بنام بلاول بھٹو
21 جنوری 2020 2020-01-21

فیصل واوڈا اور کاشف عباسی کے جوتا ڈرامہ سے دل اس قدر متنفر ہوا ہے کہ قارئین! سیاست پر کالم لکھنے کو بالکل بھی جی نہیں چاہ رہا۔ پوری پارلیمنٹ کو بوٹ لیگ بنا کر رکھ دیا اور معتبر ترین ادارے کا وقار بھی مجروح کر دیا مگر آج جناب بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی سے مکالمہ موضوع اس لیے بن گئے کہ ’’وزیراعظم‘‘ جنہوں نے مینار پاکستان پر اپنے پہلے جلسے میں میاں نواز شریف اور جناب زرداری کو ماضی کے سیاست دان کہہ کر پکارا تھا ، میری نظر میں آج خود ماضی کے مضحکہ خیز سیاستدان بن چکے ہیں اور کچھ یوں پٹ چکے ہیں کہ کوئی ان کی بات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ کسی بھی واقعہ اور شخصیت کے متعلق تجزیہ تعصب کی عینک اتارے بغیر نہیں ہو سکتا۔ کون نہیں جانتا کہ پیپلزپارٹی مخالف جتنے بھی اتحاد بنے ان کے پیچھے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کون قوتیں تھیں۔ جناب بھٹو کا عدالتی قتل بین الاقوامی اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کی اب تک کی وطن عزیز کے خلاف کی سب سے بڑی سازش ہے جس نے باقی سازشوں کے لیے پیش قدمی کو چہل قدمی میں بدل دیا۔ کون نہیں جانتا کہ صرف پیپلزپارٹی کو ختم کرنے کے لیے ملکی وسائل جھونک دیئے گئے۔ ادارے تباہ کر دیئے گئے، بیورو کریسی میں تفریق کر دی گئی۔ سرکاری نوکریوں، قرضوں، پلاٹوں، عہدوں کی لوٹ سیل لگا دی گئی۔

عدلیہ ،انتظامیہ، مذہبی جماعتیں، میڈیا، تاجر، سرمایہ دار، اسٹیبلشمنٹ کونسی وہ طاقت اور طبقہ تھا جس کو پیپلزپارٹی کے خلاف ترغیب نہ دی گئی۔ غلط کہا جاتا ہے کہ جناب بھٹو کے لیے لوگ باہر نہیں نکلے تھے جبکہ لوگوں نے خود سوزیاں کیں، کوڑے کھائے، قیدیں ، جیلیں، قلعے کاٹے، پھانسیاں جھولیں، جلا وطنیاں کاٹیں۔ اپنی طاقت سے زیادہ قربانیاں دیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی گیارہ سالہ جدوجہد میں کون ساتھ تھا سب پیپلزپارٹی کے لوگ اور جمہوریت پسند قوتیں اور عوام تھے۔ پیپلزپارـٹی ایک ایسی جماعت تھی جس کی مثال برصغیر ہی نہیں شاید دنیا کی موجودہ تاریخ میں نہیں ملتی ۔

اب آتے ہیں موجودہ حالات میں جس میں ن سے ق کشیدکی گئی مختلف جماعتوں کے مرکب کا کٹیل سے پی ٹی آئی کو تانگے کی سواریوں سے حکمران جماعت میں بدلا گیا۔ حکومت میں آنے کے بعد عمران خان نے وزارت عظمیٰ اور اپوزیشن رہنما دونوں سیٹوں کے مزے ایک وقت میں لینے چاہے۔ احتساب کو عام آدمی نے بھی انتقام کا نام دیا۔ میاں صاحبان بیرون ملک ہیں ۔ حکمران ناکام ہو چکے ہیں اب نئی صورت حال میں وطن عزیز میں جناب بلاول بھٹو کو اپنی سیاسی، سماجی صلاحیتوں کے مظاہرے کا بھرپور موقع ملا ہے ۔ پنجاب متعدد آئی جی پولیس تبدیل کرنے اور سندھ پر آئی جی پولیس مسلط کرنے کے باوجود 2019ء میں صوبہ سندھ کارکردگی کے حوالے سے نمبر 1پر ہے۔ سندھ میں

بہترین حکمرانی اور وفاق میں مثبت اور سنجیدہ اپوزیشن کے ذریعے بلاول بھٹو اپنے آپ کو ملکی سطح پر عوامی نمائندگی کا اہل ثابت کر سکتے ہیںجو لوگ جناب بلاول بھٹو سے مل چکے ہیں، وہ سمجھتے ہیں اس وقت وطن عزیز میں بلاول بھٹو سے زیادہ ویژنری سیاستدان کوئی اور نہیں ہے۔ قارئین جناب بلاول بھٹو عام سیاست دان نہیں ہیں ۔اس کی وجہ یہ انہوں نے زندگی میں وہ حادثے دیکھے جو انسانوں کو لمحوں میں بوڑھا کر دیتے ہیں۔ مراد سعید جیسے لوگ ان کو حادثاتی یا پرچی چیئرمین کہتے ہیں کبھی سوچیں کہ جو حادثے ان کے ساتھ ہوئے اس وقت کرہ ارض پر کوئی دوسرا سیاستدان ہے جسے سیاست کی وراثت میں اس حد تک دکھ اور صدمے ملے ہوں، جتنے بلاول کو ملے۔ جس شخصیت کے کردار پر وطن عزیز میں ان گنت داستانیں بیان اور رقم کی گئیں جس نے وطن عزیز کی سیاست کی نئی اور مثبت صورت گری کی بلاول کے نانا تھے جن پر توڑے گئے ظلم پر قصوں کی لوری ان کی والدہ بچپن میں اُن کو سناتیں۔ ان کے ماموں کا فرانس میں قتل کا قصہ لوگ جانتے ہیں جبکہ ان کی والدہ کے دور حکومت میں بے بسی کی انتہا تھی کہ سگا بھائی مار ڈالا گیا اور قتل کی سازشیں بھی ان کے شوہر کی کردار کشی کرنے لگیں۔ جو بچپن میں دبئی میں اکیلا دیواروں سے فٹ بال کھیلتا اور باپ پاکستان میں قید۔ والد کو رہائی ملی والدہ پاکستان آئیں ابھی اپنے بیٹے کا لڑکپن بھی نہ دیکھ پائیں اور موت کے چیلنج کو قبول کیا۔ کراچی میں 30 لاکھ لوگوں سے تجاوز کرتا استقبال قاتلوں کو پریشان کر گیا۔ دو حملے ہوئے مگر گھبرائی نہیں۔ مجھے یاد ہے 18 اکتوبر 2007ء استقبال کے دوران ایک صحافی بی بی صاحبہ سے سوالات کر رہا تھا ۔ بی بی شہید نے سامنے دیکھا لوگ والہانہ عقیدت کے اظہار میں دمادم مست قلندر دھمال ڈال رہے ہیں۔ بی بی نے فوراً صحافی سے معذرت کی اور کہا کہ اگر آپ سے بات کرتی رہی تو وہ ناراض ہو جائیں گے گویا انہوں نے دور خوشی کے اظہار میں نامعلوم وکرز کو بھی عزت دی رابطہ رکھا۔ Eny link رکھا باڈی لینگوئج بھی ورکرز کی محبت کا جواب دیتی مگر افسوس کہ ورکر سے بی بی کے بعد رابطہ نہ رکھا گیا اور نتیجہ سامنے ہے بلکہ جناب بھٹو کی شہادت پر مٹھائیاں بانٹنے والے وزیر بن گئے اور قربانیاں دینے والے صرف قربان ہو گئے۔ بی بی صاحبہ کے راولپنڈی کے آخری جلسہ کے آخری منظر کو غور سے دیکھیں اور سنیں جو یقین دلاتا ہے کہ بی بی شہید کو اپنی موت کا یقین تھا۔ انہوں نے امیدواروں کو عوام کے منہ در منہ کروا کر کہا ان کو نہیں چھوڑو گے۔ کسی کے دباؤ میں آ کر ان کا ساتھ نہیں چھوڑوگے۔ دوسرے الفاظ میں لوٹے نہیں بنو گے اور ان سے رابطہ رکھتے ہوئے بے وفائی نہیں کرو گے۔ مگر افسوس کہ بی بی کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ Reconciliation کے نام پر دھوکہ دیا گیا۔ جناب بھٹو صاحب اور حتیٰ کہ بی بی شہید کے دور میں پیپلزپارٹی کی قیادت کتاب اور عوام دوست تھی۔ بعد میں جوڑ توڑ اقتدار اور کرپشن دوست بن گئی مگر ورکرز اور نوجوانوں کی طرف توجہ نہ دی گئی۔ جناب بلاول بھٹو کے سر پر جہاں زرداری صاحب کا سایہ ہے، وہاں ان کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈا بھی ان کے کندھوں پر بوجھ ہے۔ جناب بلاول بھٹو کو بہت کام کرنا ہے جس میں ورکرز سے رابطہ اور پارٹی قیادت کو ورکرز کے قریب لانا ہے جو جناب بھٹو کے افکار ، بی بی صاحبہ کی جدوجہد سے واقف ہو۔

قیادت کے لیے کتاب دوستی، عوام، ورکرز سے رابطہ، نوجوانوں سے قریبی ناطہ قوم سے سچ بولنا اور باطل سے ٹکرا جانا۔ یہی بھٹو صاحب کا خاصا تھا جو بلاول میں بھی ہے مگر انجانی قوتیں ان کی حرکت کو ساقط کر دیتی ہیں جب تک بلاول کو خود آزاد نہیں کرواتے قوم کو آزادی نہیں دلا سکتے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو تقدیر پر محترمہ بی بی شہید معجزوں اور جناب بھٹو کی وراثت، جرأت ، جدوجہد اور غریب سے محبت پر یقین رکھتی تھیں۔ جناب بلاول کے لیے تقدیر نے راستے بنا دیئے اور حکمرانوں کی مکمل ناکامی کے نتیجے میں بلاول کے لیے کارکردگی اور جدوجہد کی بدولت کامیابی حاصل کرنے کے لیے راستے کھول کر معجزے بھی دکھا دیئے مگر جدوجہد کا مطمح نظر پیپلزپارٹی کی مقبولیت ، ورکر کا اعتماد اور محبت کی بحالی اور سب سے بڑھ کر وطن عزیز کے دکھی اور بے بس عوام کو دکھوں سے نجات دلانا ہونا چاہیے نہ کہ اقتدار ورنہ اقتدار مل بھی گیا تو وہ غلامی در غلامی ہو گی۔


ای پیپر