LDA,corruption,600 Rs,million,worth,plot,allot
21 جنوری 2021 (14:55) 2021-01-21

لاہور ( احمد قریشی ) تبدیلی سرکار سرکاری محکموں میں افسر شاہی کے سامنے بے بس ٗ ایل ڈی اے افسر کا انوکھا کارنامہ ٗ ڈائریکٹر ڈی ایل ڈی ون نے چھ سو روپے نقد معاوضہ ادا کرنے کے بجائے خیابان فردوسی جوہر ٹائون کروڑوں روپے کا پلاٹ الاٹ کر کے پالیسی کی دھجیاں اڑادیں۔ 

تفصیلات کے مطابق دس کنال کی فائل نمبر AP-3000  کے ایگزیمپشن کے کیس میں متاثرہ شخص کو 2006 میں تین کنال کے پلاٹ الاٹ کئے جا چکے تھے۔ ان تینوں پلاٹوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ مرلہ کم تھا۔ ایل ڈی اے پالیسی کے مطابق ایگزمپشن کیس میں تین سے زیادہ پلاٹ الاٹ نہیں کئے جا سکتے اگر کسی کا رقبہ بچ جائے تو اس صورت میں اسے اضافی رقبہ کا نقد رقبہ معاوضہ ادا کیا  جائے گا۔ ریلیف کی صورت میں ایک بار ہی الاٹمنٹ ہوتی ہے۔

 اگر درخواست دہندہ مقررہ وقت میں پلاٹ نہ لے تو ایگزمپشن کینسل تصور کی جاتی ہے مگر اس کیس میں ایسا نہیں کیا گیا بلکہ 13 سال بعد باقی ماندہ ساڑھے چار مرلہ کا نقد معاوضہ ادا کرنے کے بجائے مذکورہ پارٹی کو چند روز قبل جوہر ٹائون میں انتہائی قیمتی جگہ خیابان فردوسی پر کروڑوں روپے مالیت کا پانچ مرلہ کا پلاٹ الاٹ کر کے ایل ڈی اے ڈی ایل ڈی ون جوہر ٹائون معظم رشید نے خیابان فردوسی جوہر ٹائون پر کروڑوں روپے کا پلاٹ الاپ کر کے محکمانہ پالیسی کی دھجیاں بکھیر دی ہے حالانکہ ہونا  تو یہ چاہیے تھا کہ چودہ سال بعد چوتھے پلاٹ کی ایگزمپشن منسوخ کر دینا چاہیے تھی مگر مذکورہ افسر نے ایل ڈی اے پالیسی کی دھجیاں اڑتے ہوئے قواعد و ضوابط کے برعکس یہ الاٹمنٹ کر دی ہے۔ 

اس حوالے سے ایل ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پابندی عائد ہے وہ اس خبر پر موقف نہیں دے سکتے ۔ واضح رہے کہ معظم رشید کی زیادہ تر ڈی ایل ڈی ٹو اور تھری رہی ہے۔


ای پیپر