بندۂ لات و منات
21 جولائی 2018 2018-07-21



ایک فٹبال ورلڈ کپ ختم ہوا۔ دوسرا جاری ہے۔ روس میں منعقدہ ورلڈ کپ فرانس نے جیتا۔ اندرونی طور پر حد درجے منقسم فرانس کو بحیثیت قوم متحد ہونے کو یہ فتح ورلڈ کپ مل گئی۔ (اگرچہ ٹیم میں بڑی تعداد نسلاً غیر فرانسیسی کھلاڑیوں کی ہے!) جیتنے کے بعد فرانس کے مناظر دیوانی خوشی ، شراب ، موسیقی ، رقص و سرود کے تھے۔ اچھلتے کودتے گاتے بجاتے شراب خانوں کی لوٹ مار ، نشے میں دھت جنسی تشدد کے ان گنت واقعات یہی اب گلوبل کلچر ہے۔ فرانس ، وہ ملک جو ’قومیت‘ کی جنم بھومی ہے۔ جہاں سے یہ علت مسلم امۃ میں لا کر بوئی گئی۔ وسیع و عریض خلافت عثمانیہ کو بے ترتیب مارچ کرتی فوج، (قرآن کی جگہ) مغربی ، رومن قانون اور اس کی کتابیں، عوام کے ریوڑ ہانکنے کو غلام مزاج حکمران عطاء ہوئے۔ وہاں سے کہانی چل کر آج ورلڈ کپ فٹ بال تک آن پہنچی۔ دوسرا ورلڈ کپ باری باری مسلم ممالک میں کھیلا گیا۔ فٹ بال مقامی مسلمان تھے۔ افغانستان، عراق میں بڑی بڑی عالمی ٹیمیں اتریں۔ بعد ازاں یہی کھیل شام جا اترا ۔ انبیاء اور صحابہؓ کی سرزمین کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ شام کے مناظر شہر شہر دیکھتے جائیے۔ ناقابل یقین بربادی و تباہی چہار سو پھیلی ہے۔ یہ خونیں ورلڈ کپ پیچھے کیا چھوڑ گیا۔ دنیا بھر میں یتیم ، معذور ، شہید ، زندانی جو بھی ہیں۔ مسلمان ہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذمے اعداد و شمار شائع کرنا ہے۔ مسلمانوں کے ذمے (جو مٹھی بھر درد مند کہیں کہیں باقی ہیں) ان بیوہ، یتیم معذور کئے گئے امتیوں کے لئے چندہ اکٹھا کر کے (جہاں خوش نصیبی سے اجازت مل جائے!) اپنی ڈیوٹی سے سبکدوش ہو جانا ہے۔ 2017ء میں افغانستان میں 3179 بچے ، یمن میں 1316 بچے ، شام میں 1271 بچے جان بحق یا معذور ہوئے۔ اسرائیل اوسطاً 312 فلسطین بچوں کو ماہانہ حراست میں لیتا رہا۔ مہاجرت پر مجبور بچے ، یورپ میں غائب کر دیئے جانے والے مسلمان بچے مزید ہیں۔ کشمیر ، فلسطین ، برما ، وسطی جنوبی افریقہ کی کہانی مزید ہے۔ ہم کہاں ہیں۔؟ فی الوقت تو انتخابی بخار زوروں پر ہے۔ اگرچہ عجب سادہ قوم ہے۔ طے شدہ سکرپٹ کے مطابق آگے بڑھتے انتخابی ڈرامے میں بھی بھرپور جذباتیت کا مظاہرہ جاری ہے۔ نتیجہ سیٹ در سیٹ طے شدہ ہے مگر دونوں ہاتھوں سے پانی کی طرح امیدوار پیسہ بہا رہے ہیں۔ (مردے کو جیسے ڈرپ لگائی جا رہی ہو!) اشتہاری کاغذوں ، بینروں ، جھنڈوں سے درودیوار اور ہوائیں فضائیں لال پیلی ہو رہی ہیں! پارٹیوں کے جیتنے کے بعد کا نشہ فتح کیا رنگ اختیار کرے گا ، اس کا اندازہ لگانے کے لئے یہ واقعہ ملاحظہ ہو۔ کراچی میں عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن کے بہبود جانوراں مرکز میں ایک گدھا شدید زخمی حالت میں لایا گیا۔ جس کی آہیں اور کراہیں اذیت ناک تھیں۔ اس گدھے پر نواز شریف کا نام لکھ کر اسے غلیظ و غضب کا نشانہ بنایا گیا۔ چہرے پر تشدد سے نتھنے پھٹے ہوئے۔ آنسو بہاتی زخمی آنکھیں ، لرزتا کانپتا مسکین گدھا۔ پیٹ پر لاتیں، گاڑی سے بھی ٹکر مار کر نفرت کا اظہار کیا گیا۔ محبوب لیڈر نے چونکہ نواز شریف کے استقبال کو جانے والوں کو گدھا قرار دیا تھا۔ سومتبعین نے گدھے کو مار مار کر انسان بنانا ضروری جانا! کسی نے دکھ سے لکھا۔ ’بے زبان‘ بے یارومددگار جانوروں کے لئے کھڑے ہو جایئے! ، یہ بھی غنیمت ہے کہ اس کا درد کھانے والے ابھی موجود ہیں۔ وگرنہ اس بے رحمانہ ، وحشیانہ واقعے پر بھی ویسی ہی خاموشی رہتی جیسی فٹ بال نژاد مسلمانوں پر ہے تو جینے کی رہی سہی تمنا بھی جاتی رہتی۔ سوشل میڈیا
پر اظہار تاسف و نفرین علامت ہے کہ زندگی کی کچھ رمق ابھی باقی ہے ! چلئے گدھے ہی کے لئے سہی ، غیرت تو جاگی، بھڑکی! انتخابات خود بخود طے شدہ منزلوں کی طرف رواں دواں ہیں۔ اس دوران بہت سے معاملات منطقی انجام تک پہنچا کر چیف جسٹس راحت و تفریحی دورے پر ہنزہ ، گلگت بلقستان میں مقامی موسیقی پر رقص کناں دیکھے گئے۔ قبل ازیں نگران وزیراعظم ناصر الملک بھی خاندان کے ہمراہ پانچ روزہ چھٹی منانے گلگت گئے رہے۔ نگرانی، حقیقی نگرانوں کے حوالے کر کے ۔ بیرسٹر علی ظفر نگران وزیر اطلاعات نے فرمایا۔ ’سول سرونٹس سے مذہب پوچھنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔‘ سبحان اللہ! ہمیں نچوڑ کر، ہمارے ٹیکسوں پر پلنے والے سول سرونٹس، یعنی ہمارے ملازم ہوں اور ہمیں ان سے ان کا مذہب پوچھنے کا حق بھی حاصل نہ ہو؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مناسب و اموال قادیانیوں کے سپرد آنکھیں بند کر کے، کر دیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری ؍ نیم سرکاری، حساس اداروں کی ملازمت کے لئے بیان حلفی لازم کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔ جس کا مزہ چکھانے کو جسٹس شوکت صدیقی کے لئے اہتمام کراماتی انداز میں جاری ہے۔ پارلیمنٹ جب متفقہ فیصلہ دے کر انہیں غیر مسلم قرار دے چکی تو آئین و دستور کی محافظت پر مامور کابینہ کارکن کس برتے پر یہ بیان دے رہا ہے؟ اصلاً اسلام سبھی کے گلے میں پھنستا ہے۔ کیونکہ شریعت بڑوں اور بڑوں کی اولاد کا لحاظ نہیں کرتی۔ قانون کا کوڑا سب پر یکساں برستا ہے۔ (سیدنا عمرؓ نے گورنر کے بیٹے سے ایک عامی کو بدلہ دلوایا تھا۔ ناحق کوڑے شہری کو مارنے پر ، جوابی کوڑے صاحبزادے کو پڑوائے اور ہر کوڑے پر کہتے: لے بڑوں کی اولاد۔ لے بڑوں کی اولاد!) سید قطب کہتے ہیں۔ ’ان کو چاہئے امریکی اسلام ۔ وہ اسلام جو وضو ، طہارت کے مسئلوں میں تو خوب خوب فتوے دے لیکن مسلمانوں کے سیاسی ، سماجی، معاشی مسائل پر زبان بند رکھے۔ دنیا کی باگ ڈور نظام زندگی کفر اور آلہ کار ہائے کفر کے ہاتھ میں ہو اور اسلام کونے میں منہ دیئے مجرم بنا کھڑا کر دیا جائے۔ یا پھر آسان مسکین آرام دہ بے زبان اسلام، ورکشاپوں، کانفرنسوں، فائیو سٹار ہوٹلوں میں مغربی کارندوں سے ذہن نشین کروایا جاتا رینڈ کاپوریشنی اسلام! ڈالر زدہ اسلام ! ایک طرف لبیک لبیک کہتے قافلے سوئے حرم رواں دواں ہیں۔ دوسری جانب محافظ حرمین سوئے تل ابیب رواں دواں ہے۔ ریاض اور تل ابیب کے درمیاں پٹڑی بچھانے کا معاہدہ ہوا ہے۔ سعودی عرب کی نوازشات سے شہ پاتے یہودی کیا کر رہے ہیں؟ درجنوں یہودی آباد کار اسرائیلی فوج اور پولیس کی سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول رہے ہیں۔ ذلیل و رسوا ہو کر مدینہ سے نبی ملاحمؐ کے ہاتھوں جلا وطن کئے جانے والی یہودی۔ (یہودو منافقین کے گٹھ جوڑ پر نازل شدہ سورۃ الحشر) غزوہ بنو قریظہ میں مٹا دیئے جانے والے یہودی۔ فلسطینی مؤن کی گود اجاڑنے والے، فاتح خیبر کی سرزمین سے محبت کی پینگیں بڑھائیں گے؟ بات یہیں رک جاتی تو غنیمت تھا۔ طائف کی سرزمین ، جہاں پتھروں کی بارش میں خون سے وضو کر کے نماز میرے کریم نبیؐ نے ادا کی۔ آپؐ کا پاکیزہ خون جس مٹی میں جذب ہوا تا کہ یہ دین محمد بن سلمان کی نسلوں تک محفوظ و مامون پہنچ سکے وہاں کیا ہوا۔؟ مخلوط میلہ ۔ موسیقی منعقد ہوا جس میں عرب دنیا کے معروف گویے نے عشق و محبت کے راگ الاپے۔ ایک نوجوان لڑکی (جس نے اپنی شناخت اور کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کو عبایا پہن رکھا تھا۔ حیا کا تقدس پامال کرنے کو) سٹیج پر چڑھ کر گویئے سے جالپٹی۔ بی بی سی نے مزے لیکر دنیا کو یہ منظر دکھایا۔ حج کے قافلوں کی آمد کے موسم میں یہ مناظر! پناہ بخدا۔ قبل ازیں میوزیکل کنسرٹ تبوک میں ہو چکا۔! غزوۂ تبوک ، جیش العسرۃ کی سختیوں میں 52 درجہ حرارت اور 61 سال کی عمر میں سفیدریش نبی کریمؐ روم کے خلاف لشکر لیکر گئے۔ مملکت اسلامیہ مدینہ کی سرحدیں سلطنت روم تک پہنچائیں۔ انہی رومیوں کی موجودہ نسلوں (امریکیو) کی بانہوں میں بانہیں ڈالے آج ولی عہد مقام مقدسہ کی حرمت سے بے نیاز ہو جائے؟ جاہل عرب کے بڑے بت ’ لات ‘ کا مرکز طائف بحال ہو جائے؟ عقل کو ملتی نہیں اپنے بتوں سے نجات ، عارف و عامی تمام بندہ لات و منات ! نہ تبوک کا انتخاب بلا سبب تھا، نہ طائف میں حد شکنی بلا سبب ہے۔ گھر میں شراب پینے سے مسجد میں شراب پینا سنگین تر ہے۔ اسی طرح کسی اور سرزمین کی نسبت سعودی عرب اور اس میں بھی طائف و تبوک میں رقص و سرود، عیاشی فحاشی کے دروازے کھول دینا ہولناک ہے۔ زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن ۔ پاکستان میں بھی اسلام اور اہل دین کی پامالی کچھ کم سنگین نہیں۔ علی الاعلان لا الہ الا اللہ کے وعدے پر حاصل کردہ ملک۔ 27 رمضان المبارک کو وجود میں آنے والا ملک۔ ہجرتوں ، شہادتوں ، لٹی عصمتوں ، کنواں برد بیٹیوں کی لاشوں پر بنا ملک! جہاں تعلیم ، معیشت، سیاست، قانون ، تجارت، معاشرت کچھ بھی تو خدا پرستانہ نہ ہوئی۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ سیکولزم اسلام کو نگلے جا رہے ہیں۔
بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا منبانہ
(یاد رہے کہ یہ اسد اللہی شیر ہے۔ انتخابی شیر نہیں)


ای پیپر