فیصل واوڈا کا بوٹ اور بین الاقوامی جگ ہنسائی
21 جنوری 2020 (16:20) 2020-01-21

1898ء میں جرمن بادشاہ گیلیم دوم اپنی بیوی کے ہمراہ ولایا شام کے دورپر آگیا۔ عوام کی جانب سے استقبال کے دوران گیلیم کی بیگم نے ایک خوبصورت گدھا دیکھا اور اس وقت شام کے گورنر مصطفی عاصم پاشا سے درخواست کی کہ یہ گدھا ان کو دیا جائے جس کو وہ برلن لے جانا چاہتی ہیں۔ گورنر اس گدھے کے مالک کے پاس گیا جس کا نام ابو الخیر تللو تھا۔ ان سے درخواست کی کہ اپنا گدھا جرمن ملکہ کو دیں مگر انہوں نے انکار کیا تو گورنر ناراض ہوئے تو کہا جو قیمت لینی ہے لے لو گدھا مہمان کو دو مگر ابو الخیر نے انکار کیا اور کہا کہ اس کے پاس 6 اعلیٰ نسل کے گھوڑے ہیں چاہے تو سب کے سب لے لو مگر گدھا جرمنوں کو نہیں دوں گا۔ گورنر حیران ہوا اور کہا کہ کیوں ؟ تللونے کہا جب یہ گدھا لے کر جرمنی پہنچیں گے تو دنیا بھر کے اخبارات لکھیں گے کہ شام سے گدھا لیا گیا ہے۔ یوں شام کا ذکر گدھے کے ساتھ ہو گا ۔ ہو سکتا ہے کوئی لطیفہ بھی بنایا جائے پھر لوگ کہیں گے جرمن شہنشاہ کو شام میں گدھے کے سوا کچھ نہیں ملا اس لیے میں کسی قیمت پر گدھا نہیں بیچوں گا۔ گورنر نے یہ بات شہنشاہ کو بتائی تو وہ خوب ہنسے اور تللو کو تمغے سے نوازا۔

تجربے مطالعے اور مشاہدے کے بعد یہ بات ہاتھ لگی ہے کہ دنیا کے بڑے سے بڑے کاروبار، بزنس، سماجی و معاشرتی ہم آہنگی اور شخصیت کے نکھار کے لیے اعلیٰ اخلاقی مذہبی اقدار اور روایات کو حد درجہ عمل دخل ہے۔ ہمارا تعلق اور بنیاد جس دین کے ساتھ ہے، اس میں غیر اخلاقی، غیر آئینی بات کو عمل دخل نہیں ہے۔ ہمارے دین اسلام میں عہد ، وقت،دور اور زمان و مکان کی کوئی قید نہیں ہے۔ قرآن ہمارا ضابطہ حیات ہے اور سنت ہماری زندگیوں کا عملی جامہ ہے۔ یہ وہ علم اور وہ فیض ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نبی آخر الزمان کی طرف سے ہمیں ودیعت کیا گیا ہے۔ اس سے روگردانی

ہماری زندگی، ہنستی اور وجود کی حیثیت کو ختم کر دیتی ہے اور ہم دائرہ انسانیت سے خارج ہو جاتے ہیں۔ جب ایک فرقہ، گروہ، جماعت یا نسل اور قوم دائرہ انسانیت اور اپنے مذہب کی تعلیم سے بے بہرہ ہو جاتی ہے تو اس نسل کا آمریت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ یہ بات طے شدہ اور مستند ہے ۔ معذرت کے ساتھ اس وقت ہماری سیاسی جماعتوں مبلغوں، اماموں، حکمرانوں، اساتذہ اور پیروکاروں کا یہی حال ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہمارے لیے یہ محاورہ ہی نہیں یہ بات ہمارے کرداروں اور رویوں میں بھی حلول ہو چکی ہے۔ پچھلے دنوں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر فیصل واوڈا ایک ٹاک شو میں فوجی بوٹ اٹھا لائے اور دیگر مہمانان گرامی جن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما جناب قمر زمان کائرہ بھی موجود تھے ان کو وہ بوٹ دکھا کر طنزیہ جملے بولتے رہے۔ آخر کار وہ مہمان پروگرام ادھورا چھوڑ کر اپنی عزت بچا کر چلے گئے۔ اگر ملک و قوم کی سلامتی اور امن کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں نے بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع میں بل منظور کر دیا تھا تو اس سے کیا قیامت برپا ہو گئی تھی؟ کونسی انا کو چوٹ پہنچی تھی؟ کونسا ملکی نظام خراب ہوا تھا؟ کونسا ملکی معیشت کو دھچکا لگا تھا؟ کونسا ملکی خزانے کو نقصان پہنچا تھا؟ امن و آشتی، صلح جوئی، محبت و ایثار اور ملکی مفاد کی خاطر ہی تو سب نے لبیک کیا تھا؟ اس میں دست و گریبان ،ز بان تراشی اور طنع و تشنیع کی کیا ضرورت تھی؟ اور بوٹ دکھا کر دنیا کے سامنے اپنا آپ دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟ ہم دنیا کو سچ میں یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس قدر مہذب ہیں اور اتنے اخلاق کے مالک ہیں؟ ہمارا قومی و مذہبی تشخص یہ ہے؟ ہماری وراثت میں ایسی حرکات شامل ہیں اور یہ ورثہ ہم نے نسل نو میں منتقل کرنا ہے۔ قارئین دنیا میں اس وقت دو سودو کے قریب ممالک ہیں اور 4200 کے قریب مذاہب ہیں۔ ہمارے دین میں اسلام کو فوقیت سپہ گیریت اور دوامیت حاصل ہے۔ یہ وہ مذہب ہے جس میں تبدیلی، کمی و بیشی کی ذرا گنجائش ممکن نہیں ہے۔ ہمارا ملک مساوات میں ساتویں نمبر ہے اور ایمانداری، دیانتداری کے اعتبار سے کم و بیش ایک سو چالیسویں نمبر پر ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہم اخلاقی ، سماجی، معاشی، سیاسی اور عملی لحاظ سے زوال پذیر معاشرہ ہیں اور ہمارا کوئی آئین، قانون اور مذہب نہیں ہے۔ ہم منہ زور ہیں، ہم منہ پھٹ ہیں، ہم بے ایمان ہیں۔ ہم جسمانی ، بدنی، زبانی ، عصری لحاظ سے کرپٹ ہیں۔ جنگل کا بھی کوئی قانون اور قاعدہ ہوتا ہے ہمارا کوئی قانون اور قاعدہ نہیں ہے۔ روپیہ پیسہ زر، جائیدادیں، کوٹھیاں، کاریں، فراڈ ،دھوکہ، ریاکاری، جنسی تشدد، ملاوٹ، جھوٹ، بے ایمانی، قتل، لاقانونیت، چغلی ، غیبت چور بازاری، نفرت ہمارا آئینی و قانونی اور ذاتی حق کا درجہ اور سند امتیاز اختیار کر چکا ہے اور یہی تماشا ہم بین الاقوامی سطح پر رچائے بیٹھے ہیں اور اغیار کو اپنا پیٹ ننگا کر کے دکھا رہے ہیں۔

1898ء میں تللو نے جرمن بادشاہ کی بیگم کو گدھا اس لیے نہ دیا کہ جرمن والے کیا کہیں گے کہ بادشاہ کی بیگم کو دیارِ غیر میں گدھا ہی پسند آیا اور ان کی جگ ہنسائی ہو گی۔ اس واقعے کے کے 122 سال بعد بھی فیصل واوڈا کو یہ خیال نہ آیا کہ میڈیا کس قدر تیز ہے اور اس وقت دنیا کے ڈیڑھ سو ممالک کے قریب ممالک یہ دیکھیں گے کہ اسلامی ملک میں ایک وزیر نے بوٹ دکھا کر اپنی فوج اور اپنے ملک کی ناموس کو داغ دار کر دیا ہے اور یہ بات عالمی سطح پر ہمارے کردار اور اخلاق کی دھجیاں بکھیر دے گی۔ دنیا کے سامنے ہماری فوج کا اور ہماری حکومت کا کیا امیج ہو گا۔ افسوس صد افسوس۔ معذرت کے ساتھ ایسے حکمران ہی بین الاقوامی سطح پر ملکی جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں اور ایسے ہی لوگ حکومتوں کو گرانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عمران خان اس بات کو مد نظر رکھ لیں ایسے ہی ناسور ان کے سیاسی زخموں کو کبھی نہیں بھرنے دیں گے اور ایک دن ان کا سیاسی وجود ختم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ و ما علینا الاالبلاغ


ای پیپر