سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان ،بھارت اور امیدیں
21 فروری 2019 2019-02-21

ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک ایسے وقت میں پہلے پاکستان پھر بھارت کا دورہ مکمل کر لیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان ہر قسم کے تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہم نے شہزادے کی آمد پر گھی کے چراغ جلائے کہ ہمارے معزز مہمان نے خود کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر قرا ر دیااور پاکستان میں بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔دو ہزار سے ز ائد جیلوں میں قیدافراد کو رہا کرنے کا وعدہ کیا بلکہ اس پر عمل درآمد بھی شروع ہو گیا۔ یہ ولی عہد کے لیے بڑا نازک موقع تھا کہ وہ خارجہ امور میں اپنا حصہ ڈالتے۔کپتان اور اس کی ٹیم تو بغلیں بجا رہی تھی کہ پاکستان کا معاشی بحران ختم ہو گیا ہے۔جس پر ولی عہد کی ٹیم کی جانب سے یہ اعلان کرنا ضروری سمجھا گیا کہ یہ سرمایہ کاری ہے۔ سرمایہ لگانے والے بھی ساتھ تھے۔ہمارے وزیر اعظم سمجھ ر ہے ہیں کہ ولی عہد کے اعلانات ان کی ذاتی کوششوں سے ہو رہے ہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ شہزادہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں وہی زندہ رہے گا جو اقتصادی طور پر مضبوط ہو گا۔ شہزادہ اب ایشیا میں سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ وہ خود بھی امیر ترین ہیں ان کے ذاتی اثاثوں کی مالیت پندرہ بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔شاہ خرچ بھی ہیں،وہ دنیا کی نظر میں پہلی مرتبہ اس وقت آئے جب انہوں نے اٹلی میں آدھے بلین ڈالرسے زیادہ رقم کی ایک پرانی پینٹنگ خریدی اور اتنی ہی رقم کی ذاتی کشتی خریدی۔وہ اپنے ناقدین کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں۔ آنے والے دور میں وہ بادشاہ بن جائیں گے۔وہ زبردست اقتصاد ی سوچ رکھتے ہیں۔ پاکستان بھارت پر ماضی کی طرح جذباتی نہیں ہیں۔ ۔ شہزادہ اعلی تعلیم یافتہ اور سعودی عرب کو جدید تقاضوں کے مطابق چلانا چاہتا ہے۔وہ لبرل ہیں۔ وہ اپنے ملک میں خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں دسمبر 2015میں انہوں نے خواتین کو میونسپلیٹی کے انتخابات میں حصہ لینے کا حق دلوایا۔ انہی کی کاوشوں سے جون 2018میں خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کا حق بھی مل گیا ہے اب ان کی قیادت میں قدامت پسند سماج کو عصری تقاضوں کی مطابقت میں جدید یت کا سفر طے کرنا ہوگا۔ سعودی عرب میں لباس کے حوالے سے جو سختیاں تھیں وہ اب کم کی جارہی ہیں تہذیب و ثقافت نیز موسیقی و فنونِ لطیف میں بھی سعودی عرب کا سافٹ امیج دنیا کے سامنے لانے کی کاوشیں ہو رہی ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا دور سٹریٹجک تعلقات کے حوالے سے بڑا اہم ہے۔اس میں پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے نظر آتے ہیں۔اس کے لیے ولی عہد محمد بن سلمان نے اسلامی فوجی اتحاد فوج قائم کی ہے۔ ان سب باتوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کی کہ وہ اپنے ملک کو کس طرح آگے لے جانا چاہتے ہیں ہم جو مرضی تاویل دیں اس کے سامنے دلیل آئے گی تو بات بنے ۔ خیال تھا جس ماحول میں شہزادہ بھارت جائے گا وہ مشکل ہو گا۔ مگر شہزادہ تو ڈپلومیسی میں سب کو مات دے گیا ہے۔ بھارت میں ان کا زبردست استقبال ہوا۔ انہوں نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق پاکستان سے پانچ گنا زیادہ سرمایہ داری کی یعنی ایک سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی وزارت خارجہ نے اس سرمایہ کاری کو بڑا پیغام دوستی کہا ہے۔سرمایہ کاری کا میدان وہی ہے جو پاکستان میں ہے۔ بھارتی ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں مودی کی ولی عہد محمد بن سلمان سے بغل گیر ہونے نے میڈیا میں نمایاں جگہ پائی ہے۔دوسری جانب وزیر خارجہ ششما سوراج اور بھارتی وزیر حج مختار عباس رضوی کا یہ مطالبہ مان لیا کہ دو ہزار اٹھارہ میں حج کا جو کوٹہ ایک لاکھ75 ہزار تھا اس کو دو لاکھ کر دیا ہے۔نریند مودی کی درخواست پر آٹھ سو پچاسی قیدیوں کو رہائی بھی ملے گی۔ پلوامہ پر ہمارے وزیر اعظم نے جو موقف پیش کیا ہے یہ ہمارے قومی موقف کی ترجمانی ہے بھارت میں وزیر اعظم کی تقریر پر کم ازکم میڈیا میں قیامت کا شور پرپا ہے۔ ہماری تو بے غرض دوستی ہے؟

پاک سعودیہ تعلقا ت اوردوستی کا سفر اس وقت ہی شروع ہو گیا تھا جب پاکستان وجود میں آیا۔ اس دوستی کا سب سے پہلا مظاہرہ اس وقت ہوا جب 1948 میں کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش ہوا۔اس وقت سے سعودی عرب پاکستان کے موقف کی حمائت کرتا آیا ہے۔اس کے تین سال بعد1951 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوستی اور تعاون کا معاہدہ ہوا۔ سعودی حکومت کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط اس وقت کے سعودی وزیر خارجہ اورولی عہد شاہ فیصل نے کئے تھے ۔ ۔اس موقع پر شاہ فیصل نے کہا ’’ پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ دوستی تاریخی ثابت ہو گا اور آنیوالی نسلیں بھی اس سے مستفید ہونگی‘‘۔ آج یہ بات سچ ثابت ہوگئی ہے۔یہ تعلقات اور آگے بڑھے جب جلالتہ الملک شاہ سعود نے1954ء میں پاکستان کا دورہ کیا۔ حکومت اور پاکستان کے عوام نے ان کا شاندا ر استقبال کیا ۔ سعودی فرمانروا اپنے استقبال اور عوام کی عقیدت سے بے حد خوش ہوئے کہ انہوں نے پاکستان کو اپنا گھر قرار دیا 1964ء میں شاہ سعود کے بعد شاہ فیصل جلا للتہ الملک اور بادشاہ بنے تو پاکستان سے دوستی کا رشتہ پہلے سے بھی آگے بڑھا۔1965 کی جنگ میں شاہ فیصل کی حمائت سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا اور شاہ فیصل ہمیشہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت حمایت کرتے رہے۔ شاہ فیصل نے اپریل1966 میں ایوب خان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔ان کا استقبال بھی فقید

المثال ہوا ۔ 2 فروری 1974 کواسلامی ممالک کے سربراہان کی پاکستان میں کانفرنس ہوئی تو شاہ فیصل لیبیا کے سربراہ معمر قذافی اور یاسر عرفات کو پاکستانی عوام نے اپنی عقیدتوں اور محبتوں سے اس قدر نوازا کہ تینوں رہنماؤں نے ہمیشہ پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم قلعہ بنانے کا عزم دہرانا شروع کر دیا۔ 25 مارچ 1975 کو ان کی شہادت ہوئی ضیا الحق نے پاکستان کے ثقافتی اور صنعتی شہر لائل پور کا نام تبدیل کر کے فیصل آباد رکھ دیا۔ کراچی کی سب سے مشہور شاہرا ’’شاہراہ فیصل‘‘ شاہ فیصل کی پاکستان سے دوستی کی کہانی سناتی ہے۔ 1977 کے سیاسی بحران میں پاکستان میں سعودی سفیر ریاض الخطیب کی ان کوششوں کو نہیں بھول سکتے جب وہ ذولفقار علی بھٹو اور مولانا مفتی محمودکو مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں کا میاب رہے۔

20نومبر 1979ء میں سعودی عرب میں ایک افسوس ناک واقع پیش آیا جب شدت پسندوں مسجد الحرام پر حملہ کر کے قابض ہو گئے۔ یہ صورت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی۔ سعودی بادشاہ شاہ خالد کوضیا الحق نے فون کیا اور شاہ خالد کے حکم پرایس ایس جی کمانڈو کا دستہ سعودی عرب بھیجا گیاجس نے آپریشن کے بعد شدت پسندوں سے قبضہ چھڑا لیا۔ اکتوبر 2003میں ولی عہد شاہ عبداللہ نے پاکستان کا ایک رو زہ دورہ کیا۔ صدر مشرف، وزیر اعظم جمالی نے کابینہ کے ہمراہ ائرپورٹ پر استقبال کیا۔ ولی عہد کے استقبال کے لیے جڑواں شہروں کو اپنے خاص مہمان کے لیے جس انداز سے سجایا گیا تھا اور ان کا ستقبال ہوا تھا اس سے ولی عہد عبداللہ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں اپنے اعزاز میں منعقد تقریب میں تین بار پاکستان زندہ باد کے نعرا لگایا۔ سعودی عرب کے ولی عہد کے دورے کی اہم بات پاک آرمی کی جانب سے جدید اسلحے کی نمائش تھی۔اس نمائش کا اصل مقصد پاکستان کی عسکری طاقت کا اظہار تھا۔ اسلام آباد ائرپورٹ پر شاہ عبداللہ کو الوداع کہنے کے لیے مشرف اور وزیر اعظم جمالی کے علاوہ چیئرمین سینٹ،سپیکر قومی اسمبلی،چاروں صوبوں کے گورنر اور وزرائے اعلی بھی موجود تھے۔ پاکستان کی کوئی مشکل ہو سماجی ہو یا اقتصادی یہ ہمیں گرنے نہیں دیتا۔ حقیت ہے سعودی ولی عہد کی سرمایہ کی حکمت عملی اس وقت کامیاب ہوگی جب دونوں ممالک میں امن قائم نہیں ہو گا۔


ای پیپر