نئے روپ میں نیا سویر!
21 جولائی 2018 2018-07-21

پچیس جولائی کی رات کو پتا چل جائے گا کہ کون سی جماعت اقتدار دے سنگھاسن پر بیٹھی ہے مگر یہ طے کہ اب کی بار اقتدار کانٹوں کی سیج ہو گا جو بھی اس پر بیٹھے گا وہ سکون میں نہیں رہے گا۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ وطن عزیز واقعتاًمصائب میں گھر چکا ہے۔ اسے مغرب و مشرق دونوں طرف سے خطرات درپیش ہیں، معاشی اعتبار سے وہ روز بروز خطرے کی نشان کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سماجی مسائل تو اس قدر گھمبیر ہو چکے ہیں کہ وہ آسانی سے حل نہیں ہوں گے۔ پھر حزب اختلاف چین سے نہیں بیٹھے گی اسے جب بھی تنقید کا موقع ملے گا وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی مگر کیا اس صورت میں ملک ترقی کر سکتا ہے اور اس کی بقاء و سلامتی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ ان سوالات ۔۔۔ کا جواب نفی میں ہو گا۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں دست و گریبان ہونے کے بجائے اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہو گی کیونکہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا جینا مرنا ا ور سانس لینا
اس دھرتی کے دم سے ہے یہ پریشان ہو گی مضمحل ہو گی اور اداس ہو گی تو ہم کہاں خوش ہوں گے ہمارے بچے کیسے نشوونما پائیں گے لہٰذا یہ بے حد ضروری ہے کہ جو جیتے وہ ہارنے والے سے جا کے ملے اور اپنے ساتھ لے کے چلنے کا اس سے وعدہ کرے۔ جو کوئی انا کے خول میں بند رہ کر خود کو اعلیٰ و ارفع سمجھے گا وہ نرگسیت پسند کہلائے گا جسے دوسرے غیراہم نظر آتے ہیں پھر ہو گا یہ کہ اس کو مقبولیت میں کمی کے ساتھ عام آدمی کی نفرت کا بھی سامنا ہو گا جس کا آج کے دور میں کوئی متحمل نہیں ہو سکتا!
ایک اندازے کے مطابق پی ٹی آئی کو مستقبل کی حکمران جماعت کہا جا رہا ہے مگر یہ ضروری نہیں انتخابی سیاست سے متعلق قیاس آرائی تو کی جا سکتی ہے حتمی طور سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ویسے موجودہ انتخابی سیاست اب زیادہ روایتی نہیں رہی۔ تبدیل ہوئی ہے آپ اسے شعوری ارتقاء کہہ لیں یا کچھ اور عوام نے بنیادی سیاسی اصولوں کے پیش نظر بھی سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہونا شروع کیا ہے۔
اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ جو بظاہر گہما گہمی دکھائی دے رہی ہے وہ فیصلے کے وقت کم ہو جائے۔ یعنی ووٹ ڈالنے کے مرحلے میں ووٹر اپنے ضمیر کو بیچ میں لے کے آئے تو ٹھپے کی جگہ بدل دے جس کا وعدہ اس نے کسی اور امیدوار سے کیا ہی نہیں تھا۔ مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو دھڑے بندی کا شکار ہیں اور نظریاتی بنیاد پر کسی جماعت کے ساتھ نہیں۔ بہرحال یہ انتخابات ہمارے قومی کردار اور قومی پالیسی کی سمت کا تعین کریں گے۔ کہ بدلتے حالات کے تقاضوں کے مطابق آگے جانا ہے یا پہلے والے اندز حیات اور طرز عمل کے تحت معاملات چلانے ہیں جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں درپیش چیلنجوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا انتظامی ڈھانچہ ترتیب دینا پڑے گا۔ جو اسی صورت ممکن ہے کہ اقتدار ایسے افراد کے ہاتھوں میں دیا جائے جو انقلابی سوچ کے حامل ہوں دیانت دار ہوں اور ملکی خزانے کو شیرمادر نہ سمجھتے ہوں۔ ویسے اب آئندہ بہت کم ہو گا کہ کوئی اختیارات کا مالک بن کر اندھیر مچا دے۔ دولت کے ڈھیر لگا کر اسے باہر کے ممالک میں لے جائے اب وہ دن رخصت ہوئے۔ جس نے کمائی کرنا تھی کر لی اگر اسے پیسا جمع کرنے کے ڈھیل ملتی ہے تو پھر دیکھ لیجیے گاکہ ہم بیتے دنوں کی یاد میں آہیں بھرتے نظر آئیں گے۔ کیونکہ اس وقت جو حالت ملکی خزانے کی ہے
شاید ہی اکہتر برسوں میں ہوئی ہو گی۔ میں پہلے بھی ایک کالم میں عرض کر چکا ہوں کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے نے ہماری معیشت کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ ایک ایک لمحہ بھاری گزر رہا ہے ہر محب الوطن شہری متفکر ہے اسے تشویش لاحق ہے کہ ہم اور ہمارے بچے کس طرح زندگی بسر کریں گے انہیں مطلوبہ سہولتیں کیسے میسر آئیں گی۔ ادھر پانی کی قلت سے اس کی سانسیں اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے ہو رہی ہیں کہ بھارت وحشیانہ اقدامات کرنے جا رہا ہے اس کا ارادہ ہے کہ وہ پاکستان کو پانی کی مار دے گا۔
عرض کرنے کا مقصد، یہ انتخابات سیاسی، سماجی، اور معاشی حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر معذرت کے ساتھ عام آدمی کی توجہ اس پہلو پر بہت کم ہے وہ اب بھی ذاتی مسائل و خواہشات کو بنیاد بنا کر اپنے نمائندے کو منتخب کرنا چاہتا ہے قومی مفاد سے اسے زیادہ غرض نہیں اسے اجتماعی پالیسی کی بھی کوئی خبر نہیں یا اس سے بھی دلچسپی نہیں وہ شیر، تیر اور بلے کی نذر اپنی پرچی کر کے سرخروہونا چاہتا ہے۔ اس میں ہمارے سیاستدانوں کا بھی قصور ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے مسائل پر توجہ نہیں دیتے۔ لہٰذا وہ لوگوں کے سیاسی شعور میں اضافے کے لئے باقاعدہ و باضابطہ کوئی اہتمام نہیں کرتے کہ جس سے وہ جان سکیں کہ ان کو کن پہلوؤں پر اپنی نظریں جمانی ہیں یہ کہ ان کا قومی کردار کیا ہے؟
اس لئے ہی آج ہم ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور سیاسی کارکنوں کی تربیت نہ ہونے کی بناء پر کسی ایک نکتے پر اکٹھے نہیں ہو پا رہے اور اس کے الٹ چل رہے ہیں، یہی کہ اپنے حریف کو کیسے گرانا ہے کیسے الجھانا ہے اور کیسے اسے ہزیمت سے دوچار کرنا ہے۔ پھر اقتدار تک کس طرح رسائی حاصل کرنی ہے۔ ایسے میں ملکی بقاء کو کیوں نہ خطرات لاحق ہوں گے۔ یہاں میں عمران خان کی سیاست کاری کو قدرے مختلف دیکھتا ہوں وہ اس بات پر کافی سنجیدہ ہیں کہ پاکستان کے عوام کو اپنا قومی کردار ضرور ادا کرنا چاہیے۔ ملک کو جتنی اور جو بھی مشکلات درپیش ہیں ان کا آگے بڑھ کر مقابلہ کریں۔ کیونکہ وہ حالات کے دوراہے پر کھڑا ہے اگر اسے نظرانداز کیا گیا تو پھر کون کسی کا؟ لہٰذا آپس کی غلط فہمیاں، ناراضیاں اور دشمنیاں ختم کر کے ایک ہو جائیں، یہ جو جیتنے کی خاطر تلخ جملوں بلکہ گالیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اسے روک دینا چاہئے، ماضی میں جو ہو گیا سو ہو گیا۔ صورت حال بڑی ہی خراب ہے لڑنے جھگڑنے سے وہ مزید خراب ہو سکتی ہے۔ میرا دوست جاوید خیالوی اس حوالے سے کہتا ہے کہ جب یہ سیاستدان غم خوشی کے علاوہ کاروباری میدان میں مل کر چلتے ہیں اور ایک دوسرے کے مفادات کا بھرپور دفاع کرتے ہیں تو ان کا سیاست کے میدان میں علیحدہ علیحدہ کھڑے ہونا کیوں ضروری ہے۔ شاید اس لئے کہ وہ اقتدار عوام کے پاس نہیں جانے دینا چاہتے اور ان کی خاطر دکھاوے کا دست و گریباں ہونا اور گالم گلوچ کرنا لازمی سمجھتے ہیں عوام اسے سچ سمجھ لیتے ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے چلتے رہتے ہیں؟ جاوید خیالوی کا ایسا سوچنا اپنی جگہ درست ہے مگر اب یہ سب نہیں پنپ سکتا، کیونکہ ایسی سیاست کاری نے اب ریاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ سیاسی و معاشی اعتبار سے ہچکولے لینے لگی ہے۔ لہٰذا مستقبل میں بہت کچھ تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ عدلیہ آزادی کا نعرہ لگانے والی ہے۔ اور فیصلوں کو شفاف آسان بنانے اور جلدی نمٹانے کا عندیہ دے رہی ہے۔ مقتدر حلقے بھی اپنے اندر اصلاح و احوال کے لئے نرمی پیدا کرنے کا اشارہ دے رہے ہیں یعنی آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی جانب چل پڑنے کا اعلان ہوا چاہتا ہے لہٰذا وزیراعظم بھی وہی کامیاب ہو گا جو بدلتے حالات کو ملحوظ رکھے گا۔ عوام کو بھی اپنے طرز فکر میں تبدیلی لانا پڑے گی۔ وہ اسے منتخب کریں جو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔ جذباتی نہ ہوں اور کسی سے مرعوب بھی نہ ہوں۔ اب اس دھرتی کو سنوارنے کا وقت آ گیا ہے جسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔ کہ یہ آخری موقع ہے بلندیوں تک پہنچنے کا؟


ای پیپر