ایک خوبصورت روایت ۔۔۔ !
21 جنوری 2019 2019-01-21

ہم جماعتوں کاآپس میں مل بیٹھنا اور برسوں بلکہ عشروں قبل کی یادوں کو تازہ کرنا یقیناًاپنے اندر بڑی کشش رکھتا ہے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے فارغ التحصیل طلبا جو اپنے آپ کو اولڈ راوینز کہلانا پسند کرتے ہیں وہ ہر سال مل بیٹھنے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ یہاں پنڈی میں سر سید سکول و کالج کے قدیم طلبا جو سرسیدین کے نام سے معروف ہیں وہ بھی اس روایت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ سرسید کالج کے قیام کے 50 سال (1968 تا 2018 ) مکمل ہونے پر پچھلے دنوں سرسید ین ایلومینائی کے تحت گولڈن جوبلی ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں سرسید سکول و کالج سے پچھلے تقریباً چار عشروں میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبا نے بڑے جوش و جذبے سے شرکت کی۔ یقیناًیہ ایک یادگار تقریب تھی جس کا مدتوں ذکر ہو تا رہے گا۔ تاہم اس سے ہٹ کر بھی ایف جی سرسید سیکنڈری سکول راولپنڈی سے فارغ التحصیل کچھ پرانے طلبا پچھلے کئی سالوں سے باہم مل بیٹھنے (Get Togather )کی خوبصورت روایت کو قائم رکھے ہوئے ہیں جس میں وہ اپنے پرانے اساتذہ کو (جو بقیدِ حیات ہیں) بڑے ادب و احترام اور خلوص دل سے شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ چند دن قبل راولپنڈی مال روڈ پر آرٹلری آفیسر ز میس میں اسی طرح کی ظہرانے (Lunch ) کی ایک دعوت منعقد کی گئی جس کا اہتمام سرسید سکول کے ایک قدیم طالب علم زاہد منیر بٹ (سیشن 1982 کلاس X-D )نے کیا تھا۔ زاہد امریکہ میں مقیم ہیں اور ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں اُنہوں نے ظہرانے کی اس دعوت میں اپنے ہم جماعت بعض ساتھیوں کے ساتھ بقیدِ حیات اپنے بعض پرانے اساتذہ کو بھی بلا رکھا تھا۔ اساتذہ میں راقم کے علاوہ سر امیر ملک (جو اڈہالی خوشاب سے دعوت میں شرکت کے لیے بطورِ خاص تشریف لائے) ، سر سلطان شاہین ، سر اختر چوہدری، سر محبت خان نیازی، سر نبی بخش ضیاء اور سر غلام رسول ملک (برسر) مدعوئین میں شامل تھے۔ محترم ڈاکٹر قاضی محمد عیاض علالت کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔ میں طبیعت کی خرابی کے باوجود انکار نہ کر سکا کہ شاگردِ رشید راجہ ارشد اس دعوت میں شرکت کے لیے مسلسل یاددہانی کراتے رہے۔

سرسید سکول کے سیشن 1982 کی کلاس 10-D سے تعلق رکھنے والے تقریباً ڈیڑھ درجن قدیم طلبا اس دعوت میں موجود تھے۔ ان کے چہرے شناسا ہونے کے باوجود مجھے سب کے نام یاد نہیں ہیں کہ کم و بیش 4 عشروں کا طویل عرصہ بیت چکا ہے اور پھر میری یادداشت بھی کچھ اچھی نہیں رہی۔ میں نے عزیزی ارشد راجہ کو فون کر کے اپنی اس کمزوری کا کچھ تذکرہ کیا تو ارشد نے کمال مہربانی سے مجھے دعوت میں موجود شاگردانِ عزیز کے ناموں کی یادہانی ہی نہیں کرا دی بلکہ اُن کے سکول کے زمانہ طالب علمی سے متعلقہ کچھ باتوں کے اشارے بھی دئیے تاکہ اُن کے بارے میں میری یاداشت تازہ ہو سکے۔ دعوت میں موجود شاگردانِ رشید میں میزبان زاہد منیر بٹ کے ساتھ عزیزی منصور (مرحوم رفیقِ کار منظور حسین نسیم کے صاحبزادے)، ہمیشہ کی طرح چاق و چوبند کرنل احسان، محمد عثمان ربانی، عزیزی مقصود (حبیب ساؤنڈ لالکڑتی) ، بھاری بھرکم احمد سعید ، طویل القامت شیخ راشد، باریش راجہ ارشد اعظم، زاہد مقصود (لالکڑتی) ، دھان پان ناصر (ڈھیری حسن آباد)، ملک اشفاق (ٹائر شاپ صدر) ، عامر سلیم (بائیر کیمیکلز ) ، منصور ستاراور عرفان میر(فارمسٹیوکل کمپنی) شامل تھے۔راجہ ارشد نے یاد دلایا کہ وہ، عرفان میر اور احتشام چھٹی جماعت سے بی اے تک ہم جماعت ہی نہیں رہے بلکہ گہرے دوست بھی چلے آ رہے ہیں۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے نائب صدر بدر ہارون بروقت اطلاع نہ ہوسکنے اور بریگیڈئیر( ریٹائرڈ )شہر یار کراچی میں ہونے کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔ آرٹلری میس کے مین ہال میں بوفے لنچ کے ساتھ گپ شپ چلتی رہی اورحالاتِ حاضرہ کے ساتھ پرانی باتوں اور یادوں کے حوالے بھی آتے رہے ۔ بعد میں لان میں شاگردانِ رشید اور ہم اساتذہ کا گروپ فوٹو بنایا گیا اور میزبان کی طرف سے گرم اُونی مفلر اور ٹوپیاں بطورِ گفٹ پیش کئے گئے۔

پرانے ہم جماعت دوستوں کے باہم مل بیٹھنے (Get Togather ) کا ذکر چلا ہے تو دسمبر کے آخری ہفتے میں معروف سرجن ڈاکٹر فرخ قیوم کی رہائش گاہ بحریہ ٹاؤن فیز VII میں منعقدہ دعوت کا تذکرہ ضرور کیا جانا چاہیے کہ یہ بھی ایک خوبصورت ، پُروقار اور پُر کشش تقریب تھی جس میں مجھے اپنے رفیقِ کار سر سلطان شاہین کے ہمراہ چار عشروں قبل کے تقریباً درجن بھر اپنے قدیم شاگردوں جن میں ڈاکٹر عرفان بابر، ڈاکٹر زبیر جاوید، مصطفی سیف الدین، حسیب الرحمان، عامر کیانی، خالد قریشی، طارق نسیم اور عزیزی مقیم شامل تھے کے ساتھ ڈاکٹر فرخ قیوم اور اُن کے برادرِ اکبر پروفیسر آف آرتھو پیڈک سرجری ڈاکٹر نےئر قیوم کی پُرتکلف اور پُر خلوص میزبانی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر فرخ قیوم اور ڈاکٹر نےئر قیوم دونوں بھائی ایف جی سرسید سیکنڈری سکول میں کئی برسوں تک میرے شاگرد رہے۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر عرفان بابر، حسیب الرحمان، مصطفی سیف الدین، محمد علی مسعود ، عظیم نیاز ترمذی، ڈاکٹر سجاد شامی، عامر رؤف کیانی، ڈاکٹر علی گوہر اور ڈاکٹر زبیر جاوید وغیرہ بھی میرے چہیتے شاگردوں میں شامل تھے۔ گذشتہ صدی کی ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں فیڈرل بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اسلام آباد کا قیام عمل میں آیا تو بورڈ نے جماعت نہم اور جماعت دہم (SSC-I اور SSC-II ) کے الگ الگ امتحانات لینے شروع کیے۔ بورڈ کا پہلا امتحان مارچ 1977 میں ہوا توہماری جماعت نہم اور جماعت دہم کے سٹوڈنٹس نے اس میں شرکت کی۔ بورڈ کا نتیجہ آیا تو میری کلاس نہم ڈی کے دو ہونہار طالب علموں سجاد شامی اور عرفان بابر جن کا حوالہ اُوپر آ چکا ہے نے SSC-I کے امتحان میں بورڈ میں علی الترتیب پہلی اور دوسری پوزیشنیں حاصل کیں۔

ڈاکٹر عرفان بابر معروف فزیشن (سپیشلسٹ ) ہیں اور انگلینڈ میں ہوتے ہیں اکثر اپنے سکول کے زمانہ طالب علمی کے حوالے سے مجھے کچھ پرانی یاد گار تصویریں اور تحریریں بھیجتے رہتے ہیں ۔ بہت ہی محبت اور احترام کا اظہار کرتے ہیں ۔ پچھلے سال انگلینڈ سے آئے تو بطورِ خاص مجھے ملنے کے لیے ہی نہیں آئے بلکہ میرے لیے Water Man of Paris کا پین اور بال پوائنٹ کا قیمتی سیٹ بھی لے کر آئے جس پر انہوں نے میرا نام بھی کندہ کروا رکھا تھا۔ ڈاکٹر سجاد شامی غالباً انجینئرنگ کے شعبہ میں پی ایچ ڈی ہیں ۔ بہت عرصہ بیرونِ ملک خدمات سرانجام دینے کے بعد اپنے آبائی شہر لاہور میں رہتے ہیں۔ ڈاکٹر فرخ قیوم کا شعبہ سرجری ہے بیسیوں برس سعودی عرب میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اور ان دنوں صحت کی خرابی کی وجہ سے انہوں نے پریکٹس کو معطل کر رکھا ہے لیکن اُن کی شگفتگی اور طبیعت کی شوخی بدستور قائم ہے۔ ڈاکٹر زبیر جاوید بھی آرتھو پیڈک سرجری میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے پُول پر بینظیر ہسپتال اور ہولی فیملی ہسپتال سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر فرخ قیوم کے بڑے بھائی ڈاکٹر نئیر قیوم راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر اور ڈین آف آرتھو پیڈک سرجری اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال راولپنڈی میں ہیڈ آف آرتھو پیڈک ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ مصطفی سیف الدین انتہائی نفیس اور مودب شخصیت کے مالک ہیں اُن کا تعلق راولپنڈی صدر کی معروف بوہرہ فیملی سے ہے ۔ حسیب الرحمن کی والد محترمہ مسز حبیب سرسید گرلز سکول میں ہماری رفیق کار تھیں اُن کے والد حبیب الرحمن مرحوم مشہور صحافی اور جنگ و اخبارِ جہاں کے اسلام آباد میں خصوصی نمائندے ہوئے کرتے تھے۔ عامر کیانی غالباً پہلے فوج میں رہے اور آج کل ایرا سے وابستہ ہیں۔ طارق نسیم فوج سے بطورِ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرہونے کے بعد اب بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔عزیزی مقیم کا صدر میں سپےئر پارٹس کا کاروبار ہے جبکہ خالد قریشی پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

ڈاکٹر نئیر قیوم کے بحریہ فیز VII میں واقع گھر کے پہلو میں دائیں طرف نیچے دریائے سواں بہتا ہے۔ ڈاکٹر نئیر قیوم کے لان میں کھڑے ہو کر ے سواں کی خاموش موجوں کو دیکھ کر مجھے یاد آ رہا تھا کہ میرا آبائی گاؤں چونترہ بھی اسی دریا کے کنارے آباد ہے اور برسات میں سواں میں جب طغیانی آتی ہے تو اس کی موجیں اتنی شوریدہ سر ہو جاتی ہیں کہ دور دور تک پھیل جاتی ہیں۔ دریا کے کنارے کھڑے ہو کر مجھے کئی زمانے یاد آ رہے تھے اور میں علامہ اقبال کی شہرہ آفاق نظم ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کا یہ شعردہرا رہا تھا ؂

اے آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی

دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب

ایف جی سرسید سیکنڈری سکول اور بعد میں ایف جی سرسید کالج سے فارغ التحصیل بہت سارے سٹوڈنٹس اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے اور اب بھی وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان میں سے بعض کا قومی زندگی میں بڑا کردار ہے ۔ ان سب کا تذکرہ شاید میرے لیے ممکن نہیں لیکن کچھ کا تذکرہ ضرورہو گا لیکن اُس سے زیادہ ضروری کچھ رفقائے کار کا تذکرہ ہے جو ہنوز باقی ہے۔


ای پیپر