حضرت نوح ؑ کے بیٹے حام،پاکستان کے مہمان
21 جنوری 2020 (16:43) 2020-01-21

احمد خلیل جازم

ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادن خان کے ایک گاﺅں روال میں کوہ نمک کے پہاڑوں کے سائے تلے، ایک 78 فٹ لمبی قبر موجود ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت نوحؑ کے بیٹے حضرت حام ؑ کی ہے، جو اللہ کے نبی تھے اور ہندوستان میں بسنے والی قوم دراوڑ کے جد امجد کہلاتے ہیں۔ اس قبر کے بارے میں سب سے پہلے انکشاف گجرات کے ایک قصبے گلیانہ کے رہنے والے معروف صوفی بزرگ اور کشف قبور پر عبور رکھنے والے حافظ محمد شمس الدین گلیانوی نے 1891ءمیں کیا اور انہوں نے اسی وقت اس قبر کو پختہ کرایا تھا۔ بعد ازاں اس مزار کو حاجی فرمان علی مستری نے 1994ءمیں پختہ کرایا اور اس کے اردگرد چار دیواری بنائی گئی۔ حافظ شمس الدین نے اپنے قلمی نسخے انوارالشمس میں اس مزار مبارک کو بہت بابرکت قرار دیا ہے۔ یہ قلمی نسخہ گجرات میں ان کے خاندان کے پاس آج بھی محفوظ ہے۔ بعد ازاں اس مزار کے حوالے سے ایم زمان ایڈووکیٹ نے جن کا تعلق گجرات سے ہے، اپنی کتب میں میں لکھا۔ اگرچہ اس مزار کی ان دو افراد یعنی حافظ شمس الدین اور ایم زمان ایڈووکیٹ کے علاوہ کسی اور نے تاریخی طور پر تصدیق نہیں کی، لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نسل در نسل یہ قبر اسی طرح اس پہاڑی سلسلے سے متصل جنگل میں موجود ہے۔

راولپنڈی سے دو سو کلومیٹر دور پنڈ دادن خان کے قریب ایک قصبہ دھریالہ جالپ ہے۔ یہاں سے ایک سڑک روال گاﺅں کو جاتی ہے۔ یہی سڑک غریب وال سیمنٹ فیکٹری کو بھی ملاتی ہے۔ اس پر کچھ آٹھ کلومیٹر دور روال گاﺅں اور اس کا قبرستان بھی ہے، جس کیلئے اسی سڑک سے ایک کچا روڈ پیر دھمرانی گاﺅں کی طرف جاتا ہے، جس کے راستے میں گھنے جنگل اور پہاڑی چشموں کے قریب قدیم موضع روال کا قبرستان ہے اور اسی میں یہ مزار موجود ہے۔ اس سے پہلے کہ وہاں کے بارے میں مزید بات کی جائے، طوفان نوح اور خطہ پوٹھوہار کے بارے میں جان لیا جائے کہ اس کی تاریخ کیاکہتی ہے، اور کیا یہ ممکن ہے کہ یہاں حضرت نوحؑ کے بیٹے حضرت حامؑ کی آمد ہوئی ہو؟ اس بارے میں معروف محقق اور تاریخ دان سجاد اظہر کا کہنا ہے کہ ”خطہ پوٹھوہار کی تہذیب زمین پر جانداروں کی ابتدائی زندگی کے بارے میں سب سے اولیت رکھتی ہے۔ چین، پوٹھوہار اور فرانس کے کچھ علاقے دنیا کی قدیم ترین تہذیب کہلاتے ہیں اور ان میں سے پوٹھوہار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں سب سے پہلے انسان نے آسمان کو دیکھا۔ یعنی اس سے قبل وہ بڑے جانوروں کے خوف سے غاروں میں چھپا رہتا تھا۔ پوٹھوہار کے غاروں سے جو انسانی ہڈیاں ملی ہیں، تحقیق کے مطابق وہ لاکھوں برس پرانی ہیں۔ اس وقت انسان گوشت نہیں کھاتا تھا۔ روشنی سے گھبراتا اور رات کو جنگلی پھل توڑ کر پھر غاروں میں بھاگ جاتا تھا۔ اس وقت انسان کا قد اتنا لمبا ہوتا تھا کہ وہ آسانی سے درختوں سے پھل توڑ لیتا تھا۔ اب تو جدید سائنس بھی یہ کہتی ہے کہ انسان کا قد مسلسل چھوٹا ہوتا رہا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہیں خطہ پوٹھوہار میں ہی انسان نے دو قدموں پر چلنا شروع کیا۔ زمین پر ہر دس ہزار سال بعد تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ روایت میں ہے کہ طوفان نوح کے بعد جب زمین پر پانی اترنا شروع ہوا تو سب سے پہلے کوہ قراقرام اور کوہ ہمالیہ کے پہاڑ پانی سے باہر آئے۔ طوفان نوح کے بعد ہی زمین کی نئی فارمیشن کی گئی اور اس کے مطابق براعظم وجود میں آئے“۔ سجاد اظہر کا کہنا تھا کہ ”طوفان نوح کے بعد جب براعظم وجود میں آئے تو خطہ پوٹھوہار سے ریڈ انڈینز ہجرت کر کے امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کی جانب گئے“۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ”پوٹھوہار کسی دور میں سمندر کے کنارے پر واقع تھا اور دنیا کا سب سے بڑا دریا، دریائے سواں بھی اسی علاقے میں بہتا تھا، جو بعد میں شدید زلزلوں کے باعث ختم ہوا اور نئے دریا، سندھ اور دریائے جہلم وغیرہ وجود میں آئے۔ حالیہ دریائے سواں اسی بڑے دریائے سواں کی باقیات میں سے ہے“۔ حضرت نوحؑ کے بیٹے حضرت حامؑ کے حوالے سے سجاد اظہر کا کہنا تھا کہ ”یہ بات قرین از قیاس ہے کہ حضرت حامؑ یہاں آئے ہوں۔ کیونکہ طوفان نوح کے بعد دنیا سے سب کچھ ختم ہوگیا تھا اور جب حضرت نوح ؑ اوران کے بیٹوں نے دوبارہ زمین پر قدم رکھا تو انہوں نے مختلف علاقوں کا رخ کیا۔ ہو سکتا ہے حضرت حامؑ یہاں آباد ہوگئے ہوں۔ دراصل اتنی قدیم تاریخ کے حقائق ہمیں کہیں نہیں ملتے، بلکہ تاریخ دان بھی بعض چیزوں کی بنیاد پر قیاس آرائی کرتے ہیں، یا پھر سائنسی تحقیق اس حوالے سے معاونت کرتی ہے۔ جیسے پوٹھوہار کے غاروں سے نکلنے والی انسانی ہڈیوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سب سے قدیم انسان اسی علاقے میں پائے جاتے تھے۔ اب تو ڈی این اے کا زمانہ ہے اور وہ وقت دور نہیں ہے جب ہر انسان ڈی این اے کے ذریعے اپنے آبا و اجداد کے بارے میں جان سکے گا۔ چونکہ طوفان نوح میں سے نکلنے والا سب سے پہلا علاقہ پوٹھوہار کہلاتا ہے، اس لیے کچھ بعید نہیں ہے کہ حضرت نوح ؑ کے بیٹوں میں سے کوئی نہ کوئی اس جانب آباد ہوا ہو“۔

حضرت حام ؑکی قبر کیلئے دھریالہ جالپ پہنچے تو مختلف لوگوں کی مختلف رائے سننے کو ملی۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ قدیم ترین قبرستان ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ حضرت حامؑ کی ہی قبر ہو۔ جبکہ ایک طبقے کا کہنا تھا کہ یہاں ایسا کچھ نہیں ہے، بلکہ یہ سب کچھ پیسے کمانے کا ذریعہ ہے۔ لیکن حیران کن طور پر اس مزار پرکوئی مجاور موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی وہاں پیسے وغیرہ اکٹھے کر رہا تھا۔ بلکہ یہ مزار آبادی سے اتنی دور ہے کہ اس تک پہنچنا ہی خاصا مشکل کام ہے۔ روال گاﺅں کے زاہد اقبال وڑائچ کا کہنا تھا کہ ”یہ قبرستان حضرت حامؑ کے قبرستان کے نام سے موسوم ہے اور اس کا کل رقبہ 33 ایکڑ کے لگ بھگ ہے۔ میرے والد صاحب 90 برس سے زیادہ عمر کے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے باپ دادا بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ قبر ہم نے اور ہمارے پرکھوں نے اتنی لمبی دیکھی ہے۔ ہمارے آبا و اجداد اسے ”وڈی قبر“ (بڑی قبر) کہتے تھے۔ لیکن اس کے بارے میں کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ قبر کس کی ہے۔ لیکن اس پر منت صدیوں سے مانی جارہی ہے۔ منت ماننے کا طریقہ یوں ہے کہ تین مسلسل جمعرات کو قبر کی زیارت کرتے ہیں اور یہاں آکر سلام کیا جاتا ہے۔ تیسری جمعرات کو سلام کے ساتھ ساتھ یہاں آکر میٹھی روٹی رکھی جاتی ہے، جس کے بعد کسی قسم کا درد جسم کے کسی بھی حصے میں ہو، وہ دور ہوجاتا ہے۔ اکثر جوڑوں کے درد کے مریض یہاں آکر شفا پاتے ہیں۔ پہلے تو اردگرد کے لوگ ہی یہاں حاضری دیا کرتے تھے، اب دیگر علاقوں سے بھی لوگ آتے ہیں اور مرادیں مانگتے ہیں۔ ابھی ایک ماہ قبل لاہور سے کچھ لوگ آئے، جنہوں نے اس مزار پر مزید کام کیا اور اس کا فرش وغیرہ پختہ کیا۔ ان سے قبل جلال پور تھانے کا تھانے دار آصف بھٹی اس مزار کی تزئین میں پیش پیش رہا۔ کیونکہ اس جانب آنے والے راستے میں کانٹے دار جھاڑیاں زیادہ ہیں، اس لیے اس نے راستے بنائے اور مزار کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھا“۔

ریاض نامی ایک شخص کا کہنا تھا کہ ”جس وقت طوفان نوح آیا، وہ 9 نیزے پانی تھا۔ جہاں حضرت نوح کی کشتی رکی وہ مقام یہاں سے بہت دور ہے۔ وہاں سے یہ بیٹے کیسے یہاں پہنچے؟ اس پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس مزار اور قبر کے حوالے سے صرف دو لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حضرت حامؑ کی قبر ہے اور دونوں کا تعلق گجرات سے ہے۔ ایک حافظ شمس الدین گلیانوی اور دوسرے ایم زمان کھوکھر۔ حافظ شمس الدین کے بارے میں معلومات حاصل کیں کہ ان کا مقام کیا تھا، تو بتایا گیا کہ وہ صاحب کشف اور ولی اللہ تھے۔ ان کا مزار آج بھی گجرات میں مرجع خلائق ہے۔ جبکہ زمان کھوکھر ایڈووکیٹ نے پاکستان بھر میں اولیاء اللہ اور انبیائے کرام کی قبور کے بارے میں تحقیق کی ہے۔ کشف قبور کا علم بہرحال موجود ہے اور یہ اللہ پاک صرف اپنے خاص بندوں کو عنایت کرتا ہے۔

حضرت حامؑ کی قبر کے پاس ایک چشمہ بہتا ہے، جو کہ پہاڑ سے نکلتا ہے اور پورے علاقے کو سیراب کرتا ہے۔ یہاں بہت گھنا جنگل ہے اور مزار تک کچا راستہ ہے، جس پر گاڑی نہیں جاسکتی، صرف پیدل ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ یہاں جنگلی جانوروںکی بہتات ہے۔ بیرونی دروازے کے دونوں اطراف حضرت حام ؑکے حوالے سے تختیاں لگی ہوئی ہیں۔ دائیں جانب والی تختی پر قبر کے بارے میں مختصر سی تحقیق ہے، بائیں جانب حضرت حامؑ کا شجرہ لکھا ہوا ہے، جو حضرت آدمؑ سے جا ملتا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر