پلو ا مہ و ا قعہ اور مو دی سر کا ر کا حر بہ
21 فروری 2019 2019-02-21

پہلے تو یہ خبر ملا حظہ فر ما یئے۔ خبر کے مطا بق بھارتی فوج کے کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہودا نے اعتراف کیا ہے کہ پلوامہ حملے میں بھارت کا ہی بارود استعمال کیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق حملے میں ساڑھے سات سو پاؤنڈ بارود استعمال کیا گیا۔ بھارتی جنرل نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ یہ ممکن نہیں کہ اتنی بڑی مقدار میں بارود دراندازی کرکے اتنی دور لایا جاسکے۔ ان کی رائے میں جموں شاہراہ کو چوڑا کرنے کے لیے پہاڑوں کو اڑانے کی غرض سے بارود جمع کیا گیا تھا اور دھماکے کے لیے یہی استعمال کیا گیا ہے۔ یہ وہی شاہراہ ہے جہاں حملہ ہوا۔ جبکہ اس سے چھ کلومیٹر دور حملہ آور کا گھر ہے۔ اس حملے نے مزید سوالات اٹھادیئے ہی کہ مودی کی کشمیر میں سخت گیر پالیسی کس قدر کامیاب ہے۔ بھارت کی تقریباً اڑھائی لاکھ فوج کشمیر میں تعینات ہ۔ فوج کی اس قدر زیادہ تعیناتی سے کشمیریوں کی روزمرہ کی زندگی شدید متاثر ہورہی ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی کے پروفیسر ہیپی مون جیکب کے مطابق 2013ء میں مودی کے آنے سے پہلے چند ایک کشمیری شورش کا حصہ تھے۔ اب صرف اسلامی مدرسوں کے طلباء ہی نہیں بلکہ انجینئرنگ جامعات سے فارغ التحصیل اور ملازمت پیشہ نوجوان تحریک آزادی کا حصہ ہیں۔ ایک پوری نسل کا بھارت سے متنفر ہونا دہلی کی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے مقامی لوگوں کو اعتماد میں لینے یا مقامی سیاستدانوں کے ساتھ بامقصد اتحاد کی کوشش نہیں کی۔ گزشتہ سال مودی حکومت نے کشمیر کو مرکزی حکومت کے براہ راست کنٹرول میں لاتے ہوئے بااثر مقامی پارٹی سے اپنا اتحاد ختم کردیا تھا۔ عادل ڈار کے گاؤں کے ساتھ والے گاؤں کے رہائشی گوہر نذیر کے مطابق یہ عسکریت پسند کبھی خواب دیکھتے تھے اور اپنی زندگی بنانا چاہتے تھے، ان کو دیوار کے ساتھ لگادیا گیا۔

اس خبر کو لے کر آ گے بڑھتے ہو ئے کہنے کی با ت یہ ہے کہ پلو اما و ا قعہ کے بعد بھا ر ت میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں توا تر سے خبر یں آ رہی ہیں۔ یہ دلسو ز حقیقت بھی سا منے آ رہی ہے کی حکمرا ن جما عت اس وا قعہ کو اپنے سیا سی فائدے کے لیے استعما ل کر ر ہی ہے۔ بھا رت کے وز یرِ ا عظم اور ان کے حوا ری جذ با تی تقا ر یر کر رہے ہیں۔ اور بھا رت کے عوام میں پا کستا ن مخا لف جذ با ت کو ہوا دے رہے ہیں۔ بھا رتی میڈ یا بھی ان کے سا تھ پا کستا ن کے خلا ف منفی پر و پیگنڈے میں شر یک ہے۔ یا د دلا نے کی ضر ورت نہیں کہ یہ تو بی جے پی کا پرا نا حر بہ ہے اور اس کی سیا ست کا پرا نا اصو ل ہے کیو ں کہ وہ پا کستا ن مخا لف لہر پیدا کر کے ہی برسرِ اقتد ا ر آ ئی ہے اور اب بھی اسی پا لیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آ نے وا لے انتخا با ت میں اسے اپنی شکست صا ف نظر آ رہی ہے اور وہ اپنی نا کا می کو کا میا بی میں بد لنے

کے لیئے عر صے سے کسی موقع کی تلا ش میں تھی۔ پلوامہ وا قعہ کی صو ر ت میں اسے ایک اچھا مو قع مل گیا ہے اور وہ اس سے بھر پور فا ئد ہ اٹھا نا چا ہتی ہے۔ لیکن سو چنے کی با ت یہ ہے کہ بی جے پی کی اس پا لیسی کا نقصا ن بھا ر ت ہی کو ہو گا۔ بی جے پی کی پا لیسیو ں کی وجہ سے بھا ر ت کا سیکو لر تشخص بر ی طر ح مجر و ح ہو رہا ہے۔دو سر ی جا نب پاکستان نے داخلی اور خارجی محاذوں پر پچھلے کچھ عرصے میں جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں بھارت انہیں بے اثر کرنے کے درپے ہے۔ وہ نمایاں کامیابیاں جو حالیہ کچھ عرصے میں پاکستان کی عمدہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں حاصل ہوئیں، ان میں افغان طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات، چین اور روس جیسی خطے کی بڑی طاقتوں کو ساتھ لے کر افغان مسئلے کے حل کی راہ ہموار کرنا، چین کے ساتھ سٹریٹیجک اہمیت کی حامل اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو نئے جذبوں کے ساتھ تکمیل تک پہنچانے کا عزم، مشرق وسطیٰ کے برادر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں نئی گرم جوشی، مشرق بعید کے ممالک کے ساتھ نئے رابطے۔ علاوہ ازیں عالمی اداروں بشمول اقوام متحدہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی جانب سے اعتماد اور تعاون کی یقین دہانی شامل ہیں۔ ان کامیابیوں نے پاکستان کو خطے کی سیاست کی صف اول میں لا بٹھایا۔ یہ سبھی نمایاں اقدامات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں جن کے دور رَس اثر واضح ہیں۔ پاکستان کی ان فقید المثال کامیابیوں نے بھارت کو جو اس خطے کا تھانیدار بننے کا خواہش مند رہا ہے، پچھلی صف میں دھکیل دیا۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے، بھارتی قیادت جسے قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ دوسری جانب بھارت کی داخلی صورتحال ہے جہاں دو ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات میں نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا رجعت پسندانہ اور نفرت انگیز رویہ بری طرح پٹ چکا ہے۔ بی جے پی کی مقولیت کی قلعی تو دسمبر 2018ء میں پانچ ریاستی انتخابات کے نتیجے ہی سے کھل چکی تھی۔ ان انتخابات میں مودی سرکار اپنے مضبوط ترین قلعے گنوا بیٹھی۔ مگر بات یہیں رکی نہیں، حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے ملک گیر اتحاد اور نئے مضبوط انتخابی امیدواروں کے میدان میں اترنے سے نریندر مودی کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں۔ پٹے ہوئے کھلاڑی کو داخلی اس طرح پر گرتی ہوئی مقبولیت تھامنے کا چیلنج بھی درپیش ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے حصے میں آنے والی کامیابیوں کا سنگاش بھی اسے کھائے جاتا ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ نریندر مودی کے پاس انتخابات کے لیے کوئی موثر بیانیہ نہیں؛ چنانچہ وہ انتخابات پاکستان مخالفت کے ایجنڈے پر لڑنا چاہتا ہے۔ ادھر پاکستانی حکومت اور عسکری ہیئت مقتدرہ کی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے بھارت کو کوئی موقع فراہم نہیں کیا، جسے مودی پاکستان مخالفت کی بنیاد کے طور پر انتخابی مقاصد کے لیے برت سکے۔ الٹا کرتار پور رَاہداری کی سکھوں کی دیرینہ خواہش پوری کرکے پاکستان نے مودی کی لٹیا ہی ڈبودی۔ مودی اور اس کی جماعت کے لیے یہ صورتحال تباہ کن انتخابی شکست کا پیش خیمہ ہے۔ اس پس منظر میں دیکھیں تو پلوامہ واقعے کا سب سے زیاہ فائدہ اٹھانے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہے جو اس ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتی ہے۔ ایک طرف بھارتی عوام کو نفرت کی پٹی اور پاکستان دشمنی کا سبق پڑھا کر ووٹوں کا حصول اور دوسری جانب عالمی برادری میں پاکستان کی ان کامیابیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش جو مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں پاکستان کو حاصل ہوئی ہیں۔ طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا اگر کسی ملک کو سب سے زیادہ رنج ہے وہ بھارت ہی ہے۔ اس وقت جبکہ پاکستان داخلی اور خارجی محاذوں پر نمایاں بہتری کے ساتھ متعین سمت میں گامزن ہے، بھارت کی سازشوں کی ناکامی یا کامیابی کا دارومدار پر ہے کہ پاکستان کی حکومت اور ادارے اپنا دفاع کس انداز سے کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اقوامِ عالم کو بھارت کی ان سازشوں سے تفصیلاً آگاہ کرے جو نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی امن اور معاشی ترقی کے ماحول پر بھی جس کے خطرات واضح ہیں۔


ای پیپر