taseer mushtafa columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
21 جنوری 2021 (11:35) 2021-01-21

 یہ وزیر اعظم نوازشریف کا پہلا دورِ حکومت تھا۔ انہوں نے امن وامان کی بہتری اور لاقانونیت کے خاتمے کے نام پر وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیںکے کچھ اختیارات گورنرمیاں اظہرکو منتقل کردیے تھے۔جنہوں نے وسطی پنجاب کے کچھ اضلاع میں اپنی ہی پارٹی کے منتخب ارکان کے خلاف کلہاڑا اُٹھا لیا۔ اس زد میں آنے والے پہلے شخص حافظ آباد سے مسلم لیگی ایم پی اے چوہدری مہدی بھٹی تھے۔ وہ 1979ء میں پہلی بار ضلع کونسل گوجرانوالہ کے رکن کے طور پر سامنے آئے تھے۔ پھر انہوں نے 1983ء کا بلدیاتی انتخاب جیتا، اور 1985ء، 1988ء اور 1990ء کے عام انتخابات میں ڈویژن اور ضلع کے روایتی سیاست دانوں کو شکست دے کر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ پولیس کی زیادتیوں اور واپڈا کے عملے کی رشوت ستانی کے خلاف ان کی عوامی سطح کی کارروائیوں نے انہیں عوام میںبے حد مقبول بنادیا تھا اُن کا دعویٰ تھاکہ ان کے حلقہ انتخاب سے نوازشریف یابے نظیر بھی انتخاب جیت جائیں تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ مخالفین ہر انتخاب کے موقع پر ان کے خلاف خوفناک الزامات پر مبنی جو مہم چلاتے، گورنر اظہر نے اُن ہی الزامات کی بنا پر اُن کے خلاف پہلے میڈیا مہم چلائی اور پھر تحفظ امن عامہ آرڈیننس کے تحت انہیں کئی ماہ کے لیے نظربند کردیا۔ اُن پر ڈکیتی، لوٹ مار، زنا کے علاوہ ایک بھری بارات سے دلہن کے اغوا کا الزام بھی میڈیا کے ذریعے پھیلایا گیاتھا مگر یہ الزامات کبھی ثابت نہیں ہو سکے

دوسری جانب گورنرصا حب مہدی بھٹی کی بات سننے کو تیار نہیں تھے وزیراعلیٰ وائیں ملاقات کا وقت نہیں دے رہے تھے،۔ میڈیا اُن کے خلاف خام صحافیوں کے ذریعے خبری مہم چلا رہا تھا، جسے کالم نگار آگے بڑھا رہے تھے۔۔ مخالفانہ کالم لکھنے والوں میں جناب عبدالقادر حسن بھی شامل تھے۔ مہدی بھٹی نے کسی طرح اُن سے ملاقات کا وقت لے لیا۔ اس ملاقات میں مَیں بھی موجود تھا۔ پوری بات سننے کے بعد عبدالقادر حسن صاحب نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے محض اخباری خبروں پر یہ کالم لکھ دیا۔ چنانچہ انہوں نے مہدی بھٹی کا جوابی خط اپنے کالم میں من و عن شائع کردیا، اس ملاقات میں مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ بڑا صحافی وہ ہوتا ہے، جو اپنے مؤقف پر ضد نہیں کرتا، کوتاہی کو تسلیم کرلیتا ہے اور دوسرے کے نقطہ نظر کواپنے کالم میں شاملِ کرنا اپنی توہین نہیں سمجھتا۔ اس واقعہ سے پہلے اور بعد میں اُن سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ ہر بار وہ محبت سے ملتے، 

’’تاثیر بھائی‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے، تواحساس ہوتا کہ وہ سرگودھا کے پتھریلے علاقے کے لحیم شحیم اعوان ہونے کے باوجود انتہائی شفیق اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔

جناب عبدالقادر حسن سے میرا تعارف اُن کے کالموں کے مطالعہ سے بھی پہلے ہوگیا تھا۔ وہ 1970ء کی دہائی کے قدآور اور جرأت مند صحافی تھے۔ سندھ کے شہروں میں آباد ہمارے اعزا لاہور آتے تو ان سے ملاقات یا زیارت کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے۔ یہیں سے مجھے اُن کے کالم پڑھنے کا چسکا پڑا ۔ 1930میں سنگلاخ پہاڑیوں کی وادیٔ سون سکیسرکے ایک صحت افزا گائوں میں پیدا ہونے والے ملک عبدالقادر بخش اعوان نے ابتدائی تعلیم گھر اور گائوں میں حاصل کی۔ اورکسی کالج یا یونیورسٹی کے بجائے ایک دینی مدرسے سے درسِ نظامی مکمل کیا،وہ ہماری صحافت کی اُس آخری لاٹ کا حصہ تھے جس کی تحریروں میں عربی زبان اور فارسی ادب کا رنگ نمایاں تھا۔ اُن کا اردو ادب اور شاعری کا مطالعہ بھی وسیع تھا۔ اوائل جوانی میں اُن کے چہرے پر داڑھی بھی ہوتی تھی ۔ وہ اُس دور میں جماعت اسلامی کے رکن بنے جب رکن بننا خاصا مشکل تھا۔ ان کی صحافت کا آغاز 1960ء کی دہائی میں روزنامہ نوائے وقت سے ہوا۔وہ حمید نظامی مرحوم کے ساتھی اور تربیت یافتہ تھے ۔کچھ عرصہ بعد وہ ہفت ’’روزہ لیل و نہار‘‘ میں چلے گئے جس کے ایڈیٹر معروف ترقی پسند شاعرجناب فیض احمد فیضؔ تھے۔ 1970ء میں وہ روزنامہ ’’ندائے ملت‘‘ کے شعبہ رپورٹنگ سے وابستہ ہوگئے۔ ’’ندائے ملت‘‘ اور ’’نوائے وقت‘‘ کے ادغام کے بعد نوائے وقت میں آگئے۔ اورطویل عرصے تک یہاںچیف رپورٹررہے یہی اُن کی صحافت کا سنہری دور تھا۔ انہوں نے اپنی محنت، لگن، جرأت اور اسلوب سے رپورٹنگ خصوصاً سیاسی رپورٹنگ کی عزت و توقیر میں اضافہ کیا۔ اُس زمانے کے ہوٹل نیڈوز میں انہوں نے دیگر اخبار نویسوں کے ساتھ مل کر لاہور پریس کلب کی بنیاد رکھی۔ سیاسی اور پارلیمانی رپورٹنگ کے دوران انہوں نے بعض نئی سیاسی و صحافتی اختراعات وضع کیں۔ وہ اُس دور میں آزادیِ صحافت کی لڑائی لڑنے والے ؎ ہراول دستے میں شامل تھے، ۔ اس دوران انہوں نے ’’سیاسی باتیں‘‘ کے نام سے کالم لکھناشروع کیا جو سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بے حد مقبول ہوا۔ 1975 میں انہوں نے نوائے وقت چھوڑ کر کمرشل بلڈنگ لاہور سے ہفت روزہ ’’افریشیا‘‘ جاری کیا جو بوجوہ نہ چل سکا۔ ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد وہ کچھ عرصہ نوائے وقت میں ’’غیر سیاسی باتیں‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے رہے ۔ 1981ء میں لاہور سے روزنامہ جنگ کا اجرا ہوا تو انہوں نے اس اخبار میں ہمزاد کے قلمی نام سے اپنا کالم ’’غیر سیاسی باتیں‘‘ جاری رکھا جو اُن کی موت تک روزنامہ ایکسپریس میں ان کے نام کے ساتھ شائع ہوتا رہا۔80 کی دہائی میں صدر ضیاء الحق نے انہیں روزنامہ ’’امروز‘‘ کا ایڈیٹر انچیف مقرر کردیا ۔ تین چار سال تک انہوں نے یہ ذمہ داری نبھائی۔افریشیا کے بعد انہوں نے ’’آواز جہاں‘‘ کے نام سے بھی ایک میگزین جاری کیا۔ ان دونوں پرچوں سے شاید انہیں تو کوئی آمدنی نہ ہوتی ہو، مگر عملے کو وہ ہمیشہ بروقت معاوضہ ادا کردیتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ جج اپنے فیصلوں میں بولتے ہیں، عبدالقادر حسن بھی اپنے کالم میں بولتے تھے۔ عام زندگی میں وہ بہت کم گو تھے۔ پریس کانفرنس اور مجالس میں بھی شاذ ہی کوئی بات کرتے۔ عباس اطہر کے پروگرام ’’کالم کار‘‘ میں بھی وہ بہت کم گفتگو کرتے تھے۔ عبدالقادر حسن نے اپنے کالموں میں بھولا کے نام سے ایک کردار متعارف کرایا تھا جس کے منہ سے وہ بڑی بڑی باتیں کہلوا دیتے تھے۔ بھولا معروف اداکار شان کے چچا تھے

ایوبی دور میں سیاسی اور انتظامی ضرورتوں کے تحت ’’محمد خاں ڈاکو‘‘ نامی ایک شخص کو خوف کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اخبارات میں اس کے دیومالائی قصے شائع ہوتے تو لوگ مزید خوف زدہ ہوجاتے۔ محمد خاں جناب عبدالقادر حسن کے علاقے خوشاب کا رہنے والا تھا۔ وہ طویل قید کے بعد رہا ہوا تو عبدالقادر حسن اسے لاہور لائے اور آواری ہوٹل میں بھولا سمیت اپنے بہت سے دوستوں سے اُس کی ملاقات کرائی۔

اسلام، پاکستان اور نظریۂ کے ساتھ انکی محبت لازوال تھی۔ ایٹمی پاکستان کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ وہ اپنی موت تک کھڑے رہے ۔ انہوں نے ہی عوام کو معروف روحانی شخصیت سرفراز خان سے متعارف کرایا ۔

روزنامہ امروز کی ادارت سے فراغت کے بعد وہ عملاً گوشہ نشین ہوگئے تھے۔ آنکھوں کی تکلیف انہیں پہلے ہی تھی وہ کہتے تھے کہ اس معاملے میں وہ خان عبدالولی خان کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ بھی آشوبِ چشم کی اسی بیماری کا شکار تھے۔ عبدالقادر حسن نے زندگی کے آخری بیس سال اپنے گھر میں گزار دیے، البتہ اخبار بینی اور کتب بینی انہوں نے آخری وقت تک کالم نویسی کی طرح جاری رکھی، اُن کے آخری کالم کا عنوان تھا ’’اچھا دوستو، خدا حافظ۔۔‘‘

اور دو روز بعدخودانہوں نے اس دنیا کو خدا حافظ کہہ دیا۔


ای پیپر