وزیراعظم عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں
21 جولائی 2019 2019-07-21

حکومت پاکستان کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم 2019 کا وقت ختم ہو چکا ہے جس کے نتائج حیران کن ہیں ۔اس ایمنسٹی سکیم سے ایک لاکھ سینتیس ہزار لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے جس کے نتیجے میں تین کھرب روپوں سے زیادہ اثاثے ظاہر کیے گئے اور ستر ارب روپے ٹیکس ریوینیو اکٹھا ہوا ہے۔

صدر ایوب خان نے 1958 میں پہلی مرتبہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی۔ تب سے لے کر جون 2019 تک چودہ ایمنسٹی سکیمیں ملک پاکستان میں متعارف کروائی جا چکی ہیں ۔ جن میں تحریک انصاف کی 2019 ٹیکس ایمنسٹی سکیم سب سے زیادہ کامیاب قرار دی جا رہی ہے۔ کیونکہ یہ واحد سکیم ہے جو صرف دس ماہ کے بعد متعارف کروائی گئی اور ستر سالوں میں سب سے زیادہ لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ باقی تمام اسکیمیں پانچ یا دس سال کے وقفے سے متعارف کروائی جاتی رہیں جن میں نہ تو اتنے زیادہ اثاثے ظاہر ہوئے اور نہ ہی عام آدمی نے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

پہلی ایمنسٹی اسکیم 1958 میں صدر ایوب خان نے دی تھی۔ جس میں ایک اشاریہ دو ارب روپے اکٹھے ہوئے تھے۔ دوسری سکیم 1969 میں آئی جس میں 92 کروڑ روپے اکٹھے ہوئے۔ تیسری اسکیم 1976میں دی گئی جس میں ایک ارب پانچ کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ چوتھی سکیم 1985 میں دی گئی جس میں کوئی پیسہ اکٹھا نہیں ہوا۔ پانچویں سکیم 1991 میں دی گئی جو مکمل ناکام رہی۔ چھٹی ایمنسٹی سکیم 1997میں آئی جس میں صرف چودہ کروڑ روپے اکٹھے ہوئے۔ 1998 میں ساتویں سکیم متعارف کروائی گئی جس میں کوئی پیسہ اکٹھا نہیں ہو سکا۔ سن 2000 میں آٹھویں سکیم لانچ ہوئی جس میں دس ارب روپے اکٹھے ہوئے۔ 2008میں نویں ایمنسٹی سکیم میں صرف تین ارب سولہ کروڑ روپے اکٹھے ہوئے۔ 2012 میں دسویں ایمنسٹی سکیم بھی ناکام رہی۔2013 میں گیارہویں ایمنسٹی سکیم صرف گاڑیوں کے لیے آئی جس میں صرف پندرہ کروڑ روپے اکٹھے ہوئے۔ 2016 میں بارہویں سکیم آئی جس میں صرف پچاسی کروڑ روپے اکٹھے ہوئے۔2018 میں تیرھویں اسکیم میں ایک سو ستائیس ارب روپے اکٹھے ہوئے اور چودھویں اور موجود ایمنسٹی سکیم 2019 سے ستر ارب روپے اکٹھے ہوئے ہیں ۔

دس ماہ قبل ن لیگ کے دور میں پیش کی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو کامیابی میں دوسرا نمبر دیا جا رہا ہے۔ اگر ہم 2019 ایمنسٹی سکیم کا موازنہ ن لیگ کے دور کی آخری ایمنسٹی سے کریں تو یہ سکیم کئی اعتبار سے کامیاب رہی ہے اور کچھ پہلووں سے کمزور بھی رہی ہے۔

ن لیگ کے آخری دور میں مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں جو ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی گئی اس سے تراسی ہزار لوگوں نے فائدہ اٹھایا جس کے نتیجے میں اڑھائی کھرب روپوں کے اثاثے ظاہر کیے گئے اور ایک سو چوبیس ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوا تھا۔لہذا اس سال ٹیکس ایمنسٹی سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں کی تعداد تقریباً چوون ہزار سے بڑھ گئی ہے اور جو اثاثے ظاہر کیے گئے ہیں ان میں پچاس ارب کا اضافہ ہوا ہے لیکن ٹیکس آمدن چوون ارب روپے کم ہوئی ہے۔

عام آدمی نے اس سکیم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیابحیثیت ٹیکس کنسلٹنٹ میں اس کی سینکڑوں مثالیں دے سکتا ہوں۔

ایک صاحب میرے دفتر تشریف لائے کہ میں نے کیش پر ٹیکس ایمنسٹی کلیم کرنی ہے میں نے پوچھا کتنے کیش پر ایمنسٹی چاہیے؟ صاحب نے جواب دیا کہ ساٹھ کروڑ کیش پر ایمنسٹی چاہیے۔ میں نے پوچھا کہاں ہے کیش؟ کہنے لگے گھر میں پڑا ہے۔ میں نے پوچھا اتنی بڑی رقم پر ایمنسٹی کیوں لے رہے ہیں ؟ کہنے لگے کہ اگر خان صاحب نے زرداری کو نہیں چھوڑا تو وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ میں تو اپنی جان بچا رہا ہوں۔

ایک صاحب صرف پانچ لاکھ پر ایمنسٹی کلیم کرنا چاہتے تھے میں نے پوچھا اتنی چھوٹی سی رقم پر کیوں کلیم کرنا چاہتے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ ایک استعمال شدہ گاڑی خریدنی ہے تو حکومت کو بتانا پڑے گا کہ پیسہ کہاں سے آیا؟ اس لیے ایمنسٹی لے رہا ہوں۔ماضی میں عام آدمی کی طرف سے اس طرح کا رسپانس نہ ہونے کے برابر تھا۔

آئیے اب اس ایمنسٹی سکیم کی کامیابی کی وجوہات پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

پہلی وجہ ملک میں چلنے والا احتساب کا نظام ہے۔ عام آدمی کا خیال تھا کہ تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے بعد احتساب کا نعرہ بھول جائے گی اورکسی کرپٹ سیاستدان یا بیوروکریٹ کے خلاف کاروائی نہیں ہو گی جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا وعدہ یاد رکھا۔ جب عوام نے تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے شخص میاں نوازشریف اور پانچ سال پاکستان کے صدر رہنے والے آصف علی زرداری کو کرپشن کیسز میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھا تو انھیں احتساب کے نظام پر اعتماد ہونے لگا اور وہ اس خوف میں مبتلا ہو گئے کہ اگر عمران خان کہہ رہا ہے کہ وہ ٹیکس چوروں کو نہیں چھوڑے گا تو وہ سچ کہہ رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم عام لوگ بھی ٹیکس چوری میں پکڑے جائیں اور جیل کی ہوا کھانی پڑ جائے۔عوام کے دل میں ڈر بیٹھ گیا ہے کہ حکومت چھوٹے سے چھوٹے کرپٹ آدمی کو بھی نہیں چھوڑے گی۔

دوسری وجہ بے نامی جائیدادیں رکھنے کے حوالے سے حکومت کی قانون سازی ہے۔جس کے تحت جائیداد ضبط کرنے کے ساتھ سزا اور جرمانہ کا تعین کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)


ای پیپر