اس سے پہلے کہ رابطے ٹوٹ جائیں!
21 جنوری 2020 (17:16) 2020-01-21

اس سے پہلے کہ رابطے ٹوٹ جائیں!کھوئے ہوئے لوگوں کو تلاش کرنے میں دیر نہیں اچھی

جے ایم تیموری

جس طرح ایک موبائل فون کو صحیح طور پر کام کرنے کے لیے دو طرح کی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے یعنی ایک اس کی بیٹری کا چارج اور دوسرا انٹرنیٹ یا فون کمپنی کا کنیکشن۔ بالکل اسی طرح انسان کو بھی دو طرح کی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ درست اور ٹھیک طریقے سے کام کرتا رہے۔ ایک فوڈ یعنی کھانا، کم از کم دو وقت کا کھانا اور دوسرا ایموشنل بوسٹ (Emotional Booost) یعنی جذباتی سہارا۔ ان دونوں کی اسے ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔ تاکہ وہ ٹھیک طرح سے کام کر سکے۔

اس میں سے ایک بھی نہ ہو تو کوئی انسان بھی ٹھیک طرح سے زندگی کے کام سرانجام نہیں دے سکتا۔ یہ جذباتی سہارا ہمارے دوست ہوتے ہیں۔ رشتے دار تو ہمارا انتخاب نہیں ہوتے مگر دوست ہمارا اپنا انتخاب ہوتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر یہ ثابت ہے کہ ہمیں جذباتی سہارے کے لیے زیادہ ضرورت دوستوں کی ہی ہوتی ہے۔

ایک غریب وہ ہوتا ہے جس کا کوئی دوست نہیں ہوتا اور دوسرا مفلس وہ ہوتا ہے جو دوستوں کے ہوتے ہوئے بھی اکیلا ہوتا ہے۔ دوست نہ صرف مصیبت میں کام آنے کے لیے ہوتے ہیں بلکہ خوشیوں کو ایک ساتھ منانے کےلئے بھی ہوتے ہیں۔اس کے باوجود کہ دوست ہماری ضرورت ہوتے ہیں ، ہمارا جذباتی سہارا ہوتے ہیں ، اور اگر ہم کچھ عرصہ دوستوں سے نہ ملیں تو یہ تعلق منقطع بھی ہو جاتے ہیں۔

نذیر قریشی صاحب نے اپنا ایک واقعہ بتایا کہ وہ جب پچھلے ہفتے انار کلی بازار لاہور میں اپنی فیملی کے ساتھ جیولری کی شاپنگ کےلئے گئے، جیولری دیکھنے اور پسند کرنے کےلئے وہ ایک دوکان سے دوسری دوکان دیکھتے ہوئے جب تیسری دوکان میں داخل ہوئے تو ایک گورے چٹے صاحب میری طرف تیزی سے دوڑتے چلے آئے اور مجھ سے نہ صرف بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملانے لگے بلکہ وہ تقریباً گلے ملنے والے تھے مگر میری ہچکچاہٹ کی وجہ سے گلے نہ مل سکے وہ صاحب میری ہسٹری تک جانتے تھے۔ وہ میرے متعلق کافی کچھ جانتے تھے مگر میں ان کا منہ دیکھ رہا تھا اور کچھ گرمجوشی نہیں دکھا رہا تھا اور میرے بچے مجھے اور اس صاحب کو غور سے دیکھ رہے تھے۔

مجھے کچھ یاد نہیں آرہا تھا کہ یہ صاحب کون ہیں اور مجھے کیسے جانتے ہیں قریشی صاحب نے مزید کہا کہ ان صاحب نے میرے چہرے سے میری پریشانی آخر کار بھانپ ہی لی اور اپنا تعارف کروانے لگے۔ نام ان کا فیاض تھا۔سمن آباد میں رہتے تھے۔ جب انہوں نے پچھلی ساری باتیں اور کچھ نشانیاں بتائیں تو اچانک میرے ذہن میں ایک بجلی کوندی کہ اوہ! یہ تو فیاض چٹھہ ہے اور یقین جانیئے وہ میرا بڑا اچھا دوست ہوا کرتا تھا ایک وقت تھا جب ہم لاہور میں اکٹھے پٹھورے کھایا کرتے تھے۔ مال روڈ پر بلا مقصد چہل قدمی کیا کرتے تھے اور تو اور اس نے ہی میرے بزنس کےلئے جن کاغذات کی ضرورت ہوتی ہے وہ بنوانے کےلئے بھی میری کافی مدد کی تھی۔ مجھے بڑی شرمندگی ہوئی کہ میں کیسا دوست ہوں دس سالوں میں سب کچھ بھول گیا تھا۔ مجھے تو اس کا چہرہ بھی یاد نہیں تھا، نام بھی ذہن سے نکل چکا تھا، آواز بھی بھول چکا تھا۔ قریشی صاحب کہتے ہیں کہ وہ کتنی دیر تک اپنی خفت نہیں مٹا سکے، بالآخر فیاض صاحب کو کھانے پر بلایا تو مجھے کچھ سکون ہوا۔ میری شرمندگی کم ہوئی۔

اس بھولنے کے عمل میں ہمارا کتنا بڑا ہاتھ ہوتا ہے ہم ہی تو جانتے ہیں، ہمیں ہی تو پتہ ہوتا ہے کیونکہ ہم ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ دوستوں کو بھولنے کا عمل پانچ کٹھن مراحل میں مکمل ہو جاتا ہے اور وہ رشتہ جس کو بنانے میں تو شاید ہمارا اتنا عمل دخل نہیں ہوتا مگر بھولنے اور بگاڑنے کی ابتداءہم ہی سے ہوتی ہے۔ وہ پانچ کٹھن مرحلے یہ ہیں۔

مصروفیت

روزگار کے سلسلے یا پھر گھریلو کاموں کے سلسلے ، ہماری مصروفیت کی وجہ ہوتے ہیں۔ یہ پہلا مرحلہ ہے اور اس مرحلے میں دونوں دوستوں میں سے کسی ایک دوست کو کسی کام کے سلسلے میں یا پھر اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کےلئے دوسرے دوست سے کچھ عرصے کےلئے رابطہ توڑنا پڑتا ہے یا پھر کسی بھی وجہ سے ان کاآپس کا باہمی گفتگو کا سلسلہ یا ملنا ملانا منقطع ہو جاتا ہے۔ وہ دونوں چاہتے تو ہیں مگر وقت نہیں مل پاتا۔پھر ہفتے دو ہفتے کا رابطہ ٹوٹنے کے بعد ایک دوست دوسرے دوست سے رابطہ کرنا چاہتا ہے تو صرف اس لئیے نہیں کر پاتا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ دوسرا دوست مصروف ہو گا۔ وہ شاید صبح جلدی نہ اٹھتا ہو۔ شاید کام پر چلا گیا ہو۔ اس کے ساتھ اس کی فیملی ہو گی اور یہ کہ اس سے رابطہ کرنے کےلئے زیادہ وقت درکار ہے۔ حالاں کہ پہلے وہی دوست اس دوست کی مصروفیت جانتا ہوتا ہے مگر چونکہ وقت گزرتا ہے اس لئیے وہ اندازہ نہیں کر پاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کے ساتھ کافی باتیں ہوں گی ، ابھی میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کافی کچھ تو پوچھنا ہے اور اس وقت میں بھی تھوڑا سا مصروف ہوں اس لئیے فون پھر کر لوں گا۔ چلو کل کروں گا۔ کل بھی گزر جاتا ہے۔آج بھی تھک گیا ہوں۔ چلو ا س ویک اینڈ پر تو ضرور کروں گا کیونکہ میرے پاس ویک اینڈ کی سروس فری ہے اور ان لمیٹیڈ بھی تو ہے اس طرح کرتے کرتے ”وقت“ اپنی مخصوص رفتار میں گزرتا رہتا ہے اور رابطہ نہیں ہو پاتا۔

پہلے آپ کا معاملہ

ہر انسان میں ایک عنصر ہوتا ہے جسے انا کہتے ہیں ، اس کا ٹھیک استعمال ہمیں کامیابی دلاتا ہے اور غلط استعمال ناکامی سے دوچار کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کا غلط استعمال ہی زیادہ نظر آتا ہے۔ اس معاشرے میں احساس برتری اتنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے کہ ہم پہل کرکے اپنا قد چھوٹا نہیں کرنا چاہتے۔ کئی طلاقیں تو اسی انا کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ دوستوں کی تو بات ہی الگ ہے۔جب ہم ایک دوسرے سے کچھ عرصہ رابطہ نہ رکھ سکیں تو پھر وقت گزرتا رہتا ہے اور ہم نہ محسوس کرتے ہوئے اس دوسرے مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں۔اس مرحلے میں وقت زیادہ گزر چکا ہوتا ہے یہ معاملہ پہلے بھی تھا مگر اب اس میں زیادہ شدت آتی جاتی ہے کہ پہلے وہ کرے تو بات بنے گی۔ دونوں دوست اپنی اپنی جگہ پر یہ سوچتے ہیں کہ اگر میں رابطہ نہیں کرتا تو دوسرے دوست کو رابطہ کرنا چاہیے۔ جب وہ کرے گا تو لامحالہ بات ہو جائے گی۔ اس طرح پہلے آپ والا معاملہ ہوتا رہتا ہے اور دونوں دوست اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور رابطہ نہیں کرتے۔

میں ہی کیوں؟

اس مرحلے میں انا اور احساس برتری دونوں مل کر کام کرتی ہیں۔ احساس برتری پ±ھلانے والی ہوا ہوتی ہے جس سے انسان پھٹ تو سکتا ہے ا±ڑ نہیں سکتا اور انا اب خود پسندی کی انتہا پر پہنچ چکی ہوتی ہے۔ چونکہ رابطہ کافی عرصے سے منقطع ہے اس لئیے اس مرحلے میں دونوں دوستوں کو ایک دوسرے سے باقاعدہ چڑ سی ہونی شروع ہو جاتی ہے کہ جب دیکھو میں ہی رابطہ کرتا ہوں اور اس کو پرواہ ہی نہیں ہے۔ اب تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ میں رابطہ کروں۔ دوسری طرف وہ بھی یہی کچھ سوچتا ہے کہ آج کرتا ہوں، چلو کل کروں گا، چلو پھر کبھی سہی۔ اور پھر وہ بھی یہ سوچتا ہے کہ میں ہی کیوں ؟ یہ میں ہی کیوں تعلقات کی قینچی ہے جس سے صرف تعلق منقطع ہو سکتے ہیں، اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس طرح یہ مرحلہ ایک تلخ مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے اور آج اور کل میں وقت گزرتا رہتا ہے ، رابطہ نہیں ہوتا۔

نفرت کا عمل

زیادہ تر لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ محبت یا تعلق بنانے میں تو ایک عرصہ لگا دیتے ہیں مگر نفرت کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے۔ جب پہلے آپ پہلے آپ والا معاملہ تھا تو دونوں طرف انتظار ہی کرتے رہے کہ وہ کرے تو اچھا ہے۔ مگر وقت گزارتے گزارتے نفرت کے مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ بہت تلخ مرحلہ ہوتا ہے، اس مرحلے میں داخلہ تین کٹھن مرحلوں سے گزرکر ہوتا ہے جس میں رابطے ٹوٹے ہوتے ہیں اور پھر چڑ ہوتے ہوتے آخر کار تھوڑی بہت انسیت بھی نفرت میں بدلنے لگتی ہے۔ ان دوستوں میں جو بھی پہلے محبت یا چاہت تھی وہ اب ہلکی سی نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس طرح ان دونوں کا وقت تو گزرتا رہتا ہے مگر رابطے بالکل نہیں ہوتے اور بحال ہونے کے چانس بھی ختم ہو جاتے ہیں ،وقت گزرتا رہتا ہے۔ رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔

بھولنے کا عمل

یادداشت کے کچھ اصول ہیں جیسے اگر ہم دہراتے رہیں تو ہمیں یاد رہتا ہے یا ہم بہت زیادہ دلچسپی لیں تو یادداشت بہتر رہتی ہے۔ جتنی محنت ہم کرتے ہیں یاد رکھنے کا عمل ا±تنا ہی بہتر رہتا ہے۔یہ بھی نفسیات کا اصول ہے کہ جس سے ہم محبت نہیں کرتے اس کو یاد بھی رکھنا نہیں چاہتے تو جب ہم نفرت کے مرحلے سے گزر آتے ہیں تو یہ آخری منزل ہے جس میں بھولنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اب دونوں دوستوں کے درمیان محبت تو پہلے ہی ختم ہو چکی ہے مگر نفرت بھی ختم ہونے لگتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان محبت کا ہی نہیں نفرت کا بھی رشتہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ کافی عرصہ بیت چکا ہے پھر دونوں کی یادوں سے وہ پل، وہ لمحے بھی نکل جاتے ہیں جن کی وجہ سے شاید ان میں محبت یا کوئی انسیت کا رشتہ قائم تھا۔ ہمیں ہر روز کہیں نہ کہیں ایسے لوگ ضرور ملتے ہیں جو ہمیں کئی حوالوں سے اچھے لگتے ہیں ان سے ملنا اچھا لگتا ہے ان سے بات کرنا اچھا لگتا ہے اور پھر ان سے واقفیت اور انسیت بھی ہو جاتی ہے ، پھر دوستی بھی۔ یہ چاہت کا رشتہ چلتا رہتا ہے جب تک کہ درمیان میں یہ پانچ کٹھن مرحلے نہ آجائیں۔ جیسے تعلق میں وقفہ آتا ہے اور وقفہ لمبا ہو جاتا ہے تو پھر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کالم آپ کےلئے ایک یاد دہانی ہے ٹوٹے ہوئے رابطوں کو یاد کرنے کےلئے۔ اس لئیے اگریہ پڑھتے وقت آپ کو پرانے دوست احباب یاد آرہے ہوں تو ان کا فون نمبر ڈھونڈھئے اور ملائیے ان کا نمبر اور کیجیے دوبارہ رابطہ، یہ سوچ کر کہ پہل کرنے والا ہمیشہ پسند کیا جاتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

٭٭٭


ای پیپر