مدرسہ ڈسکورس ان قطر!(2)
21 جنوری 2019 2019-01-21

ایک اہم سوال اسلامی ممالک میں بسنے والے غیر مسلم باشندوں کے بارے میں تھا ، ان کے بارے میں کلاسیکی فقہی تصور یہ تھا کہ وہ ’’اہل ذمہ‘‘ ہیں اور ان کی حیثیت ایسے شہریوں کی ہے جنہیں ایک معاہدے کے تحت جان ومال کا تحفظ اور مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن شہری وسیاسی حقوق میں انہیں برابری حاصل نہیں ۔ لیکن جدید جمہوری ریاستوں کے وجود میں آنے کے بعد یہ تصور پس منظر میں چلا گیا اور اس کی جگہ نئے تصورات نے لے لی۔ایک سوال یہ تھا کہ کیا اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو اہم حکومتی مناصب اور ذمہ داریاں تفویض کی جا سکتی ہیں ۔ کلاسیکی فقہی روایت میں اس کی گنجائش نہیں ملتی البتہ موجودہ دور میں کہ جب قانون اور نظام کی بالادستی مسلم ہے اورہر صاحب منصب جواب دہ ہے تو ایسی صورت میں قانونی نقطہ نظر سے کسی غیر مسلم کو انتظامی ذمہ داری سونپنے میں بظاہر کوئی حرج دکھائی نہیں دیتا اور پاکستان جیسی نظریاتی ریاست میں عملا اسے قبول بھی کیا گیا ہے ۔ ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ غیر مسلموں کی اسلام دشمنی کے بارے میں جو نصوص وارد ہوئی ہیں ان کا اصل منشاء کیا ہے او ر ان نصوص کی موجودگی میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی ، دور جدید کے تقاضوں کے مطابق بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی ممانعت علی الاطلاق نہیں بلکہ کسی غیر مسلم گروہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا فیصلہ خود اس گروہ کے رویے کی روشنی میں کیا جائے گا ۔ ایک سوال یہ تھا کہ مسلم ممالک میں رہنے والے غیر مسلم شہریوں پر شرعی قوانین کا نفاذ ہو گا یا نہیں ، جدید مسلم مفکرین نے پرسنل لازکو یعنی نکاح و طلاق وغیرہ کے علاوہ تعزیری قوانین کو پبلک لاء کے طور پر ان پر بھی قابل تنفیذ قرار دیا ہے ۔ مزید یہ کہ جن جرائم کی اخلاقی قباحت مسلم اور ان کا تعلق مشترکہ انسانی اقدار اور جان و مال کے تحفظ سے ہے ان کا نفاذ بلاامتیاز مذہب ہر ایک پر کیا جائے گا اورجن جرائم کی اخلاقی قباحت مختلف فیہ ہے ان میں اس شرط کے ساتھ نرمی برتی جائے گی کہ وہ متعدی اثرات کا موجب نہ ہوں ۔ایک سوال قادیانیوں کی قانونی حیثیت سے متعلق تھا ، اس ضمن میں بھی روایتی فقہی تصور اور مذہبی تعبیرات میں یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص قصدا دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے تو پہلے تو اسے توبہ کا موقعہ دیا جائے گا ، پھر بھی اگر وہ باز نہ آئے تو اسے قتل کر دیا جائے گا ۔ لیکن پچھلی صدی میں برصغیر میں جب قادیانیت کے فتنے نے سر اٹھایا اس وقت مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی لہذا اس فقہی تعبیر پر عمل ممکن نہیں تھا ۔ لہذا علامہ اقبال کی اس تجویز پر عمل کیا گیا کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قراد دیا جائے ۔پاکستان بننے کے بعد بھی اسی تجویز پر اتفاق رائے کر لیا گیا اورآئین میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا ۔علماء نے نتیجے کے طور پر علامہ اقبال کی تجویزکو قبو ل تو کر لیا مگر اس کے پیچھے جو نظریہ کار فرما تھا اس پر غو رنہیں کر سکے جس کی وجہ سے قادیانیت کا مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ ایک پریزنٹیشن مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق اور علماء دیوبند کے نظریہ ارتقاء کے تناظر میں پیش کی گئی تھی ۔اس مقالے میں ڈارون کے نظریہ ارتقا ء کو بنیاد بنایا گیا تھا ۔ایک پریزنٹیشن میں تاریخ عظیم کا تعارف کرایا گیا اور بتایاگیا کہ کس طرح اس سے پورا ورلڈویو تبدیل ہوکررہ جاتا ہے اورمذہب کے سامنے کیسے سوالات کھڑ ے ہوتے ہیں ۔ایک پیپرسائنسی دوراورمذہبی بیانیے کے عنوان سے پیش کیا گیاجس میں اب تک پیش کیے گئے مذہبی بیانیوں اوران پر وارد ہونے والے اشکالات کا جائزہ لیاگیا۔ایک سوال یہ اٹھایا گیا کہ کیا اسلامی قانون میں تبدیلی اورcontiniuty برابرجاری رہ سکتے ہیں۔ایک پیپر میں قرآنی نصوص کی تاویل کے مسئلہ کاابن رشدکے حوالہ سے جائزہ لیا گیا۔اگلی پریزنٹیشن میں احترام انسانی کے تصورکا جائزہ لیاگیا۔ایک سوال پاکستان میں حنفی فقہ کے پس منظرمیں بلاسفیمی لاء کے حوالے سیسامنے آیا۔ایک پیپر میں مولانااحمدرضاخاں بریلوی کے بعض نظریات کا جائزہ لیا گیا۔اگلی پریزنٹیشن میں ارتدادکی سزاپرنئے سرے سے غوروفکرکی ضرورت پر نتائج فکر پیش کیے گئے۔ایک پیپر میں شان نزول کی روایتوں کا سہارا لے کر فہم قرآن میں تاریخی تناظرکے کردارپربات کی گئی۔ایک سوال اسلام اور انسانی حریت کے حوالے سے اٹھایا گیا اور اس پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔آخری پیپر میں دل ودماغ کے بارے میں جدید میڈیکل تحقیقات اوران کے اطلاقات کے فکری وفقہی نتائج سے بحث کی گئی۔مزید یہ کہ ہمیں تحقیق و جستجو کے نتیجے میں اپنی تھیالوجی کو موجودہ دور کی علمیات کے مطابق بنانے کی سعی کرتے رہنا چاہئے۔

مذکورہ بالا جتنے بھی سوالات اس ورکشاپ میں ڈسکس ہوئے اور جتنی بھی پریزنٹیشنز دی گئی ان کا بنیادی مقصد ان مسائل پر آذادانہ غور و فکر اور دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ان کا حل پیش کرنا تھا ۔ مدرسہ ڈسکورس کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ کلاسیکی اسلامی علمی روایت کے احیاء کی کوشش کی جائے ۔ ایک اہم بات جو میں نے ورکشاپ میں بھی عرض کی تھی کہ کورس کے بعض شرکاء اور عمومی طور پر سوسائٹی میں بھی یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ ہمارے دینی ادارے اور علماء دور جدید کے ان سوالات کو رسپانڈکیوں نہیں کر رہے اور اس اعتراض کو بنیاد بنا کر بعض اوقات مدارس اور علماء کے بارے میں غیر مناسب اور ناشائستہ رویہ اپنایا جا تا ہے ، تو میں نے عرض کیا تھا کہ ہر کام کو مدارس اور علماء کے کھاتے میں ڈال دینا مناسب نہیں ۔ مدارس اور علماء کا دائرہ کار محدود اور وسائل بہت کم ہیں اور اتنے محدود وسائل کے ساتھ اپنا وجود برقرار رکھنا اور معاشرے کو دینی راہنمائی فراہم کرتے رہنا ہی بڑی بات ہے ۔ نظریہ ارتقاء اور اس جیسے دیگر سائنسی و فکری مسائل پر غور و فکر اور ریسرچ کے لیے وقت اور سرمایہ دونوں درکار ہیں ۔بذات خود مغرب میں اگران سوالات پر ریسرچ ہو رہی ہے تو یہ کام کلیسا یا کوئی مذہبی ادارہ نہیں کر رہا بلکہ وہاں کی یونیورسٹیوں میں ہو رہے ہیں اس لیے کچھ کام ہماری یونیورسٹیوں کو بھی کرنا چاہئے اور ہمارے عصری تعلیمی اداروں اور ماہرین تعلیم و تحقیق کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے ۔ خود اسلامی علمی روایت جب اپنے عروج پر تھی تب یہ کام کسی مذہبی ادارے میں نہیں بلکہ عام تعلیمی اداروں میں ہوا تھا۔ ایک اور اہم بات کہ اپنی علمی روایت کے احیاء کے لیے ایسے افراد ناگزیر ہیں جو پختہ ذہن کے حامل ، اپنی علمی روایت کا گہرا ادارک ، بڑوں پر کامل اعتماد ، وسیع مطالعہ اور تنقیدی نقطہ نظر کے حامل ہوں ۔ ایسے لوگ جن کا ذہن ناپختہ ، مطالعہ محدود ، تنقیدی ذہن سے عاری ، ہر کس و ناکس سے متاثر اور ہر علمی و فکری مسئلے پرفورا ایمان لانے والے ہوں ان سے علمی روایت کے احیاء کی امید نہیں لگائی جا سکتی اورایسے لوگ بجائے فائدے کے الٹا نقصان کا باعث بنتے ہیں ۔ ایسے لوگ ادھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے اور کم از کم ایسے لوگوں سے کسی بہتری کی امیدنہیں کی جا سکتی ۔ علمی روایت کا احیاء بڑا اہم کام ہے کہ اس میں مختلف ذہن کھپانے پڑتے ہیں اور ہر ذہن اپنی استعداد کے مطابق غور فکر اور تحقیق و جستجو کرتا اور کسی نتیجہ فکر تک پہنچتا ہے ۔یہ تحقیق و جستجو اور نتائج غلط بھی ہو سکتے ہیں لہذا صحیح نتائج کے ساتھ بعضوں کے گمراہ ہونے کا خدشہ بھی بدستور موجود رہتا ہے ۔ اس لیے اس کام کے لیے ایسے افراد کا چناؤ ناگزیرہے جو غیر معمولی صلاحیت کے حامل اورکامل درجے کا تنقیدی شعور رکھتے ہوں بصورت دیگر بجائے فائدے کے الٹا نقصان کا خدشہ ہے۔


ای پیپر