” ویلڈن راجا یاسر سرفراز ہمایوں“
21 جولائی 2019 2019-07-21

مجھے پی ٹی آئی کے دوست زیادہ پسند نہیں کرتے ہیں کیونکہ میں ان سے سوال کرتا ہوں مگر مجھے مسلم لیگ نون والے کب پسند کرتے ہیں کہ میں میاں نواز شریف کی گزشتہ دس برسوں کی ناپسندیدہ شخصیت رہا ہوں،انہوں نے کبھی مجھ سے بات نہیں کی اور کبھی میرا سوال نہیں لیا ، ہاں، شہباز شریف کے ساتھ ضرور اتنی دیر تک تعلق رہا جتنی دیر تک میںا یک میٹنگ میں ان کی ہیلتھ پالیسی پر کچھ سوال نہیں اٹھا دئیے اور اس کے بعد ان کی طرف سے بھی اللہ حافظ ہو گیا، مریم نواز اور حمزہ شہباز بھی بڑے لیڈر ہیں اور میں چھوٹا صحافی۔ پی ٹی آئی کے بہت ساروں سے بہت اچھے تعلقات تھے جن میں ڈاکٹر یاسمین راشد بھی ہیں اور ہمارے نئے وزیر اطلاعات میاں اسلم اقبال بھی، وہ جب تک اپوزیشن میں تھے سڑک پر گھنٹہ گھنٹہ کھڑے ہو کر بھی گپ لگا لیتے تھے مگر جب منسٹر انڈسٹریز بنے تو رابطہ منقطع ہو گیا، پہلے میر اگھر انہی کے حلقے میں تھا پھر حلقہ تبدیل ہو گیا، اب وہ وزیر اطلاعات بنے ہیں تو میں نے واٹس ایپ پر مبارکباد دے دی، انہوں نے حسب معمول میرا میسج نظرانداز کر دیا تو انہیں واضح کیا کہ حضور! مجھے آپ سے کوئی کام نہیں ہے اور اللہ کرے کہ مجھے ان سمیت کسی بھی حکمران سے کبھی کوئی ذاتی کام نہ پڑے، آمین۔

جب ہم کارکن صحافی کسی وزیر، مشیر یا بیوروکریٹ سے سوال پوچھتے ہیں تو حقیقت میں اسے موقع دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی کارکردگی بیان کر سکے، پروپیگنڈے کا جواب دے سکے، تنقید کا توڑ کر سکے اوراپنی تعریف خود کر سکے۔ راجا یاسر سرفراز ہمایوں کانام میں نے پہلی بار اس وقت سنا تھا جب پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لئے مختلف آپشن سامنے آ رہے تھے اور بہت سارے لوگ اس نوجوان کی تعریف کر رہے تھے۔ا بھی میٹرک کے نتائج آئے تو میں نے انہیں کہتے سنا کہ وہ بورڈ کے امتحانات میں نمبروں کے بجائے گریڈنگ کا سسٹم لانا چاہتے ہیں جو اس وقت یورپ سمیت جدید دنیا میںر ائج ہے اور وہ اس پر کابینہ کو بریفنگ بھی دے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تعلیم اور امتحانات کا نظام جدید دور کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں بہت ساروں کو میرٹ پر بہت اوپر ہونے کے باوجود علمیت اور اہلیت میں بہت نیچے دیکھا ہے۔ یہی سوال میں نے ہائیر ایجوکشن کے وزیر کے سامنے رکھا تو انہوں نے اچھی خبر سنائی کہ وہ اس نظام کو تبدیل کر نے جا رہے ہیں جو ہمارے طالب علموں کے حافظے، رٹے اور یادداشت کا تو اچھا امتحان لیتا ہے مگر علم اور قابلیت کا نہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ میٹرک کے نتائج میں ہمارے بہت سارے سٹوڈنٹس گیارہ سو نمبروں میں سے پانچ، سات یا دس، بیس نمبر ہی چھوڑتے ہیں مگر مجال ہے کہ ہم کوئی قابل ذکر سائنسدان پروڈیوس کر رہے ہوں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس طے شدہ لکھا لکھایاسلیبس ہے ، ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ نقل کی جاتی ہے مگر جو ممکنہ سوالوں کا اندازہ لگا لیتا ہے اور بہترین نوٹس کو میمورائز کر لیتا ہے جو شاندار کامیابی حاصل کر لیتا ہے لیکن اگرطے شدہ سوالوں سے ہٹ کر اسے اظہار خیال کرنے کو کہا جائے تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے کے بھی قابل نہیں ہوتا۔

میرا سوال یہ تھا کہ اگر ہم گریڈنگ سسٹم میں جائیں گے تو کیا گدھے گھوڑے ایک ہی نہیں ہوجائیں گے۔ ہمارے ہاں ایک، ایک نمبر سے میرٹ رہ جاتا ہے مگر پھر تو 81 فیصد والے کا بھی وہی گریڈ ہو گا جو89 فیصد والے کا، ہمیں اس کی تشریحات طے کرنا ہوں گی۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ دیسی طریقے سے Absolute گریڈنگ نہیں ہوگی بلکہ یہ اے اور او لیولز کی طرح Relative Grading System ہو گا یعنی پیپر آسان ہو یا مشکل، پہلے دس فیصد نمبر لینے والوں کا گریڈ اے ہو گااور اس کے بعد ہم روایتی سلیبس، سوالوں ، جوابوں کے بجائے Uunseen کی طرف بڑھیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سکول ایجوکیشن کے وزیر مُراد راس بنیادی تعلیم میں انقلابی تبدیلیو ں کا نظام تیار کر رہے ہیں، وہ دونوں ایچی سونین ہیں اور تعلیم کے جدید انداز اور طریقوں کوسمجھتے ہیں، یوں ہم اس نظام سے نکلنا چاہ رہے ہیں جو انگریز نے کلرک اور رنگروٹ تیار کرنے کے لئے بنایا اور ہم نے بھی ستر، بہتر برس سے اسے گلے سے لگا رکھا ہے۔ میں ذاتی تجربات کی روشنی میں بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ میڑک اور اولیول کے طالب علموں میں استعداد کا بہت بڑا فرق ہوتا ہے اور یہ فرق پڑھانے اور امتحان لینے کے طریقے کی بنیاد پر ہی ہے۔ نوے کی دہائی میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے نقل کے خلاف جہاد کیا، اس برائی پر قابو پایا لیکن اگر آپ رفتہ رفتہ رٹے کے بجائے قابلیت جانچنے کی طرف بڑھیں گے تو نقل کا سوال ہی ختم ہوجائے گا۔

ہم بار بار ایک لفظ استعمال کرتے ہیں اور وہ ہے رٹا۔ انگریزی میں اسے زیادہ بہتراور معزز لفظ مل جاتا ہے جسے میمورائزیشن کہتے ہیں۔ بہت برس پہلے امریکن سکول سسٹم کی ایک پرنسپل نے میری اصلاح کی تھی اور بتایا تھا کہ رٹا کسی طور بھی بری شے نہیں ہے۔ طالب علموں کوجہاں بہت ساری چیزیں سمجھنا پڑتی ہیں وہاں بہت ساری باتوں کو میمورائز بھی کرنا پڑتا ہے یعنی جنہیں ہم اردو میں پہاڑے اور انگریزی میں ٹیبلز کہتے ہیں اگر ان کا اچھا رٹالگا ہو تو حساب کتاب کا عمل بہت آسان ہوجاتا ہے۔ اچھی یادداشت، حافظہ اور رٹا بھی ایک خوبی ہیں مگر یہ مکمل قابلیت نہیں ہیں۔ راجا یاسر سرفراز سے سوال جواب کرتے ہوئے مجھے ان کاایڈہاک ازم کے خاتمے اور سٹوڈنٹس یونینز کے بارے میں موقف بھی بہت بہتر لگا۔ میں نے خود سٹوڈنٹس پالیٹیکس کی ہے اور اس کے برے نتائج کو بھی تھانوں کچہریوں میں بھگتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو تعلیمی اداروں میں اپنے ونگز ختم کر دینے چاہئیں مگریہ واقعی سب سے مشکل کام ہے کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے تعلیمی اداروں کو اپنی نرسریاں بنا رکھا ہے مگراداروں پر قبضوں اور تعلیمی امن تباہ کرنے کے باوجودان کی مقبولیت اور کامیابی زیروسے شائد ہی کچھ اوپر ہے۔

میں نے راجا یاسر سرفراز ہمایوںسے بہت سارے سوالات کئے اور انہوں نے لیکچررز اور پروفیسرز کی تنخواہوں میں قابل قدر اضافہ نہ ہونے اورمستحق طالب علموں کوسکالرشپس میں کمی کا اعتراف کیا اور میں نے بھی اتفاق کیا کہ یہ تعلیمی نہیں بلکہ فنانشل ایشو ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ وہ تعلیمی اور امتحانی نظام میں جو تبدیلیاں لانے والے ہیں اس میں کامیاب رہیں۔ امتحان صرف حافظے کا نہ ہو بلکہ ذہانت ، اہلیت اور قابلیت کا ہو۔ مجھے اپنے دوسرے دوستوں سے بھی کہنا ہے کہ چاہے ان کا تعلق نواز لیگ سے ہو یا پی ٹی آئی سے، جو صحافی ان سے ٹھیکوں، نوکریوں اور ٹرانسفروں کے سوال لے کر نہ آئیں بلکہ مسائل اور کارکردگی پر سوال اٹھائیں تو انہیں گرما گرم سیاسی بحثوں کے درمیان جینوئن ایشوز پر بھی اپنے وژن اور کامیابیوں بارے بتانے کا موقع ملے۔ ہماری صحافت یہی ہے کہ ہیرو کو ہیرو اور ولن کو ولن کہیں اور اگر کسی کو اس سے مسئلہ ہے تو رہے کہ ان کا دھندا بھی چل رہا ہے اور ہمیں بھی ہمارا رب رزق دے رہا ہے۔


ای پیپر