آخر ساہیوال سے لاہور تک ہوا کیا !!!
21 جنوری 2019 2019-01-21

ساہیوال واقعے میں پولیس کی بربربیت اور ±کھلی دہشتگردری نے دل میں ایک بار پھر سے پولیس گردی کے خلاف نفرت ابھار دی ہے۔ جب ماڈل ٹاو¿ن کے شہداءکا پولیس نے قتل عام کیا ، جب نقیب محسود کو ایک ایس پی نے قتل کیا ،جب کراچی میں ایک معصوم بچی کو پولیس نے قتل کیااور کسی کو پھانسی پر نہیں چڑھایا گیا بس جو مقتول تھے ان کی قبروں پر دعاو¿ں کا درس ہی دیا گیا۔

ہر قتل کے بعد مجھ سے رویا نہیں جاتا

اب لفظ مذمت بھی شرمسار ہے لوگو !

ساہیوال کے واقعے میں جو دہشتگردی پولیس نے کی ہے وہ کسی بھی صورت قابل معافی نہیں، ایک ہنسا بستا گھر اجاڑ دیا، جو بچے خوش قسمتی سے بچ گئے وہ ساری زندگی اپنی ماں کی چھاو¿ں اور باپ کی شفقت سے محروم ہو گئے اور اسی سوال کے تحت زندہ رہیں گے کہ ان کے ماں باپ کا آخر قصور کیا تھا؟

اور ہاں روز روز جب ماں باپ اور بہن کی خون مین لت پت لاشوں کے چہرے ان پھول جیسے بچوں کے سامنے گھوما کریں گے تو یہ زندگی کا ایک ایک پل ناجانے کس طرح صبر سے گزارسکیں گے۔ جب سے واقعہ سنا اور تفصیلات دیکھیں ہیں، دماغ میں بس یہی خیال بن رہا ہے کہ کل اگرکوئی بھی گاڑی پر کہیں جا رہا ہوا اور ایک دم پولیس کی گاڑی سامنے آ کرکسی پر بھی فائرنگ کر کے ناجانے ساتھ موجود کس کس کو قتل کر دے ۔ حکمران صاحب ، جتنا مرضی ان محافظوں کی حوصلہ افزائی کر لویہ اصل ناسور ہیں اس معاشرے کا جو عوام کو کسی سنگین قدم کی طرف لیجاتے ہیں۔دعا گو کہ اللہ ان شرپسند پولیس والوں کی بربریت سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔

”بارود سے بھری اور اسلحہ سے لیس گاڑی کی اطلاع پر مظلوم لوگوںکا قتل پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے، جس گاڑی کی اطلاع تھی وہ گاڑی اس کا مطلب ہے فرارہونے میں اور کہیں منزل مقصود پر پہنچنے میں کامیاب تو نہیں ہو گئی “ لہذا کل کو اب وہ دہشتگرد کہیں اورکاروائی کریںتو اس کا ذمہ دار کون ہو گا ؟

پولیس والے اسلحے سے لیس تھے، گاڑی میں موجود لوگ نہتے تھے اور ان میں بچے بھی تھے ، پہلے تو اگر شک یقینی تھا تو تلاشی لیتے ، نا جانے کیوں دہشتگردی دکھائی پولیس نے۔ اگر بچوں سے ڈر گئے تھے تو چوڑیاں پہنو ، بچی سے ڈر گئے تھے تو گھنگرو پہنو، اگر گاڑی میں موجود خواتین سے ڈر گئے تھے تو لپسٹک لگا کر گھر بیٹھو!!!خان صاحب۔۔۔ یتیم بچوں کو قاتلوں کے سر چاہئیں ، کیا متاثرہ خاندان کے یتیم بچوں کواس طرح انصاف مل پائے گا ؟

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہاں تو اپنے پیاروں کے قتل کے کیس میں دہائیاں گزر جاتی ہیں انصاف مانگتے مانگتے !

سی ٹی ڈی اہلکاروں نے بیچ سڑک پر نا کسی کو دیکھا، نا سنا، نا تحویل میں لیا ، نا تلاشی لی، بس! زندگی چھین لی۔پتا چلا ہے کہ مارے جانے والوں نے نہ صرف تحریک انصاف کو سپورٹ کیا بلکہ عمران خان صاحب کو سپورٹ کیا ، دل و جان سے سپورٹ کیا کیونکہ وہ عام آدمی کے مسائل کی بات کرتا ہے ، اب نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ عوام کوامید ہے کہ اس پولیس گردی کے واقعہ پروزیر اعظم پاکستان عمران خان کی حکومت ذمہ داروں کو پھانسی کے گھاٹ تک پہنچائے گی۔

لیکن اکثر اس طرح کے غیر انسانی واقعات ر ونما ہونے پر حکومت کی جانب سے تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل تودے دی جاتی ہیں ،اور واقعہ میں ملوث پولیس ملازمین کو نوکریوں سے معطلی یاپھر 2سے4 سال کی سزا دی جاتی ہے،جو بعد میں بحال ہو جاتے ہیں ،جس پر متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک کے بیچ و بیچ فائر کھولنے والے اور بچوں کے والدین کو بھوننے والے پولیس ملازمین کو پھانسی دی جائے ۔

دل دہلا دینے والے سانحہ ساہیوال کی فوٹیج نے کچا چٹھا کھول دیا،سی ٹی ڈی کے سارے دعووں کی قلعی کھل کرسامنے آ چکی ہے ۔ٹرک ڈرائیور کی جانب سے بنائی جانے والی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھاجاسکتاہے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گاڑی کو ٹکر مار کر روکا، مقتولین کی گاڑی سے پہلے بچوں کو اتارا،چند سیکنڈز بعد سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے سیدھی فائرنگ کردی۔فوٹیج نے یہ حقیقت بھی آشکار کردی گاڑی میں بیٹھے ذیشان اور مہرخلیل نے جوابی فائرنگ نہیں کی۔فائرنگ کرنے کے بعد سی ٹی ڈی اہلکار بچوں کو لے کر چلے گئے۔سارے منظر کی ویڈیو پیچھے کھڑی گاڑی میں بیٹھا شخص اپنے موبائل سے بناتا رہااور اس فوٹیج نے ساہیوال سانحہ کو کھل کربے نقاب کردیا ہے۔ ساہیوال واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آئی توسی ٹی ڈی کی جانب سے بھی نئی وضاحت سامنے آگئی۔ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایاگوجرانوالہ میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کرکے 2 مبینہ دہشت گرد ہلاک کردئیے ۔جنہوں نے ساہیوال میں مارے گئے ذیشان کے گھر میں پناہ لے رکھی تھی۔ ترجمان سی ٹی ڈی کےمطابق ٹی وی چینلز پر ساہیوال واقعے کی خبر چلی تو انہیں ذیشان کے مارے جانے کی اطلاع ملی۔انٹیلی جنس اہلکاروں نے شناخت کرکے تعاقب کیا ، توحملہ آوروں نے خود کش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔گھیرے میں لینے پر دونوں دہشتگردوںنے خود کو رات 10 بج کر ستاون منٹ پر دھماکے سے اڑالیا ، ان سے دستی بم بھی برآمد ہوئے۔دوسری جانب اس سے پہلے سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا گزشتہ روز سیف سٹی کیمرے سے ایک مشتبہ کار کی نشاندہی ہوئی،جس میں اگلی سیٹ پر 2 مرد موجود تھے اور وہ لاہور سے ساہیوال جارہے تھے،گاڑی کو روکنے پر کار کے ڈرائیور ذیشان نے سی ٹی ڈی ٹیم پر فائرنگ شروع کردی۔ دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد ذیشان ہلاک ہوگیا۔ترجمان سی ٹی ڈی کےمطابق ذیشان کے پاس دھماکا خیز مواد تھا اور خاندان کو بورے والا چھوڑنے کے بعد اس کا منصوبہ تھا کہ وہ اسے خانیوال یا ملتان میں کہیں چھوڑ دے۔اور سی ٹی ڈی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا” شائد“ خلیل کے خاندان کو ذیشان سے متعلق معلوم نہیں تھا، کہ وہ دہشت گرد بن چکا ہے، دہشت گردوں نے خاندان کو استعمال کیا اوروہ اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔

ساہیوال واقعے کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی۔13 سالہ بچی اریبہ کو 6 ،کار ڈرائیور ذیشان کو 10 گولیاں لگیں۔زخمی بچوں کی والدہ نبیلہ بی بی کو 4 گولیاں ماری گئی اور خلیل کو 13 گولیوں سے نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق چاروں افراد کو انتہائی قریب سے گولیاں ماری گئیں۔معاملے کی انویسٹی گیشن کیلئے جے آئی ٹی تشکیل بھی دی جا چکی ہے۔وزیر اعلیٰ کے حکم پر واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ایڈیشنل آئی جی اعجاز شاہ کی سربراہی میں بننے والی جے آئی ٹی تین روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے مطابق وزیر اعظم نے حقائق جلد منظر عام پر لانے کی ہدایت کی ہے،وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے واقعے پرافسوس کا اظہارکیا اوربولے! ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے رابطہ کرکے متاثرہ خاندان کو جلد انصاف کی فراہمی کی ہدایت بھی کی۔

اور اب سی ٹی ڈی کہتی ہے ، ذیشان دہشت گرد ہے ،لیکن ماں کا دل نہیں مانتا ، ،، ذیشان کی ماں کہتی ہے ، اس کا بیٹا دہشت گرد نہیں ،ایک تو بیٹا ماردیا اور ، پھر دہشت گردی کا الزام لگارہے ہیں،ذیشان کی والدہ نے عزم کیا ہے کہ معذور ہوں لیکن بیٹے کو انصاف دلاو¿ں گی ۔ذیشان کی بیٹی بھی غم سے نڈھال ہے۔ ساہیوال واقعے نے 2 خاندان اجاڑ دئیے ،غم کی تصویر بنی معذور ماں کا دل نہیں مانتا کہ ، بیٹا دہشت گرد ہوسکتا ہے ۔ کہتی ہیں ، مرکے بھی بیٹے کو انصاف دلاو¿ں گی۔ذیشان کی بیٹی کو ابھی بھی بابا کا انتظار ہے ۔ بتاتی ہے ،، پاپا تو انکل کے ساتھ شادی پر گئے تھے ۔

ذیشان دہشت گرد تھا یا عام شہری جے آئی ٹی کی رپورٹ 3 دن بعد بتائے گی ،تاہم سی ٹی ڈی کے پاس کیا ایسے ٹھوس شواہد تھے جن پر انہوں نے انتہائی سنگین کارروائی کی ۔ ساہیوال سانحہ کی ویڈیو منظر عا م پرآنے سے سی ٹی ڈی پنجاب کی نئی نئی وضاحتیں بھی سامنے آتی رہیں ۔سی ٹی ڈی کےمطابق ذیشان نے جنوبی پنجاب میں بارودی مواد منتقلی کے لئے خلیل کی فیملی کااستعمال کیا ، ساہیوال آپریشن حساس اداروں کے ساتھ مل کر کیاگیا۔

وزیر اعظم عمران خان ٹوئٹ میں کہتے ہیں، ساہیوال واقعے پر ابھی تک سکتے میں ہوں ، ریاست ان بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری پوری کرے گی،جے آئی ٹی کی رپورٹ آتے ہی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔بچوں نے والدین کو آنکھوں کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنتے دیکھا، بچوں کی حالت کیا ہوگی؟؟؟وزیر اعظم عمران خان کا ٹوئٹ یہ واقعہ ہر والدین کیلئے صدمے کا باعث ہے۔وزیر اعظم نے بچوں کی کفالت کی یقین دہانی کروا دی ہے ۔کہا،بچے اب ریاست کی ذمہ داری ہیں ،اگرچہ سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کے خلاف بہترین کام کیا ، لیکن کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ،جیسے ہی جے آئی ٹی کی رپورٹ آئے گی ذمہ داران کے خلاف فوراً ایکشن لیا جائے گا،اپنے تمام شہریوں کی حفاظت حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ اور اب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میں ساہیوال واقعے سے متعلق پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے ، واقعے کی شفاف تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے ۔مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے ،ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہوگی ۔ انصاف ناصرف ہوگا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔ اعلیٰ حکام نے وزیراعلی ٰ کو واقعے سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی۔اجلاس میں وزیرقانون پنجاب راجا بشارت ، چیف سیکرٹری،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،انسپکٹر جنرل پولیس اورمتعلقہ ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی،جن بچوں کے ماں ،باپ کو ان کی آنکھوں کے سامنے گولیوں سے چھلنی کیا گیا ۔وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر حکومتی عہدیداران انصاف کی بات زور و شور سے کرر ہے لیکن انصاف کی صرف باتیں نہیں انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چائیے ۔وزیر قانون نے جو پریس کانفرنس کی اس میں تقریبا سی ٹی ڈی کی” پریس ریلیز “ یا ان کا موقف ہی بیان کیا ،جبکہ انہیں شواہد کی بنیاد پر حکومتی موقف دینا چائیے تھا یا وہ کہہ سکتے تھے کہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے ،جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے ،تو اس وقت بہتر طور پر جواب دے سکوں گا ۔عرض صرف اتنی ہے کہ ماضی کے واقعات کی طرح یہ کیس بھی جے آئی ٹی اور دوسری انکوائریوں کی تلے نہ دب جائے کبھی تو کسی واقعہ کے حقائق سامنے آئیں گے ۔ذمہ داران کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق سلوک ہوگا،عوام صرف انصاف چاہتے ہیں کیا انہیں انصاف ملے گا یا اس بار پھر جھوٹے دلاسے۔

”زندگی خیرات تھی کوئی ہمیں جو دی گئی سر سے سایہ چھین کر پھر سرپرستی کی گئی !


ای پیپر