ch farrukh shahzad columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
21 جنوری 2021 (11:45) 2021-01-21

آج کل طاقت کے مراکز سے آنے والی خبریں خاص اعصاب شکن ہیں۔ مالیاتی خبریں ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ پریشان کن ہیں اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارا میتھ یا علم ریاضی خاصا کمزور ہے اور جب بات ملین اور بلین کی ہو رہی ہو تو ہمارا حساب کتاب پیچھے رہ جاتا ہے اعداد و شمار بہت آگے چلے جاتے ہیں۔ اس لیے آج ہم نے تہیہ کیا ہے کہ حساب سود و زیاں کی بات نہ کی جائے مگر ہم کیاکریں ایک طرف تو بڑاڈ شیٹ کمپنی نے عدالتی حکمنامے کے ذریعے لندن میں پاکستانی سفارتخانے کے اکاؤنٹ سے 29 ملین پاؤنڈ نکال لیے ہیں جبکہ دوسری طرف کوالالمپور میں قومی ایئر لائن کا مسافر طیارہ عدالتی حکم پر واجبات کی عدم وصولی پر قرق کر لیا گیا ہے مگر یہ دونوں خبریں بہت چھوٹی ہیں ایک بہت بڑی خبر یہ ہے کہ ریکوڈک کیس میں مدعی ٹیلی تھیان کمپنی نے ایک بین الاقوامی عدالت میں پاکستان کے خلاف 6 بلین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ابتدائی طور پر کمپنی کا دعویٰ درست مانا گیا ہے اور اب کمپنی کہتی ہے کہ حکومت پاکستان کی ملکیت امریکی روز ویلٹ ہوٹل اور فرانس میںا یک اور ہوٹل جو پاکستان کی ملکیت ہے یہ دونوں جرمانے کی ریکوری کے لیے اس کے حوالے کر دیئے جائیں اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا۔ 

ہمارا آج کا موضوع غیر مالیاتی ہے اور ہم ایک دفعہ پھر اسلام آباد چلتے ہیں جہاں خبر ہے کہ وزیراعظم کی کابینہ میں پنجابی مقولے کے مطابق ’’اک نواں چن چڑھیا اے‘‘ جب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی افیئر جناب افضل چن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جس کی وجہ صحیح میں ہزارہ برادری کے قتل عام کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال تھی جب سوگواروں نے وزیراعظم کی آمد تک لاشوں کی تدفین سے انکار کیا۔ وزیراعظم نے جوابی انکار کیا اور مظلوم خاندانوں کو بلیک میلر قرار دیا۔ کابینہ اجلا س میں ندیم افضل چن نے واضح طور پر وزیراعظم سے اختلاف کیا اور رائے دی کہ انہیں کوئٹہ جانا چاہیے جب ان کی بات نہ مانی گئی تو انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مچ کے بے گورو کفن لاشوں کو مخاطب کر کے لکھا کہ میں شرمندہ ہوں اس پر وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں پوری کابینہ کو ڈانٹ پلائی اور کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ جس کو میرے فیصلوں پر اعتراض ہے وہ استعفیٰ دے دے ۔ اگلے دن ندیم افضل چن کے استعفیٰ کی خبر آ گئی۔ 

ندیم افضل جیسے سیلف میڈ لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کے بعد کسی کی نہیں سنتے اور پھر خارزار سیاست میں ان کی کوئی نہیں سنتا۔ ان کے ساتھ پہلے بھی یہ ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی میں سب سے زیادہ تعداد پیپلزپارٹی کے منحرفین کی ہے جنہیں اپنی پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے اختلاف تھا۔ وقت آنے پر یہ تارے ٹوٹنے لگے بقول شاعر مشرق

کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے

کہ امیر کاررواں میں نہیں خوئے دل نوازی

سیاسی قبیلے کی تبدیلی کے بعد کچھ لوگ تو نئے ماحول میں خاصے مانوس ہو گئے مگر افضل چن کا شمار ان لوگوں میں ہے جو نئے کیمپ میں آ کر بہت زیادہ خوش نہیں تھے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بے چینی بڑھتی گئی آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ سال کرونا کے آغاز پر ان کی ایک ویڈیو لیک ہوئی جس نے انہیں مذاق مذاق میں شہرت اور popularity کی نئی بلندی پر پہنچا دیا۔ اس میں وہ اپنے ورکر کو کہہ رہے تھے کہ گل ودھ گئی ہے مختاریا! اپنے گھر بہو۔ حکومت دسدی نئیں پئی ۔ یہ تین باتیں تھیں کہ بات بہت آگے نکل گئی ہے آپ اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ اور یہ کہ حکومت صحیح صورت حال سے پردہ نہیں اٹھا رہی۔ اتفاق کی بات ہے بلکہ حسن اتفاق ہے کہ ندیم افضل چن نے جو تین باتیں ایک سال پہلے مختارے کو بتائی تھیں وہ قطعی طور پر درست ثابت ہوئیں اور وہ تینوں اب چن صاحب کے اپنے اوپر بھی لاگو رہی ہیں۔ 

ندیم افضل چن کا شمار ان سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو تہذیب اور مروت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور اختلاف رائے کو بڑے مدلل انداز میں بغیر کسی ناشائستگی کے پیش کر کے اپنے قدمیں اضافہ کرتے ہیں جو کہ وقار کی علامت ہے۔ وہ خاموش رہنا پسند کرتے ہیں مگر بات اصول کی ہو تو بقول شاعر خاموش نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا کے مصداق اپنی رائے کو ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ پیپلزپارٹی میں مس فٹ تھے اور یہی بات کابینہ سے ان کے الوداع کی وجہ بنی۔ 

عمران خان کا اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو نیچا دکھانا ہو یا اس کی Ragging کرنی ہو تو ان کا ایک اپنا ہی طریقہ کار ہے۔ وہ خود براہ راست یہ کام کرنے کے بجائے اپنے inner circle میں سے کسی کو یہ ٹاسک دیتے ہیں۔ وہ پرانے ساتھیوں کو بھی معاف نہیں کرتے ۔ فوزیہ قصوری اور فارن فنڈنگ کیس کے مدعی ایس اکبر جو کہ تحریک انصاف کے بانیوں میں سے ہیں ان کی مثالیں موجود ہیں کہ ان لوگوں کو کیسے رسوا ہو کر پارٹی کو خیر باد کہنا پڑا۔ عمران خان خالی جگہ پر کرنے کے ماہر ہیں یہ بندہ Replace کر لیتے ہیں جہانگیر ترین کی مثال لے لیں۔ حامد خان کو دیکھ لیں یہ لوگ آج کہاں ہیں۔ جاوید ہاشمی صاحب کا کیس دیکھ لیں۔ 

افضل چن کے گرہن لگنے میں شیخ رشید کا کلیدی کردار ہے۔ اس وقت پاکستان میں جس طرح کی سیاست ہو رہی ہے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں حوادث زمانہ میں آ کر شیخ رشید پاکستان کے وزیراعظم نہ بن جائیں۔ کابینہ میں جس بندے نے سب سے زیادہ عروج حاصل کیا ہے وہ شیخ رشید ہیں حالانکہ وہ ایک ایسی اتحادی جماعت سے ہیں جس کی صرف ایک سیٹ ہے۔ عمران خان نے جو بلیک میلنگ والی بات کی تھی۔ وہ شیخ رشید نے Spoon Feed کی تھی کیونکہ کابینہ اجلاس میں شیخ صاحب کہتے تھے کہ اس طرح تو ہر کوئی وزیراعظم کو دباؤ میں لا کر مطالبہ کرلے گا کہ ہمارے پاس آؤ وغیرہ۔ کابینہ کا کلچر ایسا ہے کہ اختلافی رائے دینے والے کو منہ کی کھانا پڑتی ہے۔ شہباز گل فواد چودھری، شیخ رشید جیسے لوگوں کے سامنے ندیم چن تو کیا 14 ویں کا چاند بھی ماند پڑ جاتا ہے۔ 

پی ٹی آئی سوفٹ انداز میں یہ پراپیگنڈا بھی کر رہی ہے کہ ندیم افضل چن سینیٹ ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی سے ناراض ہوئے ہیں البتہ ایک بات طے ہے کہ کوئٹہ واقعہ سے پہلے بھی ندیم افضل پارٹی کو اس انداز سے ڈیفینڈ نہیں کر رہے شاید وہ ان معاملات کو ناقابل دفاع خیال کرتے ہیں۔ یہ سوچ راتوں رات پیدا نہیں ہوتی۔ البتہ اس وقت چن صاحب کی خاموشی خاصی معنی خیز ہے اگر اس موقع پر انہوں نے NRO کر لیا تو اس وقت ان کی سیاست اور شخصیت جس لیول پر پہنچی ہوئی ہے وہ برقرار نہیں رہے گی۔ وہ میڈیا پر آنے سے گریزاں ہیں جس سے حالات مشکوک دکھائی دیتے ہیں یہ افضل چن کے لیے Make or break image والی صورت حال ہے اگر انہوں نے اپنے لیے کوئی نئی سیٹ یا رعایت قبول کر لی تو ان کی باغی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مختیاریا اک واری فیر سوچ لا۔


ای پیپر