21 فروری 2019 2019-02-21

14فروری کو ہونے والے پلوامہ حملے کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ اور ان کی ہائی کمان اس سانحے میں پاکستان کو پوری طرح ملوث کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔ بھارت جو ہمیشہ اپنی گندی ذہنیت اور منافرت کا اظہار کرتا رہتا ہے اسے تو ذرہ سا موقع ملنا چاہئے کہ وہ پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو پراگندہ کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اس حملے کے ساتھ بات چیت کا وقت ختم ہو گیا اور اب دہشت گردی کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں اس وقت جنگی جنون عروج پر ہے اور مودی سرکار نے پاکستان، مسلمانوں اور بالخصوص کشمیری مسلمانوں کے تئیں اپنے بغض و عناد کا کھل کر اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ لفظی جنگ سے لگ رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔ جنگ تباہی اور بربادی کا باعث ہوتی ہے چاہے ملک طاقتور ہو یا کمزور دونوں فریقین کے لئے نقصان اور پریشانیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت پاکستان سے جنگ کر سکتا ہے؟ یقینااس کا جواب نہ میں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ نہیں ہو سکتی اس کی ایک وجہ تو ایٹمی ہتھیار ہیں تو دوسری بین الاقوامی سیاسی اور اقتصادی میدان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بے پناہ اثر رسوخ یہ کمپنیاں نہ صرف تمام دنیا میں کھربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ کئے ہوئے ہیں بلکہ امریکہ جیسے ممالک میں اپنے اپنے پسندیدہ امیدوار کی الیکشن مہم کے اخراجات اٹھانے میں بھی پیش پیش ہوتی ہیں اور کامیابی کی شکل میں عوضانہ ملکی اور غیر ملکی قوانین کو اپنے مفاد میں تشکیل کروا کر وصول کرتی ہیں۔ دنیا میں جنگ کے بعد تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر سب میں انہی کمپنیوں کے کاروباری مفادات مقدم رہتے ہیں۔ انہی کمپنیوں کی اس وقت بھارت میں بڑی انویسٹمنٹ موجود ہے کہ وہ بھارت کو براہِ راست اور امریکہ جیسے ممالک کے ذریعے پاکستان کے خلاف جنگ میں الجھنے سے باز رکھیں گی۔ کیوں کہ یہ جنگ کئی لحاظ سے بھارت اور ان کمپنیوں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔ جس میں سرِ فہرست پاکستانی میزائلوں کی تباہ کاریوں کے علاوہ کاروائیاں ہوں گی۔ جہادی فدائی بمبار

اس حد تک بڑھ جائیں گے کہ افغانستان کے طالبان کی طرح ساری دنیا کی افواج بھی انہیں روک نہیں پائیں گی۔ بھارت جہاں یہ کہتا ہے کہ پاکستان سے جہادی عناصر ان کے ہاں حالات خراب کر رہے ہیں وہاں وہ یہ بخوبی جانتا ہے کہ ابھی تک ان مجاہدوں کو قابو میں رکھنے میں پاکستانی حکومت اس لئے کامیاب رہی ہے کہ بھارت پاکستان سے براہِ راست جنگ نہیں کر رہا ہے۔ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ بھارت کے اندر سے جہادی تنظیموں کو سپورٹ حاصل ہے۔ جیسے ہی بھارت پاکستان سے جنگ کرے گا تو بین الاقوامی دباؤ میں پابندی لگی پاکستانی تنظیمیں کشمیری بھائیوں کی مدد کے لئے دوبارہ سے اٹھ کھڑی ہوں گی جو کشمیری مجاہدین سے مل کر بھارت کے ناک میں دم کر دیں گی۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ بیرونی دباؤ پرپاکستان کے اپنے ہاں کی جہادی تنظیموں پر پابندی لگنے کے باوجود تحریکِ کشمیر کے موجودہ انداز نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ تحریک کشمیری عوام کی اپنی تحریک ہے جس میں پاکستان کا سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد کے علاوہ کوئی کردار نہیں ہے اور یہ بات بھارت بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ اب خود کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ 5فروری کشمیریوں کے یومِ حقِ خود ارادیت کے موقع پر جس طرح اس سال ساری دنیا میں اسے پذیرائی حاصل ہوئی ہے وہ بھارت کی سفارتی ناکامی ہے اور بھارت یہ بات سمجھتا ہے کہ یہ تحریک جیسا کہ آثار بتاتے ہیں کچھ عرصہ اور جاری رہتی ہے تو یہی بین الاقوامی کمپنیاں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے امریکہ کے ذریعے بھارت کو کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں گی کیونکہ جنگی ماحول میں نہ صرف ان کا کاروبار متاثر ہو گا بلکہ اس کے تباہ و برباد ہونے کے چانسز بھی ہیں۔ بھارت کو اتنی سوجھ بوجھ تو ہے کہ اگر آج بھارت پاکستان سے جنگ شروع کرے گا تو اس کو نہ صرف پاکستان کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ جہادی عناصر اس کے لئے فدائی حملوں کی صورت میں بہت مشکلات کھڑی کر دیں گے۔ ایک طرف پاکستان کے ساتھ جنگ اور دوسری طرف جہادیوں کی کاروائیاں بھارت کے ناک میں دم کر دیں گی ۔ ان کاروائیوں میں صرف پاکستان کے جہادی شامل نہیں ہوں گے بلکہ ساری دنیا سے جہادی شامل ہوں گے۔ کیونکہ اقوامِ عالم میں مسلمانوں کی سوچ میں تشدد اور انتہا پسندانہ رویوں کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کے ساتھ مغربی اقوام کی امتیازی اور متعصبانہ پالیسیاں بھی ہیں۔ جب ایک اسلامی ملک پر حملہ ہو گا تو مسلم قومیت کی بنیاد پر تمام دنیا کے جہادی اسی جانب اکٹھے ہو جائیں گے۔

بھارت میں رواں سال عام انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔ ان انتخابات کا مرکزی موضوع ماضی کی طرح پاکستان کے ساتھ تعلقات ہی ہو گا۔ بھارتی لیڈروں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سلسلہ عام انتخابات کے انعقاد تک جاری رہے گا۔ بھارت میں جس قسم کی پاکستان مخالف فضا پیدا کر دی گئی ہے اس میں کوئی بھی سیاسی جماعت یہ رسک نہیں لے گی کہ پاکستان کے بارے میں نرم رویہ اختیار کر کے ووٹ بینک سے محروم ہو جائے۔ نریندر مودی کی پاکستان کو سبق سکھانے کی گیدڑ بھبکیاں صرف آنے الیکشن میں اپنے ووٹرز کو خوش کرنے کے لئے ورنہ بھارتی حکمران خود بھی یہ بات سمجھتے ہیں کہ کشمیر میں موجودہ کاروائیاں کشمیری عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کا ردِ عمل ہے۔ کشمیری نوجوانوں بالخصوص نئی نسل کے لئے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کو دیکھ کر اپنے جذبات پر قابوپانا مشکل ہو جاتا ہے اور بے سرو ساماں آہنی ہتھیاروں کے مقابلے میں لڑ پڑتے ہیں۔جس پر خود بھارتی دانشوروں اور غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے بھارتی حکومت کو باور کرایا ہے کہ کشمیر میں جاری جد و جہد کسی بیرونی مداخلت کا نتیجہ نہیں بلکہ خود بھارت سرکار کی احمقانہ و ظالمانہ روش کا نتیجہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھارت کے سنجیدہ اخبارات نے حکومت کو ڈھکے چھپے انداز میں کہا ہے کہ ہمیں اپنی کوتاہیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے، اپنی ہر ناکامی کو پاکستان کے سر منڈھ دینا سیاست کی عقلمندانہ سیاست سے بغاوت ہے۔ ایک بھارتی جریدے کے انکشاف کے مطابق پلواما واقعہ میں استعمال ہونے والا بارود کشمیر ہائی وے کشادہ کرنے کے لئے پہاڑ توڑنے کے لئے تھا جسے پلواما کے ایک نوجوان نے چوری کر کے خود کش حملے میں استعمال کیا۔ بھارتی مطالم نے کشمیری نوجوانون سے موت کے ڈر کو چھین لیا ہے وہ اب چاہتے ہیں آزادی یا شہادت۔


ای پیپر