روداد سفر
21 جولائی 2019 2019-07-21

موسم گرما کی تعطیلات میں بچوں کی بڑی خواہش سیر و تفریح کر نا ہی ہو تا ہے، اسکی تکمیل اور سیر و سیاحت کے فرو غ کی سرکاری پالیسی اور جذ بہ’’ قومی خدمت ‘‘سے سر شار ہو کر ہم نے اہل خا نہ کے ساتھ وادی نیلم کا رخت سفر ملتان سے باندھا، تو ہمارا پہلا پڑائو مظفرآباد تھا ،ہماری سر زمین پے یہ ریاست کا دوسرا دارالحکومت ہے اس کی خوبصورتی بڑے وفاقی دارالحکو مت کی مانند تو نہیں لیکن یہ صدر مقام مقبوضہ کشمیر کے عوام کی امیدوں کا مرکز ضرور ہے۔ اس مقام پر پہنچتے رات کی تاریکی میں بری خبر یہ ملی کہ وادی لیو سامیں آسمانی بجلی گرنے اور سیلا ب سے دیہات بہہ جانے سے کافی اموات ہو گئی ہیں اس افسوس ناک واقعہ سے سیر کی خوشی ذرا ماند پڑ گئی، خواتین کے دل بیٹھ گئے برادرم ڈاکٹر پروفیسرجاوید اصغرجنہوں نے عہد شباب میں یونیورسٹی کے زمانہ میں پہاڑوں میں سیر کا لطف اٹھا یا تھا وہ بھی دل چھوٹا کر نے لگے، اس وقت پورا مظفر آباد بارش میں بھیگ رہا تھا ،پہاڑوں کی چو ٹی پے بنے گھر ان میں جلتے قمقے ستاروں کی مانند دکھائی دے رہے تھے، صبح ناشتہ کے بعد ہم وادی نیلم کے مقام کیل کی طرف روانہ ہوئے جو نہی وادی کا آغاز ہو تا ہے تو چیک پوسٹ پر آپکو رجسٹریشن کر وانا پڑتی ہے ساتھ ہی ایمر جنسی کی صورت میں لواحقین کا نمبر بھی لکھوانا پڑتا ہے چھوٹے دل والوں کی دھڑکن یہاں اور بھی تیز ہو جاتی ہے، وجہ یہ بھی ہے کہ مظفر آباد سے تیرہ کلو میٹر کا سفر جب مکمل ہو تا ہے تو پاکستان بھر کے تمام نیٹ ورک جو اب دے دیتے ہیں، نئی موبائل سرو س کا آغاز ہو جا تا ہے جس کا نام سپیشل کمیو نیکیشن سروس ہے اسکی سم وہاں جا کر بائیو میٹر سسٹم کے تحت خریدی جاتی ہے لہذا شنا ختی کارڈ کا ہمراہ ہو نا بھی لازم ہے۔

اس مرحلہ سے فارغ ہو کر دوبارہ سفر کا آغا ز کیا مظفر آباد سے اٹھ مقام تک قریبا ً کار پیٹڈروڈ ہے لیکن زیادہ کشادہ نہیں کیونکہ اس کے ایک طرف دریائے نیلم بہہ رہا ہے اور دوسری طرف بلند و بالا پہاڑ ہیں لہذا یہاں ڈرائیو نگ انتہائی احتیاط کا تقاضا کر تی ہے غلطی کی قطعی کوئی گنجائش نہیں ،دونوں جانب خوبصورت دلکش مقامات آتے ہیں تا ہم ڈرائیور کی پور ی توجہ ہی سے گاڑی اور مسافروں کی راحت کا سامان ممکن ہے ، جو نہی کیرن کے مقا م کا آغاز ہو ا تو بیٹے عمر خالد اصغر ، بھتیجے اسامہ جاوید اصغر ، انس اور عبد الوہاب اصغر کی دلچسپی میں اضافہ ہو گیا یہ وہ جگہ ہے جہان لائن آف کنٹرول ہے ، کیرن کے نام سے ہندوستان میں یہی مقام ہے دریائے نیلم دونوں کو منقسم کرتا ہے پہاڑوں پے لگی بائونڈری لائن باڑ کی شکل میں واضح دکھائی دیتی ہے اور مقبو ضہ کشمیر کے علاقہ میں مخا لف فوج کی پوسٹوں پر تر نگا جھنڈا انکے لیے خاص تعجب کا باعث تھا ، کچھ دیر کیلئے قیام کیا اس دوران وہاں مجاہد نامی فردسے ملاقات ہوئی یہ اپنے خاندان کے ہمراہ یہاں عارضی طور پر رہائش پذیر تھا اسکی زوجہ اور بہو ٹینٹ نما گھر میں موجود تھیں انھوںنے بتایاکہ 1990ء کی تحریک آزادی کشمیر کی بدولت انہیں مظفر آباد مہاجر کیمپ میں پناہ لینا پڑی جبکہ اس مقام کے دوسری طرف ان کے بہن بھائی رہتے ہیں جن سے کبھی کبھا ر فون پر یا اشاروں کنائوںمیں بات ہو تی ہے اس موقع پر انھوں نے ایک بد قسمت خاندا ن کا ذکر بھی کیا کہ جب پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو لڑکے آزاد کشمیر آگئے جبکہ والدین وہاں رہ گئے جب انکی وفات ہو ئی تو وہ صر ف سرحد پار انکی میت کودیکھ سکے ،کندھا دینا نصیب نہ ہوا اگر چہ چند گز کا فاصلہ ہے پھر بھی افراد کو ویزہ لے کر واہگہ بارڈر کے ذریعہ اس مقام تک پہنچ کر رشتہ داروں سے ملاقات کر نا پڑ تی ہے ان کے لیے بڑا ہی تکلیف دہ مرحلہ ہے ہم اس سوچ میں گم ہوگئے اک طرف انسانی حقوق کی فراہمی کا شور و غوغا تو دوسری طرف رشتہ داروں سے ملنے پر پابندی ہے ، اس خطہ میں کشمیریوں کو یہ حق کیوں نہیں دیا جا سکتا ، دریا پر ایک پل اور چیک پوسٹ کے قیا م سے ان کی منزل آسان ہو سکتی ہے مقبو ضہ کشمیر علاقہ کو نسا ہندو ستان کی ملکیت ہے یہ تو کشمیر یوں کی ریاست ہے ۔

ہمیں کیل پہنچنے تک دشوار گزار راستہ سے گزر نا پڑا کیونکہ کیرن سے سڑک قریبا ً نا پختہ سی ہے اس راستہ پے نیلم ہائیڈل پاور پلانٹ نصب ہے بارش کی بد و لت کچھ مقاما ت پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو چکی تھی ،آبشا روں کے جھر نے بھی سفرکی راہ میں بڑی رکاوٹ تھے صرف اک مقام پر پل بنا کر پائپ کے ذریعہ آبشا ر کا پانی دریائے نیلم میں گرایا جا را تھا تمام آبشا روں کے مقام پر یہی طریقہ اختیار کر کے سیاحوں کے لئے آسانی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ پہاڑوں کی اوٹ میں ڈھلتے سورج کے ساتھ ہی ہم کیل کے مقام پر پہنچنے میں کامیاب رہے، کیل کا بازار خستہ سٹرک ہی پے قائم ہے، یہ سڑک مقامی افراد کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں بنی تھی اب تک پیچ ورک سے ہی کام چلا یا جا رہا ہے بھٹو مر حوم نے اپنی آمدکے موقع پر سٹرک کی تعمیر کا حکم صادر فرمایا تھا ۔ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی بڑے بچے ہائیکنگ کیلئے چل پڑے بجا طور پر صبح کا منظر جنت کا نظارہ دکھائی دے رہا تھا ۔ کیل سے اوپر اڑنگ کیل اک دیہات ہے اسکے چاروں طرف پہاڑ اور خوبصورت مناظر ہیں لیکن اس جگہ پر پہنچنے کیلئے آپ کو چھو ٹی سی کیبل کا ر کے ذریعہ دریائے نیلم کے او پر سے گزر نا پڑتا ہے یہ قریبا ً پانچ منٹ کا سفر ہے اس کے بعد جنگل کے درمیان سے ہائیکنگ کر کے میدانی علاقہ میں جانا پڑتا ہے یہ سفر خاصا دشوار ہے، بڑی عمر کے لو گ بغیر سٹک کے یہ مرحلہ طے نہیں کر سکتے البتہ اک پختہ ٹریک سٹیپ کی صور ت میں اب زیر تعمیر تھا جو سیاحوں کیلئے اچھی نوید ہے ۔ مقامی لوگوں کواڑنگ کیل سے کیل تک آنے کی سہولت نصف کرایہ کی بنیاد پر بذریعہ کیبل کار فراہم کی جاتی ہے جو با زار سے ضروریات زندگی کی اشیاء خریدتے ہیں، البتہ تلخ ہیں یہاں بندہ مزدور کے اوقات کی عملی شکل ادھر دیکھنے کو ملی 40کلو وزن اٹھا کر مزدور ہائیکنگ کر تے ہوئے ہوٹل مالکان کاسامان اوپرلے جاتا ہے ۔ واپسی پر رخت سفر باندھا تو شادرہ کے مقام پے ٹھہرے اور شادرہ یونیورسٹی کی تاریخی عمارت دیکھی جسکا تذکرہ معرو ف مورخ البیرونی کی کتاب میں ملتا ہے ، یہ مقام سری نگر کے جنوب مغرب میں واقع ہے اسکی عمار ت برصغیر کی عمارتوں سے مختلف ہے اسکی اونچائی 100فٹ ہے اور 63 پرانی سیڑھیوں سے یہ مرحلہ طے کر نا پڑ تا ہے ماضی کی یہ درس گاہ ہندومت اور بدھ مت کی تعلیم کی بڑی یو نیورسٹی تھی ۔

رات کا قیام کیرن میں کیا،خوبصورت چاند کی روشنی میں لائن آف کنٹرول پے مخالف فوج کی پوسٹ پر رو شنیاں واضع دکھائی دے رہی تھیں، مقامی افراد نے بتایا کہ سامنے خالی گھر ان کشمیریوں کے ہیں جنہیں مجبوری میں یہاں سے ہجرت کر نا پڑی ، کیرن سے اوپر دلفریب نظاروں پے مشتمل مقام اپر نیلم ہے اس جگہ سے لائن آف کنٹرول بڑی واضح دکھائی دیتی ہے ،سامنے چلتے پھر تے مظلوم کشمیر ی،گائے بکر یا ں چراتے بچے حسرت بھری نگاہوں سے ان آزاد شہر یوں کو دیکھتے ہیں جو کسی ریسٹو رنٹ پے خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں ۔ مذکو رہ مقامات پر ٹو رازم کا آغاز چند سا ل قبل ہی ہوا ہے اس لیے زیادہ کمر شلزم دکھا ئی نہیں دیتی ،قیام و طعام کی سہولت معقول نر خوں پے دستیا ب ہے البتہ ٹرانسپورٹ ذرا مہنگی ہے ،سرکاری ریسٹ ہاوسز کی بکنگ شعبہ سیاحت کے مرکزی دفتر مظفر آباد سے قبل ازوقت ممکن ہے۔ تفریح کے قابل اک اور مقام رتی گلی ہے لیکن دشوار گزار رستہ کی بدولت زیادہ تر نوجوان ہی وہاں جانے کا رسک لیتے ہیں یہ پہاڑی برف سے ڈھکی رہتی ہے چند ماہ کیلئے راستہ کھلتا ہے شاہراہ پر برف کی بدولت صرف فورویل گاڑیاں ہی سفر کیلئے موزوں ہیں ۔

کیل کے مقام پر گورنمنٹ مڈل سکو ل کے ماسٹر اقبال سے بھی شرف ملا قات حاصل کیا انہوں نے بھی سیر و سیاحت کے حوالہ سے معلومات میں اضافہ کیا کہ تائو بٹ یہاں سے 43کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع خوبصور ت ترین مقام ہے لیکن سڑک کی حالت بہتر نہیں ہے اسی طرح اس مقام سے اوپر ڈھکی پرفریب مناظر کی جگہ ہے جہاں صرف فوج کی اجازت سے جانا ممکن ہے۔

اب جبکہ کراچی تا اسلام آباد موٹر وے تکمیل کے آخری مراحل میں ہے راولپنڈی سے مظفر آباد تک ایکسپریس وے موجود ہے تو اس مقام سے تائوبٹ تک سڑک کو محفوظ اور کشادہ بنا دیا جائے تو سیر و سیاحت کا ذوق رکھنے والے جو ق در جوق اس وادی میں پہنچنے لگیں گے البتہ سفر کو سہل اور زیادہ محفوظ بنانے کیلئے موسم برسات اور رات کواس خطہ میںسفر کرنے سے گریز کیا جائے ،گاڑی کی فٹنس اور ڈرائیو نگ پر کوئی کمپرو مائز نہ کیا جائے،بلندوبالا پہاڑ ہمیں مدعو کرتے ہیں کہ سفر کے موقع پے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء سے غافل نہ رہیں،پہاڑوں پے درختوں کی کٹائی اور کرشنگ سے اجتناب ہی سے قدرتی حسن کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے جو سیاحوں کودعوت سفر دیتا ہے۔


ای پیپر