حالیہ انتخابات اور انہیں مشکوک بنانے کی کوشش!!
21 جولائی 2018 2018-07-21

قومی انتخابات گنتی کے دنوں کے فاصلے پر ہیں۔ سارے تجزیے، اندازے ، تبصرے اور گیلپ سروے بالآخر اس نتیجہ خیز انجام تک پہنچنے والے ہیں جس کے بعد ملک کی تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی مستقبل کا بھی فیصلہ ہو جائے گا اور جمہوریت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ بھی معلوم ہو جائے گا۔ سرِدست اک انتشار اور افراتفری ہے جس میں رنگ برنگی افواہیں اضافے کا باعث ہیں۔ اس ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ نادیدہ طاقتوں کا ذکر، وہ پارٹی پورے زوروشور سے کر رہی ہے جس کا سارا سیاسی سفر انہی طاقتوں کے کندھوں پر سواری میں گزرا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ن لیگ کا صوبے میں اثرورسوخ، 35 پنکچر اور پٹواریوں اور سرکاری افسروں کی دیدہ نادیدہ اثراندازی نے خود ن لیگ کو بھی اس وقت ورطۂ حیرت میں ڈال دیا، جب 13 کی شب انتخابات کے نتیجے کا غیرسرکاری اعلان ہوا ۔ مگر اس دفعہ شریف خاندان کو پہلی بار اپنی ٹانگوں پر چل کر اس دوڑ میں شامل ہونا پڑ رہا ہے، جس میں وہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے اڑی گھوڑے پر سوار، اک فاتح کی چال چلتے سب سے آگے نکل جایا کرتے تھے اور پیچھے رہ جانے والے ان کی گرد کو چھونے سے بھی قاصر ہوا کرتے تھے۔ اسی لئے اتنا واویلا، اتنی افراتفری، اتنا شور شرابا دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ اس کے پیچھے ان کے اعمال نامے کی سیاہی کارفرما ہے، جسے یہ خاطر میں لانے اور اپنے جرائم کی سنگینی پر غور کرنے کے بجائے، ایک دفعہ پھر روایتی سیاست کی چھتری تلے کھڑے، میں نہ مانوں، چلا رہے ہیں۔ جیل جسے ایک سیاست دان کی تربیت گاہ اور دوسرا گھر مانا جاتا ہے،اس کی اے کلاس کی سہولتیں حاصل کرنے کے باوجود، خود رحمی ، خود ترسی کا یہ حال کہ جیل کی سختیوں کا واویلا مچایا جا رہا ہے۔ تاکہ چند روز کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات کا رُخ بدلنے کی کوشش کی جا سکے اور عوام کی ہمدردیاں بٹوری جا سکیں۔ یہ عوام جو اس وقت پاکستانی روپے کی مسلسل گرتی ہوئی ساکھ کے سبب، مہنگائی کے طوفان کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستانی روپیہ افغانی کرنسی سے بھی زیادہ بے قدر ہو چکا ہے اور ڈالر، ن لیگ اور اس کے ’’معاشی جادوگر‘‘ کی جادوگری کے طفیل
اتنا اونچا اڑ رہا ہے کہ اسے سوائے ملک کا خزانہ اور وسائل لوٹ کر اربوں کا ڈھیر لگانے والوں کے اور کوئی چھونے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا۔ ملک کی معیشت اس وقت دیوالیہ ہو چکی ہے، ن لیگ کے آخری وزیر خزانہ جو کراچی سے الیکشن لڑ رہے ہیں، بدستوراپنی حکومت اور پارٹی کی ’’ملک دوست پالیسیوں‘‘ کے گن گا رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ انہوں نے ملک کی ڈولتی ڈگمگاتی کشتی کا چپو کچھ یوں سنبھالا کہ ملک کی ناؤ کنارے لگ گئی۔ یہی راگ جنابِ شہباز شریف الاپ رہے ہیں، ان کی ہر تقریر جملے کا آغاز اگلی دفعہ حکومت ملی تو یہ کر دوں گا سے ہوتا ہے اور اختتام بھی آئندہ کے ان میگافلاحی منصوبوں پر ہوتا ہے جنہیں وہ ’’عوام کی فلاح‘‘ کے لئے سامنے لانے کو تڑپ رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بندہۂ خدا جو ان سے یہ پوچھنے کی جرأت کرے، جناب! کامل دس برس اس ملک کے سب سے بڑے صوبے کے تحت پر جلوہ افروز ہونے کے باوجود آخر وہ کون سی بیڑی تھی آپ کے پاؤں میں، جس نے آپ کو عوام کی حقیقی خدمت اور فلاح سے روکے رکھا؟ جناب! آپ تو خادمِ اعلیٰ کہلایا کرتے تھے، لاہور کو پیرس بنانے کا دعویٰ آپ کی نوکِ زبان پر رکھا رہتا تھا، پھر یہ پیرس موسم کی پہلی بارش میں غرق کیسے ہو گیا؟ عوام کو ایک اچھا ہسپتال، ایک پاور ہاؤس، صاف پانی، یکساں تعلیمی مواقع اور یکساں نظامِ انصاف کیوں نہ مہیا کر سکے آپ؟ مٹھی بھر لوگوں کے لئے میٹرو اور لاہور کی جڑیں کھود کر اسے عظیم ورثے سے محروم کرنے کے بدلے مہنگی اورنج ٹرین جو ابھی ادھوری اور بیکار پڑی ہے، آخر کیوں؟؟؟
ایسے بہت سے کیوں ہاتھوں میں تھامے، یہ قوم جسے جان بوجھ کر بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، اس وقت اس قطار میں بھرتی ہونے کے لئے تیار کھڑی ہے جو چند روز کے بعد پولنگ سٹیشنوں پر لگنے والی ہے۔ اس قوم کو اصل حقائق سے دور رکھ کر، کبھی ہمدردی، کبھی مفادپرستی اور کبھی جھوٹے فلاحی منصوبوں کے پرچار سے اپنے حق میں ہموار کرنے کی رسم پرانی ہے۔ یہ بے چاری جاہل اور مسائل میں گلے گلے تک غرق قوم، اپنے غم بھول کر ’’قوم کی اس بیٹی‘‘ (مریم نواز) کے غم میں آٹھ آٹھ آنسو بہاتی ہے، جو ان کی بیٹیوں کے نصیبوں کو ڈکار کر ان پرحکومت کرنے کا ایجنڈا لئے اڈیالہ میں بیٹھی، غم ناک بیانات جاری کر کے جاہلوں پر رقت طاری کئے ہوئے ہے۔ یہ جو اپنی بیٹیوں کے آنسو پونچھ نہیں سکتے، مریم بی بی کے اک اک آنسو کو اپنے دل پر گرتا دیکھتے ہیں اور مچل مچل کر آزمائے ہوؤں کو آزمانے نکل پڑتے ہیں۔ جان بوجھ کر رکھے جانے والے اسی جاہل عوام کی ہمدردیاں بٹورنا، دراصل رواجی اور کہنہ سیاست کا وہ ہنر ہے، جسے گزشتہ ستر سالوں سے آزمایا جا رہا ہے۔ گرچہ اس دفعہ کہیں کہیں ان کے سامنے عوام کا اک نیا چہرہ بھی آیا ہے، جو ان سے اپنے حقوق کی پوچھ تاچھ کر رہا ہے، مگر نہایت ہوشیاری سے اسے ’’عوام کا جمہوری حق‘‘ کہہ کر اس کھسیاہٹ پر قابو پا لیتے ہیں جو انہیں ان حلقوں میں اٹھانا پڑ تی ہے اور آگے نکل جاتے ہیں۔ اس منزل کی جانب جو اقتدار کی غلام گردشوں سے گزرتی انہیں عوام سے لاکھوں نوری سالوں کے فاصلے پر پہنچا دیتی ہے۔ مگر یہ لوگ، ڈھول کی تھاپ پر بھگڑے ڈالتے ہوئے، کبھی بی بی کے نعرے لگاتے ہیں، کبھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھے اس میاں کے جو ان کی نسلوں کا نصیب ڈکار کر، مظلومیت کا لبادہ اوڑھے جیل کی سلاخوں کے پیچھے آن کر بیٹھ گیا ہے اور نہایت حیرت سے جیل کے نظام کو دیکھتے ہوئے کہتا ہے، ’’میں اب جیل کی فلاح کے لئے کام کروں گا‘‘۔ ان کی اس ’’سادہ دلی پر کون نہ مر جائے اے خدا‘‘۔ ان اور ان کی قبیل کے دیگر ’’سادہ دلوں‘‘ پر قربان ہونے والوں کی یقیناًاس ملک میں کمی نہیں، جن پر پوری محنت سے کام کر کے انہیں غلامی کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ یہی غلام یہی جدی پشتی وفادار، اس وقت بھٹو کے نواسے کے گرد بھی جمع ہیں اور میاں نوازشریف کی مظلومیت کے نوحے بھی پڑھتے ہیں، کیا انہی نے اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنا ہے؟ یہ ملک جس کے حالیہ انتخابات کے نتائج کو قبل از وقت مشکوک بنانے کی ملک دشمن پالیسی جیالوں، متوالوں اور ان کے کرتاؤں دھرتاؤں کی زبان پر رکھی ہے۔ اس کے باوجود انتخابات پر نادیدہ قوتوں کے غلبے کا شور؟
آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟؟؟


ای پیپر