قادیانیت امریکہ کی دہلیزپر
21 جولائی 2019 2019-07-21

پاکستان آج کل شدید معاشی اورسیاسی بحرانوں کے گرداب میں ہے۔ان مشکل حالات میں وزیراعظم پاکستان کا امریکہ کا دورہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ایک طرف امریکہ کو افغانستان کا تصفیہ حل کرنے کے لیے پاکستان کا تعاون درکارہے تو دوسری طرف پاکستان کو اپنے معاشی مسائل کے حل کے لیے امریکی دستِ شفقت کی ضرورت ہے،لیکن عمران خان کے دورہ سے پہلے ایک پاکستانی عبدالشکوروائٹ ہاؤس کا طواف کرچکاہے۔جس کے عمران خان کے دورہ پر خاص اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پایاجاتاہے۔جس کے واضح اثرات ونتائج آنے والے وقت میں کھل کرسامنے آئیں گے۔

عبدالشکورچناب نگر کا رہائشی اورمذہباًقادیانی ہے۔وہ چناب نگر میں ممنوعہ قادیانی کتب کی اشاعت اورفروخت کے جرم میں دسمبر2015ء میں سیکورٹی فورسزکے ہاتھوں گرفتارہواتھا۔اُس کی دوکان پر چھاپہ مارکر توہین رسالت پر مبنی مواد اور ممنوع قادیانی کتب برآمد کی گئیں۔اس چھاپے کی نہ صرف وڈیو بنائی گئی، بلکہ تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی تھیں۔ دکان سے جو متنازع کتب برآمد ہوئیں، ان میں ’’کشتی نوح‘‘، ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘، ’’تفسیر صغیر‘‘،’’ تذکرۃ المہدی‘‘،’’ جماعت احمدیہ کا تعارف اور حقائق‘‘ کے علاوہ رسالہ’’ الفرقان‘‘ سمیت دیگر کئی توہین آمیزکتب اور کتابچے بھی شامل تھے۔عبد الشکور کے بارے میں بتایاگیاتھاکہ یہ قادیانی جماعت کے شعبہ نشرو اشاعت کا سیکرٹری ہے اور اس سے پہلے بھی گستاخانہ مواد پر مشتمل کتب فروخت کرنے کے الزام میں زیر حراست رہ چکا ہے ۔مقدمہ چلااوراُسے آٹھ سال کی سزا( انسداد دہشت گردی کے ایکٹ (اے ٹی اے ) 11ڈبلیو 89کے تحت پانچ سال اور 298سی کے تحت تین سال )سنائی گئی۔ اکتوبر 2018 ء میں امریکی کانگریس کے ایماپر ہیومن رائٹس کمیشن اور عالمی مذہبی آزادی کی تنظیم نے عبدالشکورکی رہائی کے لیے آواز اٹھانا شروع کی ۔صدر ڈونلڈٹرمپ نے 4 مارچ 2019ء کو اپنے سفیر کے ذریعے پاکستان سے اس کی رہائی کامطالبہ کیا ۔پھر17مارچ کو یہی مطالبہ امریکی وزیر کی جانب سے بھی کیاگیااور بالآخرعبدالشکورکو 20 مارچ2019ء کو رہائی کا پروانہ مل گیا۔اب چنددن پیشترعبدالشکورکو امریکہ میں پہنچاکر صدرٹرمپ سے اس کی ملاقات کرائی جاچکی ہے۔

قادیانیت اورسامراجیت کا ساتھ جنم جنم کا ہے۔ برطانوی سامراج نے قادیانیت کا خمیراُٹھایا،پالاپوسا اورجوان کیا،چونکہ قادیانیت کی پیدائش اسلام دشمنی پر اُستوارہوئی ہے ، اس لیے اب حسب ضرورت کبھی برطانوی اورکبھی امریکی سامراج کی قدم بوسی اوراحکامات کی وصولی کی جاتی ہے۔پاکستان کو بحرانوں میں لپٹادیکھ کرقادیانیت پھر اپنے نصرانی آقاؤں کے قدم بہ قدم کھڑی ہے۔ایک گم نام قادیانی عبدالشکورکو وائٹ ہاؤس میں پذیرائی ملنا معمولی بات نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے عالمی قوتوں کی طرف سے یہ پیغام دیاجارہاہے کہ اُن کا قادیانی گروہ کی شکل میں پاکستان میں عمل دخل اب بھی موجودہے۔جبکہ دوسری طرف امت مسلمہ بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کو قادیانیت کے اثرورسوخ اوراس کی براہ راست امریکی صدرتک رسائی کے ذریعے مرعوب کرنے کایہ ایک نفسیاتی حربہ بھی ہے۔جس کی بدولت مخالفین کے لیے اعصابی شکست وریخت کا عمل بروئے کارلانابھی طاغوتی قوتوں کا مقصود ومطلوب ہے۔

جب بھی آئین کے دائرے میں قادیانیوں کی اشتعال انگیزی کے خلاف ریاستی ادارے کوئی کارروائی کرتے ہیں تو ہمیشہ اسے قادیانیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیرکیاجاتاہے حالانکہ پاکستان میں درجنوں دیگر اقلیتیں بھی موجودہیں،مگر آج تک اُن کی جانب سے کبھی ایسی کوئی شکایت نہیں کی گئی۔قادیانی اپنے کفر کو چھپانے کے لیے اپنی آئینی حیثیت کو ماننے سے انکاری ہیں اور اپنے مسلمان ہونے پر اِصرار کرتے ہیں جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور وہ اس طرح خود ہی اپنے لیے مشکلات پیداکرتے ہیں اورپھراُن کے نتائج کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عبدالشکور قادیانی نے بھی امریکی صدرکے سامنے اپنی اوراپنی کمیونٹی کی مظلومیت کا رونارویا اورپاکستان میں قادیانیوں پر فرضی مظالم کا جھوٹ بولا۔قادیانیوں پر ظلم وستم کی یہ مبالغہ آمیزجھوٹی داستان عبدالشکورنے پہلی بارنہیں دہرائی ،بلکہ عالمی استعمارکی شہ پر قادیانی جماعت ہمیشہ اس جھوٹی کہانی کو ایک متعینہ سٹریٹجی اورایجنڈے کے طورپر استعمال کرتی چلی آرہی ہے۔ جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے ۔ جس سے عالمی قوتوں کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈال کراپنی شرائط منوانا آسان ہوجاتاہے۔اب قادیانی کھل کر سامنے نہیں آتے بلکہ اپنی سرپرست بین الاقوامی طاقتوں کے سہارے اور لابیوں کی مددسے پاکستان کو مختلف پابندیوں میں جکڑنے کے لیے کئی حربے استعمال کرتے ہیںجن کے نتیجہ میں بین الاقوامی معاہدوں، غیر ملکی امداد اور مذاکرات کے دوران مذہبی آزادی کے نام پر پاکستان پر مختلف پابندیاں عائدکی جاتی ہیں اورمن مانی شرائط منوانے کی ہرممکن کوشش کی جاتی ہے۔قانون توہین رسالت کا مسئلہ اس کی واضح مثال ہے جس کے خاتمہ کے لیے یورپی یونین اورامریکہ یک آوازاورمصروف عمل ہیں۔

امریکہ نے قادیانیوں کے سرپرست ہونے کا عندیہ دے کردینی قوتوں کے خلاف اور قادیانیوں کی حمایت میں کھڑاہونے کا اشارہ دے دیاہے۔اب تحفظ ختم نبوت محاذپر سرگرم جماعتوںکے خلاف کھلم کھلا کاروائیوں اورکریک ڈاؤن کا امکان پیداہوچکا ہے۔ یہ کٹھن وقت اس بات کا تقاضاکرتاہے کہ دینی قوتوں کے ذمہ دارمشترکہ لائح عمل تیارکریں اورعدم تشددکی پالیسی کو برقراررکھتے ہوئے ختم نبوت کا پیغام عام کریں، قادیانیوں کی تخریبی واشتعال انگیزسرگرمیوں کو بین الاقوامی فورم پر آشکارکریں اور پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کے سدباب کے لیے اُن کی مذموم کارروائیوں کو منظرعام پر لاکررائے عامہ کو ہموار کریں، تاکہ اُن کی مبینہ مظلومیت کی نقاب کوشائی ہوکرحقیقت عیاں ہوجائے۔


ای پیپر