آٹے کے بعد چینی کے نرخ میں حیران کن اضافہ
21 جنوری 2020 (18:33) 2020-01-21

لاہور: پاکستان میں آٹے کے بعد مقامی مارکیٹس میں چینی کے نرخ بھی بڑھ گئےیوٹیلیٹی اسٹور پر چینی کی قیمت 68 روپے مقرر کی گئی ہے تاہم عام دکانوں پر 78 سے 80 روپے فروخت ہو رہی ہےشوگرٹریڈرزایسوسی ایشن کے مطابق 100 کلو چینی کا تھیلا 7300 روپے سے بڑھ کر 7550 روپے کا ہوگیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق اگر حکومت نے چینی کی برآمد نہ روکی تو پاکستان میں اس کی قیمت 100 روپے فی کلو تک جا سکتی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ چینی اگر متوازن قیمت پر بھی فروخت کریں تو نقصان ہو رہا ہے۔پہلے چینی کی بوری 35 سو سے 36 سوتھی جو اب 39 سو کی ہو گئی ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس پاکستان میں چینی کی پیداوار تقریبا 55 لاکھ ٹن رہی تھی اور اس وقت بھی گنے کی کٹائی کا موسم چل رہا ہے۔

عام طور پر چینی کے سیزن میں اس کا ہول سیل ریٹ کم ہو جاتا ہے کہ لیکن اس بار 80 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔شوگرٹریڈرزایسوسی ایشن کے مطابق 100 کلو چینی کا تھیلا 7300 روپے سے بڑھ کر 7550 روپے کا ہوگیا ہے۔کسان اتحاد کے مطابق شوگر ملز مالکان گنے کے کاشتکاروں کا استحصال کرنے کے لیے جان بوجھ کر کرشنگ سیزن لیٹ کرتے ہیں کیونکہ گنے کی کھڑی فصل کا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مٹھاس کا لیول زیادہ اور وزن کم ہو جاتا ہے۔متاثرین کا کہنا ہے کہ کرشنگ سیزن کے آغاز میں تاخیر سے نہ صرف چینی کی مارکیٹ متاثر ہوتی ہے بلکہ گندم کی بوائی بھی تاخیر کا شکار ہوتی ہے۔


ای پیپر