امریکہ کو مشرق وسطیٰ سے نکل جانا چاہیے!
21 جنوری 2020 (17:22) 2020-01-21

امریکہ نے عراق کی حمایت کے بہانے عراق کے ساتھ جو سلوک کیا وہ دُنیا کے سامنے ہے

ایران میں اُوپر تلے ہونے والے چار واقعات نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پوری دُنیا کی توجہ ایران پر مرکوز ہو گئی ہے یعنی یوکرائنی طیارے کی تباہی، ایران کا امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملہ، جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ایران میں سلیمانی کے جنازے میں بھگدڑ مچنے سے ہلاکتیں۔

یوکرائنی طیارے کی تباہی

یوکرائن کا مسافر بردار طیارہ ایرانی میزائلوں کی زد میں اُس وقت آیا جب ایران امریکی فضائی اڈوں کو عراق میں نشانہ بنا رہا تھا کہ ان میں سے ایک میزائل یوکرائنی طیارے کو لگا اور اس میں سوار 176 مسافر ہلاک ہو گئے۔ یہ طیارہ دراصل پاسداران انقلاب سے وابستہ حساس ملٹری سائٹ کے قریب پرواز کررہا تھا اور اُسی دوران ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کیا تو ایک میزائل طیارے کو جالگا۔ درحقیقت یہ انسانی غلطی کا ہی المیہ ہے لیکن ایران کو اُس وقت جب وہ حملہ کررہا تھا تو ملکی وغیرملکی تمام پروازوں کے لیے کچھ دیر کو ہوائی اڈے بند کردینے چاہئیں تھے یا کم ازکم میزائلوں کے رُخ پر آنے والے اڈے بند کردینے چاہئیں تھے لیکن ایسا نہ کر کے ایک بہت بڑا نقصان اُٹھانا پڑا۔ ایران نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے یوکرائن سے معافی مانگی ہے اور معاوضہ ادا کرنے کا عندیہ بھی ظاہر کیا ہے لیکن انسانی غلطی کے مرتکب افراد کو سزا بھی دی جائے گی اور ان کو فوج کے اندر جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا جائے گا اور ان کا احتساب ہو گا۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی مرتکب افراد کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ہلاک ہونے والے اکثر افراد کینیڈا کی دوہری شہریت کے حامل تھے۔ یوکرائن کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے اس امر پر زور دیا کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے، لاشیں واپس کی جائیں اور سرکاری طور پر معافی مانگی جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا معافی مانگنے اور معاوضہ ادا کرنے سے اس غلطی کا ازالہ ہو جائے گا، کیا ایران اپنی ذہنی ملامت سے خود کو مطمئن کر پائے گا۔ اس ذہنی کوفت اور دباﺅ سے نکل سکے گا جس کا اُسے احساس ہو گیا ہے، انتقام میں جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہوتی ہے۔

جنرل قاسم سلیمانی کے جنازے میں بھگدڑ

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امریکی میزائل حملے کے نتیجے میں مارے جانے والے جنرل سلیمانی کی نمازجنازہ ایران میں ادا کرنے کے بعد جنازے کی گاڑی رواں دواں تھی لیکن بھیڑ اتنی تھی کہ دور تک سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ لاکھوں کے اس مجمع میں لوگ آہ وزاری وماتم داری کر کے جنرل قاسم پر نوحہ کناں تھے کہ اچانک اس بھیڑ میں بھگدڑ مچ گئی اور جس کا جدھر منہ سمایا وہ اُسی طرف نکل گیا جس سے لوگ گر پڑے اور پاﺅں تلے روندے گئے جس سے تقریباً 38 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ صدر خامنہ ای نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے لاکھوں کے مجمعے کی طرف توجہ تو دلائی لیکن اس مجمع کو منظم رہنے کی تلقین نہ کی، نتیجتاً ایک جنازہ پڑھنے کے لیے آنے والے درجنوں لوگوں کا نمازجنازہ پڑھنا پڑا اور جنازے والے خود جنازہ ہو گئے۔

ایران کا امریکی فوجی اڈے پر حملہ

امریکی نیوز ایجنسیز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے میزائل حملوں میں امریکہ کے دس مقامات مکمل تباہی سے ہمکنار ہوئے ہیں لیکن اس بات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوئی امریکی فوجی مارا نہیں گیا کیونکہ پیشگی اطلاع کے سسٹم نے انہیں خبردار کردیا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے لہٰذا وہاں کے ایک امریکی فوجی کے مطابق ہم پہلے ہی اپنی پوسٹیں چھوڑ چکے تھے۔ امریکی نیوز ایجنسیز کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوجیوں کے کوارٹرز بھی محفوظ نہ رہے۔ اب ایک طرف تو ٹرمپ یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اُن کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، دوسری طرف خامنہ ای کا دعویٰ ہے کہ درجنوں ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم امریکہ نے یہ دوسری کھلی کارروائی کی ہے۔ ایک 1980ءکے عشرے میں ایران، عراق جنگ میں صدام حسین کی کھلی حمایت کر کے اور دوسری اب قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی کارروائی جبکہ 1988ءمیں امریکہ نے ایران کا مسافر بردار طیارہ بھی مار گرایا تھا جس میں بچوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں جبکہ ایران نے اپنی حمایت یافتہ ملیشیا سے بیروت میں امریکہ کے سفارت خانے اور امریکی میرین کی بیرکس پر بڑے تباہ کُن حملے کیے تھے کیونکہ امریکہ نے 1983ءمیں عراق کی مدد کی تھی اور ایران کی مخالفت میں کیا تھا۔ ایک حیران کُن بات یہ ہے کہ ٹرمپ سمیت مغربی طاقتیں بشمول اسرائیل ایران سے براہ راست تصادم نہیں چاہتیں اور آبنائے ہرمز میں بھی بہت محتاط ہیں۔

جنوبی کوریا نے تو آبنائے ہرمز میں اپنی فوج تعینات کرنے سے صاف انکار کردیا ہے، ایسے میں آبنائے ہرمز جو کہ پوری دُنیا کے تیل کے تیسرے حصے کی گذرگاہ ہے۔ وہ مخدوش ہو گئی ہے جس کا اثر عالمی معیشت پر پڑے گا جبکہ امریکہ نے ایران پر مزید 17 پابندیاں عائد کردی ہیں، کیا پابندیاں عائد کرنے سے ایران کی نہ ختم ہونے والی پراکسی وار کو لگام دی جاسکے گی؟ یہ ممکن نہیں اور ٹرمپ یہ بھی اعتراف کر چکا ہے کہ جنرل سلیمانی نے یمن کے حوثیوں لبنان کی حزب اللہ اور بشارالاسد کی بھی مدد کی ہے اور ان کو منظم کیا ہے۔ برطانوی فورسز کے خلاف استعمال کے لیے جنرل سلیمانی نے ان جنگجوﺅں کو دھماکہ خیز ڈیوائسز فراہم کیے لہٰذا ان کے ہاتھ برطانوی فوجیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جبکہ لیبرپارٹی کے رہنما جرمی کا کہنا ہے کہ سلیمانی کی ہلاکت عالمی قوانین کے تحت غیرقانونی تھی جبکہ معروف امریکی دانشور ”نوم چومسکی“ نے بھی سلیمانی کے قتل کو دہشت گردی، بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ” امریکہ انرجی میں خودکفیل ملک بن گیا ہے ہمیں اب مشرق ِ وسطیٰ کے تیل کی ضرورت ن ہیں“ اگر ضرورت نہیں تو مشرق وسطیٰ سے نکل کیوں نہیں جاتے، جاﺅ یہاں سے نکل جاﺅ۔ ٹرمپ آپ اپنا ایک خطاب بھول رہے ہیں جس میں آپ نے یہ فرمایا تھا کہ میں امریکی فوجیوں سے ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ تم جہاں بھی جاﺅ سب سے پہلے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرو۔ یہ دوغلاپن نہیں تو اور کیا ہے۔ ایران کے ساتھ معاہدہ توڑا تو فوراً بعد مذاکرات کی پیشکش کردی، پابندیاں عائد کیں تو مذاکرات کی دعوت دے دی۔ اب سلیمانی کو مارا اور ایرانی حملے کے بعد پھر اعلان کردیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ غیرمشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ یہ تیل اور مذاکرات کی دوغلی پالیسی امریکہ کی فطرت میں شامل ہے۔ دُنیا جانتی ہے کہ یہ ایک ایسا اتحادی ہے جس پر کبھی بھی کوئی بھی بھروسا نہیں کرتا۔ یہ امریکہ اگر تیل میں خودکفیل ہو گیا ہے تو آبنائے ہرمز کو کیوں مخدوش کررہا ہے، کیا اس سے باقی ممالک کو تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو گی۔

برازیل کی آئل اینڈ گیس کمپنی ”پیٹروبراس“ نے ایران، امریکہ کشیدگی کے باعث اپنے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز کا راستہ اختیار کرنے سے روک دیا ہے جبکہ دُنیا بھر کی باقی کمپنیاں بھی ایسا ہی سوچ رہی ہیں۔ عراق سمیت دُنیا بھر کے ممالک میں امریکہ جو بدمعاشیاں کررہا ہے اُس سے سب ممالک حتیٰ کہ یورپی ممالک بھی امریکہ سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ امریکہ نے عراق کی حمایت کے بہانے عراق کے ساتھ جو سلوک کیا وہ دُنیا کے سامنے ہے۔ اب حالیہ عراق کی عوامی رضاکار فورس ”الحشد الشعبی“ کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس کے بُزدلانہ قتل کے بعد عراقی پارلیمنٹ نے اپنے ملک سے غیرملکی فوجیوں کے باہر نکلنے کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک خصوصاً سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ سب مل کر امریکہ کو مشرق وسطیٰ سے نکال دیں اور کسی مغربی ملک کے ساتھ آئندہ کوئی تیل معاہدہ نہ کریں۔

٭٭٭


ای پیپر