رہا ہے“ .... اب یقیناً لندن میں بیٹھے وہ یہ سمجھتے ہوں گے ایک کرکٹر نے ملک تباہ کردیا ہے، حالانکہ وہ اگر چاہتا ملک ”ڈبو“ بھی سکتا تھا، ممکن ہے اگلے دنوں میں نواز شریف کی یہ خواہش بھی پوری ہوجائے کیونکہ شدید بارشوں کے باعث سیلاب کا شدید خدشہ ہے، اور وزیراعظم خان صاحب کی ”اہل ٹیم“ کی اِس سلسلے میں کوئی تیاری دکھائی نہیں دے رہی، .... نواز شریف باغ جناح میں جب بیٹنگ کررہے ہوتے باﺅلنگ کروانے والے اُن کے ہرکزن یا دوست کی یہ کوشش ہوتی کہ اُن کی ہربال پر وزیراعظم ”چھکا“ یا کم ازکم ”چوکا“ ضرور ماریں، سنا ہے ایک بار اُس وقت کے کمشنر لاہور کو باﺅلنگ کا موقع ملا اُن کے بال پر وزیراعظم نے ”چھکا“ مارا، تو کمشنر صاحب اصرار کرنے لگے“سریہ ”چھکا“ نہیں ” ”دسا“ہے، (یعنی آپ کو دس سکوروں کا ثواب ملا ہے)۔ اُس وقت کے ڈی آئی جی لاہور باغ جناح میں وزیراعظم کی آمد سے کئی گھنٹے پہلے ہی تشریف لے آیاکرتے تھے، اُن کی شدید ترین خواہش اور کوشش ہوتی وزیراعظم کی آمدپر اُن کی گاڑی کا دروازہ وہ خود کھولیں، ایک بار اُن کی موجودگی میں اُن کے ماتحت ایک ایس ایس پی نے وزیراعظم کی گاڑی کا دروازہ کھول دیا تو اُس ایس ایس پی کی اُنہوں نے سخت سرزنش کی، اب وہ ڈی آئی جی ریٹائرڈ زندگی گزاررہے ہیں، مجھے اب تک حیرت یہ ہے سیاسی واصلی حکمرانوں کی ہرقسم کی ”مالش“ کے باوجود وہ آئی جی پنجاب کیوں نہیں بن سکے تھے؟۔ ہمارے اکثر بیوروکریٹس بڑے کمال کے لوگ ہوتے ہیں، سیاسی واصلی حکمرانوں کو یہ یقین دلانے کا فن صرف اُن ہی کے پاس ہوتا ہے کہ وہ صرف اُن ہی کے ساتھ مخلص ہیں، حالانکہ جو ملک کے ساتھ مخلص نہیں، (اگر مخلص ہوتے پاکستان کا ہرشعبہ آج زبوں حالی کا شکار نہ ہوتا)، جواپنے دین کے ساتھ مخلص نہیں (اگر ہوتے تو رشوت کسی بھی صورت میں لینے کا حرام سمجھتے) ، حتیٰ کہ اُن کی اوقات سے بڑھ کر اللہ نے اتنے بڑے بڑے عہدوں اور منصبوں سے اُنہیں نوازا، اور اُس کے بدلے میں مظلوموں کو انصاف مہیا نہ کرکے، اور تکبر کا مظاہرہ کرکے، یہ اپنے اللہ کے ساتھ مخلص نہیں تو ہر آنے والے حکمرانوں کے ساتھ مخلص کیسے ہوسکتے ہیں؟اُنہیں بس اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے۔ خان صاحب اگر وزیراعظم بنتے ہی اعلان فرما دیتے”ہم اپنے افسروں کو پہلے سے زیادہ تنخواہیں مراعات اور دوسری سہولیات دیں گے، اُنہیں اگر ہلکاسا نزلہ بھی ہو جائے ہم اُنہیں بیرون ملک علاج کی سہولت ہی فراہم کریں گے، اُنہیں لوٹ مار کرنے کی پہلے سے زیادہ اجازت دیں گے، .... اور عملی طورپر بھی وہ ایسا کرتے، بیوروکریسی آج اُن کی اُسی طرح غلام ہوتی جیسے شریف برادران یا دوسرے حکمرانوں کی تھی.... خان صاحب نے تو اِس حوالے سے اپنی لُٹیا ہی ڈبو دی، آتے ہی اعلان فرما دیا ہم بیوروکریٹس سے بڑے بڑے بنگلے چھین کر اُن کے لیے فلیٹ تیار کریں گے، ہم اُن سے بڑی بڑی گاڑیاں چھین کر اُنہیں پبلک ٹرانسپورٹ یا چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے پر مجبور کردیں گے، ہم اُن کے بچوں کو بڑے بڑے پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے اُٹھا کر سرکاری سکولوں میں ڈالیں گے وغیرہ وغیرہ .... عملی طورپر اُن کا ایک بھی اعلان پورا نہیں ہوا، البتہ اِس کا نقصان ذاتی طورپر اُنہیں یہ ہواکہ مجموعی حیثیت میں بیوروکریسی نے ایک مزاج بنا لیا اِس وزیراعظم کو کسی صورت میں اُس نے چلنے نہیں دینا، آج وزیراعظم کو تبدیلی کے خواب پورے نہ کرنے یا نہ ہونے میں جن سازشوں اور مشکلوں کاسامنا ہے اُس کی زیادہ ذمہ دار بیوروکریسی ہے۔ اقتدار کے دوبرس گزر جانے کے باوجود وزیراعظم محنتی اور مخلص بیوروکریٹس کی ٹیم بنانے میں ناکام ہی رہے ہیں، اُن کے اردگرد زیادہ تر ایسے بیوروکریٹس اکٹھے ہیں جومختلف سازشیں کرکے اُن کے سیاسی دوستوں کو بلکہ کسی حدتک ذاتی دوستوں کو بھی اُن سے الگ کرتے جارہے ہیں۔ اِس ماحول میں، میں حیران ہوں وزیراعظم کسی کرپٹ کمشنر ، ڈپٹی کمشنر آرپی او یا ڈی پی او کو تبدیل کرنے کی جرا¿ت کیسے کرلیتے ہیں؟؟؟


ای پیپر