تبدیلی سرکار سے اِن ہائوس تبدیلی تک
21 جنوری 2020 2020-01-21

عوام پوچھتے ہیں کہ وجوہات کیا ہیں، کدھر گیا گندم کا سٹاک، اچانک اس قدر آٹے کا بحران اور قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا۔؟ ن لیگ کی ترجمان محترمہ مریم اورنگزیب فرماتی ہیں کہ نئے پاکستان میں آٹا ختم، تنور بند اور عوام احساس لنگر خانے سے روٹی کھا لیا کریں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا اس ضمن میں فرمان ِ ذیشان ہے کہ نومبر دسمبر میں لوگ زیادہ روٹی کھاتے ہیں اس لئے آٹا مہنگا ہے۔ آج جیسے جالب کی روح رو رہی ہے کہ:۔

70 روپے کلو آٹا

ہر سو‘ سونامی‘ سناٹا

عمران نیازی زندہ باد

لبرل بلاول بھٹو زرداری کابول ہے کہ عمران خان نے اپنے مخصوص دوستوں کو نوازنے کیلئے آٹا بحران پیدا کیا، حکومت کے گودام آٹے سے بھرے پڑے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت بھی وفاقی حکومت کو آٹے کے بحران کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں اپنے کپتان وزیر اعظم عمران خان کی عمرانیات کہ عہدِ عمرانی میں غریب عوام روٹی کو روتے آٹے کو ترستے ہیں کدھر گئے وہ لارے اور نعرے اور بتا نہیں کہ کس مرض کی دوا ہیں ہمارے بڑے بڑے نامی گرامی ماہرینِ معیشت۔؟ روحی کنجاہی کے الفاظ میں:۔

ہمارے وطن میں اُگاتے ہیں غربت

کہاں سے خدا جانے لاتے ہیں غربت!

ہمارے یہاں بہتی ہے اُلٹی گنگا

معیشت کے ماہر بڑھاتے ہیں غربت

سابق وزیرِ اعلیٰ کے پی کے اکرم خان دورانی جو کبھی متحدہ اپوزیشن کے اجلاسوں کی صدارت فرمایا کرتے تھے اور کسی ’’رہبر‘‘ نامی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہوا کرتے تھے۔ موصوف نے حال ہی میں اپنے ہونے کا احساس دلایا ہے اور ایک اہم انکشاف فرمایا ہے کہ ’’اِن ہائوس تبدیلی کی بات پکی ہے، تین مہینوں کیلئے عبوری حکومت قائم ہو گی اور انتخابی اصلاحات لا کر انتخابات

ہوں گے، اسٹیبلشمنٹ نے ایک نااہل شخص کو قوم پر مسلط کر کے بڑی زیادتی کی ہے۔ اب تو اتحادیوں سمیت حکومتی وزراء بھی عمران خان کی نااہلی کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آزادی مارچ کے دوران ذمہ دار لوگوں نے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ وعدے وعید کئے تھے اور اس کے مطابق تین مہینے کے اندر اندر ان ہائوس تبدیلی لا کر عبوری حکومت قائم کی جائے گی جس میں اپوزیشن بھی شامل ہوگی‘‘۔ محترم درانی جی کی خدمت میں عرض ہے کہ دل بہلانے کیلئے یہ خیال اچھا اور خواب دیکھنے پہ کوئی پابندی بھی تو نہیں ہے۔ حضور یہ تو فرمائیں کہ نظر نہیں آ رہی وہ اپوزیشن ہے کہاں؟ جسے آپ کبھی متحدہ اپوزیشن گردانا کرتے تھے:۔

ہم کو ان سے وفا کی ہے اُمید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

یہا ں پتا ہی نہیں چلتا کہ اچانک ہی پہیہ اُلٹے پائوں چلنے لگتا ہے کیونکہ یہاں ریت ہی اُلٹی ہے کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اللہ ہی جانے کہ اندر ہی اندر کیا کیا کھچڑیاں اور کھچڑے پک رہے ہیں، اللہ ہی جانے کو بشر ہے۔؟

مرکز میں تبدیلی یا ان ہائوس تبدیلی کی بات کچی ہے یا پکی کچھ پتا نہیں کہ کیا پیشن گوئیاں ہیں اور کیا سلسلے ہیں ہاں البتہ یہ بات پکی ہے کہ عثمان بزدار ایسے ’’سردار‘‘ وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ پنج دریائوں کی دھرتی پنجاب میں پی ٹی آئی کبھی بھی پانچ سال پورے نہیں کر پائے گی۔ خدا جانے کیوں وزیرِ اعظم عمران خان ضد کی حد تک چلے گئے ہیں‘ ان کی سوئی کیوں سردار عثمان بزدار پر ہی اٹک گئی ہے حالانکہ ان کے پاس اور بھی بڑے راستے موجود ہیں۔ اپنے پرائے سبھی بول رہے ہیں کہ بزدار کو بدلو اس کے علاوہ زمینی حقائق بھی یہی ہیں اور وقت کا تقاضا بھی لیکن کپتان اپنے وسیم اکرم پر پھر بھی ڈٹے ہوئے ہیں کہ میں نہ مانوں۔ پاک دھرتی کے پردھان اور ادب نگر کے جوان شاعر جناب جون ایلیا کے الفاظ میں:۔

جو دیکھتا ہوں وہ بولنے کا عادی ہوں

میں اس دیس کا سب سے بڑا فسای ہوں

سوچتا ہوں کہ راجہ بشارت ایسے وزارتوں امارتوں کے ماہر اور سیاستوں حکومتوں کے کیڑے کیسے قبولتے ہوں گے کپتان کے ایسے وسیم اکرم کو جو خود فرماتے ہیں کہ ’’جی میں تو ابھی سیکھ رہا ہوں جی‘‘ راجہ بشارت جیسا سینئر اور تجربہ کار بندہ عثمان بزدار جیسے وزیرِ اعلیٰ کا وزیر جچتا ہے نہ سجتا ہے لیکن منزل یہاں انھیں ہی ملتی ہے جو شریک سفر ہی نہیں ہوتے۔ وزیر ِ اعظم عمران خان کیلئے یہ نیک مشورہ مفت ہے کہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ چڑیاں کھیت چُگ جائیں گی اور آپ روتے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ بھلا چوہدری پرویز الہٰی کی موجودگی میں پنجاب میں کسی اور وزیرِ اعلیٰ کی ضرورت ہی کیا ہے۔ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں پنجاب میں پرویز الہٰی جیسا کوئی اور وزیرِ اعلیٰ نہیں ملے گا۔ پڑھا لکھا پنجاب‘ پرائمری تعلیم مفت‘ کتابیں مفت‘ وارڈنز لا کر ٹریفک کے نظام میں بھر پور بہتری‘ 1122 ‘ پٹرولنگ پولیس کا نظام، بے شمار میگا منصوبے‘ پُل‘ انڈر پاسز‘ گلیوں سڑکوں کے جال الغرض ہر حوالے سے ہر لحاظ سے چوہدری پرویز الہٰی کا پنج سالہ سنہری تھا اور مثالی بھی لوگ آج بھی اس دور کی مثالیں دیتے ہیں اور چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہٰی کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی خدمت میں عرض ہے کہ چودھری پرویز الہٰی پنجاب میں بحیثیت وزیرِ اعلیٰ آپ کی ضرورت بن چکے ہیں اور صرف اسی صورت میں ہی پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی مدت پوری کر سکتی ہے کیونکہ پرویز الہٰی پنجاب کے عوام کی آواز ہیں۔ اگر آپ سوچتے رہے اور اپنے بزدار پر ہی ڈٹے رہے تو یہ کام کوئی اور کر دکھائے گا، پہچان والے پرویز الہٰی کو پہچان لیں گے اور اپنا لیں گے، پھر آپ کے پاس یہ درد پچھتاوے ہی بچیں گے کہ :۔

جو تھے شناور بحر کی تہہ سے سارے موتی چن کر لے گئے

ہم کنارے سوچتے رہ گئے کہ پانی کتنا گہرا ہے


ای پیپر