عوام، سیاست اور سیاستدان ,فاصلے کب سمٹیں گے، منزل کیسے ملے گی؟
21 جنوری 2020 (16:47) 2020-01-21

نعیم سلہری:

ہر طرف بدگمانی اور بے یقینی کی فضا ہے۔ کوئی کسی پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ صبح سے لے کر دوپہر اور دوپہر سے شام تک ہر جگہ ”سیاسی تبصروں“ کی منڈی سجی نظر آتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے پرائم ٹائم میں ہونے والے تبصرے اگلے روز حجاموں، سبزی کی دکانوں، گلی کی نکڑوں اور محلے کے تھڑوں سے لے چھوٹے بڑے دفاتر میں موضوع بحث بنے ہوتے ہیں۔ جو چار افراد پر مشتمل گھرانے کی پرورش کرنے سے عاری ہوتا ہے وہ کبھی ماہر اقتصادیات بن جاتا ہے تو کبھی سیاسی امور کا گرُو؛ کبھی سائنس کی گھتیاں سلجھاتا دکھائی دیتا ہے تو کبھی قدروجبر کے مس¿لہ پر روشنی ڈالنے میں مصروف ہوتا ہے۔

روزگار کے مواقع پہلے ہی کم تھے، اوپر سے موجودہ حکومت میں ڈالر کی اڑان نے نکموں اور ناکاروں کی زبانیں دراز اور ہاتھ ناکارہ بنا دیئے ہیں جو ہاتھ ہلا کر چار پیسے کمانے کے بجائے چوبیس میں سے سولہ گھنٹے فقط زبان چلاتے ہیں؛ خود اور اپنے گھر کو سدھارے بغیر ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے جس قوم کے ”اہل دانش“ کردار کے بجائے قول کے غازی بن جائیں، محرمیاں اور جگ ہنسائی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔

مان لیا کہ سیاستدان بُرے اور ناہل ہیں، انہیں سب کچھ یاد رہتا ہے سوائے عوام کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کے۔ وہ سب کچھ کرتے ہیں لیکن ملک و قوم کی بھلائی کے لئے کچھ کرنا انہیں یاد نہیں رہتا، ان کے پاس قوم کی تقدیر بدلنے کی تراکیب ہیں لیکن یاد اس وقت آتی ہیں جب وہ اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہوتے ہیں، انہیں پٹرول، آٹا، دال، چینی، سبزیاں اور بجلی بہت مہنگی لگتی ہے لیکن اس وقت جب وہ اقتدار میں آنے کی راہیں تلاش کر رہے ہوتے ہیں، لیکن جب حکومت مل جائے تو عوام سے قربانی مانگتے، انہیں صبر سے کام لینے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ اختیار ملنے سے پہلے عوام کے لئے روتے، کُرلاتے ہیں لیکن بعد میں یہ مژدہ سناتے ہیں کہ سکون صرف قبر میں جاکر ملتا ہے۔

ہم میں سے ہرکوئی یہی راگ آلاپتا ہے کہ سیاست دان بُرے اور سیاست گندی ہے۔ لیکن ہم خود کیا ہیں؟ اس کے بارے میں شائد ہی کچھ کہا جاتا ہے۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عوام کے بغیر نہ تو کوئی سیاست دان، سیاست دان ہے اور نہ ہی سیاست ، سیاست ہے۔ جس طرح سیاست کا عمل عوام کی شمولیت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا اسی طرح سیاست میں موجود خرابیاں بھی اس وقت تک دور نہیں ہو سکتیں جب تک عوام خود کو ٹھیک نہیں کرتے۔ جب تک جیالے ’رزداری ازم‘ سے باہر نہیں نکلتے، حالات نہیں سنوریں گے۔ جب تک ’ووٹ کو عزت دو‘ کے متوالوں کو اربوں کھربوں کی کرپشن نظر نہیں آتی، صورتحال جوں کی تُوں ہی رہے گی، جب تک اہل یوتھ کی یوٹرن سے محبت ختم نہیں ہوتی، ملک سے جہالت ختم ہو گی نہ غربت۔

یاد رکھیں صرف ہم بُرے ہیں سیاست نہیں، ہم نااہل، کام چور اور فقط باتوں کے دھنی ہیں، سیاست دان نہیں۔ سیاست تو ایسی خوبصورت چیز ہے جس سے جسم و جان میں آگے بڑھنے، کچھ کر گزرنے کی تحریک پیدا ہوتی ہے، سیاست تو بہترین انسانی زندگی گزارنے کے اصول طے کرنے والا ایسا خوبصورت عمل ہے جس کے ہر مفہوم میں فلاح و صلاح کے معنی پوشیدہ ہےں۔ اس کے باوجود ہمارے ہاں سیاست اگر بدلی ہے تو صرف ہماری وجہ سے کیونکہ ہم اندھے مقلد بن گئے ہیں جس کی نہ تو مذہب اجازت دیتا ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی اخلاقی ضابطہ۔ یہاں سیاستدان سیاست کو منفی انداز میں پیش کر رہے ہیں تو اس کے پیچھے بھی بڑا ہاتھ ہم عوام کا ہی ہے کیونکہ ہم نظام نہیں چہرے دیکھتے ہیں، ہم ملکی فلاح نہیں اپنے اپنے ”قائدین“ کی خوشنودی دیکھتے ہیں۔ ہمیں ان کی کوئی بات بُری نہیں لگتی۔ وہ ”بیچارے“ تو اتنے ”سخی“ ہیں کہ ہمیں سو پیاز اور سو جوتوں کا آپشن دیتے ہیں، یہ تو ہم جو ہر وقت دونوں کھانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

سیاست ، عوام اور سیاست دونوں کے بارے میں کالم نویس علی احمد ڈھلوں کی یہ بات بڑی معنی خیز ہے ”موجودہ حالات میں ہماری سیاست نے پروان کیا چڑھنا ہے ا±لٹا سیاستدانوں نے سیاست کو ہی بدنام کر دیا ہے، حالانکہ سیاست ایک مقدس لفظ اور عمل ہے جس کا مطلب انسانی خدمت ہے، یہ عمل پیغمبری پیشہ کہلاتا تھا۔ ایمانداری کا کھیل تھا، بڑے بڑے لیڈروں کا کھیل تھا، جو مثبت انداز میں کھیلا جاتا تھا.... لیکن علم نہیں موجودہ سیاستدان آنے والی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ ایسے لگ رہا ہے جیسے سیاست جیسا عمل ہم نے قبضہ گروپ کے سپرد کر دیا ہے۔ جنہوں نے سیاست کے معیار گرا لئے ہیں۔ یہاں نہ کوئی قول کا پکا، نہ وعدے کا پورا، نہ عزت کا خیال، نہ عوام کا خیال، نہ معاشرے میں نیک نامی کا خیال، نہ قومیت کا بھرم، نہ قانون کی پاسداری اور نہ باپ دادا کی عزت کا پاس.... کوئی کہے ووٹ کو عزت دو، اگلے ہی لمحے ایسا یوٹرن کہ سب سیاستدانوں کو پیچھے چھوڑ دیا جائے۔ یعنی ووٹ کو عزت دو والوں کا اعلان بغاوت غیر مشروط مفاہمت میں بدل گیا اور اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کے اصول پھر اسی مفاد پر قربان ہو گئے۔ جمہوریت کی بالادستی کا فرسودہ خواب دکھانے والے عادی منکر ہیں یہ اس سے پہلے بھی کئی بار جمہوریت کی بالادستی کا عہد کر کے صراط مستقیم سے پھسلے اور کئی بار توبہ تائب کر کے سنبھلے، یہ سنبھلنے اور پھسلنے کا ڈرامہ ماضی میں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوتا رہا ہے۔ نواز لیگ کا قصہ سب سے عجیب ہے، اگرچہ یہ پرانی جماعت ہے مگر یہ پارٹی نئی نئی نظریاتی ہوئی ہے۔ سول سپریمیسی کی ازسر نو تشریح کا نعرہ لگا کر ہی نواز شریف نے نظریاتی سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ مریم نواز کی سیاست کا محور و مرکز بھی یہی نعرہ تھا۔ یہ ابہام محض بہلاوا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ اور شہباز شریف کا بیانیہ الگ ہے، یہ چھوٹے بڑے میاں کی رام کہانی بھی ایک دھوکہ ہے.... ایک لمحے میں کہا جاتا ہے کہ اب ہم بیانیہ بدل گیا ہے، اب ہم نظریاتی ہو گئے ہیں، اور اگلے ہی لمحے سب کچھ بدل جاتا ہے.... اور چپ چاپ اپنا نظریہ بدل کر ”جان چھٹی سو لاکھوں پائے....“ کے مصداق پھر کوئی ڈیل کر بیٹھتے ہیں اور عوام کو ایک بار پھر الو بنا دیا جاتا ہے۔“

جہاں تک عوام کو الو بنانے اور ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی بات ہے تو جب تک وہ آنکھیں کھلی رکھیں کوئی مائی کا لال ان کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتا، اور اگر وہ روشنی سے منہ موڑنے کی عادت ترک کر دیں تو انہیں الو بھی کوئی نہیں بنا سکتا۔ مگر افسوس کہ ہم دھوپ عینک لگا کر اندھیروں میں روشنی تلاش کرنے کے عادی ہو چکے ہیں تبھی تو ہمیں ہر پانچ سال بعد نئے انداز سے پُرانے نعرے لگا کر سرابوں کی منزل کا راہی بنا دیا جاتا ہے۔

ایسی صورت حال میں بہتری کی امید کیونکر رکھی جائے جس میں زخم دینے والا سنگدل، زخم کھانے والا بے حس؛ جس میں مارنے والا لالچی، مار کھانے والا بے خبر، جس میں ایک طرف ”روشی ہی روشنی“، دوسری طرف اندھیرا ہی اندھیرا۔ جس میں فریقین کے مفادات الگ، ترجیحات جُدا؛ جس میں ایک مغرب کی طرف گامزن، دوسرا مشرق کی جانب محو سفر! ذرا سوچیں! اسی طرح چلتے رہے تو فاصلے کب سمٹیں گے، منزل کیسے ملے گی؟

ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ جو کہتے تھے کسی کو این آر او نہیں دیں گے انہوں نے این آر او دے دیا، جو کہتے تھے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا وہ ایسے گئے کہ ماضی میں جانے والے بھی اپنے جانے پر نادم ہوئے۔ ہمیں کیوں نظر نہیں آتا کہ جیل کاٹ کر نیلسن منڈیلا بننے کے دعوے دار انگلینڈ میں بیٹھے ہیں۔ ہم کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ہمارے ”عظیم رہنماو¿ں“ کی کہہ مکرنیاں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گی۔ ذرا ہوش کے ناخن لو، تھڑا مباحثوں سے باہر نکلو ورنہ ان کی تجوریاں بھرتی رہیں گی اور آپ کی جیبیں خالی اور چولہے ٹھنڈے رہیں گے، ان کے بچے شہزادوں جیسی زندگی گزارتے رہیں گے اور ہمارے اور آپ کے لاڈلے پھٹی آستینیں سنبھالنے میں جیون گزار دیں گے۔

٭


ای پیپر