m.yasir arfat mushlim columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
21 جنوری 2021 (11:39) 2021-01-21

 مخدومی اکبر ایس بابر کو مبارک ہو کہ تحریک انصاف جو چھ سال سے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے اپنے پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتی تھی اور کیس کی تاخیر اور طوالت کے لیے ہر وہ حیلہ، بہانہ اور حربہ اختیار کیا جو کیا جاسکتا تھا، اب بالآخر یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوگئی کہ’’ اگر بیرونی فنڈنگ ہوئی ہے تو ذمہ دار ایجنٹ ہیں‘‘۔ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے جواب میں تحریک انصاف نے کہا ہے کہ پارٹی فنڈ کے لیے عمران خان کی ہدایت پر امریکہ میں دو ایجنٹ واضح ہدایات کے ساتھ تعینات کیے گئے تھے ، اب اگر ان ایجنٹوں نے ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے تو پارٹی اِس کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس حوالے سے پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور احتجاج کیا ہے اور یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنا جرم تسلیم کرلیا ہے اور اب الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرے۔ادھر الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے بھی فارن فنڈنگ کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس ہے کیا ؟۔ تحریک انصاف کے بانی رکن اور ایک زمانے تک پارٹی کی مرکزی باگ ڈور سنبھالنے والے اکبر ایس بابر نے 14 نومبر 2014ء کو الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کے حوالے سے ایک درخواست جمع کرائی تھی اور تین بڑے الزامات عائد کئے کہ تحریک انصاف نے نمبر ایک غیر قانونی طور سے فنڈنگ حاصل کی ہے، نمبر دو منی لانڈرنگ ہوئی ہے اور نمبر تین کہ وسیع پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے۔ چھ سال میں اس کیس کی الیکشن کمیشن میںستر سماعتیں ہوئی ہیں اور فیصلہ ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔تحریک ِ انصاف بجائے اس کے کہ اپنی پاک دامنی کے ثبوت پیش کرتی اس نے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں سات پٹیشن داخل کی ہیں جس میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ الیکشن کمیشن کا استحقاق ہی نہیں ہے کہ وہ فارن فنڈنگ کی تفصیلات تحریک انصاف سے طلب کرے۔ تحریک انصاف نے اس کیس سے منسلک متعدد وکیل بھی بدلے اوروزیراعظم عمران خان، جو آج یہ فرما رہے ہیں کہ یہ سارا کیا دھرا ایجنٹوں کا ہے، وہ ایک درخواست یہ بھی دے چکے ہیں کہ وہ الیکشن کمیشن کو تفصیلات اور گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں نہیں ہیں۔ ناجانے وہ کون سی مصلحتیں ہیں یا انکشافات ہیں جن کی پردہ داری کے لیے ایک درخواست یہ بھی جمع کرائی گئی کہ اس کیس کی سماعتوں کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جائے۔الیکشن کمیشن نے ایک سکروٹنی کمیٹی قائم کی اور اسے ایک ماہ کا وقت دیا کہ اپنی رپورٹ پیش کرے۔ لیکن 28 ماہ گزرنے کے بعد کمیٹی نے ’’عرق ریزی‘‘ کے بعد جو رپورٹ پیش کی وہ الیکشن کمیشن نے ہی نامکمل اور ناقص قرار دے کر مسترد کردی۔ الیکشن کمیشن نے تقریباً 24 بار تحریری طو ر پر تحریک انصاف کو اپنے بنک اکائونٹ جمع کرانے کا حکم دیا لیکن پہلے تو تحریک انصاف نے درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا اور پھر پہلے دو، بعد میں چار اور آخر میں آٹھ بنک اکائونٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔ لیکن اسٹیٹ بنک نے الیکشن کمیشن کو جو تفصیلات فراہم کی ہیں وہ 23 بنک اکائونٹس کی ہیں جن میں اربوں ڈالر کی ٹرانزیکشن موجود ہے ۔ ہنڈی سے جو رقوم آئی ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔ اکبر ایس بابر نے بطور درخواست گزار جب الیکشن کمیشن سے ان بنک اکائونٹس کی تفصیلات طلب کی تو ان سے یہ کہہ کر معذرت کر لی گئی کہ الیکشن کمیشن پر تحریک انصاف کا بے حد دبائو ہے، جس کے سبب وہ یہ تفصیلات انہیں فراہم نہیں کرسکتے۔ امریکہ کے وہ دو بنک اکائونٹ جن کو تحریک انصاف نے سکروٹنی کمیٹی کے سامنے تسلیم تو کیا لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اگر ان اکائونٹس میں غیر قانونی فنڈنگ ہوئی ہے تو ذمہ دار وہ ایجنٹ ہیں تحریک انصاف یا عمران خان نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دو ایجنٹ امریکہ میں سڑک پر بیٹھے اس طرح کے ایجنٹ نہیں ہیں جو گاڑیوں کے ٹیکس کے ٹوکن جمع کراتے ہیں۔ یہ باقاعدہ دو کمپنیاں ہیں جو عمران خان کے دستخطوں سے قائم 

ہوئی رجسٹر ہوئی ہیں ، ان کے بورڈ آف ڈائریکٹر، دفتر کی عمارت تک کے معاملات پر عمران خان کے دستخط موجود ہیں۔ عمران خا ن کے دستخطوں کے حوالے سے یہ بتاتا چلوں کہ جتنا ایک تعلق راقم کاان سے رہا ہے وہ دوسروں پر اعتماد کرنے والے شخص ہیں، ان کے سامنے جب بھی کوئی کاغذ رکھا جاتا تو صرف سامنے والے سے پوچھتے کہ یہ کیا ہے؟ اور پھر دستخط کردیتے۔ اگر عمران خان کو اس بات پر استثنا دے بھی دیا جائے تو جو لوگ ان مالی بد عنوانیوں میں نامزد ہیں وہ آج بھی ان کے بغل بچے ہیں ، وہ ان کو پارٹی سے نکال کر کٹہرے میں کھڑا کیوں نہیں کردیتے؟ بلکہ یہ بدعنوان عناصر تو چیف الیکشن کمشنر سے ملاقاتیں بھی کررہے ہیں اور ظاہر ہیں یہ بات بھی عمران خان کے علم میں ہوگی تو انہوں نے اس پر کیا ایکشن لیا؟۔ اور اگر ایجنٹوں نے بھی غیر قانونی فنڈنگ کی ہے تو وہ سامنے کیوں نہیں لائی جاتی اور کیوں نہیں بتایا جاتا کہ وہ کہاں خرچ ہوئی؟شفافیت ہے تو الیکشن کمیشن کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کی استدعا کیوں کی؟ 

اکبر ایس بابر جنہوں نے تحریک انصاف کو مافیا سے پاک کرنے کا بیڑا اُٹھایا ہوا ہے، ان کے ساتھ آج تک تحریک انصاف کے کسی موجودہ عہدیدار نے کسی بھی ٹی وی چینل پر مناظرہ نہیں کیا ہے۔۔ تحریک انصاف کے عہدیداران اور ترجمان فارن فنڈنگ پر مدلل جواب دینے کی بجائے لفظوں کی جگالی میں مصروف ہیں۔

ندیم بابر اور شاہد خاقان عباسی جب ٹی وی چینل کے ایک ہی پروگرام میں ایل این جی پر اپنا اپنا مؤقف پیش کرسکتے ہیں تو اکبر ایس بابر کے سامنے آنے میں کیا مضائقہ ہے؟ بلکہ تحریک انصاف کی موجودہ کھیپ تو انہیں تحریک انصاف کا رکن تسلیم ہی نہیں کرتی۔ لیکن اکبر ایس بابر ہائی کورٹ اسلام آباد اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی روشنی میں آج بھی تحریک انصاف کے رکن ہیں۔ 

پانامہ کیس ہو، فارن فنڈنگ کیس ہو یا پھر براڈ شیٹ، یہ صرف چند مثالیں ہیں اس طبقے کی لوٹ مار اور نااہلی کی جو سیاست، معیشت اور سماج پر مسلط ہے۔


ای پیپر