ولی عہدمحمد بن سلمان کا دورہ پاکستان!
21 فروری 2019 2019-02-21

سعودی عرب کے ولی عہدمحمد بن سلمان کی پاکستان آمد سے قبل سیاسی ،مسلکی اور ذاتی مفاد پر ستوں کا چہرہ کھل کر سامنے آگیا ہے،بلکہ یوں کہہ لیں کہ بہت سے چہروں سے نقاب اٹھ گیا ہے۔وہ جو پاکستانی ہونے کا دعوے دار تھے ،اس دورہ کے دوران واضح ہو گیا کہ ان کے جسم پاکستان میں ضرور ہیں لیکن وفاداریاں ان کی اس ملک کے ساتھ نہیں۔ جس طرح یار لوگ ایران کو پاکستان کے لئے ناگزیر سمجھتے ہیں اسی طرح ایران کے لئے پاکستان بھی ناگزیر ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات گز شتہ کئی عشروں سے کشیدہ ہیں۔اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ہے تو کیا پاکستان سعودی عرب کا بائیکاٹ کردے؟ ہر گز نہیں۔ ایران ایک الگ آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ ان کو اختیار ہے کہ اپنے مفادات کو دیکھ کر دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کریں۔ اسی طرح پاکستان بھی کسی ملک کی کالونی نہیں ۔ ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے، ان کو بھی حق ہے کہ پڑوسیوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کے ساتھ تعلقات قائم کریں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے ایران کے مفادات کو خطرہ ہے۔ ہرگز نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ خطے میں سرمایہ کاری کی وجہ سے ایران اور سعودی عرب قریب آجائیں۔رہا مشرقی وسطیٰ میں تنازعات کا حصہ بننے کا ،تو پاکستان کئی بر س قبل سعودی عرب کو یمن کے معاملے پر ہری جھنڈی دکھا چکا ہے کہ ہم آپ کے اندرونی معاملات میں الجھنا نہیں چاہتے۔مو جودہ دور میں مشرقی وسطیٰ کے بحران پر پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے۔پھر کیوں بعض لوگ اور خود ایران پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری سے خوف زدہ ہے؟

بعض لو گوں کے سیاسی مفاد ات افغانستان سے وابستہ ہیں۔سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان سے قبل یہ سوال بھی اٹھا یا گیا کہ پاکستان کو چاہئے کہ کابل کے ساتھ سرحدوں کو تجارت کے لئے کھول دے۔درست بات ہے۔طورخم اور چمن بارڈر آمد و رفت کے لئے چو بیس گھنٹے کھلنے چاہئیں لیکن ایک سوال میں بھی پو چھنا چاہتا ہوں کہ کیا کابل کو اسلام آباد کے ساتھ تجارت کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟اگر پاکستان سرحدوں پر تجارت کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو کیا افغانستان کی ذمہ داری نہیں کہ پاکستان کا ساتھ دے؟کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر تجارت سے اس وقت زیادہ فائدہ سمگلروں کو ہو رہا ہے ؟دونوں ممالک کواس بے ربط تجارت سے نقصان پہنچ رہا ہے۔ضرورت اس بات کی

ہے کہ افغانستان سرحدوں کو تسلیم کرلیں۔اسلام آباد کے ساتھ تجارت کے لئے افغانستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اقدامات کریں تو ممکن ہے کہ بات آگے بڑھے۔ افغانستان کو چاہئے کہ وہ ہندوستان کا مقدمہ پاکستان کے ساتھ نہ لڑے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کس نو عیت کے ہیں؟ کیا کابل کو معلوم نہیں؟جب دلی اور اسلام آباد ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کے لئے تیار نہیں تو کابل کیوں مدعی سست اور گواہ چست کا کردار ادا کر رہا ہے؟

محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران اس سوال کو بھی شدت کے ساتھ اٹھا یا گیا کہ سعودی سرمایہ کاری کے بعد چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک ) کا کیا بنے گا؟یہ افواہ بھی اڑائی گئی کہ مو جودہ حکومت سی پیک منصوبوں میں کئے گئے معاہدوں سے خوش نہیں اس لئے چین کو دباؤ میں لانے کے لئے سعودی عرب کو سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے۔یہ ایک بے ہودہ اعتراض ہے، جس کا واحد مقصد انتشار پھیلا نا ہے۔سی پیک ،چین کے عالمی منصوبے کا ایک حصہ ہے ۔ 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اس میں ہو رہی ہے۔اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ 20 ارب ڈالر وہ بھی سمندر پار سے آکر 60 ارب ڈالر کو کھا جائیں گے۔بعض لوگوں نے تعصب کی عینک لگا کر ولی عہد کے دورہ پاکستان کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کو شش کی لیکن ناکام ہوئے۔اس لئے کہ پوری ترقی یافتہ دنیا میں یہ رواج ہے کہ سرمایہ کاری اور تنازعات کو الگ رکھ کر دیکھا جا رہا ہے۔اگر یقین نہ آئے تو امریکا،چین ،روس ،ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت کا جائزہ لے کر دیکھ لیں ۔اس سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ایک دوسرے کے خلاف میدان جنگ میں اترنے کے لئے تیار بیٹھے ان ممالک کے درمیان کتنی تجارت ہو رہی ہے۔

بعض لو گوں نے محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران یہ اعتراض بھی اٹھا یا کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کو ان کے ساتھ ملاقات نہیں کرنے دی گئی؟سوال جائز ہے۔لیکن یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیوں حکومت ولی عہد کے ساتھ حزب مخالف کی ملاقات کا اہتمام کرتی؟کیا حزب اختلاف کے ساتھ سعودی سرمایہ کاری کا کوئی بڑا منصوبہ تھا جسے وہ ولی عہد کے سامنے رکھنا چاہتے تھے؟ نہیں۔اگر حزب اختلاف کے رہنما ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملا قات کرتے تو اس سے ملک اور قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوناتھا۔حزب مخالف کس مو ضوع پر ولی عہد سے بات کرتے ۔ظاہر سی بات ہے۔ شہباز شریف ان کے سامنے میاں نواز شریف کا مقدمہ رکھتے۔پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کا رونا روتے۔لیکن اس سے بھی اہم سوال کیا سعودی ولی عہد محمدبن سلمان ،شریف خاندان اور زرداری خاندان کے کارناموں سے واقف نہیں؟کیا ان کو معلوم نہیں کہ پاکستان کی سیاسی صورت حال کیا ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ کون اندر ہے؟ کون اندر جانے والے ہیں؟کیا یہ ممکن نہیں کہ ولی عہد نے خود سابق حکمرانوں سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہو؟ ہوسکتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی حالات کو دیکھ کر محمد بن سلمان نے حکومت سے درخواست کی ہو کہ سابقین سے ہمیں دور رکھا جائے۔وجوہا ت جو بھی ہوں،لیکن یہ معاملہ اتنا بھی اہم نہیں کہ اس پر صفحات سیاہ کئے جائیں۔مشرقی وسطیٰ میں سعودی عرب کیا کررہا ہے؟تر کی کے ساتھ ان کے تعلقات کیا ہیں؟ایران کے ساتھ ان کا رویہ کیسا ہے؟ دنیا کے ساتھ ان کے تعلقات کیسی نو عیت کے ہیں؟ پاکستان کو اس میں نہیں پڑنا چاہئے۔ پاکستان کو اس وقت معاشی استحکام کے لئے بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کو چاہئے کہ جوبھی یہاں سرمایہ کاری کرنے پر راضی ہو ان کا فقیدالمثال استقبال کریں۔لیکن ایک احتیاط لازم ہے کہ قومی سلامتی ،خودمختاری اور پڑوسی ممالک کے مفاد ات کا بھی خیال رکھا جائے۔


ای پیپر