Researchers succeed in taking first
21 جنوری 2021 (21:32) 2021-01-21

لندن :عالمی وبا  کی کم از کم 4 نئی اقسام نے سائنسدانوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے، ان میں سے ایک تو وہ ہے جو سب سے پہلے جنوب مشرقی      برطانیہ میں سامنے ٓئی اور اب تک کم از کم 50 ممالک میں پہنچ چکی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ قسم بظاہر پرانی اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت سے لیس نظر آتی ہے، 2 اقسام جنوبی افریقہ اور برازیل میں نمودار ہوئیں جو وہاں سے باہر کم پھیلی ہیں مگر ان میں آنے والی میوٹیشنز نے سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔ایک اور نئی قسم امریکی ریاست کیلی فورنیا میں دریافت ہوئی ہے جس کے بارے میں بہت زیادہ معلومات ابھی تک  حاصل نہیں ہو سکی۔ 

اب تک سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ نئی اقسام بیماری کی شدت کو بڑھا نہیں سکیں گی جبکہ ویکسین کی افادیت بھی متاثر نہیں ہوگی۔بی 1.1.7سائنسدانوں کی توجہ سب سے زیادہ بی 1.1.7 پر مرکوز ہے جو سب سے پہلے برطانیہ میں دریافت ہوئی تھی۔

 امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے حال ہی میں خبردار کیا گیا تھا کہ اس نئی قسم کا پھیلا وبا کو بدترین بناسکتا ہے،سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب تک جو معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ انسانی مدافعتی نظام نئی اقسام کو ہینڈل کرسکتا ہے،ان کا کہنا ہے کہ یہ بیماری کی شدت میں اضافے یا کمی کا باعث نہیں.

ماہرین کا کہنا ہے یہ ہسپتال میں زیر علاج افراد کی تعداد یا اموات میں بھی تبدیلی نہیں لاتی، اب تک ہم نے جو جانا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا پھیلا بالکل پرانی اقسام کی طرح ہے۔جو اقدامات اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیے گئے ہیں وہ نئی اقسام کی روک تھام میں بھی مددگار ہوں گے، جیسے فیس ماسک کا استعمال، سماجی دوری، ہجوم میں جانے سے گریز اور اکثر ہاتھ دھونا۔


ای پیپر