زینب الرٹ بل:حکومت کے لیے چند تجاویز
21 جنوری 2020 (16:21) 2020-01-21

۱۵ جنوری ۲۰۲۰ء کی ٹھنڈی صبح دفتر پہنچا ہی تھا کہ ایک ای میل موصول ہوئی۔آپ پہلے وہ ای میل ملاحظہ فرمایئے۔

’’محترم جناب آغر ندیم سحر!میرا تعلق جھنگ کے ایک نواحی قصبہ سے ہے۔میں آپ کے کالموں کا مستقل قاری ہوں اور آج میں آپ سے اپنا ایک دکھ شیئر کرنا چاہ رہا ہوں۔محترم ندیم صاحب آج صبح جھنگ میں ایک اور قاری نے بارہ سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایااور فرار ہو گیا۔بچی شدید تکلیف کی حالت میں ڈاسٹرکٹ ہسپتال جھنگ میں زندگی و موت کی جنگ لڑ رہی ہے اور ہماری پولیس ابھی تک ملزم کو نہیں پکڑ سکی۔ندیم صاحب!اس سے پہلے بھی جھنگ میں تیرہ سالہ سازیہ بھی مسجد کے قاری کے پاس قرآئن مجید پڑھنے گئی تھی جسے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا تھا اور ظلم کی انتہا دیکھیں ابھی تک قاری گرفتار نہ ہوا۔میں آپ سے ہاتھ جوڑ کے گزارش کرتا ہوں کہ جہاں آپ اتنے اہم اور قومی ایشوز پہ قلم اٹھاتے ہیں،ایک کالم ایسے واقعات پہ بھی لکھیں۔اپنے قارئین کو ایسے مسائل سے نمٹنے اور خاتمے کے لیے اپنی تجاویز بھی دیں تاکہ یہ واقعات کنٹرول ہو سکیں‘‘۔قارئین یہ صرف ایک ای میل ہے‘میرا ایم میل ان بکس ایسی میل سے بھرا پڑا ہوگا لیکن میں جب جب کسی زیادتی کے واقعے پہ لکھنے لگتا ہوں‘ایک نیا کیس سامنے آ جاتا ہے۔میں اور میرے عم عصر کالم نگار ایسے موضوعات پہ بے تحاشا لکھ چکے مگر یہ واقعات ہیں کہ ختم ہونے یا کنڑول ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ایک قاری نے بچے سے زیادتی کی اور بعد میں معاملہ صلح تک پہنچا اور میڈیا کچھ دن اس موضوع پہ بات کرتا رہا اورکچھ دن بعد میڈیا کو نیا ہاٹ موضوع مل گیا اور یہ معاملہ دب گیا۔میں نے کچھ ہفتے پہلے ان کیسز کی فہرست مرتب کرنے کی کوشش کی تھی جس کے مطابق پچھلے پانچ سال میں اٹھارہ ہزار بچوں سے زیادتی کے کیس سامنے آئے ۔اگر صرف گزشتہ برس کی بات کروں تو ۲۰۱۹ء کے پہلے چھے ماہ (جنوری تا جون) میں ۱۳۰۴ء بچوں کو زیادتی کام نشانہ بنایا گیاجس میں ۷۲۹ بچیاں اور ۵۷۵ بچے زیادتی کا شکار ہوئے۔زیادہ تر بچے اور بچیوں کو مدرسوں اور سکولوں میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔اس طرح سکول ہسپتال‘ہوٹل ‘کار ‘کالج فیکٹری‘جیل ‘پولیس اسٹیشن ‘شادی ہال اور قبرستان تک میں زیادتی کے کیسے سامنے آئے اور آج تک ستر فیصد کیسز فائلوں کی نذر ہو گئے۔اگر صوبائی سطح پر دیکھا جائے تو پنجاب میں ۶۵۲ بچے،سندھ میں ۴۵۸ بچے،بلوچستان میں ۳۲ بچے،اسلام آباد میں ۹۰ اور خیبر

پختونخواہ میں تقریبا ۷۷۰ بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ایک فہرست ۲۰۱۹ء کے پہلے چھے مہینوں کی ہے جو یقینا غیر ختمی ہے کیونکہ اس میں ردوبدل بھی ہو سکتی ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق اگر ایسا ہی ہے تو اس کا الزام کسے دیا جائے۔

میرا حکومت سے سوال ہے کہ کیا حکومت کے’’ زینب الرٹ ایپ ‘‘بنانے سے یہ کیسز ختم ہو سکتے ہیں؟۔اینڈرائیڈ فون کتنی آبادی کے پاس ہیں،انٹر نیٹ پیکج کتنے فیصد آبادی کے پاس ہوتا ہے؟۔ زینب الڑت کتنی کامیاب ہوئی ہے یہ تو اگلے سال ہی پتا چلے گا مگر اس وقت ہمیں ان وجوہات کی جانب بھی بڑھنا ہے جن سے ایسے واقعات پہ کنٹرول کیا جا سکے۔پاکستان میں آئے روز بڑھتے ہوئے زیادتی کیسز کی سب سے بنیادی وجہ شادی جیسے آسان ترین بندھن کا مشکل بنا دینا ہے۔پاکستان شاید دنیا کا وہ واحد ترین ملک ہے جہاں شادی کرنا انتہائی مشکل مسئلہ ہے۔ہمارے ہاں اٹھائیس سال کی عمر تک تو لڑکا پڑھائی میں مسروف رہتا ہے اور جب پڑھائی مکمل کرتا ہے تو اگلے چار سال اسے پائوں پہ کھڑا ہونے میں لگتے ہیں اور اگر اس دوران وہ گھر میں شادی کا کہہ بھی دے تو گھر والے اسے بدمعاش اور گھٹیا انسان سمجھتے ہیں‘اسے کہا جاتا ہے کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم شادی کی خود بات کر رہے ہو۔یعنی وہ چھپ چھپ کرے زنا کرتا رہے اور اگر وہ اسلامی طریقے سے جنسی خواہشات کی تکمیل کی بات کرے تو وہ کریکٹر لیس ہو جاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی لڑکی تیس سال کی ہو جائے اور شادی کی بات کرے تو اسے بھی بدکردار کہا جاتا ہے۔جب بچوں کی شادیاں پینتیس سال کی عمر تک بھی نہیں ہوں گی تو وہ اپنی جنسی خواہشات کہیں تو پوری کریں گے۔اگرصبح سے شام تک ہمارا ٹیلی ویژن شادی‘محبت اور عشق دکھائے گا تو ہمارے بچے ان ڈائجسٹ مارکہ ڈراموں سے سبق حاصل نہیں کریں گے ؟۔اگر ہمارے گھروں میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی مغربی یلغار ہوگی تو کیا ہم سمجھتے ہیں کہ وہ شادی نہ ہونے پہ بھی درویشی کا مظاہرہ کریں گے۔آپ اس ملک میں ہزاروں بھی زینب الرٹ بنا لیں لیکن جب تک یہاں شادیاں آسان نہیں ہوں گئی،جب تک شادی عین جوانی میں نہیں ہوں گی،جب تک فحش میڈیا سے کنارہ نہیں ہوگا ، زینب الرٹ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔پاکستان میں شادیاں کیوں مشکل ہیں ‘اس لیے کہ ہم آج تک ذات پات کے نظام سے باہر نہیں آئے‘ہم آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بھی یہ ہی سمجھتے ہیں کہ چوہان اور مغل فیملی ایک نہیں ہو سکتے۔گجر اور لوہار فیملی اگر آپس میں رشتہ کریں گے تو نعوذباللہ دونوں غیر مسلم ہو جائیں گے۔آج اکیسویں صدی میں بھی ہم مراسی‘مصلی اور مہاجر کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیوں؟۔ہم آج بھی سنی‘بریلیوی اور وہابیت کی بحث سے باہر نہیں آ سکے۔یہی وجہ ہے کہ اپنی ذات اور مسلک کا رشتہ تلاش کرتے کرتے بچی اور بچے کی عمر نکل جاتی ہے۔دوسری سب سے بڑی وجہ امیر ترین لڑکا تلاش کرنا ہے‘یہ ہوس بھی بہت عجیب ہے حالانکہ ہم سب یہ جانتے بھی ہیں کی لڑکیاں جہیز اور امیر ترین لڑکے سے شادی سے نہیں بسا کرتیں مگر پھر بھی ہم اس بات پہ مصر ہیں کہ شادی ہو تو کسی کروڑ پتی سے ورنہ چالیس سال کی عمر تک لڑکی گھر بیٹھی رہے۔ہمارے مسلک پسند علماء نے بھی ایک عجیب سوچ بنا دی ہے کہ شادی ہو تو کسی ہم مسلک سے ورنہ نکاح ہی نہیں جائز،اور اگر کوئی ایسی شادی ہو بھی جائے جس میں دونوں کا مسلک مختلف ہے تو جب تک طلاق نہ ہو جائے شدت پسند معاشرے کوسکون نہیں ملتا۔دوسری طرف زنا کے معاملے میں ہم صرف مدارس ہی کو کیوں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔کچھ روز قبل ایک نجی ٹی وی نے رپورٹ دی کہ مدارس میں زیادتی کے کیسز صرف پانچ فیصد تک ہیں اور پچانوے فیصد سوسائٹی میں ہیں تو پھر ہم صرف مدارس کلچر میں ہی کیمرہ لگانے ہی کیوں بات کرتے ہیں۔کیا زنا کے واقعات فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں نہیں ہورہے؟کیا ہماری وہ نسل جو مغربی تہذیب و کلچر میں پروان چڑھ رہی ہے اور جو ادارے بنائے ہی اس لیے گئے وہاں ایسے کیسز نہیں ہوتے؟۔یقین جانیں کئی تعلیمی اداروں میں جا کر تحقیق کریں‘وہاں درودیوار اور واش رومز میں کئی کہانیاں دفن ہیں۔ ایمانداری سے جواب دیں کہ کیا ہماری جامعات ایسے واقعات نہیں ہورہے؟یہاں تک کہ اساتذہ بھی پر جنسی ہراسمنٹ کے الزامات ثابت ہو رہے ہیں۔سو مسئلہ تو یہ ہے کہ ہمیں نظر ہی صرف مدارس کلچر آتا ہے کیوں کہ ہمیں مدارس سے توقعات زیادہ ہوتی ہیں۔سو جامعات سے ایسے واقعات آنااتنا عجیب نہیں جتنا مدارس سے آنا عجیب ہے۔قارئین اس وقت پورا پاکستان زناکاری کی شدیدلپیٹ میں ہے اور ہم اسمبلیوں میں بیٹھ کر زینب الرٹ پہ بحث کر رہے ہیں۔شادیوں کو آسان بنانا اور دیگر مسائل پہ قابو کرنے کا کوئی حل تلاشنے کی ضرورت ہے جو نہیں کیا جا رہا۔سچ یہ ہے کہ ہمیں اس اہم ترین قومی ایشو پہ سنجیدگی سے سوچنا ہے ورنہ یہ مسئلہ روز بروز ایسے ہی شدت اختیار کرتا جائے گا۔گورنمنٹ نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے کوئی شیلٹر دے جس سے نکاح آسان ہو۔جب تک حکومت ایسے معاملات میں فیسلیٹیٹ نہیں کرے گی ‘یہ واقعات نہ تھم سکتے ہیں اور نہ ہی نوجوان نسل بے راہ روی سے بچ سکتی ہے۔جب تک ہم اسلامی کلچر سے بھاگتے رہیں گے‘جب تک اسلام کے علاوہ کسی بھی اور ازم کا شور ڈالتے رہیں گے یہ ہوتا رہے گا۔


ای پیپر