تماشائے اہلِ کرم۔۔۔!
21 جولائی 2019 2019-07-21

ریکوڈیک کیس میں بین الاقوامی ثالثی ٹریبونل کی طرف سے پاکستان پر 6ارب ڈالر یا 9.5 کھرب روپے کا جُرمانہ ہو یا احتساب عدالت اسلام آباد کے سابق جج ارشد ملک کی قابلِ اعتراض ویڈیوز کا سنسنی خیز معاملہ ہو یا معیشت کی صورت حال پر سٹیٹ بینک کی تیسری سہ ماہی کی ہوشربا رپورٹ ہو یا مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور اُن کے خاندان کے بارے میں لندن کے اخبار " دی میل" میں چھپنے والی خبر کہ میاں شہباز شریف اور اُن کا خاندان برطانوی اداروں سے زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے آئی رقوم کو اپنا کاروبار چمکانے کے لیے استعمال کر تا رہا ہے کی تفصیل ہو یا وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سابق حکمرانوں کی "عیاشیوں" پر سرکاری خزانے سے بے دردی سے خرچ کی جانے والی رقوم کے واپس لینے کا انقلابی فیصلہ ہو یا نیب کی طرف سے سابق وزیر اعلٰی پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اور اُن کی فیملی کی جائیدادیں ، گاڑیاں اور کاروباری اثاثے منجمد کرنے کا اقدام ہو یا نیب کی طرف سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی ٹرمینل ٹھیکہ کیس میں گرفتار کرنے کا فیصلہ ہو۔ پچھلے چند دنوں کے یہ تمام واقعات ، فیصلے اور اقدامات ایسے ہیں جنہیں تماشائے اہل کرم کہہ کر پُکارا جائے تو ایسا کچھ غلط نہیں ہوگا ۔ لیکن پہلے ایک خبر کا تذکرہ جو ایک قومی معاصر میں اُس کے عالمی شہرت کے مالک خصوصی رپوٹر کے نام سے "حکومت کی سپیشل فورس بنانے کی تجویز" کی دو کالمی سُرخی کے تحت چھپی ہے۔ خبر کے متن میں کہا گیا ہے "میں تمہاری ٹانگیں توڑ دونگا، کوئی ہڈی سالم نہیں رہے گی ، میں تمہیں غائب کر دونگا۔ تمہارا جسم تمہارے گھر کے باہر پھینک دیا جائے گا اس مقصد کے لیے ایک خصوصی اسکواڈ ہوگا"۔ یہ سلطان راہی مرحوم کی کسی فلم کے مکالمے نہیں ہیں بلکہ خبر کے مطابق ایک طاقتور وفاقی وزیر ہفتے کی دھمکیاں تھیں جو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے جونئیر افسران کو دے رہا تھا ۔ خبر میں مزید کہا گیا ہے "یہ واقعہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر چند ہفتوں قبل پیش آیا تھا اور ایک مسافر کی جانب سے "دی نیوز" کو شیئر کیا گیا تھا۔ مختلف ذرائع سے مواد کی تصدیق کی گئی سول ایوی ایشن نے تفصیلات میں جائے بغیر واقعہ کی تصدیق کی جبکہ ڈی جی ایف آئی اے اس معاملے پر کوئی بھی گفتگو کرنے کو تیار نہیں تھے ۔ اس کی بجائے انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔ اس قہر کا مرکزی ہدف سول ایو ی ایشن کا ڈیوٹی فیسیلیٹیشن افسر تھا ۔ وزیر کو ایک خصوصی جہاز سے سفر کرنا تھا جو وہ باقاعدگی سے اپنے تمام سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ پروٹوکول ڈیوٹی پر سول ایوی ایشن کا عملہ اس موومنٹ سے بے خبر تھا ۔ انہیں وی وی آئی پی لائونج سے جہاز تک لانے کے لیے کوئی ائیر کنڈیشنڈ گاڑی نہیں تھی اور اسی وجہ سے وزیر طیش میں آگیا تھا ۔ اُس دن تو وہ اپنا غصہ نہیں نکال سکا تھا کہ اُسے روانگی میں تاخیر ہو رہی تھی چند روز بعد اپنی واپسی پر اُس نے اسلام آباد ائیر پورٹ کے لائونج میں سول ایوی ایشن اور ایف آئی اے کے عملے کو اپنے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا۔ یہی وہ وقت تھا جب انہیں شدید ڈانٹ پڑی اور خصوصی اسکواڈ کے ذریعے جبری گم شدگی کے وژن کو (وزیر صاحب نے ) شیئر کیا۔ اس کا غصہ اس کے باوجود کم نہیں ہوا ۔ وزیر نے ان افسران کو مکمل ایذا پہنچانے کے لیے اپنے دفتر طلب کر لیا ۔ ایسا کر دیا گیا کہ ایک ایف آئی اے افسر جو کہ واقعہ کے روز ڈیوٹی پر تھا اُس کا تبادلہ وزیر کو مناسب پروٹوکول نہ دینے پر گلگت کر دیا گیا۔ دونوں محکمے انتقامی کاروائی کے خوف سے غیر ضروری تشہیر سے بچنے کے لیے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم خصوصی اسکواڈ کے خیال نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ صورت حال سے واقف افراد کا کہنا ہے کہ یہ محض جھوٹی دھمکی نہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر نے محض اپنا غصہ نکالنے کے لیے خصوصی اسکواڈ کی تشہیر کا ذکر نہیں کیا اس خیال پر دیگر فورم میں بھی گفتگو ہو چکی ہے

طوالت کے خدشے کے باعث پوری خبر نقل نہیں کی جارہی لیکن "ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے "سمجھنے کے لیے خبر کا اتنا حصہ ہی کافی ہے اس کے ساتھ خبر کے آخری حصے میں اس بات کا ذکر کہ مذکورہ وزیر نقادوں پر برہم ہے اس خبر کو دو آتشہ بنانے کے لیے کافی ہے۔ وفاقی وزیر طرف سے اس خبر کی تردید نہ کرنے کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ خبر میں بیان کردہ تفصیل مبنی بر حقیقت ہے اور اسے رد نہیں کیا جا سکتا۔

خبریں چھپتی رہتی ہیں اور معدوم بھی ہو جاتی ہیں لیکن تماشائے اہل کرم کو فراموش کرنا آسان نہیں ہوتا اور پھر ایسے تماشائے اہل کرم کہ جن سے قومی خزانے کو اربوں ڈالر (کھربوں روپوں ) کا ٹھکہ لگ رہا ہو انھیں کون بھلا سکتا ہے ۔ ریکوڈیک کیس بھی ایک ایسا ہی معاملہ ہے جس میں بین الاقوامی ثالثی ٹریبونل کے فیصلے کے مطابق ریاست ِ پاکستان کو ٹیتھان کاپر کمپنی (TCC) کو 6 ارب ڈالر (9.5کھرب روپے) کی خطیر رقم بطور جرمانہ ادا کرنی ہوگی ۔ پاکستان اس جرمانے کا حقدار کیوں ٹھہرایا گیا اس میں ہمارے بہت سارے "مہربانوں" کا ہاتھ ہے جن میں وفاقی حکومت بالخصوص بلوچستان کی صوبائی حکومت ، پیپلز پارٹی کے دور کے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی ، پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس عزت مآب افتخار محمد چوہدری اور ہیرو بننے اور کہلوانے کے خواہش مند بعض سائنس دان اور بین الاقوامی ثالثی ٹریبونل میں پاکستان کا مقدمہ لڑنے والے غیر ملکی وکلاء جنہیں اربوں روپے کی فیس ادا کی گئی لیکن انھوں نے مقدمے کو ادھورا چھوڑے رکھا وغیرہ شامل ہیں۔ ریکوڈیک منصوبے کے حقائق کیا ہیں اس کے لیے ایک قومی معاصر میں چھپنے والے محترم یاسر پیر زادہ کے کالم سے استفادہ کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں " 193 میں BHPنامی ایک کمپنی نے بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے معاہدہ کیا کہ چاغی کے علاقے میں جو معدنی وسائل دریافت ہونگے اس میں سے 25% بلوچستان، 75% کمپنی کا حصہ ہوگا جبکہ ان وسائل کو دریافت کرنے اور نکالنے کی ذمہ داری اوراس ضمن میں ہر قسم کی سرمایہ کاری کمپنی کرے گی۔ عالمی معیا ر کے حساب سے یہ ایک بہترین معاہدہ تھا کیونکہ دُنیا میں ریاست کو معدنیات میں حصہ نہیں ملتا ، ریاست کا حصہ ٹیکسوں اور رائلٹی کی صورت میں آتا ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کی غالباً اچھوتی مثال تھی جہاں ریاستِ پاکستان کو بنا کچھ کیئے معدنیات کا 25%حصہ دار بنایا گیا۔ بعد میں اس معاہدے میں تبدیلی کی گئی جس کے تحت بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی جگہ حکومت بلوچستان نے لے لی جبکہ BHPکی جگہ TCC نے لے لی مگر شراکت داری کی شرائط وہی رہیں۔ TCC آسٹریلیا کی ایک کمپنی ہے جس میں دو کمپنیوں کے برابر کے شیئر ہیں جن میں سے ایک کمپنی UK میں رجسٹرڈ ہے جس کا صدر دفتر چلی میں ہے جبکہ دوسری کینیڈا میں ہے جو سونا نکالنے کی دُنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ کمپنی نے معاہدے کے مطابق کام شروع کر دیا مگر اسی دوران 2009میں بلوچستان نے چین کے کمپنی کو بھی دعوت دی کہ وہ اپنی پروپوزل دیں اور ہمارے ثمر مبارک مند نے بھی ایک پی سی ون بنا دیا کہ ہم یہ کام خودہی کر لینگے، موصوف کے پراجیکٹ کو "بلوچستان کاپر گولڈ پراجیکٹ "کا نام دیا گیا اور اسے منظور کرکے 8ارب روپے مختص کر دیے گئے۔ 15فروری 2011کو TCC نے حکومت کو مائننگ لیز کی درخواست دی جو مسترد کر دی گئی، کمپنی نے اس کے خلاف اتھارٹی کو اپیل کی وہ بھی خارج کر دی گئی۔ کمپنی کی درخواست کو جیسے نمٹایا گیا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ متعلقہ افسر نے جو پہلا اعتراض اُٹھایا یہ وہ تھا کہ کمپنی تو کہیں رجسٹرڈ ہی نہیں ۔ یہ اس سلوک کی ہلکی سی جھلک ہے جو ہم نے اس کمپنی کے ساتھ کیا ۔ ریکوڈیک سے 13ملین اونس سونے کے ذخائر ملنے کی اُمید تھی مگر یہ ذخائر کہیں دفن نہیں تھے ، اس کے لیے کمپنی کو پورے علاقے میں انفراسٹرکچر تعمیر کرنا تھا جو وہاں مفقود تھا ، ایک ایسی جگہ جہاں صر ف پہاڑ ہو وہاں سے یہ سونا 56برس میں کئی سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد نکلنا تھا۔ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا کام تھا۔ کمپنی نے جو فیزیبلٹی اسٹڈی جمع کروائی اس کے مطابق ہر قسم کے منافع ، ٹیکس اور رائیلٹی کی مد میں وفاقی اور صوبائی حکومت کو پورے منصوبے کے دوران distributable cash flow کا 50% ملنا تھا مگر ہمیں اس میں بھی سازش کی بُو آئی لہذا کمپنی کے معاہدے کو ہم نے غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کردیا ۔ کمپنی نے آسٹریلیا ، پاکستان سرمایہ کاری معاہدے کے تحت عالمی بینک کے ثالثی ادارے سے رجوع کیا ، اُس ادارے نے پاکستان پر 6ارب ڈالر کا جُرمانہ عائد کیا ہے ۔ اب ہمیں آرام ہے ۔ "

محترم یاسر پیر زادہ کے کالم کا حوالہ کچھ طویل ہو گیا ہے لیکن ریکوڈیک کیس کو سمجھنے کے لیے اس سے بہتر تحریر میری نظر کے سامنے سے نہیں گزری۔ تماشائے اہل کرم کے حوالے سے شروع میں جن دیگر معاملات اور واقعات کا ذکر کیا گیا ہے اگلے کالم میں فرداً فرداً ان کا جائزہ لیا جائے گا۔


ای پیپر