کاموں اور الزاموں کا مقابلہ
21 جولائی 2018 2018-07-21

اعمال انسان کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ ہمارے صوفی شاعر اسی لئے اعمال پر زیادہ زور دیتے ہیں کہ اعمال ہی انسان کو پار لگاتے ہیں اور دین و دنیا میں بھی سرخرو کرتے ہیں۔ الیکشن مہم میں ہر روز اتنے لطیفے سننے کو ملتے ہیں کہ کبھی کبھی تو بے زاری محسوس ہوتی ہے، کبھی رہنماؤں کی فراست پر ترس آتا ہے اور کبھی اپنی مظلومیت پر بھی کہ یہ لوگ جن کا اپنا کعبہ قبلہ درست نہیں وہ دوسروں کی رہنمائی کیسے کریں گے۔

اس وقت تمام جماعتیں پوری طاقت سے انتخابات کی مہم چلا رہی ہیں۔ عمران خان کے اردگرد وڈیرے، جاگیردار، صنعت کار اور مال دار لوگ جمع ہیں جن کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ حکمت علمی۔ ان کا مقصد خان صاحب کے ذریعے حکومت میں شمولیت ہے۔ ان میں اکثریت گوڈے گوڈے کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے اس کے باوجود وہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو کرپشن کے طعنے دیتے نہیں تھکتے۔ عمران نے جس تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا وہ اپنی موت آپ مر چکی ہے اس لئے کہ تمام جماعتوں کے کرپٹ لوگ تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی موجودہ حالت کافی شفاف ہو چکی ہے۔ سچی بات ہے اگر خان صاحب حقیقتاً تبدیلی کے خواہاں تھے تو انہیں بالکل نئے چہرے سامنے لانے چاہئیں تھے۔ نئے تعلیم یافتہ نوجوان جو جدید دنیا کے چیلنجز سمجھتے ہوں تو خان صاحب کو کافی کامیابی مل سکتی تھی مگر جس طرح وہ اپنی عادت اور مزاج کے مطابق جس کام کے لئے پہلے نہ کہتے ہیں بعد میں اسی کو اپنا لیتے ہیں، ایک عرصہ وہ الیکٹبلز کے بارے میں شعلہ بیانی کرتے رہے، انہیں برا بھلا کہتے رہے مگر آج دھڑا دھڑ ان کے گلے میں جادوئی رومال ڈال کر ان کو ایمانداری کا سرٹیفکیٹ عطا کر رہے ہیں۔ مطلب کسی کے ماضی کی بری حالت سے انہیں کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے تو مطلوبہ سیٹیں پوری کرنی ہیں۔ وہ بھلے جیسے بھی ہوں اچھائی برائی کا کوئی معیار نہیں۔ جوں جوں الیکشن کا وقت قریب آ رہا ہے خان صاحب کی مقبولیت میں کمی آتی جا رہی ہے اور شہباز شریف مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خان صاحب کا تمام تر زور دیگر جماعتوں اور ان کے کارکنوں کے بارے میں ناپسندیدہ جملے بولنا ہے، پڑھے لکھے لوگ ان کے اس رویے سے بددل ہوتے جا رہے ہیں۔ قول و فعل کا تضاد ان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ بظاہر وہ ماڈرن اور لبرل ہونے کا اعلان کرتے ہیں مگر اپنی شریک حیات کو سات پردوں میں چھپا کر ممی ڈیڈی طبقے کو حیران کر رہے ہیں۔ وہ سلیو لیس آنٹیاں جو کل تک بڑھ چڑھ کر نعرے لگا رہی تھیں آج پشیمانی سے سر پکڑ کر گھر بیٹھی ہیں۔ پچھلے ہفتے تحریک انصاف کے جتنے جلسے ہوئے تمام بری طرح ناکام رہے۔ عوام نے انہیں بالکل سیریس لینا چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے وہ جارحانہ رویہ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ان سے دیگر جماعتوں کا وجود برداشت نہیں ہو رہا۔ وہ بالکل ایک ڈکٹیٹر جیسی گفتگو کرنے لگے ہیں اور خالی میدان میں کھیلنے اور جیتنے کے خواہاں ہیں۔ جس صوبے کی مال و دولت اور آسائشوں پر انہوں نے پانچ سال عیش کی اس کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ پشاور جگہ جگہ سے اُکھڑا ہوا عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ ان کے پلے کوئی ایک کارنامہ نہیں جس کو جواز بنا کر وہ مرکز کی حکومت کے لئے کیمپیئن کر سکیں اس لئے وہ سارا وقت دوسروں کو برا بھلا کہنے میں صرف کر دیتے ہیں۔

دوسری طرف میاں شہباز شریف کے جلسے اتنے شاندار کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں۔ جہاں خان صاحب کے جلسوں میں خالی کرسیاں بین کرتی نظر آتی ہیں وہیں میاں صاحب کے جلسوں میں کھڑے ہوئے لوگوں کا بہت بڑا ہجوم جوش و جذبات سے لبریز نظر آتا ہے۔ میاں صاحب کی تقریر میں ان کی گزشتہ پانچ سالہ حکومت کی کارکردگی کا بیان حاضرین کو متاثر کرتا ہے۔ ایک وقت تھا لوگ کرکٹ کے ہیرو کی حیثیت سے عمران کے جلسوں میں شغل میلے کے لئے آ جاتے تھے مگر ووٹ دیگر جماعتوں کو دیتے تھے اب تو وہ حالت بھی نہیں رہی اس لئے کہ وہ اپنی یُو ٹرن پالیسی اور غیر جمہوری رویے سے باشعور لوگوں کے دلوں سے اتر چکے ہیں۔ اگر ان کے پاس کے پی کے کی حکومت نہ ہوتی تو شاید پھر بھی وہ لوگوں کی رائے ہموار کر لیتے مگر اب لوگ کے پی کے اور پنجاب کا موازنہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور انہیں ہر شے صاف نظر آ رہی ہے۔ حالیہ جلسوں اور عوام کے رسپانس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف انتخابات کی دوڑ میں مقبولیت اور کامیابی میں سب سے آگے ہیں۔ خدا کرے انتخابات کا عمل کامیابی سے مکمل ہو اور منفی سیاست کرنے والوں سے لوگوں کی جان چھوٹے۔ شہباز شریف صاحب نے جس محنت اور لگن سے پنجاب کو اندھیروں سے نکالا ہے اس کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیل جائے۔


ای پیپر