’’گونگے… بہرے…’’دن سنہرے…‘‘؟؟
21 جولائی 2019 2019-07-21

فرخ شہباز وڑائچ...صبح صبح ملنے آیا.... کچھ پریشان تھا...آپ کے ذہن میں ’’ وڑائچ طیارہ‘‘ آگیا ہوگا۔میں نے اِک گدھاگاڑی کے پیچھے لکھا دیکھا تو..ہنسی نکل گئی... پہلے پہل ’’ وڑائچ طیارہ‘‘ جیسے الفاظ .... جب لاہور فیصل آباد سنگل روڈ ہوتی تھی،بڑی بڑی ’’ خونخوار‘‘ بسوں کے پیچھے لکھے ہوتے تھے....’’ وڑائچ طیارہ‘‘... قسم کی بسوں کے ڈرائیور کو اگر کوئی ڈرائیور کہتا تو وہ ’’کھانے کو دوڑتا‘‘ .... ’’ استاد‘ ‘ کہلانا البتہ اُن کو پسند تھا یا پھر ’’ مرشد جی‘‘....یہ لفظ ’’ مرشد جی‘‘ آج کل عام ہوتا چلا جا رہا ہے اور پسند بھی کیا جاتا ہے۔لاہور میں ایسے مرشدوں کی تعداد اب لاکھوں میں ہے۔

یہ اُن ڈرائیوروں کو خود بھی اندازہ تھا کہ وہ کس چیز کے استاد ہیں ، کس قسم کے استاد ہیں ....اور ’’ استادی‘‘ کے مقام پر فائز ہو جانے سے پہلے.... وہ..... اسکول سے ساتویں جماعت میں فیل ہو جانے پر بھاگ نکلے تھے... پھر کسی ورکشاپ پر ’’استاد جی ‘‘ کے ہاتھوں ’’پلگ پانا سے مرمت کروا کر... ’’میڈم جی ‘‘ کی مرمت کے لیئے آئی گاڑی پر چوری چھپے ڈرائیونگ سیکھنے کے چکر میں .... ’’ دھڑل‘‘ دیوار گِرا چکے ہیں.... اور ’’ میڈم جی‘‘ بے چاری بریک ٹھیک کروانے آئی تھی۔’’ چھوٹے‘‘ کو استاد بنا گئیں.... اور مذاق مذاق میں اُن کو پچاس ہزار کی ’’ بھنڈی توری‘‘کھانی پڑ گئی!اچھی بھلی ’’ میراں ‘‘ جیسی گاڑی کی شکل اللہ دتہ لونے والے جیسی ہو گئی؟

میں ایسی ’’ میڈم جی‘‘ کو جانتا ہوں .... یہ بے چاری سوشل ہونے کے چکر میں .... ورکشاپ وغیرہ پر جائیں تو گندے اسٹول پر یہ شو کرنے کے لیئے بیٹھ جاتی ہیں ... روٹی کھاتے ’’ چھوٹوں ‘‘ کے ساتھ یہ کہہ کر ’’ بھنڈی‘‘ کے ساتھ ایک آدھ لقمہ بھی لے لیتی ہیں... ’’ وی آر.... آل، ہیومن بیئنگ‘‘.... اور جب ’’ چھوٹا‘‘ ایسی میڈم جی کی گاڑی دیوار میں دے مارتا ہے تو سخت غصے میں دانت پیستے ہوئے.... کانپتے ہوئے زور سے چلاتی ہیں .... ’’ حرامی اے کی کیتا ای‘‘۔’’تیرے گھر ماں بہن نئی ہے گی‘‘؟( حالانکہ اِس فقرے کی یہاں ضرورت تو نہیں )

میڈم جی... گھر چل پڑتی ہیں۔رکشا کروا کے اور گاڑی ہفتے کے لیے ’’ بُک‘‘ ہو جاتی ہے اور ’’ چھوٹا‘‘ دل ہی دل میں کامیاب ڈرائیور بن جانے پر خوش ہوتا ہے اور تصور میں ..... گاڑی پر کپڑا مارنا آسمان پر بلندیوں پر اُڑنے لگتا ہے۔’’ چار انجن‘‘ والا جہاز .... اور ایئر ہوسٹس کی نہایت سُریلی سندھر آواز... گنگناتے ہوئے جوس سے لبالب گلاس اور ’’ عالم لوہار‘‘ کے چمٹے والے..... گیت!۔

’’ چھوٹو..آنکھیں بند کر لو ....’’ بھنڈی توری‘‘ کے ساتھ کھانا کھاتے اور میڈم جی کی گاڑی کا بیڑہ غرق کر چکنے کے بعد ہم پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے والے ہیں ۔راستے میں ہم سب آپ کو لیموں پانی پلائیں گے اور پانچ پانچ روپے چندہ اکٹھا کر کے ایک ایک کٹی ہوئی مولی بھی اکٹھا ڈال کے زیادہ مرچوں کے ساتھ پیش کریں گے۔گویا’’ چھوٹا‘‘ فل موڈ میں تھا...اور مزے لے رہا تھا .... بغیر ٹکٹ!۔(اب یہ چھوٹے بھی تو مارڈرن ہو چکے ہیں )ایسے میں ’’ شاہ جی ‘ ‘ آکر سر پر زور سے’’ پلگ پانا ‘‘ مارتے ہیں اور ’’ پرواز‘‘ ایک دم سے پندرہ ہزار فٹ کی بلندی سے سیدھا ایک دو فٹ کی بلندی پر آجاتی ہے۔

’’ حرامی ..... تو نے بھی پکا سیگریٹ اس کم عمری میں پینا شروع کر دیا ہے‘‘۔(استاد سمجھتا ہے کہ ایسا سیگریٹ پینا اُس کا ہی بنیادی حق ہے)

اُسے اُستاد کا منہ کسی بھارتی فلم کے بدنام زمانہ ’’ ولن‘‘ جیسا لگا....جس کے ہتھوڑے جیسے ہاتھ اور نازک ’’ چھوٹا‘‘ بے چارہ..... ایسے اُستاد اور ایسے وڑائچ طیارے ہمارے ارد گرد موجود ہیں اور آئے دن آپ اخبارات میں پڑھتے ہیں ’’ نیند میں بس چلاتے ڈرائیور نے درخت میں مار ڈالی..... چالیس ہلاک‘‘۔ڈرائیور بچ جاتا ہے نئی فلائٹ اُڑانے کے لیے؟

بات فرخ شہباز وڑائچ سے شروع ہوئی تھی چل نکلی..... ’’ اُستادوں اور‘‘ ’’ مرشدوں ‘‘ کی طرف!۔فرخ شہباز وڑائچ کا میں اُس دن سے مزید عاشق ہو چکا ہوں جس دن اُس نے کسی دفتر میں وزیر اعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار کا انٹرویو کیا اور چُبھتے ہوئے سوالات کئے۔ایسے سوال جن سے عام طور پر صحافی کو پسینہ آجاتا ہے لیکن اِس انٹرویو میں معاملہ اُلٹ تھا…ویسے اب تو عثمان بزدار صاحب بارش کے باعث سڑکوںپر عوامی خرمت بھی سرانجام دے رہے ہیں؟۔

فرخ شہباز وڑائچ لکھار ی ہے… ؟؟ کم عمری میں ہی بڑے لکھاریوں جیسی ہے… ویسے کچھ بڑے لکھاریوں کی گرفت نہ اب خود پر رہی ہے نہ ہی تحریر پر… یہ وقت تو خیر سب پر آتا ہے ( کیونکہ لکھاری سیاست میں اُلجھ جائیں .... کالم نگار ’’…‘‘ بن جائیں یا خود کو تیس مارخاں سمجھنے لگیں تو... پھر وارے نیارے ہو جاتے ہیں مگر بدنامی تو پھر ہو کر رہتی ہے)۔NAB کو دوسرے کاموں سے وقت ملے تو ادھر بھی؟

’’ مظفر صاحب .....پانچ سال بعد ماجد بہرہ ہو جائے گا‘‘۔

’’ فرخ حیرت سے بولا!‘‘

’’ اور اب ‘‘۔

وہ ہنس پڑا..... مجھے تو آج کل بھی وہ بہرہ ہی لگتا ہے۔ ہم نے واک کرتے ہوئے جناح باغ میں۔ اِک نکتہ اُٹھایا؟

میں نے پوچھا.... ’’ماجد مسواک لے لیں ‘‘۔

’’ جی ہاں .... کھالوں گا!‘‘

’’ ہائیں ؟‘‘

اُس نے کانوں پہ ’’ واک مین‘‘ چڑھایا ہوا تھا۔ چوبیس میں سے اٹھارہ بیس گھنٹے وہ ہوتا ہے اور بہرہ کر دینے والا ’’ واک مین‘‘ اُسے دنیا سے بے نیاز کیئے رکھتا ہے!

مجھے استاد کمر کمانی کی ماحول کو شگفتہ بتائی گفتگو یاد آگئی۔

اُستاد امرود کو تربوز سمجھتا ہے۔جٹ کو بٹ سمجھتا ہے۔

غلیل کو چڑیل سنتا ہے.... سلطان راہی کو ملتان راہی کہتا ہے ... نعمان کو گلدان سمجھنے لگتا ہے اور خوش ہے۔

میں نے کہا ....اُستاد جی.... ایک ہمارے سیاستدان خوش ہیں دوسرے آپ؟....کراچی میں قتل و غارت....صوبہ سرحد میں دہشت گردی مگر سیاستدان خوش تھے ...اُستاد نے میرا کندھا تھپتھپایا اور بولا....مرجائے گا زیادہ اداس نہ ہوا کر... ہمارے والا فارمولا اپنا لے۔

وہ کون سا ؟.... میں نے پوچھا؟

تو اُستاد بولا....’’ گونگے،بہرے... دن سُنہرے‘‘۔

آج ٹک ٹاک پر اِک لڑکے نے کمال اداکاری کرتے ہوئے .... آپ بیتی سنا ڈالی... وہ بولا...

یارو... آج کمال ہو گیا... آٹھ سال سے جس لڑکی سے یک طرفہ عشق کر رہا تھا ... اُس نے پہلی بار SMS کیا....

Dear I LOVE YOU...

اور میں نے بدحواسی میں ... جلدی میں لکھ دیا

''Shame to you''؟

گدھے گدھے ہی ہوتے ہیں.. تعلیم اور اچھی محبت بھی آجکل کے دور میں اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔


ای پیپر