Shafiq Awan columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
21 جنوری 2021 (11:41) 2021-01-21

صبح صبح اخبارات پڑھیں یا ٹی وی دیکھیں تو لگتا ہے ہماری تمام سیاسی اشرافیہ چور ہے اور اس حوالے سے ہم سب چور ہیں کیونکہ ان اشرافیہ کو ہم نے ہی اقتدار کے ایوانوں میں بھیجا۔ براڈ شیٹ کے قضیے کے بعد تو ہمارا ایمان اداروں سے بھی اٹھ گیا ہے۔ جس سرعت سے 29 ملین ڈالر کی ترسیل پاکستان سے براڈ شیٹ کو لندن میں ہوئی اتنی سرعت سے تو ہم ٹریفک سگنل پر کھڑے فقیر کو بھیک بھی نہیں دیتے۔ اس رقم کی ادائیگی کے لیے بیوروکریسی کی روایتی سستی اتنی چستی میں بدل گئی کہ سب انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے۔ نوکر شاہی کے تمام سرخ فیتے اتنی تیزی سے سبز ہوتے چلے گئے کہ پلک جھپکنے کا بھی وقت نہ لگا۔ کاوے موسوی کے قضیے میں کسی جنرل ملک کا نام نامی بھی آیا تھا لیکن نہ اس کی کھوج لگائی گئی اور بال کی کھال اتارنے والا میڈیا بھی جیسے یہ نام بھول ہی گیا۔ مشرف دور سے آج تک کس کس نے اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھوئے، کی کوئی تحقیقات نہیں۔ لے دے کے سارے الزامات سیاسی مخالفین یعنی مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں لیکن غیر جانبدارانہ تحقیق کی طرف کوئی توجہ نہیں۔

دوسری طرف وفاقی کابینہ نے براڈشیٹ معاملے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔ کمیٹی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ایک سابق جج، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، اٹارنی جنرل کے دفتر سے ایک سینئر افسر، ایک سینئر وکیل اور وزیر اعظم کے نامزد کردہ افسر پر مشتمل ہو گی۔

کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) کے تحت وہ 45 دن کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرے گی۔ وہ تحقیقات کیا ہوں گی جس کا فیصلہ شبلی فراز یہ کہہ کر پہلے ہی یہ کہہ کر سنا دیا ہے کہ براڈشیٹ کیس ایسے حقائق پر مبنی ہے جس کے ذریعے سابق حکمرانوں کی بدعنوانی کو سامنے لایا گیا ہے۔ اس یکطرفہ کارروائی پر کون یقین کرے گا کیا ہی اچھا ہوتا، ٹی او آرز میں اس دور میں براڈ شیٹ کو دیے گئے 29 ملین ڈالر کی بندر بانٹ کی تحقیق بھی شامل کی جاتی۔ تحقیقاتی اداروں یا موجودہ حکومت کی تحقیق پر اپوزیشن کو اعتبار نہیں تو جوڈیشل کمیشن بنا کر ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جا سکتا ہے لیکن اس طرف کون جائے مقصد تو سیاسی مخالفت کرنا ہے۔ بلکہ غیر سنجیدہ وزیر داخلہ نے تو براڈشیٹ سیکنڈل کی آڑ میں میڈیا میں مریم نواز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ موصوف کا خواب تھا کہ اسے وزیر داخلہ بنا دیا جائے۔ لگتا ہے اس حکومت میں چہیتوں کے خواب پورا کرنا ہی رہ گیا ہے اور عوام کے حصے صرف برے خواب ہی رہ گئے ہیں۔

کھسیانی بلی کی طرح وزیر داخلہ کا سارا زور اپوزیشن کے اچھے خاصے اجتماع کو چند ہزار تک کہنے پر لگ گیا 

تاکہ بادشاہ کو اس جھوٹ سے ہی خوش رکھا جا سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جلسے میں مدرسے کے طلبا نے بھاری تعداد میں شریک ہو کر وفاقی وزیر داخلہ اور کے پی حکومت کا یہ دعویٰ تار تار کر دیا کہ ان طلبا کو ہر قیمت پر سیاسی اجتماع میں شرکت سے روکا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر روایتی تعلیمی اداروں کے طلبا کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ لے سکتے ہیں تو مدارس کے طلبا کیوں نہیں۔

جلسے کے شرکا تین سو تھے تین ہزار یا تین لاکھ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، فرق پڑا ہے عمران خان کو ان الزامات سے جن کے مطابق اس کی پارٹی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اندرجیت اور اسرائیل کے شخص سے بھاری رقم وصول کی، اگر یہ بات سچ ثابت ہو گئی تو پھر تو سیاسی طور پر پلے کچھ رہے گا اور نہ حکومت کرنے کا جواز لیکن حکومت کے دفاعی کھلاڑی اس کا بھی دفاع میڈیا پر ہی کریں گے۔ جو دستاویزات میں نے دیکھی ہیں ان کے مطابق مریم نواز کے الزامات درست ہیں کیونکہ فنڈ دینے والوں میں بھارت اور اسرائیل کے لوگ بھی ہیں۔ ایک دھچکا پی ٹی آئی اور عمران خان کو یہ بھی لگا کہ صاف چلی شفاف چلی کے نعرہ کو بھی گزند پہنچی۔

اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرہ بھی نمائشی اور محض اپنے ووٹ بنک کو ساتھ رکھنے کے لیے تھا۔ حکومت نے بھی جواب آں غزل کے طور پر جوابی الزامات ہی لگائے لیکن شفاف الیکشن کے انعقاد کے لیے دونوں طرف سے کسی تجویز کا کہیں ذکر نہیں۔ ساری کارروائی بس الزامات اور جوابی الزامات تک ہی محدود رہی۔ ہو گا یہی کہ کل آنے والی اپوزیشن پھر الیکشن دھاندلی کا رونا روئے گی اور ہمیشہ کی طرح حکومت ان الزامات کو نظر انداز کرے گی۔

ہر جلسے کی طرح حکومت وقت نے بھی اپوزیشن کے جلسے میں شرکا کو پیسے دے کر جلسہ گاہ میں لانے کی فلم چلائی۔ عرض ہے اگر یہ الزام سچ ہے تو اس کا کریڈٹ بھی حکومت کو جاتا ہے کیونکہ بیروزگاری اور غربت اتنی بڑھ گئی ہے کہ جہاں سے اناج کے دو دانے ملیں غنیمت ہے۔

جہاں تک سیاسی کارکنوں کا باشعور ہونے کا سوال ہے تو جس دن ملک کے عوام سیاسی طور پہ باشعور ہو گئے وہ دن بالادست طبقے کی موت کا دن ہو گا مگر مسئلہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے ورکرز کو سیاسی، قومی و طبقاتی شعور دینے کے بجائے یہ سکھا رہے ہیں کہ ہمیں ووٹ دینے میں آپکی کامیابی ہے، جلوسوں میں نعرے کونسے لگانے ہیں، جلسوں میں جھنڈے کیسے لہرانے ہیں، ہم فرشتے اور باقی چور ہیں۔ کبھی سوچا ہے یہ سیاسی جماعتیں ایسا کیوں کرتی ہیں؟ یہ ایسا اس لئے کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی حکمران بالادست طبقے سے ہیں۔ خیر یہ بات نہ ہم نے پہلے کبھی سوچی ہے اور نہ آئندہ سوچیں گے کیونکہ ہم ذہنی معذور اپاہج مرید ہیں اور ہمارا سیاسی شعور زندہ باد مردہ باد سے آگے کا نہیں ہے۔

حیرت انگیز طور پر مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے پی ڈی ایم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فوج پر کوئی تنقید نہیں کی۔ اس سے قبل نواز شریف نے بھی اپنے ویڈیو پیغام میں بھی فوجی قیادت کا ذکر نہ کر کے توپوں کا رخ عمران خان کی طرف رکھا۔ کیا پوری پی ڈی ایم کا سافٹ ویئر ہی اپ ڈیٹ ہو گیا ہے؟ ہر کوئی اس تبدیلی کو اپنے معنی پہنا رہا ہے لیکن کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

حکومتی اتحاد سندھ میں پیپلز پارٹی کی مبینہ بیڈ گورنس کو روتا ہے لیکن عمر کوٹ کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کا مشترکہ امیدوار پیپلز پارٹی کے امیدوار سے ہار گیا۔ لیکن نیب نے اس کی مبارکباد وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف ریفرنس دائر کر کے دیا۔ پھر نیب کہتا ہے کہ وہ فیس نہیں کیس دیکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فیس اسے حکومتی صفوں میں کیوں نظر نہیں آتے؟

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل یا ٹیلیگرام پر کر سکتے ہیں


ای پیپر