ضد کبھی کامیاب نہیں ہوتی
21 جنوری 2019 2019-01-21

خود کو درست کہنے کی تکرار سے مسائل الجھتے ہیں۔ جو لوگ مشکل اور آزمائش کے وقت درست ادراک کرتے ہیں، وہ خود بھی سکون سے رہتے ہیں۔ حکمرانی اور ریاست میں اپنے ہونے کا ثبوت حکومتیں جنگل کے قانون کے تحت نہیں چلتیں۔ اگر یہ چلنے کے قابل ہوتیں تو دنیا میں 20 ویں صدی مکمل ہونے تک بادشاہت ہی رہتی۔ یورپ سمیت پوری دنیا میں بادشاہت بھی ظل الٰہی کی حکمرانی تھی مگر آج ایسا نہیں ہے۔ آج بادشاہت برطانیہ یا پھر تاش کے پتوں میں رہ گئی ہے۔ ہر بادشاہ کو غرور تھا وہ عدالت بھی تھا اور قانون بھی۔ برطانیہ کے عوام نے بادشاہ سے 12 ویں صدی میں مطالبہ کیا کہ آپ کو قانون کے مطابق چلنا ہے۔ یہاں سے شروع ہونے والی قانون کی بالادستی آج بھی قائم ہے۔ بادشاہ نے ضد نہیں کی جو کچھ پاکستان میں ’’ریاست مدینہ‘‘ کے نام سے ہو رہا ہے اس میں ایک آمرانہ حکومت سر اٹھا رہی ہے۔ خود کو امیر المومنین سمجھنے والوں کے لیے کافی سوال ہیں۔ ریاست مدینہ میں کسی ملزم کو کٹہرے میں لائے بغیر سزا نہیں ہوئی مگر پاکستان میں بھی کہنے کو تو ریاست مدینہ ہے جہاں شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہیں۔ جہاں کوئی غریب بھوکا نہیں سوتا۔ پاکستان ایک فلاحی ریاست ہے؟ مگر یہ سراب اور فریب ہے جو ہمیں کہانیاں سنائی جاتی تھیں دھرنوں اور جلسوں میں کہ ماضی کے حکمرانوں نے ان کی زندگیاں مشکل بنا دی ہیں۔ ملک کو حکمرانوں نے مقروض کر دیا ہے۔ تقریباً بائیس کروڑ کے عوام کا یہ ملک جس کا ایک ایک بچہ اتنی رقم کا مقروض ہے۔ یہ حکمران قرضہ اس لیے لیتے ہیں کہ وہ کرپشن کر کے اپنے بینکوں کو بھرتے جائیں۔ پاکستان کو لوٹنے والے تو انجام کو پہنچ چکے۔ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے والو۔۔۔ ذرا بتاؤ تو سہی عوام کا جو حال ہے وہ ابھی اپنی جگہ مگر یہ بتاؤ کہ حکومت کا مؤقف مان بھی لیا جائے کہ گاڑی میں دہشت گرد تھے۔۔۔ ان دہشت گردوں کو زندہ پکڑنا بہادری کا کھیل تھا۔ اصل راز تو کھلے گا جے آئی ٹی کے بعد کہ دودھ میں کتنا پانی تھا۔۔۔ کڑیاں ملانے کے لیے بھی تو ضروری تھا ملزم زندہ ہوتا۔ سی آئی اے کے ریمنڈ ڈیوس نے خود ہی عدالت لگائی ملزم گناہ گار تھے یا مظلوم، ان کی کرائم ہسٹری خوفناک تھی یا معصوم تھے۔ یہ بھلا ہوا موبائل فون اور عوام میں آگہی کا انہوں نے بھی جان پر کھیل کر سی ٹی ڈی کی بدمعاشی کا بھانڈا پھوڑا ہے۔ وزیر قانون اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب آپ کی ریاست میں پورا خاندان اجڑ گیا آپ ان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائیں ان کو کروڑوں دیں ایوان صدر اور بنی گالہ کا مکین غمگین ہو جائے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ آپ کی حکومت میں سفاکیت کا کھیل کھیلا گیا ہے۔ آپ کے وزیر اس پر بھی شرم سے ڈوب جانے کے بجائے بے ہودہ بیان جاری کریں۔۔۔ تو حکومت فاشزم کی طرف جا رہی ہے اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ حامد میر نے ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں ساہیوال سانحہ میں زندہ بچ جانے والے تین بچوں میں سے ایک کو جو صدصے اور گولیوں کے گھاؤ سے گہری نیند ہو سو رہا ہے۔ اُس کے دل میں اب اس زندگی کی بھی کوئی امنگ نہیں جس کے سامنے اُن کے خاندان کو تہ و بالا کر دیا گیا وہ بچارہ معصوم جاگ بھی جائے وہ عثمان بزدار کے پھولوں کا کیا کرے گا۔ ایسا کوئی آپریشن کرتے ہوئے یقیناًاس کی اجازت کسی اعلیٰ اتھارٹی نے دی ہو گی۔ اس منظر کو دیکھ کر ہمیں 2013ء کو وہ واقعہ یاد آگیا جب نواز شریف کو تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے چند ماہ ہی ہوئے تھے جب سکندر نامی ایک شخص ریڈ زون میں گھس گیا اس کے ہاتھ میں اسلحہ بیوی اور بچے تھے۔ اس کے کچھ مطالبات تھے مگر اس نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو آزمائش میں ڈال دیا۔ اس کو مارنا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ حکومت کی رٹ کی دھجیاں اڑ چکی تھی کہ ایک شخص نے پوری حکومت کو بے بس کر دیا۔ اصل معاملہ تو یہ تھا اس کے بچوں کے سامنے سکندر کو مارنا نہیں چاہتے ویسے بھی یہ پتا چلانا ضروری تھا کہ آخر اس کھیل کے پیچھے اور کتنے کردار ہیں۔سکندر کو اگر کیمروں کے سامنے مار دیا جاتا تو کیا ہوتا پوری دنیا میں بدنامی ہوتی ۔ طعنہ زنی کرنے والوں کا تماشا اپنی جگہ پر تھا۔ مبینہ دہشت گردوں سے مذاکرات کر لیے جاتے تو پاکستان کے ادارے کی بدنامی نہ ہوتی ۔ صدر پاکستان کا دل خون کے آنسو رہو رہا ہے۔ ریاست مدینہ کے ماڈل کے سربراہ کا دل بھی دکھی ہے۔ وزیر قانون راجہ بشارت ، میاں اسلم اقبال، میاں محمود الرشید اور ماشاء اللہ فیاض الحسن چوہان جے آئی ٹی رپورٹ آنے سے پہلے ہی رٹی رٹائی کہانیاں بتا رہے ہیں۔ رپورٹ تو آجانے دیں۔ قومی اسمبلی سے لے کر سینیٹ تک اب بلیم گیم اور اس کے دفاع کا کام شروع ہو گا۔ سینیٹ میں داخلہ کمیٹی کے چیئرمین نے آئی جی اور ہوم سیکرٹری سے ایک ہفتے میں گیارہ سوالوں کے جواب مانگے ہیں۔ مقتولین و خاندان کے خلاف کبھی کسی کی طرف سے ایف آئی آر درج ہوئی تھی یا نہیں ۔۔۔؟ جب مقتولین نے سی ٹی ڈی پولیس کے کہنے پر گاڑی سائیڈ لائن پر کھڑی کی تو فائرنگ کیوں کی گئی؟ مزاحمت اور جوابی فائرنگ نہ ہونے کے باوجود چار افراد کو کیوں قتل کیا گیا؟ تیرہ سالہ لڑکی کو اس لیے قتل کیا گیا کہ قتل کے عینی شاہد کو قتل کیا جائے؟ مقتولین کے خلاف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ تھی اگر تھی تو کیا؟ کیا یہ پولیس مقابلہ قانون کے مطابق کسی سینئر پولیس افسر کی زیر نگرانی ہوا؟

رحمان ملک کے ان سوالوں سے کافی چیزیں سامنے آئیں گی۔ پنجاب کی ماڈل پولیس یہ ہے تو وزیراعلیٰ کا استعفیٰ تو بنتا ہے۔ اس پر تماشا یہ ہے کہ گزشتہ روز امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے عمران خان سے ملاقات کی اور انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ اور عمران خان کو ایک جیسی شخصیت قرار دیا۔ امریکی عوام صدر کو سنجیدہ نہیں لیتے اس طرح عمران خان کی اناڑی حکومت کے تماشے ہر روز کھلتے ہیں۔ اگر امریکی صدر سرکس کے اداکار کی طرح ہیں تو محسوس ہوتا ہے ہماری حکومت بھی موت کا کنواں چلا رہی ہے۔ ابھی عمران خان کی خونخوار فورس نے 4 بے گناہوں کو پار کیا ہے جس طرح ہمارے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور شاہانہ اخراجات سے عام شہری کا جینا مشکل کر دیا ہے اس طرح ٹرمپ نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے امریکی تاریخ کا طویل ترین ’’شٹ ڈاؤن‘‘ جو 22 دسمبر 2018ء سے جاری ہے اس کو 31 دن ہونے کو ہیں۔ اس سے وفاقی حکومت کے 8 لاکھ سرکاری ملازم فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ پاکستان کے کروڑوں لوگ متوسط طبقے سے نکل کر خط غربت میں داخل ہو گئے۔ ٹرمپ اور عمران کی شخصیت میں بے چینی، ضد اور ہٹ دھرمی کے موازنے میں برابری عوام کے لیے اچھا شگون نہیں ۔


ای پیپر