میڈیا والے خود میڈیا کو دیکھیں
21 جنوری 2019 2019-01-21

جناب میجر جنرل آصف غفور ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا سے کہا تھا کہ اگر صرف 6 ماہ میڈیا مثبت رخ پیش کر دے تو دیکھیں پاکستان کہاں جاتا ہے جس پر میں نے لکھا تھا کہ حکومت وقت صرف چھ ماہ اگر کوئی مثبت کارکردگی ہے تو اسے میڈیا اور عوام کو پیش کرے تو شاید میڈیا بھی مثبت دکھائی دے گا ورنہ اہل اقتدار کسی پر الزام لگا کر اپنی کارگزاری پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ کیا سب نہیں جانتے کہ قرض لینا، قطر میں نوکریاں، تلور کے شکار کی اجازت سعودیہ سے مدد، مہنگائی ، بیروزگاری ، ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی، بل گیٹس کو پیشکش، چائنہ کی ترقی کو اپنی ترقی سمجھنا، بدکلامی، الزام تراشی، سیاسی مخالفین کا یکطرفہ احتساب، تمام گناہوں کا سبب سابقہ ادوار کو قرار دینا اور پھر 1973ء کے آئین، اسلامی سربراہی کانفرنس کی چیئرمین شپ ،جمہوری جدوجہد ،سی پیک ،اورنج ٹرین منصوبہ، سیف سٹی، 1122 سروس، 15 سروس، گوادر، ایران گیس پائپ لائن ، ایٹمی صلاحیت، میزائل ٹیکنالوجی، معیاری ہسپتالز، موٹرویز، ہائی ویز، ٹرانسفر آف پاور، دہشت گردی پر کنٹرول، جمہوریت کی بحالی کو نظر انداز کر دیناموجودہ حکومت کی بخل اور بدنیتی پر مبنی پالیسی ہے۔ بار بار بجٹ پیش کرنا، حکومتی اختیار کس کے پاس ہیں معمہ بن جانا موجودہ حکومت کا طرۂ امتیاز ہے لیکن افسوس کے ان حالات میں میڈیا اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے کاروبار کر رہا ہے۔ فواد چوہدری، رانا ثناء اللہ، طلال چوہدری، مریم اورنگزیب، فیصل جاوید، فیصل واوڈا ہی اس ملک کے میڈیا کے ذریعے عوام کی تقدیر میں لکھ دیئے گئے جبکہ ان جیسوں کے چہرے امانت کر کے دفنا دینے چاہئیں۔ عمران ، زرداری ، نواز کے علاوہ بھی کوئی اس ملک میں ہے کہ نہیں؟نیب ، ایف آئی اے کے علاوہ بھی کوئی ادارہ اس ملک میں ہے کہ نہیں؟ فواد چوہدری کے علاوہ کوئی دانشور ہی نہیں رہا جو بلاول سے یہ کہے کہ بلاول نے تاریخ نہیں دیکھی جبکہ فواد کے مخالفین کے بقول یہ عدالتی ٹاؤٹ ہیں بندہ ان سے پوچھے کہ بھٹو سے بلاول تک سیاسی قربانیوں اور پیپلزپارٹی کی جمہوری جدوجہد کے علاوہ اس ملک میں ڈرائنگ روم کی سیاست اور دلالی کے علاوہ بچتا ہی کیا ہے۔ بھٹو کے نواسے، بینظیر کے بیٹے سے چوہدری الطاف کا بھتیجا ، مشرف اور گیلانی کا ، میڈیا مین فواد کہہ رہا ہے کہ بلاول نے تاریخ نہیں دیکھی۔ آج کی دنیا میں میڈیا کا بہت کردار ہے یہ کسی بھی معاشرے کی رائے عامہ ، اجتماعی اور قومی سوچ کا تعین کرتا ہے ۔ ہمارے ہاں بنیادی طور پر بھیڑ چال کا رواج ہے۔ اگر ایک ٹاک شو ہے تو ویسے ہی دیگر ٹاک شوز ملیں گے۔ کامیڈی شو ہے تو اس میں تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی ورثہ اور روایات کا خیال رکھے بغیر چل سو چل ہوئی پڑی ہے۔ سٹیج شوز کے عروج زمانے میں جب یہ تھیٹر ، سنیما گھروں میں چلتے تھے ۔ ذومعنی فقرے و بے ہودہ جگتیں، فحش ڈانس میں جو شو آگے ہوتا اس کو لوگ دیکھتے ۔انتظامیہ کو باقاعدہ اس پر سخت ایکشن لینا پڑتا تھا ۔ پھر یہ تھیٹر تھوڑی بہت ترمیم کربعد پروگرام کی صورت میں ٹی وی چینلز کی زینت بن گئے۔ آج ہر ٹی وی چینل پر ایک نہ ایک کامیڈی شو چل رہا ہے مجھے ذاتی طور پر خوش آئند حیرت ہے کہ ایچیسن کالج کی تعلیم یافتہ اور لیکچرر عائشہ جہانزیب نہایت شائستگی کے ساتھ کامیڈی شو چلا رہی ہیں۔ ان کے پروگرام میں علمی ، ادبی، سائنسی حوالے یا کسی نہ کسی نابغۂ روز گار شخصیت کا بھرپور تذکرہ، کسی ناقابل فراموش کتاب، کسی شاندار کہانی یا افسانے پر بنی فلم کا تجزیہ کسی تاریخی، سماجی حوالہ کا ذکر خوبصورت اور جامع انداز میں ضرور ملے گا مگر افسوس کے بے وجہ تنقید اور سوشل میڈیا پر ان کا عورت ہونا جرم بنا کر پیش کیا گیا۔آف دی ریکارڈ اُن کے خوبصورت stire طنز کہ کراچی نہیں حکمرانی کی وجہ سے اسلام آباد بڑا شہر کو خوب رگیدہ گیا ۔ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر تنقیدی معاشرہ بن چکا ہے حسد آکسیجن سے زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ بغض دوران خون کی جگہ لے چکا ہے ۔ یہی بغض، حسد اور بدخواہی ہمارے ہر شعبہ میں ہے وہ سیاست ہو، عدالت یا ثقافت ۔دراصل ہمارا معاشرہ جب تک مردوں کو دفنانا اور زندوں کو کندھا دینا نہیں سیکھتا ترقی نہیں کر پائے گا۔

میڈیا کے حوالے سے ہمارے ہاں خرابی اس وقت آئی جب الیکٹرانک میڈیا کا دروازہ کھولا گیا تو پرنٹ میڈیا کے لوگ ہی اس کے حصہ میں آئے۔ پرنٹ میڈیا کی روایات اور مزاج الیکٹرانک میڈیا سے بالکل مختلف ہے۔ الیکٹرانک میڈیا سے نکلی ہوئی بات سیکنڈز میں دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے اور اس کو دیکھنے والے کا پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں بلکہ ناخواندہ زیادہ دیکھتے اور متاثرہوتے ہیں اور اس پر سوشل میڈیا کا تڑکہ تو پوری دنیا کو ہی ننگا کیے ہوئے ہے لہٰذا الیکٹرانک میڈیا پر بھی کتاب دوست ہونے چاہئیں تعلیم یافتہ اور کتاب دوست میں بہت فرق ہے اگر کتاب دوست میڈیا پر بات کریں گے تو وہ کسی بنیاد پر ہو گی جبکہ محض رپورٹنگ ، بلیک میلنگ اور تعصب کی بنیاد پر تربیت پانے والے قارئین کی فکر اور سوچ کا خیال نہیں رکھیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میڈیا معاشرے کی راہوں کا تعین کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ جس وجہ سے جنرل جناب آصف غفور کو کہنا پڑا کہ صرف 6 ماہ ہی دے دیں۔

آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ CNN، BBC، ABC ، FOX NEWS کا کوئی اخبار نہیں ہے۔ Mirror ، نیو یارک ٹائمز، دی وال سٹریٹ جنرل، USA TIME ، ٹیلی گراف کا کوئی ٹی وی چینل نہیں ہے۔ غالباً اس کے پیچھے وزڈم یہی ہے کہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اپنے اپنے انداز اور مہارت کے ساتھ ملکی معاملات کا اور دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں۔ کراس چیک ہو لوگ رائے کا موازنہ کر سکیں۔ ہمارے ہاں یہ بڑی ہی بد نصیبی ہے کہ اخبار کھولو تو جس کو رات کو جھوٹ بولتے سنا ہے اداکاری کرتے دیکھا ہے اس کا لکھا ہوا کالم یا تجزیہ پڑھنے کو ملے گا۔ آج میڈیا نے لوگوں کو شعوری طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ میڈیا والے بھی میڈیا دیکھیں اور ذرا غور کریں کہ یہ کیا دکھا رہے ہیں۔ عجیب غدر مچا ہوا ہے۔ عدالتی ریمارکس، نیب کی کارروائیاں، سیاست دانوں کے تھیٹر والوں کا منہ چڑاتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف بیانات موجودہ دور میں تو حدوں کو بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ میڈیا نے ان لوگوں کو جن کی گھر میں کوئی نہیں سنتا لوگوں کی تقدیر میں لکھ دیئے ہیں۔ خدارا! اس سنگین مسئلہ پر غور کیا جائے کہ دنیا کی کوئی ترقی ، کوئی نیا نظریہ، کوئی احسن اقدام، کوئی مثبت پہلو حرام ہے اگر ہمارا میڈیا ہمیں دکھا دے۔ سیاست کولہو کے بیل کی طرح گھومتی چلی جا رہی ہے جو سرسوں نہیں عوام، معاشرے اور معاشرت کا تیل نکال رہی ہے اس پر کیا لکھا جا سکتا ہے۔ میڈیا والے ہی میڈیا کو دیکھ لیں شاید عوام پر ان کو ترس آجائے۔ خدارا لوگوں کو سانس آنے دو، آزاد کر دیں۔ یہ تب تک ممکن نہیں جب تک میڈیا والے خود میڈیا کو نہیں دیکھتے۔


ای پیپر