سانحہ ماڈل ٹاؤن سے سانحہ ساہیوال تک
21 جنوری 2019 2019-01-21

ٹی ٹی پی اور لسانی گروہوں کی دہشت گردی پر تو سیکورٹی فورسز نے ناقابل فراموش قربانیاں دے کربڑی حد تک قابو پالیا لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ’’ پولیس گردی‘‘ کے عفریت سے قو م کو نجات کب اور کیسے ملے گی؟ پاکستان کوبنے 71برس بیت گئے ، ان گزشتہ سات دہائیوں میں ا س سرزمین نے انواع واقسام کی حکومتوں کانظارہ کیا، مارشل لاء کے رنگ ڈھنک دیکھے اور سیاسی جماعتوں کا اقتداربھی‘ لیکن پولیس کا’’پرنالہ‘‘ بدستور وہیں رہا۔ ہردورمیں تھانہ کلچر اور پولیس ریفارمز کے اعلانات سن سن کر شہریوں کے کان پک گئے لیکن پولیس میں چند فیصد بھی بہتری دیکھنے کو نہیں ملی۔نت نئی پولیس فورسز تشکیل دی گئیں،تنخواہیں، مراعات ،سازوسامان اور گاڑیاں بڑھائی دی گئیں لیکن نتیجہ ندارد۔

گزشتہ دنوں ساہیوال میں ’’پولیس گردی ‘‘کی تازہ واردات نے اہل وطن کو شدید غم زدہ کردیا جس میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ایک کار پر فائرنگ کر کے تین معصوم بچوں کے سامنے ماں باپ، بہن اور ڈرائیور کو بیدردی سے قتل کردیا اورسی ٹی ڈی کا موقف قطعی غلط ثابت ہو ا کہ یہ لوگ دہشت گرد تھے ۔ بعدمیں سی ٹی ٹی نے پینترا بدلا کہ صرف گاڑ ی چلانے والا ذیشان دہشت گردتھااور اس نے فیملی کو بورے والا تک لفٹ دی تھی تاہم یہ دعویٰ بھی جھوٹا نکلا۔ اس سانحہ کے متعلق بہت سی دلدوز تفصیلات میڈیا کے اس تیزترین دور میں لوگوں تک پہنچ چکی ہیں جنہیں یہاں دہرانا چنداں ضروری نہیں۔

شہریوں کے تحفظ کے نام پرقائم محکمہ انسداد دہشت گردی کے ہاتھوں چار معصوم شہریوں کے اندوہناک قتل نے ایک بارپھر پولیس کارکردگی پر بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں اور واضح طور محسوس ہونے لگاہے کہ پولیس کا فرسودہ کلچر اور اس کی سنگ دلی روشنیوں اور جدت کے اس دور میں بھی پوری طرح قائم ہے اور ’’زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد‘‘۔ کے مصدا ق ’’ڈھیٹ پن ‘‘کا شکار یہ ادارہ ذرا بھی اپنی روش بدلنے کو تیارنہیں۔

بظاہر تو وزیر اعظم کے فوری نوٹس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر سانحہ میں ملوث اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس گرفتار ی کانتیجہ کیانکلے گا؟ اس کامختصرجواب بس یہی ہے کہ’’ کچھ بھی نہیں ‘‘۔ایسی گرفتاریوں،انکوائریوں اور عدالتی ٹرائل سے شیرجوانوں کی صحت پر کچھ اثرنہیں پڑتا اور پولیس اہلکار سنگین جرائم کے باربار مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن ، سانحہ ڈسکہ ، سانحہ سیٹلائٹ ٹاؤن ( پنڈی) سمیت بہت سے جعلی مقابلوں اور راؤ انوار جیسے پولیس افسروں کو قانون کی مددسے کیفر کردار تک پہنچادیاجاتا تو آج یہ افسوس ناک واقعہ رونما نہ ہوتا۔ہمارا المیہ ہے کہ ہم ہر پولیس گردی کے بعد دو چار دن رو دھو کر بیٹھ جاتے ہیں او رپھر کسی نئے سانحے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جعلی پولیس مقابلوں میں ملوث جتنے بھی اہلکار گرفتار کیے گئے کوئی ایک بھی انجام کو نہ پہنچ سکا کہ جس سے دوسرے اہلکار عبرت حاصل کرتے۔ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے نقیب اللہ محسود کے والدنے تین دن پیشتر ہی بیان دیا کہ راؤ انوار کوپولیس کی طرف سے مکمل پروٹوکول دیاجارہاہے اور ہم مطمئن نہیں ہیں۔کم و بیش یہی صورت حال جعلی پولیس مقابلوں سے متعلق دیگر کیسزکی ہے ۔

یوں توپاکستان میں ہونے والے ان پولیس مقابلوں کو ہمیشہ شکوک وشبہات کی نظروں سے دیکھا جاتارہا ہے تاہم حال ہی میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں 2117 پولیس مقابلوں میں3345افرادمارے گئے ۔ ان مقابلوں میں صوبہ سندھ پہلے اور پنجاب دوسرے نمبرپر ہے اوربیش تر مقابلے جعلی تھے ۔ تنظیم کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف میڈیا پر آنے والی خبروں سے لیے گئے ہیں جبکہ پولیس رپورٹس کے مطابق مقابلوں میں مارے جانے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

جب سے دہشت گردی کے خلاف مستحکم بنیادوں پر نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیااوراس کے تحت نت نئی پولیس فورسز تشکیل دے کر ان پر اربوں روپے خرچ کیے گئے وطن عزیز کے شہری یہ جان بیٹھے تھے کہ شاید اب پولیس نے اپنا قبلہ درست کر کے فرائض منصبی کماحقہ بجا لانے کے لئے کمر کس لی ہے لیکن سانحہ ساہیوال جیسے واقعات اس کی قطعی طورنفی کرتے ہیں۔ اسی حوالے سے پانچ جنوری2018ء کو خفیہ اداروں نے اعلیٰ حکام کو لکھا کہ پولیس افسرعام طور پر مخالفین سے پیسے لے کر یا پروموشن کی خاطر بھی لوگوں کو فرضی مقابلوں میں مار دیتے ہیں اور ایسے واقعات میں ملوث متعدد اہلکاروں کے خلاف انکوائریاں التوا کا شکار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سانحہ ساہیوال بھی سی ٹی ڈی کی اسی سوچ کی غمازی کرتا ہے جس کی اعلیٰ سطح پرانویسٹی گیشن کر کے ذمہ داروں کا تعین کیاجانا چاہیے۔

طویل عرصہ سے جاری اس پولیس گردی جس میں لاتعدادلوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں کے بارے میں ایک عام شہری سوچتا ہے کہ آخر یہ سب کیاہے ؟ ریاست اورقانون کس مرض کی دواہے؟ پولیس اس قدر کیوں شتر بے مہار ہے کہ اسے کوئی روکنے والا نہیں ؟یہ اہلکارکسی ضابطے اورقانون کے پابند کیوں نہیں اوریہ کب تک معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل کر اپنے سینے پر جرات و بہادری کے جھوٹے اورخون آلود تمغے سجاتے رہیں گے ؟یقین جانیے کہ ہمارے پاس تووہ الفاظ بھی نہیں جن کاسہارا لے کر اس سانحہ کی مذمت اور متاثرہ معصوم بچوں کی اشک شوئی کی جائے۔ وطن عزیزکا ہر شہری اس پر گہری تشویش کاشکار ہے اوراس میں ملوث میں اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچتادیکھنا چاہتاہے ۔ راؤ انوارسمیت دیگر بہت سے خود ساختہ پولیس ہیروز کاکڑا احتساب اس دھرتی کے ہر شہری کے دل کی آواز ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ ایک اعلیٰ پولیس افسر جو فرضی مقابلوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا ‘ جب اپنے انجام کو پہنچا تو ایک دکھیار ی ماں نے کہاتھا : ’’اس کی عبرت ناک موت کا سن کر میرا کلیجہ ٹھنڈاہوگیا ہے۔ اس ظالم نے میرے اکلوتے بیٹے کو جعلی مقابلے میں ماردیا تھا‘‘۔اگر وطن عزیز کا قانون اندھا ،گونگا،بہرہ اوراپاہج نہیں تو پھرپولیس گردی میں ملوث ایک ایک اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچنا چاہیے۔ جس وقت سانحہ ماڈل ٹاؤن سے سانحہ ساہیوال تک کے ذمہ داروں سمیت پولیس کے دیگر خود ساختہ ہیروز بھی قانون کے ہاتھوں انجام کو پہنچیں گے توشایدان سانحات کے متاثرین کی بھی کچھ اشک شوئی ہو سکے اور وہ بھی کہہ سکیں کہ ’’ قانون تیرا شکریہ!آج ہماارا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا ہے‘‘ ۔اللہ کرے ایسا جلد ممکن ہو۔


ای پیپر