مفتی قوی اورحریم پسند معاشرہ!
21 جنوری 2021 2021-01-21

مفتی قوی اور حریم شاہ کی گندگیوں کا ایک اور شوشا سامنے آگیا ہے جو مفتی قوی کے منہ پرحریم شاہ کے طمانچے کی صورت میں ہے، اِس طمانچے پراِک تماشا کھڑا ہوگیا ہے، سوشل میڈیا کو اپنا ”کاروبار“ چمکانے کے لیے اِک نیا”گاہک“ مِل گیا ہے، ہمارا دین ایک دوسرے کے عیبوں پر پردے ڈالنے کا حکم یا درس دیتا ہے، پردہ پوشی اللہ کو بڑی پسند ہے، اللہ نے تو بے شمار سبزیوں اور پھلوں کے بھی پردے رکھے ہیں، سوشل میڈیا کا کام اب شاید صرف یہی رہ گیا ہے لوگوں کی خرابیوں بُرائیوں یا عیبوں سے پردے اُٹھا ئے جائیں، سوشل میڈیا کا اپنا کردار مفتی قوی اور حریم شاہ جیسا ہی ہوگیا ہے، جو شخص غلط کام کرتا ہے، خصوصاً جس شخص کے کسی غلط کام کا نقصان کسی معاشرے یا ملک کو ہورہا ہو اُس کی نشاندہی کرنا یا اُسے روکنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرنا اور بات ہے، پر محض ذہنی تسکین کے لیے دوسروں پر الزام تراشی کرنا، حقائق کو توڑمروڑ کو پیش کرنا، دوسروں کی ذاتی زندگیوں سے پردے اُٹھانا، اُن کے عیب تلاش کرنے کی مسلسل جستجو کرتے رہنا ہماری ایسی بداعمالیاں ہیں جو ہمارے معاشرے کی گندگی کو مزید بڑھاتی اور پھیلاتی جارہی ہیں، میں اِس گندگی سے ہرممکن حدتک بچنے کی کوشش کرتا ہوں، پر کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے میں اِس بدعملی یا گندگی کو مزید بڑھانے یا پھیلانے میں اپنا حصہ نہیں ڈالوں گا، میں معاشرے کی پکڑ میں آجاﺅں گا، اگلے روز حریم شاہ کے مفتی قوی کو تھپڑرسید کرنے کا ویڈیو کلب سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں وائرل ہوا، میں نے اُس کا کوئی نوٹس نہیں لیا، اِس پر بے شمار دوستوں نے فون اور میسجزکرکرکے مجھ سے پوچھا”آپ نے اس پر ابھی تک کوئی پوسٹ کیوں نہیں لگائی ؟ اپنی رائے کیوں نہیں دی ؟“....میں نے سوچا عجیب گندگی پسند معاشرہ ہے کیسے کیسے سوال لوگ کررہے ہیں؟ جیسے یہ عالمی یا قومی نوعیت کا بہت حساس کوئی موضوع ہو.... کل ایک عزیز نے مجھ سے کہا ”آپ سیاست کی گندگی پر لکھنا چھوڑ دیں، آپ اُن موضوعات کا انتخاب کریں جن سے معاشرے کی اصلاح ہوسکتی ہو یا جو موضوعات لوگوں کی اخلاقی تربیت کا باعث بن سکتے ہوں“....میںنے اِس کے جواب میں اُنہیں اپنی فیس بک وال پر لگے ہوئے کچھ ایسے کالم دیکھائے جن میں اُن کی اِس خواہش کی تکمیل تھی،میں نے اُنہیں گزشتہ روز شائع ہونے والا ملک کے دوممتاز ومہذب ترین قلم کاروں عبدالقادر حسن اور رو¿ف طاہر کی وفات پر لکھا گیا کالم بھی دکھایا جو میری فیس بک وال پر لگا تھا، چند لوگوں نے بھی اِس کالم پر کوئی کمنٹس کرنا یا اُسے لائیک کرنا پسند نہیں کیا تھا، اِس کالم کے علاوہ میں نے اُنہیں آپ کی سیرت مبارکہ اور بانی پاکستان حضرت قائداعظم پر لکھے جانے والے کچھ کالم بھی دکھائے، اُن پر بھی صرف چند لوگوں نے ہی کمنٹ اور اُنہیں لائیک کیا تھا .... پھر اِن بابرکت کالموں کے مقابلے میں کچھ ایسے کالم جو میں نے سیاسی گندگی یا دیگر چٹ پٹے موضوعات پر لکھے اُنہیں ان گنت لوگوں نے لائیک کیا، اُن پر مزے مزے کے کمنٹس بھی کیے،.... سواِس گندگی پسند معاشرے میں صاف ستھرے موضوعات پر لکھنے سے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے ہم کوئی بہت بڑا گناہ یا جُرم کررہے ہیں، اِس سے میں اِس ”احساس کمتری“ میں بھی مبتلا ہوجاتا ہوں میں اگر ایسے ہی صاف ستھرے موضوعات پر لکھتا رہا کہیں یہ نہ ہو میرا ایک قاری بھی نہ رہے۔ سواپنے قارئین کی تعداد دھڑادھڑ بڑھانے کےلئے اکثراوقات مجھے انتہائی چسکیلے بلکہ کسی حدتک غلیظ موضوعات کا انتخاب کرنا پڑتا ہے.... اِس معاشرے کی روز بروز بڑھتی ہوئی گندگی دیکھ کر مجھے ایک درویش دانشور حضرت واصف علی واصف کا یہ قول یاد آتا ہے“ اِس معاشرے میں عزت دراصل بے عزتی ہے“....بلکہ اب تویوں محسوس ہوتا ہے اِس معاشرے میں عزت دار ہونے سے بے عزت ہونا ہزار درجے بہتر ہے ،.... ہم سے کوئی سیدھے منہ بات نہ کرے، کئی روزتک طبیعت اوازار رہتی ہے، یہاں اب لوگ ایک دوسرے کو اُن کے ناموں سے نہیں اُنہیں گالیوں سے مخاطب کرتے ہیں اور اُن پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا، ایسے میں مفتی قوی کا کوئی کیا بگاڑے گا؟ بلکہ اُس کی مسلسل جو بداعمالیاں ہیں اُس کے ساتھ ”سیلفیاں“ بنوانے والوں کی تعدادمزید بڑھتی جائے گی، اور اُس کے اِسی نوعیت کے کارنامے یا کرتوتیں جاری وساری رہیں ممکن ہے مستقبل میں وہ اِس ملک کے کسی اہم ترین منصب پر بھی فائز ہو جائے .... ”سیلفیاں“ بنوانے کے ذکر سے مجھے یاد آیا چند روز پہلے میں لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں ایک شادی پر گیا، میں جس میز پر بیٹھا تھا وہاں میرے ساتھ پاکستان کے ایک نامی گرامی بدمعاش آکر بیٹھ گئے، دیکھتے ہی دیکھتے اُن کے ساتھ ”سیلفیاں“ بنوانے والوں کا ہجوم اُمڈآیا، اُس پر وہ ”بدمعاش محترم“ میرے کان میں یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ میں دوسری میز پر جارہا ہوں، میرے لیے یہ بات انتہائی تکلیف دہ ہے لوگ آپ جیسے دانشور وقلم کار کے بجائے میرے ساتھ سیلفیاں بنوارہے ہیں“۔....میں نے ازراہ مذاق اُن سے کہا ” آپ اِدھرہی بیٹھے رہیں، ہوسکتا ہے کچھ دیر آپ کی کمپنی میں بیٹھ کر میں بھی تھوڑا بہت بدمعاش بن جاﺅں اور میرے ساتھ بھی لوگ سیلفیاں بنوانے لگیں“.... وہ مسکرائے اور دوسری میز پر چلے گئے،.... جہاں تک حریم شاہ جی کا تعلق ہے وہ عورتوں کی مفتی قوی ہیں اور مفتی قوی مردوں کے حریم شاہ ہیں، دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، معاشرے کی گندگی میں ایک ہی بار ڈھیر سارا اضافہ کرنے میں دونوں کی بدکاریوں کا خصوصی عمل دخل ہے۔ دونوں بدنامی کواصل میں ”مشہوری“ سمجھتے ہیں، دونوں اپنے اپنے غلیظ مقاصد میں مسلسل کامیابیاں حاصل کررہے ہیں،.... یقین کریں میں اِس گندگی میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا، مگر جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا مجھے یوں محسوس ہورہا تھا میں اِس گندگی میں ہاتھ نہیں ڈالوں گا یا منہ نہیں ماروں گا لوگ کیا سوچیں گے اتنے اہم اور ”حساس موضوع“ پر میں نے کچھ لکھا ہی نہیں؟....میرے خیال میں یہ دوگندی سوچوں کا ایک مشترکہ ویڈیو کلپ تھا، اصل میں مفتی قوی اور حریم شاہ دونوں کافی عرصے سے منظر سے غائب تھے، ہوسکتا ہے دونوں نے اتنے طویل عرصے تک منظر سے غائب رہنے کا نقصان اپنے تازہ ترین ویڈیو کلپ کو خود ہی سوشل میڈیا پر وائرل کرواکر پورا کرنے کی کوشش کی ہو، سوشل میڈیا کو بہرحال مفتی قوی اور حریم شاہ کا ممنون ہونا چاہیے جس نے چند روز کے لیے اُس کا ”کاروبار“ چمکا دیا، اِس ”کاروبار“ میں مندی آنے کی صورت میں ایک اور ”تہلکہ خیز ویڈیو کلپ“ بھی منظر عام پر آسکتا ہے ،جو ابھی تک نہیں آیا؟جس میں اہم انکشافات سامنے آئیں گے،.... اِس معاشرے میں عزت واقعی بے عزتی ہے، کچھ عرصہ پہلے ایک قلم کار نے انتہائی ناراضگی سے مجھ سے کہا ”تم نے فلاں شاعرہ کے سامنے میری بے عزتی کی ہے“.... میں نے پوچھا ” کیا بے عزتی کی ہے؟“،وہ بولے تم نے اُسے کہا ہے، کہ ”وہ بڑے شریف آدمی ہیں“،تم نے اُس کی نظروں میں مجھے گرانے کی کوشش کی ہے، وہ شریف آدمی سمجھ کر اب مجھے منہ ہی نہیں لگارہی“.... حریم شاہ نے مفتی قوی کو تھپڑ مارا، مفتی قوی نے جواباً کیا مارا؟ یہ ویڈیو کلپ بھی کسی روز شاید منظر عام پر آجائے!!


ای پیپر