ایسی ترقی کوسرخ سلام
21 جنوری 2020 2020-01-21

دنیاچاندپرپہنچ گئی اورہم ۔۔؟ہم جہازسے کاراورکارسے سائیکل پرآگئے۔لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے بڑی ترقی کرلی ہے۔فحاشی،بے حیائی،جھوٹ ،منافقت،پسماندگی اوردین سے دوری کانام اگرترقی ہے توشائدنہیں بلکہ یقیناًہم نے پھربہت ترقی کرلی ہے کیونکہ جدیدٹیکنالوجی ،موبائل وانٹرنیٹ کی برکت سے فحاشی،بے حیائی،جھوٹ ،فریب ،دھوکہ اوردین سے دوری میں ہم غیروں سے بھی آگے بلکہ بہت آگے نکل چکے ہیں لیکن ترقی اگر شعور، ایمانداری، ارزانی، سہولیات کی فراوانی اوردین،قوم وملت سے محبت کانام ہے توپھرانتہائی معذرت کے ساتھ سائنس کی جدید ایجادات، موبائل ، انٹرنیٹ اورنت نئی ٹیکنالوجی کے باوجوداس ترقی سے ہم آج بھی میٹر کلومیٹر نہیںبلکہ کوسوں دورہیں۔اپنے سیاستدانوں کے منہ سے توہم نے آج تک عقل کی کوئی بات نہیں سنی۔یہ اقتدارمیں ہوں یا اقتدارسے باہر۔یہ ہروقت اور ہر موسم میں نئے نئے موتی بکھیرتے رہتے ہیں لیکن آزادکشمیرکے سیاستدان پھربھی کبھی کبھارکوئی اچھی اورعقل والی کوئی بات کردیتے ہیں۔غالباًتیرہ چودہ سال پہلے اسلام آبادکے ایک مقامی ہوٹل میں سابق صدرجنرل ضیاء الحق شہیدکی برسی کے سلسلے میں ایک تقریب منعقدکی گئی تھی جس میں مجاہداول سردارعبدالقیوم مرحوم اللہ ان کی قبرپرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے کے صاحبزادے سابق وزیراعظم آزادکشمیرسردارعتیق احمدنے جنرل ضیاء الحق کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک دھواں دارخطاب کیاتھا۔سردارصاحب نے اورکیاباتیں کیں یہ توہمیں یادنہیں لیکن ان کی ایک بات آج بھی ہمیں اچھی طرح یادہے۔سردارعتیق احمدخان نے کہاکہ حکمران کہتے ہیں کہ ہم نے بہت ترقی کرلی ہے اورہم ملک وقوم کومزیدآگے بلکہ بہت آگے لیکرجائیں گے۔انہوں نے کہاکہ میں حکمرانوں سے کہتاہوں کہ اس ملک کے بدقسمت عوام کوآگے لیکرجانے کی بجائے خداکے لئے ان کووہیں واپس لیکرجائیں جہاں پریہ پہلے تھے۔آگے آگے لے جانے کے نام پرتم نے اس ملک کے عوام سے جینے کاحق بھی چھین لیاہے۔جوچیزپہلے دس روپے تھی آج وہ سوروپے پربھی نہیں مل رہی۔یہ کیسی ترقی اورکیسے آگے لیکرجاناہے کہ جس کی وجہ سے عوام اب جی بھی نہیں سکتے۔سردارعتیق احمدکی اس چھوٹی سی بات میں اہل عقل کے لئے اس وقت بھی کئی نشانیاں تھیں اورآج بھی اہل عقل ودانش کے لئے نشانیوں سے بھی آگے بہت کچھ ہے ۔ ایک لمحے کے لئے اگرہم ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچیں تواس نام نہادترقی اورآگے بڑھنے وچلنے کے خشک لالی پاپ نے ہمیں کہاں سے کہاں تک نہیں پہنچایا۔۔؟قائداعظم محمدعلی جناح کے بعدآنے والے حکمرانوں نے آگے لیکرجانے کے نام پرہمیں گھسیٹ گھسیٹ کرآج اس کھائی کے منہ تک پہنچادیاہے جہاں سے اب نہ ہم واپس جاسکتے ہیں اورنہ ہی آگے جانے کی کوئی راہ ہے۔ یہ کیسی ترقی ۔۔؟اورکیسے آگے جاناہے ۔۔؟ کہ جس میں سوائے مہنگائی کی رفتاربڑھنے اورپسماندگی میں اضافے کے کچھ نہیں ہوتا۔دس روپے کے کرائے کودوسواورایک روپے کی چیزکوسوروپے تک پہنچانے کویہ نادان ترقی کہتے ہیں مگرحقیقت یہ ہے کہ ہم تباہی اوربربادی کے آخری درجوں تک پہنچ چکے ہیں ۔سابق حکمران توپھربھی جی ٹی روڈپرآہستہ آہستہ کرکے ہمیں ترقی کے پہاڑتک لے جارہے تھے مگرنئے پاکستان کے بادشاہ نے تواس بدقسمت ملک وقوم کی پہلے سے کباڑہ ہونے والی سست گاڑی بھی ترقی اورخوشحالی کے نام پرموٹروے پرچڑھاکرایسی دوڑائی کہ محض ایک سال میں وہ کباڑہ گاڑی اب پہاڑکے اس خطرناک سرے تک پہنچ چکی ہے۔خشک ترقی کے بے کاراورکانٹے دارپہاڑپرچڑھ کرنئے پاکستان کے بے غم بادشاہ اور 21کروڑمسافروں کے اناڑی ڈرائیور میڈیا اور سوشل میڈیا پرتوصبح وشام ترقی ،خوشحالی اورنئے پاکستان کے فضائل پابندی کے ساتھ بیان کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف پیچھے گاڑی میں سوار 21 کروڑ مسافروں کی ’’بچائو، بچائو‘‘ کی صدائیں بھی دور دور تک سنائی دے رہی ہیں۔

ہم مانتے ہیں کہ سترسالہ لوٹ مار اور کرپشن کی وجہ سے یہ ملک پہلے سے ہی کسی میڈیکل یاسرجیکل وارڈمیں زیرعلاج تھالیکن نئے پاکستان کے کرتادھرتائوں نے تواب اسے سی سی یوتک پہنچا دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ایمانداری اوران کے کرپشن اورچوری چکاری سے پاک وجودپرہمیں کوئی شک نہیں لیکن ایسی ایمانداری کاکیافائدہ ۔۔؟کہ جس کے سائے تلے نہ صرف لوٹ ماراوراندھیرنگری کاراج قائم ہوبلکہ غریب مزدور،دیہاڑی داراورریڑھی بان ایک ایک وقت کی روٹی کے محتاج بن گئے ہوں۔ وزیراعظم عمران خان کی ایمانداری اگراب ان غریبوں کے کسی کام نہیں آئی توپھرکب آئیگی۔۔؟ حکمرانوں کی جانب سے ترقی اورملک وقوم کوآگے آگے لیکرجانے کی باتیں تو اب قبرکے فضائل بیان کرنے تک پہنچ گئی ہیں لیکن ہمیں نہ آگے جاناہے اورنہ ہی تمہارے ان ناپاک ہاتھوں کسی قبرمیں اترناہے۔بہت ہوگیا۔اب خدارااس ملک اورقوم کی جان چھوڑدو۔ اس بدقسمت قوم کواگرتم چین ،سکون اورراحت نہیں دے سکتے تو انہیں مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے ذریعے اذیت بھی نہ دو۔ یہ کونسا قانون اورکہاں کاانصاف ہے کہ ان غریبوں کے ووٹوں سے تحریک انصاف،ن لیگ، پیپلزپارٹی، جے یوآئی، جماعت اسلامی،اے این پی ،ایم کیوایم اوردیگرسیاسی پارٹیوں کے کنگلے بھی شہزادے بن کر عیاشیاں اڑائیں اورووٹ دینے والے یہ غریب پھربھوک سے بلکے،روٹی کے ایک ایک نوالے کے لئے تڑپے اورخودکشیاں وخودسوزیاں کریں۔ ان ظالم سیاستدانوں اور حکمرانوں کی وجہ سے اس ملک کے غریبوں نے بہت خودکشیاں کیں۔ بہت خودسوزیوں پر مجبور ہوئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان ظالموں سے اگلا پچھلا حساب برابر کر دیا جائے۔ غریب آخرکب تک اپنے بچوں کوفرضی قصے اورکہانیاں سناکربھوکے سلائیں گے۔۔؟ 71سال سے ہم ترقی اورآگے جانے کی باتیں تو سن رہے ہیں مگرحقیقت کی دنیامیں ہم نے آج تک اس ملک میں مہنگائی، غربت، بیروزگاری، لوٹ مار،کرپشن ،پستی،تباہی اوربربادی کے سواکچھ نہیں دیکھا۔اللہ ایسے جھوٹے خواب دکھانے والے حکمرانوں اورسیاستدانوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہماری اوراس ملک کی جان چھڑادے۔آمین


ای پیپر