فردوس عاشق کی فرمائش پر کالم
21 جنوری 2020 2020-01-21

جن دوستوں کو نجانے کن ذرائع سے پتہ چلا، کہ ایک سال پہلے دل کا بائی پاس آپریشن کرانے کے ایک سال کے اندر دوبارہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر مجھے اب سٹنٹ، ڈلوانے پڑ گئے، اورنیشنل ہسپتال ڈیفنس داخل ہونا پڑا مخلص احباب کو تشویش ہوئی، انہوں نے تسلی دی، اور مشورہ بھی دیا کہ کیا وجہ ہے، آپ کو کس چیز کی پریشانی ہے، بلکہ ایک آدھ نے تو مجھے انعامات خداوندی کو بھی گن گن کے بتایا کہ آپ کو کس چیز کی کمی ہے؟ تو پھر مجبوراً مجھے بھی لب کشائی کرنی پڑی، کہ جب تبدیل شدہ ریاست مدینہ کے حکمران ، نام تو لے لیتے ہیں ریاست مدینہ کا، مگر جب مہنگائی، غربت وافلاس کے خاتمے کی بات ہوتی ہے، تو وزیراعظم پاکستان کہتے ہیں، کہ ہم یہ دیکھ رہے کہ چین نے غربت کا خاتمہ کس طرح سے کیا ہے، حالانکہ انہیں اس ضمن میں بھی اپنے آقائے نامدار کے اس کردار کی تقلید کرنی چاہیے تھی کہ انہوں نے ریاست مدینہ سے کس طرح سے ان معاشرتی عیوب پہ قابو پایا تھا، جس پر سال نہیں محض چند مہینے لگے تھے۔

اس حوالے سے مجھے اپنی نشست سے ہاری ہوئی، مگر اپنے وزیراعظم کا دل جیتی ہوئی، وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا صحافیوں کو یہ مشورہ دینا کہ آپ لوگوں کو حکومت پہ تنقید کرنے کے بجائے حکومت کو تجاویز پیش کرنی چاہئیں کہ جن پر حکومت عمل پیرا ہوکر رعایا کی زندگی میں انقلاب بپا کرسکتی ہو، میں دوسرے دوستوں مثلاً جناب عطا الرحمن، توفیق بٹ ،اخترشمار، سعید آسی صاحب اور فضل اعوان صاحب رﺅف کلاسرا کی تجاویزکا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنی گزارشات بھیجنے کی ”سعادت“ حاصل کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ ان تجاویزکا تعلق ریاست مدینہ کے بانی جناب رسول پاک کی ذات والاصفات سے ہے۔ سب سے پہلے ریاست مدینہ کے نصاب تعلیم پہ بات کرلیتے ہیں، کیونکہ تحریک انصاف کے اولین انتخابی دعوﺅں میں ”یکساں نصاب“ کے دعوﺅں کی تشہیر وتقاریر پر بھی خطیر رقم لگائی گئی تھی، مگر اس دعوے پہ عملدرآمد کے لیے ابھی تک ایک دھیلے کا کام نہیں ہوا، اور نہ ہی ایک ”دھیلہ“ ضائع کیا گیا ہے، کیونکہ قوم کے بچے اپنے بچے تو نہیں ہوسکتے، اسی لیے تو اپنے بچے لندن میں پڑھ رہے ہیں، اور خود ایچی سن میں پڑھنے والے نے ایچی سن کے اپنے کلاس فیلوز کو نواز دیا ہے، یہ ایک الگ قصہ ہے، کہ چوہدری نثار نے عمران خان کے تاریخی دھرنے کو کس طرح سے خاموش پذیرائی، اور سہولت کاری دی کہ ان کی اس ”اداکاری“ کو دونوں شریف بھائی مل کر بھی نہ سمجھ سکے، حالانکہ میاں نواز شریف نے ان کی ”فنی خرابی“ کو بھانپ لیا تھا، اور شاید عوام نے بھی اس کا ردعمل کچھ اس طرح سے دیا کہ چوہدری نثار قومی اسمبلی کے انتخاب میں شکست کھا گئے، صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیت گئے.... مگر رانگڑ کا غرور وتکبر آڑے آگیا، اور انہوں نے اس کا حلف ہی نہیں اٹھایا، البتہ چوہدری نثار نے عمران خان سے تقاضا یاری دوستی نبھا دی۔ مگر عوامی ردعمل کے نباض سیاستدان، سہولت کاری کی بیماری میں مبتلا ہو جانے کی عادت کبیرہ میں مبتلا ہوجانے کے بعد یہ جان چکے ہیں کہ اب ان کی آس پہ اوس پڑ چکی ہے، قارئین آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ”مخلص“ مرید طلب صادق کی وجہ سے درجہ پا جاتے ہیں، جبکہ پیر مغان وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے، اس صورت حال کی بہترین عکاسی جناب مظفر علی شاہ یوں کرتے ہیں ۔

تو بھی سیل اشک یوں آنکھوں کے اندر روک لے

جس طرح بے تاب لہروں کو سمندر روک لے!

ہوچکا معدوم اب وہ رشتہ¿ جان وجنون !

اے فقیہہ شہر اب تو سارے پتھر روک لے!

قارئین کرام اس سے پہلے کہ میرا جذبہ حب الوطنی، جذبہ جنون بن جائے، اور میں فردوس عاش اعوان کے فرمان کی حکم وعدولی کا مرتکب نہ ہوجاﺅں آج کل چونکہ صرف گھونسوں اور تھپڑوں جوتوں تک بات ہوکر رہ گئی ہے، اور بات لاتوں کے بھوت تک نہیں پہنچی، لہٰذا میں اس عہد زریں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ریاست مدینہ کے نصاب تعلیم کی بات کرنے پر اپنے آپ کو محدود کرتا ہوں، مختلف روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض مخصوص اساتذہ کے پاس مخصوص فنون اور کتب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لوگ جاتے تھے، کیونکہ رسول پاک نے قرآن وحدیث اور دین کے ضروری مسائل کی تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ بہت سے علوم وفنون کی تعلیم وتربیت کا حکم دے رکھا تھا۔

قارئین آپ یہ سن کر حیران ہوں گے، ان دیگر علوم میں نمبر 1علم تجوید، 2۔علم انساب، 3۔ علم ہیت، 4۔ علم طب،5۔علم فرائض یعنی وراثت کے احکام، 6۔ پیراکی، 7۔ نشانہ بازی کے علوم، 8۔ اور فن کتاب کے علاوہ دیگر علوم بھی شامل تھے۔

حضور نے فرمایا، نسب نامہ کا علم حاصل کرو، تاکہ تمہیں اپنے اقرباءکی پہچان ہوسکے، یعنی اپنے رشتہ داروں کی پہچان ہوسکے، کیونکہ حضور نے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی، اور قطع تعلق سے اجتناب برتنے کا حکم دیا ہے۔ میں بڑی مشکل میں ہوں، کہ وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان جن کے بارے میں مجھے اپنے دوست سے بڑی دیر تک مغز ماری کرنی پڑی جو بضد تھے، کہ فردوس عاشق اعوان اصل میں ”بٹ“ ہیں کیونکہ ان کی زبان اور ان کے بیان بالکل بٹوں والے ہوتے ہیں خدا خدا کرکے یہ لاحاصل بحث ختم ہوئی، تو انہوں نے دوسرا سوال داغ دیا کہ صحافت کی دشت خارزار میں آپ کو اتنا عرصہ ہوگیا ہے، آپ یہ بتائیے کہ پاکستان میں کتنے ”لوٹے“ ہیں؟ میں نے عرض کی کہ یہ سوال ضروری نہیں ہے، آپ کسی صحافی سے پوچھیں، آپ کسی بھی پاکستانی سے پوچھ سکتے ہیں۔ نجانے آج وہ کیا عہد کرکے آیا تھا کہنے لگا، اچھا یہ تو بتادیں، پاکستان میں عورتیں بھی سیاستدان ہیں مثلاً شہلا رضا، مریم نواز، شیریں رحمان، فریال تالپور، شیریں مزاری وغیرہ وغیرہ ان میں بھی کوئی ”لوٹی“ ہے؟ میں نے بات ٹالنے کی غرض سے اس سے سوال کردیا کہ لوٹی سے مراد کیا ہے؟ وہ بڑا کائیاں نکلا اور سمجھ گیا، کہ میں بات ٹال رہا ہوں کہنے لگا جس کی جسامت شیخ رشید سے ملتی جلتی ہو اس کا تعلق بھی اسٹیبلشمنٹ سے ہو، میں نے مو¿دبانہ عرض کی جناب اس وقت میں حضور کے نصاب تعلیم کے بارے میں،” فردوس ارضی“ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں، تاکہ میں وما علینا الاالبلاغ المبین کہنے کے قابل ہوسکوں۔


ای پیپر