سندھ حکومت اور پولیس افسروں کی محاذ آرائی
21 جنوری 2020 2020-01-21

ایک بار پھرسندھ میں آئی جی پولیس اور صوبائی حکومت کے درمیان محاذ آرائی شروع ہو گئی ہے۔ سندھ حکومت نے اعتراضات کے بعد آئی جی کلیم امام کو فارغ کردیا تھا لیکن وفاقی حکومت نے انہیں فرائض جاری رکھنے کے لئے کہا ہے۔ آئی جی کا تقرر وفاقی حکومت کا اختیار ہے لیکن اس میں متعلقہ صوبے کی مرضی بھی شامل کی جاتی ہے کیونکہ امن و امان صوبائی دائرہ اختیار ہے۔ اس سے صوبے میں امن وامان کی صورت حال پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور یہاں طویل عرصے بعد بحال ہونے والا امن سبوتاژ ہو سکتا ہے۔ سندھ کابینہ نے آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور سندھ حکومت نے سرکاری طور پر وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا گیا ۔ اس کے باوجود وفاقی حکومت نے اس اہم معاملے کو لٹکا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دسمبر میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں آگاہی دی تھی کہ ان کی حکومت کا آئی جی پر کوئی اعتماد نہیں رہا۔ لیکن بعد میں وزیراعظم نے سندھ حکومت کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔

سندھ میں پولیس نے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو بھی نشانہ بنایاایس ایس پی کراچی غربی کیپٹن اظفر مہیسر کی جانب سے 40 قتل میں ملوث ملزم اقبال ٹھیلے والا کو جب گرفتار کیا تو اس کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ اس نے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے اس کی شدید تردید کی ۔وزیر اعلیٰ کے احتجاج کے بعد اظفر مہیسر کا تبادلہ کیا گیا۔ اور پھر صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ کے خلاف خفیہ رپورٹ میڈیا کو جاری کرائی گئی ۔ اس رپورٹ میں صرف الزامات عائد کیے گئے اور کردار کشی کی گئی ہے۔

سندھ حکومت نے آئی جی سندھ پر چارج شیٹ جاری کی کہ وہ صوبے میں امن و امان قائم نہیں رکھ سکے ہیں، ارشاد رانجھانی قتل کیس اور دعا منگی اور بسمہ کا اغوا اور تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا ئی کے الزامات عائد کئے گئے۔ آئی جی پر یہ بھی سندھ حکومت کا الزام ہے کہ انہوں نے براہ راست سفارت کاروں سے ملاقاتیں کیں اس حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔

اختلافات کی ایک اہم وجہ ایس ایس پیز اور ڈی آئی جیز کے تبادلے اور تعیناتی بتائی جاتی ہے ۔ڈی آئی جی خادم رند کا تبادلہ کیا گیا تو آئی جی نے چیف سیکریٹری کو ایک خفیہ خط لکھا جس میں خادم رند کے تبادلے پر احتجاج کیا اور اس خطے کی کاپی میڈیا میں لیک کی۔

جیکب آباد میں پولیس چوکی پر حملے پانچ اہلکاروں کی ہلاکت اور لاشوں کے بے حرمتی کے مقدمے میں ملزم محمد صلاح شہلیانی کو گزشتہ سال گرفتار کیا گیا، جس کی گرفتاری کے فوری بعد صوبائی حکومت نے ایس ایس پی قیوم پتافی کا تبادلہ کردیا۔ گرفتار ملزم ایک سابق رکن سمبلی کا قریبی رشتے دار ہے بتایا جاتا ہے۔ملزم کو ذاتی گاڑی میں بغیر ہتھکڑیوں کے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جس کی ویڈیو وائرل ہوئی تو ایس ایس پی رضوان میمن کے حکم پر اس ملزم کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔ جس پر انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ڈی آئی جی خادم حسین رند اور ایس پی رضوان احمد نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت نے دونوں کا تبادلہ معطل کردیا۔

سندھ کا ایک خاص پس منظر رہا ہے۔ صوبے کے دارالحکومت کراچی میں دہشت گردی کئی عشروں تک جاری رہی۔ دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لیے دو سویلین حکومتوں کی حکمت عملی سے کچھ حلقوں نے اتفاق نہیں کیا۔ پھر کراچی سمیت پورے سندھ میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پولیس کے ساتھ ملٹری اور پیرا ملٹری فورسز کے کردار میں اضافہ ہوا اور سندھ پولیس میں صوبائی حکومت کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں کی اہمیت کم ہوئی۔ ایک تجزیہ نگار کے مطابق ’’دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہونے والے آپریشنز میں کام کرنے والے بعض پولیس افسران کو کہیں اور سے ہدایات ملتی رہیں۔ پھر کچھ افسران دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر اپنی کارکردگی دکھانے میں مصروف ہوگئے۔ اب صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔ امن و امان کنٹرول کرنے کے لیے سویلین حکومت کی پالیسیاں سیاسی مداخلت بن گئی ہیں۔‘‘

سندھ میں پولیس افسران کی تقریاں اور تبادلے کافی عرصے سے وجہ تنازع رہے ہیں۔ انسپکٹر جنرل سندھ کا مؤقف رہا ہے کہ پولیس کے انتظامی اور آپریشنل اختیارات آئی جی کو حاصل ہیں۔ سندھ حکومت نے پولیس اختیارات کے فوری حصول کے لیے مشرف دور کے پولیس آرڈر کو بحال کرنے کی منظوری دی تھی۔

2016ء سے جنوری 2018ء کے درمیان حکومت سندھ نے تین بار اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا لیکن عدالت نے یہ نوٹیفیکیشن مسترد کر دیے۔ اے ڈی خواجہ اور حکومت میں تبادلوں، تعیناتیوں اور بھرتیوں پر اختلافات سامنے آئے تھے۔اے ڈی خواجہ کی تعیناتی سے قبل عدالت کے حکم پر آئی جی غلام حیدر جمالی کو ہٹایا گیا تھا ۔غلام حیدر جمالی پر قواعد کے خلاف ورزی کرتے ہوئے بھرتیوں کا الزام تھا ۔

ایک موقف یہ ہے کہ سندھ پولیس میں سیاسی مداخلت ہے۔ حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی پولیس میں تبادلوں اور تقرریوں اور دیگر معاملات میں مداخلت کرتے ہیں، جس سے نہ صرف پولیس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ امن و امان کی صورت حال بھی خراب ہوتی ہے۔ دیکھاجائے توپاکستان میں کہیں بھی پولیس کا نظام مثالی نہیں ہے اگر یہی وجہ ہے تو یہ الزام دیگر صوبوں کی حکومتوں پر بھی الزام عائد کیا جا سکتا ہے ۔ خود وفاقی حکومت بھی یہی کام کر رہی ہے۔حالیہ محاذ آرائی کا بظاہر سبب وفاق میں پی ٹی آئی اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے درمیان سیاسی محاذ آرائی ہے ۔بہت سے لوگوں کے لئے تعجب کی بات ہوگی کہ سندھ واحد صوبہ ہے، جہاں پولیس افسروں کے تبادلوں اور تقرریوں کا ایک باقاعدہ نظام اور قانون موجود ہے، پولیس کے احتساب کیلئے پبلک سیفٹی کمیشن ہے۔

تمام قصے میں اہم سوال یہ ہے کہ اداروں میں مداخلت ہورہی ہے ۔ اصولی بات یہ ہے کہ منتخب حکومت اداروں کے ماتحت نہیں ہوتی بلکہ ادارے حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں۔کسی افسر کی جانب سے حکومت کے ساتھ محاذ آرائی کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہئے۔


ای پیپر