دُنیا بھر میں موسم کے بدلتے تیور!
21 جنوری 2020 (17:20) 2020-01-21

پاکستان میں پہاڑوں پر ہونے والی برف باری نے گذشتہ 70 سال کا ریکارڈ توڑ دیا

منصور مہدی

چند سالوں قطب شمالی سے اٹھنے والے برفانی گرداب نہ صرف امریکا کی شمالی ریاستوں اور کینیڈاکو شدید سردی کی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، جس سے بعض مقامات پر درجہ حرارت منفی 50 سے اوپر تک پہنچ جاتا ہے، اس بار بھی ایسا ہی ہوا، جس سے نظام زندگی مفلوج ہوگیاہے۔ ایسا کچھ صرف امریکا اور کینیڈا میں ہی نہیں بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک سخت سردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا بھر میں موسم بڑی تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں شدید بارشوں، برفباری کے باعث شدید سردی کی وجہ سے گزشتہ 3 دنوں میں مجموعی طور پر 75 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شدید بارشوں کے باعث ہزارہ ڈویڑن، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور مالاکنڈ ڈویڑن میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے شاہراہِ قراقرم سمیت دیگر اہم شاہراہیں اور سڑکیں بند ہوگئیں جبکہ چترال کا صوبے کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ این ڈی ایم کی جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا کہ موسم کی خراب صورتحال کے باعث سب سے زیادہ 55 افراد آزاد کشمیر میں جاں بحق ہوئے جبکہ صوبہ بلوچستان میں بارشوں، برفباری کے مختلف واقعات میں 15افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور برفباری کے باعث مختلف حادثات میں 29 افراد زخمی ہوئے جبکہ 35مکانات کو نقصان پہنچا۔

صورتحال کی سنگینی کی وجہ سے پی ڈی ایم اے نے مستونگ، قلعہ سیف عبداللہ، کیچ، زیارت، ہرنائی اور ضلع پشین میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔اس کے علاوہ خوجک ٹاپ پر شدید برفباری کی وجہ سے زیارت اور کوئٹہ کے مابین موصلاتی رابطے شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ کوئٹہ،چمن شاہراہ بھی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ موسم کی شدت کے سبب خیبرپختونخوا میں بھی برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور صوبے میں سب سے زیادہ برفباری لواری اپروچ روڈ پر23 انچ ریکارڈ کی گئی۔ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال اور مضافات میں پیر(13 جنوری) کی رات سے شدید برف باری کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث چترال بھر میں تمام شاہراہیں بند ہوگئیں جبکہ چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد زمینی رابطہ لواری ٹنل بھی کل براڈام کے مقام پر برفانی تودہ گرنے سے بند ہوگیا۔ چھوٹے ٹنل کے قریب براڈام کے مقام پر ایک بھاری بھر کم برفانی تودہ گرنے سے لیویز اور پولیس کے جوان بال بال محفوظ رہے تاہم گلیشئر گرنے کی وجہ سے پشاور،چترال شاہراہ ہر قسم ٹریفک کے لیے بند ہوگئی جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور درجنوں گاڑیاں لواری ٹاپ میں پھنسی ہوئی ہیں۔بونی، مستوج، گرم چشمہ، وادی کیلاش، ملکہو، تورکہو کی سڑکیں برف باری کے باعث ہر قسم ٹریفک کے لیے بندکر دی گئیں۔

پاکستان میں معمول سے زیادہ برف باری

اس سال موسم سرما میں پہاڑوں پر ہونے والی برف باری نے گذشتہ 70 سال کا ریکارڈ توڑا ہے،پاکستان میں اس برس موسم سرما میں ملک کے مختلف حصوں میں 50 فیصد زیادہ برفباری اور بارشیں معمول سے 25 سے 30 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی ہیں جن کی بنا پر ملک کے پانی ذخیرہ کرنے والے بڑے ڈیموں تربیلا اور منگلا میں سطح آب بھی معمول سے زیادہ ہے۔پاکستان کے محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر حنیف نے بتایا کہ مالاکنڈ، ہزارہ ڈویڑن، مری، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 22.5 انچ برف پڑ چکی ہے اور مارچ میں موسم سرما کے اختتام تک یہ بڑھ کر 50 انچ تک ہو جائے گی۔

انھوں نے موسم کی اس تبدیلی جس سے عام لوگ کسی حد تک پریشان بھی ہوئے ہیں ملک کی معیشت کے لیے مثبت قرار دیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے دریاو¿ں میں زیادہ پانی آنے کی توقع ہے۔

ایک اور موسمیاتی ماہر اور پی ایم ڈی کے ڈائریکٹر خالد ملک کے مطابق گذشتہ سال 70فیصد کم برفباری ہوئی۔انھوں نے گذشتہ برسوں کا ریکارڈ دیتے ہوئے بتایا کہ 2004 اور 2005 کے موسم سرما میں ملک میں مجموعی طور پر 81 انچ برف پڑی تھی جبکہ گزشتہ دو برس میں یعنی 2016-17 میں 44 انچ اور 2017-18 میں 17.5 انچ برف ریکارڈ کی گئی تھی۔گذشتہ چند برسوں میں کم برفباری کی وجہ سے موسم سرما کے دورانیے میں کمی دیکھنے میں آئی تاہم اس بار دسمبر سے شروع ہونے والی سردی اب تک جاری ہے جس میں خاصی شدت بھی آئی ہے۔ماہرین کے مطابق شدید سردی اور غیر معمولی بارشوں کا یہ سلسلہ مارچ کے وسط تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔

سردی کے طویل دورانیے کی وجہ کیا ہے؟

محکمہ موسمیات پاکستان کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر حنیف موسم میں اس غیر معمولی تبدیلی کا ذمہ دار صرف عالمی ہدت کو نہیں سمجھتے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی تبدیلی دنیا بھر میں دیکھی گئی ہے جس کی وجہ اوزون میں تبدیلی کے باعث بالائی فضا کا گرم ہو جانا ہے جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے موسم میں شدید تبدیلی آئی ہے۔ماہرین کے مطابق رواں موسم سرما میں بارش اور برفباری کا آغاز دیر سے ہونے کے باوجود بارشیں اور برفباری معمول سے زیادہ ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر حنیف کہتے ہیں کہ اس مرتبہ بارشیں معمول سے 25 سے 30 فیصد زیادہ جبکہ برفباری 50 فیصد زیادہ ہوئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ موسم سرما کے دوران مری میں اوسطاً چار فٹ تک برفباری ہوتی ہے لیکن اس مرتبہ مری اور گلیات میں تقریبا چھ فٹ تک برفباری ہو چکی ہے۔ڈاکٹر حنیف نے بتایا کہ آنے والے چار سے پانچ ہفتوں میں بارش اور برفباری کے مزید تین سے پانچ سلسلے متوقع ہیں۔محکمہ موسمیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق رواں موسم سرما کے دوران پہاڑوں پر ہونے والی برف باری نے گذشتہ 70 سال کا ریکارڈ توڑا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دسمبر تک منگلا اور تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول پر پہنچ گئی تھی تاہم حالیہ بارشوں سے صورت حال میں کافی بہتری آئی ہے جس کے اثرات فصلوں پر نمایاں ہوں گے۔

یہ سردیاں ماضی کی سردیوں سے کیسے مختلف ہیں؟

چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر حنیف نے بتایا کہ پچھلے کئی برسوں میں سردیوں کا دورانیہ انتہائی کم رہ گیا تھا تاہم اس بار ملک بھر میں سرد موسم کا دورانیہ نہ صرف طول پکڑ گیا بلکہ اس کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اس سے قبل پاکستان میں سردی کا دورانیہ تقریباً دو سے تین ہفتے تک ہی جاری رہتا تھا لیکن اس بار سرد موسم کا ساتواں ہفتہ جاری ہے۔ کراچی میں دو ہفتے تک رہنے والا موسم سرما اس بار پانچویں ہفتے میں بھی جاری ہے۔

بہارکب آئے گی؟

ڈاکٹر حنیف کے مطابق پاکستان کے جنوبی علاقوں یعنی سندھ اور بلوچستان میں موسم بہار کا آغاز فروری کے تیسرے ہفتے میں جبکہ جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقوں میں فروری کے چوتھے ہفتے سے ہو گا۔لاہور اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے بالائی علاقوں میں مارچ کے پہلے ہفتے اور شمالی علاقہ جات میں اپریل کے آخری ہفتے میں بہار کی آمد متوقع ہے۔

کم سے کم درجہ حرارت کتنا رہا؟

محکمہ موسمیات کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 16 سال بعد کم سے کم درجہ حرارت اس بار سکردو میں منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ شمالی علاقوں میں درجہ حرارت اس وقت بھی نقطہ انجماد سے کم ہے۔ڈاکٹر حنیف کے مطابق آئندہ سال سردی کا موسم کتنا طویل اور شدید ہو گا اس بارے میں ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں تاہم رواں برس موسم سرما پاکستان سمیت دنیا بھر میں ’غیر معمولی‘ ضرور رہا ہے۔

صحراﺅں میں گرتے برف کے ذرے

بدلتے موسم ، سردی اور گرمی کی شدت ، صحراﺅں میں گرتے برف کے ذرے اور سرد ترین علاقوں میں ہلاکت خیز گرمی اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ موسم کے تیور بدل رہے ہیں۔مختلف خطوں میں روایتی موسموں کا دورانیہ حیرت انگیز طور پر سکڑ رہا ہے اور ان کی جگہ وہ موسم لے رہے ہیں جو کبھی وہاں کے باسیوں کے خواب و خیال میں بھی نہ تھے۔ گذشتہ سال یورپ میں تاریخ کی سخت ترین گرمی پڑی جس سے نہ صرف معمولات متاثر ہوئے بلکہ کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ آج کل سخت سردی کی لپیٹ میں آیا امریکا اور کینیڈا اور شدید بارشوں سے دوچار سعودی عرب خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔

موسمی تغیرات اور ان سے ہونے والے نقصانات کی بات تو سب کرتے ہیں مگر یہ سب اچانک نہیں ہوا بلکہ دنیا بہت پہلے یہ جان چکی تھی کہ یہ سب ہونے جارہا ہے۔ 1750ء سے شروع ہونے والے صنعتی انقلاب اور عسکری میدان میں ایک دوسرے پر سبقت کی خواہش نے دنیا کے ماحول کو تباہ برباد کردیا، لیکن الٹاچور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق آج ترقی یافتہ کہلائے جانے والے ممالک جو اس تمام تباہی کے اصل ذمہ دار ہیں متوسط اور ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی آلودگی کا بھاشن دیتے نظر آتے ہیں۔ طویل عرصے تک دنیا کی فضاﺅں کو زہر آلود اور پانیوں کو گدلا کرنے کے باوجود یہ ممالک اب بھی عملی اقدامات سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔ ایسے اقدامات جن سے اس آلودگی کی افزائش کو روکا جائے۔

گرین ہاﺅس گیسز

اس موسمی بگاڑ کے پیچھے کارفرما وجوہات میں گرین ہاﺅس گیسز بھی شامل ہیں، جن کا بڑا حصہ غیرمحفوظ صنعتوں سے پیدا ہوتا ہے، جب کہ روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیاں جو بڑی مقدار میں دھواں خارج کرتی ہیں آلودگی کا بہت بڑا سبب ہیں۔ کاربن اور دیگر زہریلی گیسز کے پیداواری عوامل کو انسانیت کی بقاءکے لیے ختم یا محدود کرنا بہت ضروری ہے، کیوںکہ یہ سانس اور دیگر بیماریوں کی وجہ تو ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ زمین کے درجہ حرارت میں بھی غیرمعمولی اضافے کا باعث ہیں، جسے گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے، جس سے ہمارا روایتی موسمی نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔اسی طرح دیگر ایسے امور پر عمل بھی بہت ضروری ہیں جو اس موسمی تبدیلی کو روکنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں جن میں سر فہرست ماحول دوست درختوں کا لگانا ہے جو ایک جانب غذائی ضروریات بھی پورا کرتے ہیں اور دوسری جانب فضا کو بھی نکھارتے ہیں، کیوںکہ دن بدن بڑھتے شہروں اور رہائشی علاقوں سے جنگلات بری طرح متاثر ہوئے اور درختوں کو بے انتہا کاٹا گیا ہے۔ کلائمٹ چینج کی ایک اور بہت بڑی وجہ مصنوعی کھاد، ہائبرڈ بیج اور کیڑے مار ادویات کو بھی سمجھا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات بارشوں کی زد میں

دبئی میںسخت سردی میں طوفانی بارشوں نے نہ صرف ٹریفک نظام درہم برہم کر دیا بلکہ نظامِ زندگی مفلوج کر دیا۔ موسلا دھار بارش کے بعد سڑکوں پر پانی کھڑا ہو گیا جس کے باعث ٹریفک کی روانی میں دشواری پیش آرہی ہے۔ موسمیات کے قومی مرکز کے مطابق خاص طور پر شمال ، مشرقی اور کچھ ساحلی اور اندرونی علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔دبئی، ابو ظہبی کے مشرقی حصے ،شارجہ ، عجمان ، راس الخیمہ ، فجیرہ ، ام القوین اور ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں بارش ہوئی ہے۔دبئی میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق ، بارش 2.5 گھنٹے میں 150 ملی میٹر / گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ دبئی کی بڑی شاہراہوں پر غیر ضروری نکلنے سے عوام کو منع کیا گیا ہے۔دبئی اور شارجہ میں تیز بارش سے متعدد شاہراوں کے زیر آب آجانے کے باعث متعدد گاڑیاں پھنس گئیں، ائیرپورٹ کے راستوں پر عوام کو پریشانی اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

ماہرین موسمیات نے موجودہ موسم کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹھنڈی ہوا ئیں مغربی خطے اور بحر احمر سے متحدہ عرب امارات کی طرف آ رہی ہیں۔ جب سرد ہوا کا حجم متحدہ عرب امارات میں پہنچتا ہے اور کم دباو ہوتا ہے تو بادل ابھرتے ہیں۔ ہوا کی رفتار جو 35 تا 45 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے اس میں55 تا 65 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک اضافہ ہو سکتا ہے ، عوام کو گھروں سے نکلنے سے قبل ایسی صورتحال کا سامنا کرنے کی تیاری کا مشورہ دیا گیا ہے۔مسلسل بارش کے بعد متحدہ عرب امارات کے درجہ حرارت میں کمی آئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 20 سے23 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ساحلی علاقوں میں نقطہ انجماد 19 تا22 ہے۔پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت مزید کم ہو کر15سے 11تک آگیا ہے۔ ساحلی علاقوں میں نمی کا تناسب 85 فیصد اوراندرونی علاقوں میں 45 تا 80 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔بحیرہ عرب میں سمندری لہروں میں اضافہ کے باعث عوام کو ساحل سمندر سے دوررہنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں بدلتے موسم

سعودی عرب میں برفباری ہونے پرخود عرب کے لوگ بھی حیران ہیں ،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے شہر تبوک میں برفباری کا آغاز ہوگیا ہے ،جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراس برف باری کے حوالے سے صارفین نے اپنے اپنے تاثرات شیئرکیے ہیں اورسعودی عرب میں ہونے والی برف باری کو ایک بہت بڑی تبدیلی سے تعبیر کررہے ہیں، اطلاعات کے مطابق ایک صارف شاہر بن عطیہ نے برفباری کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا آپ تصور کرسکتے ہیں؟ یہ روس، اٹلی یا ناروے نہیں ہے۔‘

لاہور میں شدید سردی کیوں؟

آج کل ہر جگہ لاہور میں سردی سے متعلق سوال سننے کو مل رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر تیسرا شخص لاہور میں جاڑے کے اس موسم کی شدت کو محسوس کر رہا ہے۔نئے سال شروع ہوتے ہی سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سردی کی یہ شدید لہر ابھی کچھ دن اور چلے گی۔ترجمان نے بتایا کہ ’یہ تھوڑی غیر معمولی سردی اس لیے بھی لگ رہی ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں زیادہ شدت کی سردی نہیں پڑی تو لوگ کم سردی کے عادی ہو گئے تھے۔ آپ نے اکثر لوگوں کو سنا ہو گا کہ سردیاں سکڑ گئی ہیں۔ ایسے میں جب آپ کی طبیعت کم سردی کی عادی ہے تو نارمل سردی بھی آپ کو زیادہ ہی لگے گی۔‘موجودہ سردی کی لہر کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان نےکہا کہ اس وقت ملک کے شمالی علاقہ جات شدید سردی اور برف باری کی لپیٹ میں ہیں اور سرد ہوائیں چل رہی ہیں جبکہ جنوب میں بھی سائیبرین ہوائیں کراچی کے ساحلوں پر پہنچ چکی ہیں جس کی وجہ سے وسطی پاکستان بھی سردی کی اسی لہر کی لپیٹ میں ہے۔ خاص طور پر وسطی پنجاب کے باسی جس میں لاہور بھی شامل ہے اس سرد موسم کی زد میں ہیں لیکن یہ کوئی غیر معمولی صورت حال نہیں ہے۔

کراچی میں گزشتہ70 سال کا ریکارڈ ٹوٹنے والا

آئندہ ہفتے کراچی میں گزشتہ70 سال کا ریکارڈ ٹوٹنے والا ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیاہے کہ آئندہ ہفتے کراچی گزشتہ 70 سالہ تاریخ کے سرد ترین دن کا سامنا کرے گا۔محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اتوار کوصوبائی دارالحکومت میں مغربی موسمی نظام کے داخل ہونے کاامکان ہے جس سے کراچی کا درجہ حرارت 3ڈگری سینٹی گریڈ تک گرسکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی سسٹم کے باعث کراچی میں سردی کی شدید لہرآئے گی اورگہرے بادل چھانے کاامکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت تین ڈگری تک گرسکتا ہے جو 1950کے3اعشاریہ3ڈگری کا70 سالہ ریکارڈ توڑسکتا ہے۔

اوزون کیا ہے؟

اوزون سورج کے گرد وہ تہہ ہے جو کہ سورج کی خطرناک الٹروائلٹ بی شعاعوں کو زمین کی طرف سے آنے سے روکتی ہے بلکہ زمین پر اس کے نقصان دہ اثرا ت کا خاتمہ کر تی ہے۔ اوزون آکسیجن کے تین آٹھارہ کے ساتھ ایک شفاف اور نظر نہ آنے والے گیس ہے جو قدرتی طور پر فضاءمیں موجود ہے۔ اوزون کی 90 پرسنٹ مقدار زمین کی سطح سے 15 تا 25کلومیٹر اوپر ہوتی ہے۔ 1970ءمیں سائنسدانوں نے انکشاف کیا کہ کچھ مرکبات اس تہہ کو بری طرح تباہ کر رہے ہیں۔ یہ کیمیائی مرکبات کلوروفل، سی ایف سی کہلاتے ہیں جو کہ سرد خانے، ایروسول سپرے میں استعمال ہونے والے الٹراوائلٹ یعنی بی شعاعیں زمین پر پڑتی ہیں۔1994ءسے ہر سا ل صنعتی کارخانے زہریلی گیس کاربن مونوآکسائیڈ پید ا کر رہے ہیں جوکہ اوزون کی آکسیجن کے ساتھ مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ریفریجریٹر، ڈرائی کلیننگ فوم، اے سی، فریج ، سیور بلب، کارایئرکنڈیشنز، آگ بجھانے والے آلات،صفائی کے کیمیکل وغیرہ مل کر اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ایٹمی پلانٹ اور ا±ن کے فضلے کاریڈی ایشن اس وقت دنیا کے کئی ممالک ایٹمی اسلحہ بنانے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے ایٹمی بجلی گھروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں موٹر سائیکل تک کا اپنا ریکڑ ہوگا اور چالیس سالہ لائف کے بعد ریڈی ایشن لیکج سے پورے گلوب کا گھیرا تنگ ہو جائے گا۔ انسانیت متلی، کوڑھ، قے ، دل کی مہلک بیماریوں میں گھر جائے گی۔ سائنسدانوں اور ڈاکٹرز کے پاس اس کا علاج نہیں ہوگا۔

ہندوستان کے ایٹمی ایندھن کی فروزدگی سے جنوبی ایشیاءمیں ماحول کی شدید خطرات لاحق ہیں۔ عالمی ایٹمی توانائی کا یہ فیصلہ انتائی متنازعہ تھا۔ اس پر جاپان ، برازیل ، آئرلینڈ، آسٹریلیا اور سوئیزر لینڈ نے اپنے تحفظ کا اظہار کیا تھا اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہندوستان نے اپنی 22 ایٹمی تنصیبات میں سے 14 کا معائنہ کراکے پرامن ایٹمی ملک کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوا۔بھارت کے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر جنوبی ایشیاءکے استعمال ہونے والے 685 ملین ٹن کوئلے میں 98% بھارت اکیلا استعمال کرتا ہے۔ اور کل بجلی کا 71 پرسنٹ کوئلے سے ہی بجلی بناتا ہے ایک یونٹ ایک کلو گرام کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا کر تا ہے جس سے دھوئیں کے کالے بادل فضاءمیں اڑ رہے ہوتے ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر